Skip to content

پا شفیق

عالمی افسانہ میلہ 2018
افسانہ نمبر 154
پا شفیق
انس اقبال
ورجینیا، امریکہ
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
یوں تو پا شفیق ہمارے محلے کا سبزی فروش تھا مگر ہم نوجوان لڑکوں کے ساتھ اس کی خوب جمتی ۔ پینتالیس سالہ پکی عمر کا آدمی ۔۔۔ مگر لڑکوں کے ساتھ وہ نوجوانی کے ابتدائی اصولوں اور اثرات پہ ایسے باتیں کرتا جیسے ہماری طرح وہ بھی اس مزے کو نیا نیا چکھ رہا ہو!!
محلے کا کوئی واقعہ، کالج کی آتی جاتی لڑکیاں اور ان کے پیچھے منڈلاتے لڑکے، ان سب باتوں کی خبر ہمیں اس دکان جسے ہم اب ’’پا شفیق کی حب‘‘ کہتے تھے ، سے معلوم ہو جاتیں۔
ایک دن شام کے چھ بجے تھے اور پا شفیق خوامخواہ ہی تین گھنٹے بیٹھا رہنے کے بعد ہمیں دیکھ کر یوں جلدی جلدی دکان بند کرنے لگا جیسے بہت جلدی میں ہو۔حالانکہ یہ روز کا معمول تھا اور وہ آٹھ بجے ہی جاتا تھا۔اس کی گفتگو کم و بیش انہی الفاظ سے شروع ہوتی:۔
’’اوہ یارو۔۔۔تسی بڑی دیر کر دتی اج۔۔۔میں تے چلیا ہن۔۔۔چلو اک گل تے دسو!!!‘‘۔
اور پھر اس کی نا ختم ہونے والی باتیں شروع ہو جاتیں۔
جی۔۔۔ تو اس دن بھی ہم معمول کے مطابق اس تک پہنچے۔ پا شفیق نے کچھ دیر وہی باتیں کیں اور پھر ادھر ادھر دیکھ کر اپنے کرتے کی جیب سے اخبار کا ایک ٹکڑا نکال لیا۔ پھر اس نے ہمیں ایک خبر سنانا شروع کی جس میں ایک لڑکی کے ساتھ گینگ ریپ کا قصہ بتایا گیا تھا۔ اس خبر کے بعد بظاہر ہم لوگ افسوس ، لیکن اندر ہی اندر جو جنسی تسکین مل رہی تھی اس لذت کو طوالت دینے کے لئے ا س واقعے پر بحث کرتے رہے‘ غیر متوقع طور پر پاشفیق اس موضوع کو جلدی ختم کرنا چاہ رہا تھا‘ میں نے محسوس کیا کہ وہ کچھ بے چین سا ہے ۔۔۔کچھ دیر تو وہ برداشت کرتا رہا ‘ پھر اس نے انتہائی صفائی سے اس موضوع کو لپیٹا اور گویا ہوا:۔
’’او پائی ۔۔۔ایس توں وی وڈی خبر اے ہے‘‘۔ اس نے ایک اور خبر آگے کر دی۔
اس خبر میں ایک سات سالہ لڑکے کے ساتھ بدفعلی کا ذکر تھا۔ ہم لڑکوں نے اس خبر میں زیادہ دلچسپی محسوس نہیں کی‘ مگر پاشفیق بڑھ چڑھ کر بول رہا تھا۔ خصوصی طور پہ وہ واقعے کے اس مرحلے سے بہت دیر چمٹا رہا جس میں بچے کو اس کی شلوار کے ناڑے سے باندھا گیا تھا۔ میری نظر اس کے ہاتھوں پر پڑی جو متواتر اس کی رانوں کے درمیانی حصے کو کھجا رہے تھے۔ چونکہ ہم لڑکوں کے لئے پہلی خبر میں زیادہ دم تھا اس لئے ہم سب جلد ازجلد واپس پہلی خبر پر مختلف پہلوؤ ں سے روشنی ڈالتے رہے۔
کچھ دن گزرے تو پاشفیق ساتھ والے محلے میں ہوئی ایک واردات بڑی بے چینی سے سنا رہا تھا۔ کچھ ویسا ہی واقعہ تھا۔ نو سال کا ایک لڑکا اپنی شلوار کے ناڑے سے بندھا برہنہ پایا گیاتھا۔ تین لوگوں نے اس کے ساتھ بدفعلی کی تھی۔ میں نے پاشفیق کی طرف دیکھا اور پھر اس کے ہاتھوں کی طرف۔۔۔وہ مخصوص جگہ کھجا رہا تھا۔
دن یونہی گذرتے رہے۔ کم عمر لڑکوں کے ساتھ بدفعلی کے واقعات معمول بن چکے تھے‘ بے حسی تھی یا جبلت انسانی ۔۔۔ہمارے لئے زندگی ایک معمول کی طرح گزر رہی تھی اور پا شفیق ۔۔۔اس کے لئے تو جیسے یہی موضوع رہ گیا تھا۔۔۔۔لڑکے، زیادتی اور ناڑے جیسی غیر رومانوی شے کے لئے اس کا تلذز کم ازکم میرے لئے ناقابل فہم تھا اور میں کچھ اس طرح اکتا چکا تھا کہ میں نے پا شفیق کی دکان پر جانا ممکنہ حد تک کم کر دیا تھا۔ ’’ممکنہ‘‘ اس لئے کہ دوستوں کے ساتھ اور کچھ اہم خبروں کے لئے جانا تو پڑتا ہی تھا۔
میں اور میرا ایک دوست سگریٹ پینے کے لئے محلے کے ایک خالی پلاٹ کا استعمال کرتے تھے۔ اس دن بھی ہم رات دس بجے معمول کے مطابق پلاٹ میں سگریٹ پی رہے تھے کہ کسی کے کراہنے کی آواز آئی۔ پھر یہ آواز لگاتار آنے لگی۔ہم نے دیکھا تو پلاٹ کے ایک کونے میں کوئی شے ہل رہی تھی‘ قریب سے دیکھا تو جان ہی نکل گئی۔۔۔پاشفیق کا اکلوتا بیٹا جو نو یا دس برس کا تھا ، برہنہ پڑا تھا ۔ غور سے دیکھا تو وہ ناڑے میں بندھا ہوا تھا۔ ہم نے جلدی جلدی سگریٹ پھینکے اور لوگوں کو بلانے بھاگے۔ معلوم ہوا کہ دو بڑی عمر کے آدمیوں نے اس کے ساتھ بد فعلی کی تھی۔پاشفیق گھر نہیں تھا۔ محلے کے بڑے ضروری کاروائیوں کے لئے بچے کو اسپتال لے گئے۔ مجھے یہ ذمہ داری سونپی گئی کہ جیسے ہی پاشفیق آئے اسے خبر دوں اور اپنی موٹر سائیکل پر اسپتال لے آؤں۔قریباََ گیارہ بجے پاشفیق آتا دکھائی دیا۔ میں نے کافی جھجکتے جھجکتے اسے اس حادثے کی خبر دی۔ پاشفیق بے جان سا نیچے گر گیا۔ بڑی مشکلوں سے میں نے کھینچ تان کر اسے ایک مکان کے تھڑے پہ بٹھایا۔ کچھ دیر خاموشی رہی۔ میں چپ چاپ سر نیچے کئے پاؤں سے مٹی کھودتا رہا۔ کافی دیر بعد ہی وہ کوئی بات کرنے کے قابل ہوسکاتھا۔
’’کی ہویا سی۔۔۔کی ویکھیا۔۔۔ہائے !!!کنج ملیا میرا بچہ‘‘۔ اس کی آنکھیں تو اب خشک تھیں مگر آ واز مکمل بھیگی ہوئی تھی۔
میں نے اسے بتایا کہ کیسے ہم پلاٹ میں داخل ہوئے اور وہ بیچارہ ہمیں کس حالت میں ملا۔
’’ہائے۔۔۔کوئی تے پچھے ان بے غیرتاں نوں۔۔۔کسی د ا ناں وی دسیا انیں۔۔۔کسی دی پہچان دسی‘‘؟
’’اجنبی لوگ تھے‘ جان پہچان والے نہیں تھے۔۔۔بیچارے کو زبردستی باندھا ہوا تھا‘‘۔
’’ ہیں !!!۔۔۔بنیا پیا سی۔۔۔ظالماں نے کنج بندھیا سی انہوں‘‘!!!
’’اس کی شلوار کے ناڑے سے‘‘۔ میں بمشکل بول سکا اور نظریں جھکا دیں۔
’’ناڑا۔۔۔!‘‘۔ پا شفیق نے ایک سرد آہ بھری۔
میری نظر خود بخود اٹھی تو پاشفیق کے ہاتھ مخصوص جگہ کو کھجا رہے تھا اور زبان سے گالیاں جاری تھیں۔

Published inانس اقبال احمدعالمی افسانہ فورم