Skip to content

پابجولاں محبت کی ادھوری کہانی

پابجولاں محبت کی ادھوری کہانی
تحریر: مونا شہزاد ۔
وہ ساکت ،لب بھینچے اونچائی سے کھڑی جھیل کو تک رہی تھی۔جھیل کا پانی نیلگوں تھا، زندگی میں پہلی دفعہ اس کی کالی چادر اس کے سر سے ڈھلک کر کاندھوں پر آگئی تھی،مگر وہ اپنی حالت سے بے خبر ،فطرت کے حسین مناظر کو اپنی آنکھوں میں جذب کرنے میں مصروف تھی۔موسم بہار شروع ہوچکا تھا، پھولوں کی خوشبو سے ہوا مہک رہی تھی۔ مرغابیوں کی ڈاریں شور مچاتیں جھیل پر اتر چکیں تھیں، ۔ہوا نغمے گنگنا رہی تھی ۔اس نے سوچا:
“میرے اردگرد کی دنیا میں کتنی رنگینی ہے ،مگر میرے دل میں پیاس کا صحرا موجزن ہے۔”
ہوا نے اس کے کانوں میں چپکے سے سرگوشی کی:
“سکھی ! اپنے دل میں محبت کو مکین کرلو،”صحرا” خودبخود “گلزار” میں بدل جائے گا۔احتشام کی بات مان جاو ۔”
وہ چونک سی گئی ،اس کی آنکھوں میں خوف کے سائے لرزنے لگے ،وہ خود کلامی کرتے ہوئے بولی:
“نہیں! میں ایسا کیسے کرسکتی ہوں ؟
میں تو آج تم نظاروں کو خدا حافظ کہنے آئی ہوں، تم سے آخری بار اپنا دکھ کہنے آئی ہوں ۔کل سے میرے لئے تم بھی پرائے ہوجاو گے۔میرے لئے اس رنگارنگ دنیا کے دروازے بند ہوجائیں گے۔خدارا مجھے وہ خواب مت دکھاو جن سے میری آنکھیں لہورنگ ہوجائیں ۔میرے پاوں آبلہ پا ہوجائیں ۔”
لہروں نے مستی سے کہا:
“ریزہ ریزہ تو تمھاری زات کل ہو جائے گی،تم ایک زندہ لاش بنا دی جاو گی،تم کیسے زندگی کے اس ذندان میں سسک سسک کر جی پاو گی ؟
کیا صرف سانس لینے کا نام زندگی ہے؟”
اس کے کانوں میں پھولوں کی آواز پڑی ،وہ قلقاری لگا کر بولے:
“نور العین! کیا تمھیں گل گوتھنے بچوں کی چاہ نہیں ہے ؟”
نور العین نے سر جھٹکا اور کہا:
“میرا منصب ان سب دنیاوی باتوں سے اونچا ہے،میں ان کاموں کے لئے تخلیق نہیں کی گئی۔”
نظارے کھلکھلا کر ہنس پڑے ، اس کی کم عقلی پر ترس کھا کر بولے:
“ہاں! صحیح کہا تم نے ۔۔۔۔۔۔
مگر کیا تمھاری تخلیق اس لئے کی گئی ہے کہ تمھیں قرآن پاک کے نکاح میں دے دیا جائے ؟
ساری عمر کے لئے تمھیں ایک حجرے میں مقید کردیا جائے ۔”
نورالعین زور سے چیخی:
“خدارا خاموش ہو جاو، میرے زخموں پر نمک پاشی مت کرو۔”
اس کے کانوں میں احتشام کی آواز کی بازگشت گونجی:
“نور! اس ظلم کی بھینٹ مت چڑھو، اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کوئی حکم نہیں دیا ہے جس میں بیٹی کو نکاح کے حق سے محروم کیا گیا ہو،خدارا آج کی صدی میں تو “دبائی ہوئی بیٹی” مت بنو ،آنے والی نسلوں کی لڑکیوں کے لئے بغاوت کردو،ظلم کی اس آندھی کے آگے ڈٹ جاو میں تمھارے ساتھ کھڑا ہوں ۔”
وہ اپنے کانوں پر ہاتھ رکھ کر چیخی:
“خاموش ہو جاو تم سب میں کچھ سننا نہیں چاہتی۔”
اس کا جسم سوکھے پتے کی طرح کانپ رہا تھا،اس کی آنکھوں میں کاجل پھیل چکا تھا۔اس کی آنکھوں میں ایک عجب قسم کی دیوانگی در آئی تھی۔اس نے جست لگائی اور اندھا دھند بھاگنا شروع کردیا۔اس کے پیروں سے چپل نکل گئی ،مگر وہ کانٹوں، پتھروں سے بے نیاز بھاگ رہی تھی، اس کے گرد و نواح میں آوازوں کا اژدھام تھا۔دور بیٹھی اس کی نوکرانیاں اس کی دیوانگی دیکھ کر چونکیں اور شور مچاتیں ،اسے آوازیں دیتیں اس کے پیچھے بھاگیں،نور العین کے پیر مزید تیز ہوگئے ،جب تک سیدانی کی نوکرانیاں پہاڑ کے دوسرے کونے تک پہنچیں ، انھیں دیر ہوچکی تھی۔ان کے ہاتھ صرف سیدہ کا سفید دوپٹہ اور کالی چادر آئی ،سیدہ پہاڑ کی بلندی سے جھیل کے نیلگوں پانی کا حصہ بن چکی تھی۔مرغابیاں شور مچاتیں جھیل کی سطح سے اڑ چکیں تھیں ۔اب بس چارسو خاموشی کی گونج تھی ۔

Published inافسانچہمونا شہزاد