Skip to content

ٹوٹی ہوئی سڑک

عالمی افسانہ میلہ 2015

افسانہ نمبر 25
ٹوٹی ہوئی سڑک

محمد جمیل اختر، راولپنڈی، پاکستان

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ ایک چھوٹے سے گاوٗں کی ایک چھوٹی سی سڑک تھی، جس کے ارد گرد درخت ہی درخت تھے۔ درختو ں کے پیچھے سکول کی عمارت تھی، اس سڑک پر آپ اگر چلتے جائیں تو آگے ہسپتال آ جائے گا جہاں ایک ڈاکٹر صاحب بیٹھتے تھے، جو سب کو ایک ہی طرح کی کڑوی ادویات دیتے تھے ان کے پاس کوئی دوا میٹھی نہیں تھی۔ دوا کے فوراً بعد آپ کو چینی بھی کھانا پڑتی تھی، لیکن اب وہ ڈاکٹرصاحب معلوم نہیں کہاں ہوں گے کہ یہ بہت پرانی بات ہے، اس سڑک میں کچھ بھی خاص بات نہیں تھی لیکن معلوم نہیں مجھے وہ سڑک بھولتی کیوں نہیں، اس کے ایک سرے پر لیمپ پوسٹ تھا، جب رات ہوتی تو بلب جلتا اورسب بچے اس کے نیچے کھیلا کرتے، جب بہت بارش ہوتی تو سڑک پر پانی ہی پانی ہوتا اوربچے اپنی کشتیاں لے کر سڑک کے دریا میں اتر جاتے، معلوم نہیں مجھے وہ سڑک، وہ لیمپ پوسٹ کیونکر یاد ہے اور وہاں ایک بچہ تھا جو شاید اب بھی لیمپ پوسٹ کے ساتھ ٹیک لگائے اپنے دوستوں کاانتظار کررہا ہو، وہ جو ساری دوپہر ان درختوں کے نیچے گزارتا تھا، اسے گاوٗں سے اس سڑک سے، اس لیمپ پوسٹ سے اور وہاں کے پرندوں سے محبت تھی۔ شاید وہ اب بھی سکول کی فیس جو اس سے راہ میں کہیں گر گئی تھی ڈھونڈھ رہا ہو، ساری دوپہر نکل گئی تھی ڈھونڈھ ڈھونڈھ کے تھک گیا تھا لیکن اسے روپے نہ ملے، بغیر پیسوں کے نہ وہ سکول جا سکتا تھا اور نہ گھر، معلوم نہیں وہ کتنی بار سڑک پر آیا اور گیا تھا، وہ بار بار سورج کو دیکھتا کہ کہیں ڈوب نہ جائے یہ ڈوب گیا تو اندھیرے میں روپے کیونکر ملیں گے لیکن سورج کو کیاخبر سو وہ ڈوب گیا ۔۔۔ وہ پریشان ہوکر لیمپ پوسٹ کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گیا ۔۔۔ شاید وہ اب بھی وہاں بیٹھا ہو ۔۔۔۔

وہی لڑکا اپنے ہم جماعت دوستوں سے جھوٹ بولتا تھا کہ سڑک کے کنارے درختوں میں جن پرندوں کے گھونسلے ہیں وہ سارے پرندے اس کے دوست ہیں، اور جب باقی لڑکے نہیں ہوتے تو پرندے درختوں سے اتر کر آتے ہیں اور وہ مل کر کھیلتے ہیں، سب کہتے تھے یہ جھوٹ ہے ایسا بھلا کیونکر ممکن ہے۔ سب نے کہا اگر ایسا ہے تو ہم چھپ کر بیٹھیں گے اور دیکھتے ہیں پرندے کیسے نیچے آتے ہیں، سب لڑکے جھاڑیوں میں چھپ گئے اور وہ لڑکا درخت کے نیچے بیٹھ گیا ، پرندے نہیں آئے ، پرندوں کو کیا خبر کہ وہ کون ہے ، لیکن وہ بیٹھا رہا شاید وہ اب بھی بیٹھا ہو اسی درخت سے ٹیک لگائے پرندوں کو دیکھ رہا ہو کہ یہ کب نیچے آ کر اس سے کھیلیں گے ۔۔ ۔وہ پرندے اس کے دوست تھے لیکن وہ نہیں آئے اور سب لڑکے اس پر ہنسنے لگے تھے۔ وہ لڑکا بہت جھوٹا تھا وہ یہ بھی کہتا تھا کہ میں بہت بہادر ہوں اور میں اکیلا کئی لوگوں سے لڑ سکتا ہوں، چھٹی کے بعد اسی سڑک پر چلتے ہوئے چار لڑکوں نے اس کی خوب دھنائی کی اور اسکی شرٹ کے بٹن بھی توڑ دیئے، اسے تھپڑ پڑ رہے تھے اور وہ زمین پر اپنے بٹن تلاش کررہاتھا،

’’ ٹھہرو مجھے بٹن اٹھا لینے دو، ٹھہرو، ایک منٹ ٹھہرو، یہ ۔۔۔ یہ میری جیب ہے دیکھو، دیکھو، جیب چھوڑ دو۔‘‘۔۔۔ جیب بھی پھٹ گئی تھی، بٹن بھی ٹوٹ گئے تھے ۔

’’ اب بتاو تمہیں تو بڑے داوٗ پیچ آتے تھے تم تو کئی لوگوں سے لڑ سکتے تھے اب بتاوٗ۔‘‘ اور وہ لڑکے چلے گئے اس نے بٹن تلاش کیے، جب سارے بٹن مل گئے تو اسے احساس ہوا کہ اس کی کہنی سے خون بھی بہہ رہا ہے ۔۔۔ وہ وہیں سڑک کے کنارے بیٹھ کر رونے لگا، شاید وہ اب بھی وہیں بیٹھا رو رہا ہو ۔۔۔ میں بھلا اسے کیسے ساتھ لا سکتا تھا وہ خود بہت ضدی تھا حالانکہ گاوٗں کے حالات اب پہلے سے نہیں رہے تھے، وہ گاوٗں جو امن وسکون کا گہوارہ تھا اور جہاں لوگ غریب ہونے کے باوجود بہت محبت اور بھائی چارے سے رہ رہے تھے لیکن وہاں ظلم کی سیاہ رات چھاگئی۔

ہوا یوں کہ ایک ظالم دیو نے اپنے حامیوں سمیت گاوٗں پر قبضہ کرلیا، سورج نکلتا تھا لیکن دن نہیں ہوتا تھا، کالی سیاہ رات کہ جس میں کوئی اگر اجالا کرنا چاہتا تو اسے سزادی جاتی، کوئی بولنا چاہتا تو چپ کرا دیاجاتا، غریب ڈرے ہوئے لوگ اب آہستہ آہستہ گاوٗں چھوڑ کرجا رہے تھے، دیوارودر کو اب دیمک چاٹ رہی تھی، وہ گاوٗں اور وہ گلیاں کہ جو سارادن بچوں کے شوروغل سے مسکرا رہی ہوتیں، اب ویران ہو کرسسک رہی تھیں، حتیٰ کہ وہ لیمپ پوسٹ کہ جس کے نیچے ہر شام بچے کھیلا کرتے، اداس تھا، وہ جل جل کرتاریکی ختم کرنے کی کوشش کرتا لیکن تاریکی ایسی تھی کہ ختم ہونے میں نہ آتی تھی، اب گاوں کو نئے سرے سے ظلمت کی بنیادوں پر استوار کیا جارہا تھا، سڑک اور زیادہ ٹوٹ گئی تھی اور اس کے ارد گرد جھاڑیاں بھی بڑھنے لگ گئیں تھیں، اب گاوں میں صرف دیو کے حامی اور چند ہی اور لوگ رہ گئے تھے، اور ظلم و ستم جاری تھا۔ مخالفین کے گھر توڑے جا رہے تھے اور لوگ اس دیو کے خلاف کچھ نہ کرسکتے تھے، غریب لوگ بھلا کر ہی کیا سکتے تھے، وہ ایک شام جو کبھی بھلائی نہیں جا سکتی کہ جب دیو کے کارندے آئے اور ہمیں بھی گھر خالی کرنے کو کہا، ہاں وہ گھر کہ جس کی ایک ایک اینٹ محبت سے رکھی گئی تھی، وہ دیورایں جو مکینوں کو جانتی تھیں اور مکین دیواروں کو جانتے تھے، وہ گھر خالی کرناتھا، سو سامان باندھ لیا گیا تھا، کسے معلوم کہ ہم اس رات کتنا روئے تھے، لیکن وہ لڑکا اسی ٹوٹی ہوئی سڑک کے کنارے بیٹھا تھا جہاں اب جھاڑیاں ہی جھاڑیا ں تھیں سکول بند ہوگیا تھا اور وہ ڈاکٹر صاحب جو کڑوی دوائیاں دیا کرتے تھے وہ بھی اب نہ آتے، لیکن پھر بھی وہ لڑکا وہیں بیٹھا تھا۔ میں نے اسے بہت سمجھایا کہ دیکھو یہ لوگ بہت ظالم ہیں، اب ہمارا گزارہ یہاں ممکن نہیں ہم غریب ناتواں لوگ ان ظالموں کے خلاف کرہی کیا سکتے ہیں، اٹھو میرے پیارے، اب یہاں ویرانیاں ہی ویرانیاں ہیں، یہاں سکول ہے نہ ہسپتال، اور تمہارے سارے دوست بھی اب یہ گاوٗں چھوڑ کر جا چکے ہیں سو ہمیں بھی جانا ہو گا پر وہ نہیں مانا۔ اس کا خیال تھا کہ پرندے اس کے دوست ہیں، اسے اس ٹوٹی ہوئی سڑک اور لیمپ پوسٹ اور اپنے گھر سے محبت ہے، سو وہ وہیں رہے گا، اور وہ اسی ٹوٹی ہوئی سڑک پر ہی رہ گیا ۔۔۔ اور میں شہر آ گیا۔

Published inعالمی افسانہ فورممحمد جمیل اختر