Skip to content

وہ دن

عالی افسانہ میلہ 2018
افسانہ نمبر87
وہ دن
آشا پربھات,بہار ۔انڈیا

پٹنہ کتب میلے کا ششم دن۔ جس وقت میں گراؤنڈ سے باہر نکلی، پونے سات بج رہے تھے۔ شام کی سیاہی گہری ہوچلی تھی۔ دسمبر کے اولین ہفتہ کا دلکش موسم، کتب میلا میں لوگوں کی آمد تھم سی گئی تھی اور باہر نکلنے والوں کے بھی تقریباً وہی حالات تھے، نہ زیادہ نہ کم۔ چار بجے سے میلے میں گھومتے، کتب بینی کرتے، خریداری کرتے، دوستوں سے گفتگو کرتے۔ وقت کے پھسلنے کا اندازہ ہی نہیں ہوا۔ اسی درمیان جاننے والے چند دوستوں نے گھر تک چھوڑنے کی پیش کش کی تھی، لیکن ساتھ ہی چند دوستوں کی خواہش تھی کہ ایک، دو پیالہ چائے اور پی جائے اور کچھ گپ شپ ہو۔ عرصہ بعد ملاقات کا یہ تقاضا بھی تھا، موقع بھی تھا اور ماحول بھی۔ انکار نہیں کیا گیا مجھ سے۔
گیٹ پر چند لمحے ٹھہر کر خیال کیا کہ شمال کی جانب ٹیمپو (سواری) مل جائے گا محلے تک۔ گھر پہنچنے کی جلدی بھی ہے، لہٰذا جنوبی حصہ کی طرف نہ جاکر میں شمال کی جانب چل پڑی۔ پٹنہ کا یہ علاقہ ناواقف نہ تھا میرے لیے۔ ڈرامہ نگار ہونے کی وجہ سے یہاں ہمیشہ سے آمد و رفت تھی۔ سالوں سے گھر آنگن کی طرح تھا یہ میرے لیے۔ پٹنہ کا عظیم الشان گاندھی میدان، درمیان میں لگا کتب میلہ، ایک نکتہ کی طرح تھا، گیٹ سے چند فاصلے تک تو روشنی نے ساتھ دیا۔ آگے ہلکے کُہرآلود نیون لائٹ کی مٹمیلی روشنی پسری ہوئی تھی۔ آج کی گفتگو پر غور فرماتی آگے بڑھ رہی تھی کہ اچانک ایک آدمی میرے سامنے آکر کھڑا ہوگیا، نامعلوم کدھر سے۔ اس کے سامنے آ جانے کی وجہ سے میرے قدم ٹھہر سے گئے۔
’’ارے آپ ہیں؟‘‘ اس کی خوش آمیز آواز نے چونکا کر مجھے اس کی طرف توجہ دینے پر آمادہ کیا۔ دراز قد کاٹھی، سوٹیڈ بوٹیڈ جسم، ادھیڑ عمر، بالکل اجنبی انسان۔
’’لیکن آپ کون ہیں؟‘‘ میں نے تعجب سے پوچھا۔
’’میں سریندر، سکریٹریٹ میں پوسٹیڈ ہوں۔ آپ سے واقف ہوں۔‘‘
’’اچھا! تو آپ ڈرامہ وغیرہ سے دلچسپی رکھتے ہیں؟‘‘ میں نے سہیج پن سے کہا اور آگے بڑھنے لگی۔ محسوس ہوا کہ اُس نے شاید ڈرامہ میں دیکھا ہوگا مجھے۔
’’آپ سے مل کر خوشی ہوئی‘‘، ساتھ ساتھ چلتے ہوئے اُس نے کہا۔
میں خاموش رہی۔ کیا کہتی۔
’’کس طرف جانا ہے؟‘‘ اس نے چلتے چلتے پوچھا۔
’’بورنگ روڈ‘‘، فوراً میرے منہ سے پھسل پڑا۔ پھر خیال آیا اگر یہ مجھ سے واقف ہے یا سچا مداح ہے تو میرے گھر سے بھی ضرور واقف ہوگا۔
’’مجھے بھی کرشن پوری تک جانا ہے۔ چلئے اچھا ہے، ساتھ رہے گا‘‘، اس نے کہا۔ ہم لوگ گاندھی میدان سے باہر ٹیمپو اسٹینڈ تک پہنچ گئے تھے۔ وہ ٹیمپو کی طرف بڑھا۔
’’آئیے نا!‘‘ اُس نے کہا۔ اس کا یہ رویہ مجھے ناگوار محسوس ہوا۔ مداح ہونا، یا اظہار خیال الگ بات ہے، لیکن یہ ساتھ ساتھ چلنا۔ وہ بھی زبردستی۔
’’نہیں! میں رکشے سے جاؤں گی۔‘‘ میں نے کہا اور رکشا روک کر بیٹھ گئی۔ وہ فوراً لپکا اور میری بغل میں آبیٹھا۔ میں بھونچکا رہ گئی۔ اُس کی اس گستاخی پر، غصے کا بلبلہ سا اٹھا، میرے اندر، خوف کا نہیں۔ عمر کے چھتیسویں سال میں خوف پر خودبخود قابو ہوجاتا ہے۔ کوئی معصوم یا نادان نہیں تھی میں۔ لیکن اس کی یہ بے حیائی ناقابل برداشت تھی۔ سخت لہجہ میں، میں نے کہا۔
’’آپ فوراً رکشہ سے اُترئیے۔‘‘ لاکھ غصہ کے باوجود آواز میں ذرا آہستگی تھی۔ اِردگرد، ٹیمپو اور رکشے والوں کی بھیڑ تھی۔ تیز آواز کا مطلب تھا، خواہ مخواہ ہنگامہ کھڑا ہونا۔ سینکڑوں سوالات کے طوفان میں پھنسنا اور ہزاروں گھورتی آنکھوں کا مرکز ہونا۔
’’دونوں کی منزل ایک ہی جانب ہے۔ ساتھ ہی چلتے ہیں۔‘‘ اس نے کہا اور جم کر بیٹھ گیا۔ پہلی مرتبہ مجھے اپنی اس مشکل حالت کا شدت سے احساس ہوا۔ عجیب حالت تھی میری۔ اگر میں ٹیمپو پر بیٹھوں، وہ ساتھ بیٹھ جائے گا۔ دوسرا رکشا لوں، وہ اس پر بھی کود کر بیٹھ جائے گا۔ تماشا کھڑا ہوجائے گا۔ چیخ بھی نہیں سکتی۔ لوگوں سے کیا صفائی دوں گی؟ رائی کا پہاڑ بن جائے گا۔ عورت ہونے کا پہلی دفعہ شدت سے احساس ہوا مجھے۔ ہجوم پر مختلف اثر پڑے گا۔ اگر میں کتب میلا کی طرف مڑوں تو کیا یہ جونک کی طرح ساتھ نہ جائے گا۔ عجب احساس سے جسم کے تمام روئیں بھربھرا کر کھڑے ہوگئے۔ پھر بھی ہمت کرکے میں نے رکشے سے اترنے کی کوشش کی۔ اس نے فوراً رکشا والے کو آگے بڑھانے کو کہا۔ میری ذہنی حالت سے انجان، ہم دونوں کو دوست سمجھ کر رکشا والا آگے بڑھ چلا۔
’’آپ تو میڈم اتنی دانش مند ہیں، کچھ مجھ پر بھی رحم کیجیے نا۔‘‘ اس نے کہا۔ میں اس کے معنی نہیں سمجھ پائی۔ ایسا محسوس ہوا کہ سرکاری ملازم ہونے کی وجہ سے وہ پریشان ہے شاید۔ اگر مجھ سے واقف ہے تو اُسے یہ بھی معلوم ہوگا کہ میری پہنچ گہری ہے، ایک کامیاب اداکارہ ہونے کی وجہ سے۔ یہ خیال کرکے ذرا سی مطمئن ہوئی میں۔
’’کسی سے سفارش وغیرہ کرنا ہے کیا؟‘‘ اپنے جسم کو سمیٹتے ہوئے میں نے اس سے سوال کیا۔ پٹنہ کے چھوٹے سے رکشا میں کسی اجنبی مرد کے جسم سے ذرا بھی چھو جانے سے گھبرا رہی تھی، لیکن مجبوری کہ اُتر کر بھاگ بھی نہیں سکتی تھی۔
’’ارے سفارش وغیرہ کیا کروانا ہے میڈم، صرف آپ ذرا سا کرم کردیں۔‘‘ اس نے کہا اور آہستہ سے ہنسا۔ رکشا میوزیم تک پہنچ چکا تھا۔
’’کرم، کیسا کرم، بھائی؟‘‘ میں نے تعجب سے پوچھا۔ اس کی باتوں میں پوشیدہ فحش معنی میری سمجھ میں کچھ کچھ آنے لگے تھے، اور میرے خوف میں اضافہ ہونے لگا تھا۔ فوراً کوئی ایسی تدبیر سوچ رہی تھی جس سے اس منحوس سے پیچھا چھڑا سکوں۔ بورنگ روڈ تک کا طویل سفر اس انسان کے ساتھ ناقابل برداشت تھا۔ اس کی گستاخی کسی بھی وقت منہ زور ہوسکتی تھی۔
’’آپ تو خود عقلمند ہیں، سمجھ ہی گئی ہوں گی میری مراد‘‘
وہ پھر ہنسا آہستہ سے۔ غصہ کی تیز لہر دوڑ گئی میرے تمام جسم میں۔ دل میں آیا زور کا دھکا دے کر نیچے گرادوں اُسے لیکن پھر وہی خوف لوگ کیا کہیں گے کسی کو میری بات کا یقین ہی نہ ہوگا سب ہی کا سوال ہوگا گاندھی میدان سے یہاں تک اس کے ساتھ آئی ہی کیوں، لائی ہی کیوں، میری کم بختی اور حالات کا کسی کو اندازہ نہیں ہوگا۔ اس مشکل الجھن سے نکلنے کا کوئی راستہ نظر نہیں آرہا تھا۔
رکشا انکم ٹیکس گولمبر تک آگیا تھا۔ اچانک میرے دماغ میں کچھ کوندھا، میں نے فوراً رکشا روکنے کو کہا۔
’’مجھے کدوائی پوری میں ایک رشتہ دار کے یہاں کچھ کام ہے‘‘ میں نے کہا اور رکشا سے اترکر گولمبر کا چکر کاٹے بغیر، پیچھے مڑ کر تیز تیز قدموں سے آگے بڑھ گئی۔ طے کرلیا تھا آگے سے رکشا لے کر بدھ مارگ میں اپنے رشتہ دار کے ہاں چلی جاؤں گی۔ اطمینان ہوا کہ خیریت سے اس احمق سے جان چھوٹی۔ کس آفت میں پھنس گئی تھی آج، یہ خیال کرتی، رکشا پر بیٹھنے ہی جارہی تھی کہ بالکل بغل سے اس کی آواز آئی۔
’’آپ تو کدوائی پوری جانے والی تھیں۔ ادھر کہا ں جارہی ہیں؟‘
گھور کر میں نے اسے دیکھا، میری آنکھوں میں شعلے بھر آئے۔ جی میں آیا کہ اس کا منہ نوچ لوں۔ مجھے کہاں جانا ہے کہاں نہیں جانا ہے یہ طے کرنے والا وہ کون ہوتا ہے۔ لیکن پھر وہی وقت کی نزاکت
’’لیکن آپ یہاں کہاں؟ آپ کو بھی تو کرشناپوری جانا تھا؟‘‘ سخت لہجے میں، میں نے پوچھا، لیکن اندر سرد جھرجھری سی دوڑ گئی۔
نزدیک یا پاس کوئی واقف کار یا رشتہ دار نہ تھا جس کے یہاں جاکر پناہ لیتی۔ وہ ساتھ ساتھ چلنے لگا تھا سایہ کی طرح آکٹوپس کی طرح اپنے آٹھوں بازوؤں سے مجھے جکڑے ہوئے۔ میرے قدم خودبخود کدوائی پوری کی طرف مڑگئے۔ اس کے ہر قدم پر ایک بوجھ کے ساتھ خوف کی دھمک ذہن میں اُبھر رہی تھی۔ دماغ چوکنّا ہوکر کوئی راہ تلاش رہا تھا جس سے اس مشکل سے نجات حاصل ہوسکے۔ سڑکوں پر ابھی چہل پہل تھی۔ اس لیے محفوظ لگا، پیدل چلتے رہنا۔ لیکن کب تک۔ اور کہاں تک؟
’’آپ کی رہائش گاہ بھی بورنگ روڈ میں ہے ادھر سے بھی راستہ ہے۔ ساتھ ہی چلتے ہیں۔ آئیے فی الوقف ایک ایک پیالہ چائے پی لیا جائے۔ دیکھئے کتنا دلکش موسم ہے۔‘‘ اس کا لہجہ رومانٹگ ہورہا تھا۔ مجھے کوفت ہورہی تھی نامعلوم کس پر، اپنی حالت پر یا مجبوری پر۔
’’میری خواہش نہیں ہے۔‘‘
’’اس انکار کا تو کوئی معنی نہیں ہے۔ آئیے سامنے چائے کی دکان ہے۔ پی لیجیے ایک پیالہ۔ میری خواہش ہے‘‘، اس نے کہا۔ اس کے لہجے میں ضد اور حکم دونوں گھلا ہوا تھا جسے سن کر میرا سراپا لرز اٹھا۔ اب کیا کروں۔ کلائی پر گھڑی کی طرف نظر دوڑائی، آٹھ بجنے ہی والے تھے۔ دسمبر کی سرد رات کُہرا گھنا ہونے لگا۔ پھر شوہر اور بچے بھی فکرمند ہوں گے۔ دل بے چین ہو اٹھا۔ صبح شوہر نے کہا تھا کہ ساتھ چلیں گے تو میں نے منع کردیا تھا۔ دفتر کے بعد چائے، ناشتہ اور تیار ہوتے ہوتے وقت نکل جاتا ہے۔ بہت کم وقت حاصل ہوتا ہے کتب بینی کا۔ ویسے بھی ادھر برابر آنا جانا لگا رہتا ہے۔ میں کوئی نادان تو نہیں۔ مگر اس حالت کا تو تصور بھی نہیں تھا ذہن میں دور دور تک
پھر بھی کچھ تو کرنا ہوگا یوں پریشان ہونے سے کچھ نہ ہوگا۔ کچھ سوچا اور ادھر اُدھر نظریں دوڑائیں۔ ایک خالی رکشا آتا نظر آیا۔ اردگرد کوئی دوسرا رکشا نہیں تھا۔ موقع اچھا لگا۔
’’آپ چائے بنوائیے۔ اتنی منت کررہے ہیں تو پی لوں گی۔‘‘ میں نے اس سے کہا۔ اس کے ہونٹوں پر شاطرانہ ہنسی جھلکی۔ وہ دکان کی طرف بڑھ گیا۔ یہی موقع تو چاہیے تھا مجھے۔
لپک کر میں نے رکشا روکا۔ اس پر بیٹھی اس سے تیز چلنے کو کہا۔
جب تک وہ مڑتا، کچھ سمجھتا، رکشا بھاگ چلا تھا گولمبر کی طرف اور چند منٹوں میں بھیڑ کا حصہ بن کر مڑ گیا تھا بدھ مارگ کی جانب اس کی پہنچ سے دور۔ بھاگتے ہوئے بھی خوف کا سایہ آسیب کی طرح میرا پیچھا کرتا رہا۔
اپنے رشتہ دار کے یہاں پہنچ کر ایک بیمار کی مانند گر پڑی صوفے پر۔ خوف کی سرد لہر سے بدن پھر لرز گیا تھا۔ اپنی کم بختی اور رو بہ رو آئے دفعتاً حالات کا بیان نہ رشتہ دار سے کرسکتی تھی اور نہ شوہر سے ہی، جنھیں میں نے فون کرکے بلالیا تھا۔ اپنی طبیعت خراب کی اطلاع دے کر۔ شوہر سے کچھ بھی کہنے کا مطلب تھا انھیں کشیدگی میں مبتلا کرنا۔ میں بے حد کشمکش میں تھی یہ خیال کرکے کہ میرا قصور کیا تھا جس کی سزا مجھے ملی تھی۔ اس وقت اچانک اس کا ملنا، باتیں کرنا، حالات کے مدنظر سب کچھ ہی خود بخود ہوتا چلا گیا تھا۔ اور بغیر مرضی کے میں اُلجھتی گئی تھی۔ اگر کوئی حادثہ پیش آگیا ہوتا آہ لرز اُٹھا میرا جسم پھر، خود اپنے احمق پن پر۔ جس شہرت کی بنا پر میں نے شور نہیں مچایا، مدد کے لیے کسی کو آواز نہیں دی، بھیڑ اکٹھی نہیں کی، اسے تھپڑ نہیں مارا دھکا دے کر رکشا سے نہیں گرایا، اس غلط فہمی میں اس سے گفتگو کرنا گوارا کیا کہ وہ میرا مداح (fan) ہوگا۔ شاید یہی غلطی تھی میری۔ یقین کرنا ایک اجنبی پر۔
شاید خود پر زیادہ اعتماد کی وجہ سے ہی آج۔ کچھ بھی ہوسکتا تھا۔ کچھ بھی سرسام کی مریض کی طرح کانپ اٹھا میرا بدن
صبح شوہر ساتھ چلنے کے لیے کہہ رہے تھے۔ میں چند لمحے ٹھہرنے کے لیے ضد کررہی تھی طبیعت خراب ہونے کا بہانا بناکر۔ ہر لمحے ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے وہ بھیڑیا یہیں کہیں اردگرد ہی موجود ہے، اپنی خوفناک آنکھوں سے مجھے تلاشتا اور خوف سے میں خود میں سمٹ جانا چاہتی تھی۔

Published inآشا پربھاتعالمی افسانہ فورم