Skip to content

وچھڑی کونج قطاراں

عالمی افسانہ میلہ 2015

افسانہ نمبر 85

وچھڑی کونج قطاراں

ساجد محمود، بہاولپور، پاکستان

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کبھی کبھی پھانس کا چبھنا اتنا تکلیف نہیں دیتا جتنا کہ اس پھانس کے نکلنے کے بعد بنا نظر اۓ گم ہو جانا، مختصر یہ کہ ذہنی الجھن جسمانی تکلیف سے بدتر ہوتی ہے۔ کچھ ایسی ہی کیفیت نور العین کے ساتھ تھی۔ اس کی مہریاب کے ساتھ علیحدگی ہو چکی تھی اور اسے اس بات کا یقین تھا کہ مہریاب ہمیشہ کے لئے اسے خیرآباد کہ چکا ہے لیکن چونکہ یہ فیصلہ مہریاب کا تھا لہذا نور العین کو ایک سال گزرنے جانے کے باوجود یقین نہیں تھا کہ یہ سب کچھ ہو چکا ہے۔

کبھی وہ مہریاب کے ساتھ گزرے ماضی کے بہترین دنوں کو یاد کرتی کبھی اپنی ان دعاؤں کو جو اس نے ہر اس وقت میں مانگیں تھیں جب قبولیت کی گھڑیوں کا ذکر کیا جاتا، سفر میں، بارش میں، بیماری میں، اذانوں کے اوقات میں اور سال بھر کی سب افضل راتوں میں لیکن!

‘ لیکن میری تو کوئی دعا قبول نہیں ہوئی، کیا میری دعاؤں میں ذرا بھی اثر نہیں تھا کیا میرے من میں سچائی نہیں تھی؟ ‘ نور العین اپنے گھر کی بالکونی میں کھڑی کھلے آسمان کی طرف تکتے ہوۓ خود کلامی کر رہی تھی اور اپنی داہنے ہاتھ کی منجھلی انگلی سے گلے میں پہنے ‘ لاکٹ ‘ جو کہ مہریاب نے بڑی چاہت سے نور کو تحفے میں دیا تھا، کو مسلسل گھما رہی تھی کہ ایک سرد ہوا کہ جھونکے نے نورالعین کو ایک دفعہ پھر ماضی میں دھکیل دیا۔ جب وہ اور مہریاب فائن آرٹس کالج کی جان ہوا کرتے تھے اور سب جانتے تھے کہ یہ جوڑی ہمیشہ رہنے والی ہے لیکن ان دونوں کے درمیان کب فاصلے پیدا ہو گئے۔ نورالعین آج تک نہیں سمجھ پائی اور اسی دوری کو ختم کرنے کی خاطر اس نے بھری کلاس کے سامنے مہریاب سے ہاتھ جوڑ کر اپنی ناکردہ غلطیوں کی بھی معافی مانگی تھی جسے مہریاب نے انتہائی سردمہری کے ساتھ نظر انداز کر دیا۔ نور ابھی انہیں سوچوں میں گم تھی کہ اسے آسمان پر کونجوں کی لمبی قطار دکھائی دی انہیں دیکھتے ہی اسے حضرت خواجہ غلام فرید کا وہ شعر یاد آ گیا؛

” غلام فریدہ میں اینویں رونواں، جیویں وچھڑی کونج قطاراں ” اور دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ کاش میں انسان ہونے کی بجاۓ کونج ہوتی کم از کم آج میرا دل تو اتنا دکھی نہ ہوتا۔ وہ پگلی یہ بھول بیٹھی تھی کہ قبولیت کی گھڑی کوئی بھی ہو سکتی ہے بس دعا مانگنے اور قبول کنے والے کے درمیان کوئی تیسری سوچ حائل نہیں ہونی چاہئے، خواہش دل میں پیدا ہونے کی دیر تھی کہ الله نے اس کی سن لی اور نورالعین انسان سے کونج بن گئی۔ پہلے پہل تو وہ بہت حیران پریشان ہوئی لیکن کچھ ہی لمحوں بعد اس نے کونجوں کی قطار میں ملنے کے لئے اڑان بھرلی ابھی وہ کچھ ا دور گئی ہو گئی کہ راستے میں اسے مہریاب اپنے گھر کی کھڑکی میں مورتی تراشتا دکھائی دیا۔ اسے یہ دیکھ کر بہت حیرت ہوئی کہ جس مورتی کو مہریاب تراش رہا تھا وہ نورالعین سے بہت مشابہت رکھتی تھی لیکن اس کی ساری خوشی اس وقت رفو ہو گئی جب اس کی نظر اس لڑکی پر پڑی جو کہ مورتی کے پہلو میں بیٹھی تھی۔ اس منظر کو دیکھنے کے بعد اس نے اپنے پر تیزی سے پھڑ پھڑائے اور کونجوں کی قطار میں جا شامل ہوئی۔

کچھ دیر بعد اسے محسوس ہوا کہ کوئی اس سے انسانی آواز میں مخاطب ہے لیکن فورا” یہ سوچ کر اس خیال کو جھٹک دیا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی کون اس سے انسانی آواز میں مخاطب ہو۔ ابھی نور اسی سوچ میں گم اور آزاد فضا میں پرواز کا لطف لے رہی تھی کہ اسے پھر سے آواز آئی؛

“سنو !! تم ، تم پہلے انسان تھی نا؟

اب جو نور نے گردن کو گھما کر دیکھا تو واقعی ہی اس کے ساتھ والی کونج انسانی آواز میں اپنا سوال دہرا رہی تھی کہ بتاؤ نہ تم پہلے انسان تھی نا؟ اس سے قبل کہ نورالعین اس کے سوال کا جواب دیتی، الٹا سوال کر ڈالا کہ تمھیں کیسے پتا چلا ؟؟

وہ مسکرا کر بولی؛” کبھی میرے گلے میں بھی ایسا ہی ایک لاکٹ تھا۔”

Published inافسانچہساجد محمودعالمی افسانہ فورم