Skip to content

نینوں کے پگ بھیگ گئے

عالمی افسانہ میلہ 2019
افسانہ نمبر 4

نینوں کے پگ بھیگ گئے……!!!

ڈاکٹر عظیم اللہ ہاشمی،کولکاتا،(انڈیا)

آنکھوں کی جھیل میں جب کبوتر نہانے لگتا ہے تو منظر بڑا دلگداز ہوجاتا ہے۔!!

پیپل کا وہ گھنیرا پیڑجس کی ننھی ننھی پتیوں سے کبھی چاندنی آبشار کی طرح جھڑتی تھی،اُس کی شاخیں ننگی ہوگئی ہیں۔البتہ بغل والے برگد کی خارجی جڑیں زمین کو بوسے دینے لگی ہیں۔بائیں طرف کا زیرآب زمین گنگا کی لائی مٹی سے بھر گیا ہے جس پرجہاں تہاں ریت کے ٹیلے دکھائی دے رہے ہیں۔ کارخانے کی فصیل اونچی کردی گئی ہے۔ بدلتے منظر نامے کو دیکھ کر ذہن کے دریچے کھلے۔!

ایسا ہی پیپل میر ے گاؤں کے پنگھٹ پر تھا۔ جس پر ۰۴برس قبل مارکنڈے پانڈے نے لٹک کر۰۴دنوں تک چھئے ہو چھئے ہو کی صدائیں لگا ئی تھیں۔! ان دنوں میری دادی نے یہی بتایا تھا کہ یہ بھگوان ورھما کا وردان ہے کہ کوئی برہمن جب رات کی تاریکی اور صبح کے اُجالے کی ملگجھی روشنی میں مسلسل ۰۴ دنوں تک پیپل کی شاخوں سے لٹک کر صدائیں لگا تا ہے تواُس کی منوکامنا پوری ہوجاتی ہے۔!!

مجھے اب بھی یاد ہے یہ کہانی اُسی پیپل کے سائے میں پروان چڑھی تھی۔! میں پیپل کی شاخ پر لٹکی تو نہیں لیکن بھگوان برہماکی تصویر من مندر میں بیٹھا کرہر صبح جوتی کلش چھلکنے سے پہلے تانبے کے کلش میں دودھ اور گنگاجل شیوالے میں چھلکانے لگی۔اِس تپسیا کے دوران نیلے عنبر،مولیسری اوررجنی گندھا کے تن سے پھوٹتی خوشبو، اور میراریشم سا من۔!سب مل کر ساون کا مور بن جاتے جس کی پیٹھ پر بھگوان کرشن رقص کرتے۔!!!

ایک دن ہوا یوں کہ سورج کے بدلے تیور سے موسم کا مزاج بھی بدل گیا۔کمرے کے باہر ہوا کے گرم بگولے چل رہے تھے۔برگد کے پتوں پر دھوپ کی بارش ہورہی تھی۔معصوم بچے گاوئں کے پوکھرسے مٹی لا کر برگد کے سائے میں گیلی مٹی سے کھلونے بنانے میں مصروف تھے۔اُن میں سے ایک بچے نے کہا۔

”دھوپ کتنی کڑی ہے۔!!“

دوسرے نے لقمہ دیا۔

”اچھا ہے کھلونے جلد سوکھ جائیں گے۔!“

اینٹ کھولی میں کام کرتے مزدوروں نے تیکھی نظروں سے بچے کی طرف دیکھا۔ کوئل کی کوک اور پپیہے کی تان،چاروں طرف چلچلاتی دھوپ۔! میں نے مٹکے کو اُٹھا یااور گاؤں کے کنویں پر جاپہنچی کہ اتنے میں وہ اجنبی لڑکا ہانپتا ہوا سائیکل سے اُترا اور کہا۔

”بہن جی مجھے ایک کٹوراپانی دے دو بڑی پیاس لگی ہے۔!“

میں نے پسینے سے شرابور اُس کے چہرے کو دیکھا۔بڑا معصوم لگ رہا تھا۔!!گیہواں رنگ۔! ستوان ناک کے نیچے اُگے بھورے بھورے بال کو دیکھ کر لگا جیسے اُس پر شباب کی بہاریں دستک دینے والی ہیں۔اُس کے سرخ ہونٹوں کو دیکھ کر میر ی پیاس بھی بڑھی لیکن اندر کی نسائیت نے اپنا لگام کسا۔میں نے اُس سے کہا۔

”تم نے مجھے بہن جی کیوں کہا۔!“

وہ اُجڈ گنوار کچھ نہیں سمجھااور گٹر گٹر پانی پی کر چہرے کو ہتھیلوں سے پوچھتے ہوئے کہا۔

”کنواں کا پانی بہت ٹھنڈا اور میٹھا ہے۔بھگوان تیرا بھلا کرے۔!“

اتنا کہہ کر اُس نے سائیکل اُٹھائی اور گھنٹی بجاتے ہوئے چلچلاتی دھوپ میں گاؤں کی پگڈنڈی پر برق رفتاری سے اپنی منزل کی طرف جانکلا۔جی میں آیا پیچھے سے اُس کا گریباں پکڑلوں اور ایک ایک قطرے پانی کا تاوان وصول لوں۔لیکن ڈر بھی لگ رہا تھا۔کوئی دیکھ نہ لے۔! دونوں ہاتھ سے تانبے کاگاگر پکڑے چپ چاپ میں اُس کو نظروں کی آخری سرحد تک گم سم تکتی رہی اور من ہی من میں سوچتی رہی۔

کاش یہ میرا………!!

پھر میں اپنے آپ سے شرما گئی اور کنویں سے ڈور کھنچنے لگی۔اتنے میں گھنیرے پیپل کے نیچے کھلونے بناتے بچوں میں سے ایک معصوم بچہ کنویں کے پاس آیااور کہا۔

”ماں جی میرا ہاتھ دھلا دو۔“

میں نے پیار سے اُس کو پرے ڈھکیلتے ہوئے کہا۔

”تونے مجھے ماں جی کیوں کہا رے۔!!“

اُس نے بڑی معصومیت سے کہا۔

”تو کیا کہوں۔؟“

میں نے کہا۔

”دیدی کہہ دیدی۔!“

اُس نے دونوں ہتھیلیوں کورگڑتے ہوئے کہا۔

”لیکن تم ماں کب بنوگی۔؟“

پانچ برس کے اُس معصوم بچے کی گال پر میں نے چپت لگاکرزیرلب مسکراتے ہوئے کہا۔

”جب وہ سائیکل والا آئے گا۔!!“

اُس نے پوچھا۔

”سائیکل والا کب آئے گا۔؟“

اب میں اُس کو کیا جواب دیتی۔میں صرف اتنا جانتی ہوں کہ بچے معصوم ہوتے ہیں اوراِن کے منہ سے فرشتے بولتے ہیں۔ میں نے ہنستے ہوئے کہا۔

”یہ تو تو بتائے گاکہ وہ کب آئے گا۔!“

اُس نے کہا۔

”پہلے پرساد چڑھا اِس کے بعد یہ بالک بولے گا۔!“

اُس کے کھڑے ہونے اور بات کرنے کے انداز سے مجھے محسوس ہوا کہ یہ تو کرشن کا اوتار معلوم ہوتاہے۔!پھر ایسا ہوا کہ میرے اندر کا تجسس جاگ اُٹھا۔میں نے اُس کے کان کو پکڑا اور کہا۔

”چل تو میرے گھر چل۔آنگن میں تلسی کے نیچے تجھے پرساد چڑھاؤں گی اور مٹی کے کورے کھورے میں تجھے دودھ پلاؤں گی۔لیکن سچ سچ بتانا۔!!“

اُس بچے نے کہا۔

”پرساد چڑھانا لیکن کورے کھورے کو اُس ساجن کے لیے بچا کر ر کھ مورکھ جس کے لیے تو یہ پرساد چڑھانے جارہی ہے۔!!“

میں نے دانتوں تلے اپنی اُنگلی دبا لی۔

آج کم وبیش چالیس برس بیت گئے۔پیلی مٹی کے اُس آنگن میں کچنار تلسی کے قریب ہاتھ میں پانچ لڈو لے کر اُس نے دھیرے دھیرے میرے کان میں جو کچھ کہا تھا اُس سے میرے اَنگ اَنگ میں ایک بجلی سی دوڑگئی تھی۔اُس دن کے بعدگاؤں کے تالاب کی مچلتی لہروں پرکسی معصوم بچے کی بنائی کاغذکی کشتی ہچکولے کھانے لگتی تو میرا دل دھک دھک کرنے لگتا۔۔!اُس وقت مجھے لکھنؤ والی تائی کی بات یاد آتی کہ بادبانوں کے حوصلے سرکش ہواؤں کے تھپیڑے کو ریزہ ریزہ کردیتے ہیں۔!پھر ایسا ہوا کہ اودھ کے گاؤں کے شیوالے میں برسوں تک جوتی کلش چھلکنے سے پہلے میں نے گھنٹے بجائے۔! اُس پیپل کی جڑ میں گنگا جل اور دودھ ڈالا جس پر مارکنڈے پانڈے نے ۰۴ دنوں تک لٹک کر چھئے ہو چھئے ہو کا راگ الاپا تھا۔اِن دنوں مجھے چاند نی رات میں سر سراتی ہواؤں کی آہٹ،ٹمٹماتے ستارے،کومل پتیوں کے درمیان ٹھنڈی صبح کی متوالی ہوا میں لہراتا آم کا موجر،رہٹ کی آواز،کوئل کی کوک،پپیہے کی پی کہاں، گدگدی لگاتے۔! لیکن کیا کہوں۔ کہنے کو تو وہ میرے والدین کا گھر تھا لیکن بہت پہرے تھے مجھ پر۔!!چھت پر کیوں گئی؟فون کس کو کررہی تھی؟اسکول سے آنے میں دیر کیوں ہوئی؟دروازے پر کیوں کھڑی ہے۔؟روزانہ بال سنوارنے کی کیا ضرورت ہے۔؟فیشن کم کرو۔۔!صبح سویرے اُٹھو۔۔!رات کو جلد سوجاؤ…..!حالانکہ میرا بھائی بھی میرے ہی ہم عمر تھا لیکن اُس پر یہ پہرے داریاں بالکل نہیں تھیں۔کبھی کبھی میں سوچتی کہ میرا قصور کیا ہے۔؟صرف یہی نا کہ میں لڑکی ہوں۔!!لیکن یہ قصور تو میرا ذاتی نہیں ہے۔!! میں اوروں کو کیا الزام دوں میرا سب سے بڑا دشمن تو میرا حسن تھا۔کسی بھی راہ سے گذرتی ٹٹکاریوں کے سنگ آتے۔معنوں پھل دار درخت کی شاخوں پر پھل لگ گئے ہوں۔!کب تک اِن سنگوں کی چوٹ چپ چاپ برداشت کرتی۔!کبھی نہ کبھی نگاہ اُدھر ُاٹھ ہی جاتی۔پھر کیا۔! ایک نیا تماشہ کھڑا ہوجاتاکہ میں نے اپنی نظروں کا تیر اُس پر چلایا ہے۔اِس کا مداوا میں نے اِس میں تلاش کیا کہ کیوں نہ ایک خوبصورت تناور درخت کے سائے میں پناہ لے لوں۔!اسی سوچ نے مجھے اُس لڑ کے کی جانب متوجہ کیا۔

پھر ایسا ہوا کہ بدلتے زمانے کے ساتھ گاؤں کے گھروں اور چوبارے میں مٹی کے دیئے بجھنے لگے اوردیکھتے ہی دیکھتے اُس کی جگہ کانچ کا چھوٹا سا بلب جگمگا اُٹھا جس کی دودھیا روشنی میں آنکھیں چکاچوند ہوگئیں اور پھر آہستہ آہستہ پھوس کی جھونپڑی پختہ مکانوں میں تبدیل ہونے لگی۔گاؤں کا وہ کھلا نیل گگن،نرم نرم چاندنی رات،آنگن میں تلسی کے چبوترے،رات کی سیاہی کو مٹاتا مٹی کا دیا،نیلے عنبرپربادل کے تیرتے سیاہ و سفید ٹکڑے،گاؤں کا پرسکون ماحول،ایسے میں جب کوئی سائیکل کی گھنٹی بجتی تو یادوں کی وادی میں بیتے لمحوں کے صندل جل اُٹھتے جس کی مہک سے اِس ناگن کے اَنگ اَنگ میں ایک جھرجھری سی آجاتی۔ اُ س وقت مہوا کی شاخ پر لٹکتے جھولے کودیکھ کر من کے اندر بہت اندر ایسا محسوس ہوتا کہ اُس کی یاد جھولے پر جھول رہی ہے۔!!وہ گاؤں کا بازاراور گاؤں والوں کا سفید کورے کاغذ جیسا من اور ان کاریشم سا دل۔!!یہ سب کے سب ایک سہانے خواب کی طرح میر ے دل کے کوزے میں آج بھی بحفاظت موجود ہیں۔تہذیب کی پاسداری،آنے والے کے لیے چار پائی پر سفید چادر بچھانا،لوٹا میں پانی بھر کر سرہانے رکھنا،اور صبح کے لیے چارپائی کے نیچے سوتے وقت گھر والوں کا دانتون اور پانی سے بھرے لوٹے کا چار پائی کے نیچے رکھنا۔!!

ایک دن میں اپنے موسی کے گھر سے واپس آرہی تھی۔راستے میں میں نے دیکھا۔ لمبی لمبی کمانی دار پلکوں والی لڑکی بہت دیر تک نگاہیں جھکائے اسٹیمر میں بیٹھی تھی او رایک لڑکاسامنے سیٹ پربیٹھ کر کاغذ کی کشتی بنا رہا تھا۔وہ معصوم سی لڑکی اُس لڑکے سے بہت بے تکلف تھی۔ کم و بیش ۰۲منٹ کی کوشش سے اُس لڑکے نے کاغذکی کشتی تیار کرلی تب تک اسٹیمر بیچ دریا میں آگیا۔اُس نے سیٹ پر چڑھکر کھڑکی سے باہر جھانکا۔تا حد نظر پانی ہی پانی اور اِس میں اُٹھتے تھپیڑے…..!!!دور فضا میں مرغابی کے لہراتے پر…….!!

اُس نے اُس لڑکی کی آنکھوں میں جھانکا پھر آہستہ سے کاغذ کی کشتی کو دریا میں ڈال دیا۔لڑکی کے چہرے کے بدلتے رنگ اور اُتار چڑھاؤ سے ایسا لگ رہا تھا جیسے اُس نے کاغذ کی کشتی دریا میں نہیں بلکہ اُس کے ریشم سا دل کے بحرمحبت میں ڈال دیا ہو۔! اِس منظر کو دیکھ کر مجھے اپنی سہیلی انجنا کی یاد آئی جس نے ایک دن پنگھٹ پر مجھ سے کہاتھا کہ پیار کے کورے کاغذ پر من کے قلم سے جب میں نے اپنے محبوب کو سلام لکھا تو دل کی دنیا میں ایک ہلچل سی مچ گئی۔لیکن واپسی لفافے میں کالے گلاب کی سوغات آئی۔! انجنا عمر کی اُس دہلیز پر کھڑی تھی جہاں بچپن اور جوانی دونوں کے رسوں کا تناسب برابر ہوتا ہے۔اندر سے اُس کی کیفیت وہی ہوگئی تھی جو چاندنی راتوں میں اندھیرے مکان کی ہوتی ہے۔جس کے دروبام چاندنی میں نہاتے ہیں لیکن اندر اندھیرا ہی اندھیرا ہوتا ہے۔ آم کے باغیچے میں وہ مجھ سے بار ہا کہاکرتی کی ہجر کی راتوں میں لمس مرگ کا ذائقہ کیسا ہوتا ہے یہ کوئی ہم سے پوچھے۔!!آج بھی جب ساون برستا ہے تو مجھے اُس کی آنکھیں یاد آتی ہیں۔میری بھی حالت اُس سے کچھ الگ نہیں تھی لیکن وقت کی دھارا بدلتے دیر نہیں لگتی۔ایک دن میں نے دیکھا۔تایا صبح سے پریشان تھی۔کچھ لوگ آّنے والے تھے آنگن میں مہوا کے نیچے چار پائی پر سفید کوری چادر بچھائی گئی،لوٹا میں پانی بھر کر چار پائی کے نیچے رکھا گیا۔ جیسے ہی سورج دیوتا نے کھجور کی کومل پتیوں پر درشن دیئے اور پپیہے نے راگ الاپا،کچھ اجنبی لوگ آئے۔چارپائی پر بیٹھے۔ موج کی بنی پیلے اور گلابی ڈلیوں میں چاول کے بھنے،نمک،ہری مرچ،اور گڑ کے ڈھیلے پیش کیئے گئے اورتانبے کے لوٹے میں گڑکے شربت کے ساتھ تین مٹی کے کورے خالی گلاس چارپائی کے نیچے رکھ دیئے گئے۔پھرتھوڑی دیر کھسر پھسر کے بعد نائن نے کہا۔

”دیدی شگون گھر کے اندر لے جاؤ۔“

اُس دن میں بہت اُداس رہی۔لیکن سکھیوں نے کہا۔من میں لڈّو پھوٹ رہا ہے۔!میں اُن سے کیا کہتی۔لڑکی پر تو من کی باتیں کہنے پر پہرے ہیں۔ ایسے میں کیا کرتی۔دل کو ہی سمجھایا کہ تو ہی مان جا۔!!دل تو مان گیا پر آنکھو ں نے تکیے بھیگونا نہیں چھوڑا۔جیسے تیسے پھاگون آیا۔ہولی کیپھواروں کے بیچ میرے دروازے پر شہنائی کی بارات آئی۔ خوب دھوم دھڑاکا ہوا۔پنڈت جی نے مہورت کا وقت قریب آنے کی بات کہی منتراور اشلوک کی پَویتر آواز کے بیچ رات کے آخری پہر میں اگنی کے سات پھیرے لینے کے کچھ ہی دیر بعد نیل گگن کی اُفق پرصبح کا تارا دکھائی دیا۔ منڈپ میں بیٹھی عورتوں نے مجھے دھوپ تارا دیکھنے کو کہا۔اِس کے ساتھ ہی باراتی اور گھر والوں کی سرگرمیوں میں کچھ شدّت آگئی۔ کمہاروں نے ڈولی لاکر دروازے پر رکھ دی۔لیکن ماں اور پیتا چپ چاپ ایک کونے میں غم کی مورت بنے بیٹھے رہے۔مانوں تمام کریا کرم کر دیا گیا اور بس اب ارتھی اُٹھنے کی دیر ہے۔!! اِس بوجھل بوجھل فضا میں تلسی کے نیچے کی کہانی یاد آئی۔!پھر صبح کے شیتل پون سے من ہی من میں کہا۔

”اے پون توجاکے اُس بالک سے کہنا کہ سنکٹ کی اِس گھڑی میں یہ باندی تجھے یاد کرتی ہے………!!“

اتنے میں صبح کا ستارہ ڈوب گیا۔پھر کمہاروں کے ایک رسیلے گیت سے انجانے پتھ پرنئے جیون کا سفر شروع ہوا۔ پھر ایسا ہواکہ جس آنگن میں میری ڈولی اُتری اُس کی ہو ا نے میرے پاگل من بہکائے،آنکھوں کے جام چھلکے اور نینوں کے پگ بھیگ گئے۔!!! زندگی کے اِس سفر پرہر لمحہ مجھے اُس بالک کاانتظار رہا اوردل کے صحن میں اُس کی یاد مانندصندل جلتی رہی۔لیکن پھراُس سے میری دوسری ملاقات نہیں ہوسکی جس کا درد آج بھی مجھے ہوتا ہے۔!!

اتنے میں دروازے پر سائیکل کی گھنٹی بجی اور بکھر گئے بچپن کے سپنے۔!!

دروازہ کھلا۔

”کہاں گئے تھے اتنی کڑی دھوپ میں……!!!“

Published inڈاکٹر عظیم اللہ ہاشمیعالمی افسانہ فورم