Skip to content

نہیں

عالمی افسانہ میلہ2015
افسانہ نمبر 44
نہیں
ڈاکٹر بلند اقبال، ٹورنٹو، کینیڈا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹھیک ہی تو ہے جب محبت احترام بن جائے تو پھر پیار کے لیے پیشانی ہونٹ۔۔۔۔۔۔۔ آپا نے سوچا اور پھر یہ تبدیلی بھی ایک دن کی تو نہ تھی پورے چودہ سال۔۔۔۔۔ اب تو آپا خود بھی اپنا اصلی نام بھولتی جا رہی تھی۔۔۔۔۔۔ وقت کو تو جیسے پر لگے تھے، تیرہ سال کی تھیں آپا جب ہی اماں نے جھبلا سی دیا تھا کہ لڑکی ذات ہے نہ جانے کب قد نکال لے، پھر قرآن شریف بھی حِفظ کرا دیا سوائے دو ایک سورۃ کے، جن میں ازدواجی مسائل کا ذکر تھا اور پھر آپا کی یادداشت بھی اتنی اچھی کہ مجال ہے جو زیر و زبر کا بھی فرق آیا ہو۔۔۔۔۔۔ لفظ تو جیسے سینے میں ہی اتر گئے تھے، بولیں بھی تو نون غنے کی آواز نکلے۔ سالوں کو گننے کے بجائے اماں نے پہلی ماہواری پر ہی ہاتھ پیلے کر دیے۔ سب کچھ تو سیدھا تھا کچھ بھی تو ٹیڑھا نہ ہو سکا۔
میاں جی کی پرچون کی دکان تھی۔ آٹا، چاول، گھی، شکر سارے محلے کا راشن بندھا تھا۔ وہ جو گھر آئی تو جیسے برکتیں نازل ہوگئی۔ ہُن برسنے لگا۔ دولت کی ریل پیل بڑھتی ہی گئی اور پھر آپا بھی ایسی سگھڑ کہ پوچھو نہ، گھر کا یہ حال کہ دالان ایسا صاف جیسے مسجد کا صحن، سارا محلہ جوتے دروازے پہ اتار کر ہی گھر میں آتا تھا، پھر آپا نے گھر گھر جا کر قرآن شریف کا درس دینا شروع کر دیا، شروع میں محلے کے بچے اور پھر سارے بڑے ان کے گرد دائروں میں بیٹھنے لگے۔ آواز میں ایسا سوز کہ لفظ جادو بن جائے، تلاوت کرتیں تو بس ایک سحر بن جاتا، کسی کی مجال جو اپنی جگہ سے ذرا ہل بھی پائے۔ ادھر کاروبار تھا جو پھیلتا ہی جا رہا تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ میاں جی بھی آپا کے رنگ میں ر نگتے چلے گئے۔ پہلے کچی ٹوپی پھر داڑھی اور پھر ٹخنوں سے اوپر تک پاجامہ ان کا حلیہ جو بدلا، پرچون والے سے حاجی صاحب کہلوانے لگے۔ ہر آتا جاتا جھک کر سلام کرتا، آپا کی خیریت بھی معلوم کرتا۔ آپا سارے جگ کی آپا جو تھیں، عزت و احترام کا مرکز، میاں جی بھی ملاقاتوں میں بخیل نہ تھے پر کاروبار میں تیز، ایک سے چار دوکانیں ہو گئیں۔ نوکر چاکر کی ریل پیل بڑھتے ہوئے کاروبار سے میاں جی خوش تو بہت تھے پر بے چین بھی۔ شادی کو چودہ سال ہوگئے، خود آپا چودہ سے اٹھائیس کی مگر اولاد کے آثار دور دور تک نہ تھے۔
آپا نے سارا قرآن مجید دم کرکے دیکھ لیا، کعبہ شریف پر دونوں نے رو رو کر دعائیں بھی مانگی، ہر سال کے ملا کر نو حج اور پھر ڈھیروں عمرے مگر کیا بات تھی جو سُنوائی نہ ہو رہی تھی۔ ساری ہی برکتیں تھیں، ایک لے دے کر یہی اولاد کی رحمت کہیں درمیان میں رک گئی تھی۔ آپا اندر ہی اندر گھٹتی بھی تھی مگر رحمت خدا وندی سے کسے انکار تھا؟ ایک رات سوتے میں گھبرا کر اٹھ بیٹھیں، ایسا لگا کہ جیسے اندر ہی اندر کوئی خلاء ہے جو پھیلتا جا رہا ہے اور پھر خواب میں دیکھا کہ جیسے ہواؤں میں اڑ رہی ہیں، آنکھ کھلی تو پسینے میں شرابور، میاں جی کو سوتے سے اٹھایا اور آیت الکرسی پڑھنے کو کہا۔ میاں جی نے آیت الکرسی پڑھ کر آپا پر کئی بار پھونکا، پیشانی پہ کئی بار پیار بھی کیا اور دھیرے دھیرے تھپکنے لگے کہ کیسے بھی آپا دوبارہ سو جائیں۔ سونے کو تو آپا سو گئیں مگر دل پہ اتنا بوجھ کہ جیسے سل رکھی ہو۔ صبح سویرے میاں جی اٹھ کر دوکان چلے گئے، جاتے جاتے پھر پیشانی پر بوسہ دیا اور آپا سے وعدہ لیا کہ اس بار ڈاکٹروں سے بھی علاج کروائیں گی، پر فائدہ تو کچھ نہ ہوا، ہاں اِس بات نے آپا کی نیند ہی اڑا دی کہ اﷲ کی رحمت کا نزول دراصل آپا ہی کی صحت میں کسی کمی کی وجہ سے نہیں ہو رہا ہے۔ اب تو یہ حال کہ سوتے جاگتے قرآن شریف کی تلاوت کرتیں اور رات دیر تک نمازیں۔ پہلے میاں پر پڑھ کر پھونکتی تھیں اب خود پہ۔ ادھر میاں جی بھی کچھ دنوں تک دوکان پر کھوئے ہوئے سے رہے، آخر ایک دن آپا کے دونوں ہاتھوں کو تھام کر سامنے دوزانوں ہو کر بیٹھ گئے، بڑی ہی ملائمیت سے آپا سے کہا؛
“دین و دنیا کے سارے ہی سبق آپ نے مجھے پڑھائے ہیں۔ آپ جو پہلے دل کا پیار تھیں اب آنکھ کا احترام بھی ہیں، خود شریعت میں بھی ہے اور آپ تو ایمان کی اعلیٰ منزلوں سے واقف ہیں۔ مجھے اجازت دے دیجئے کہ محض اولاد کی خاطر دوسری شادی کر لوں ورنہ اس بڑھتے ہوئے کاروبار کا تو کوئی بھی وارث نہیں۔”
آپا نے یہ سنا تو روح کی گہرائیوں سے ایسی چیخیں کہ گھر کے در و دیوار تک کانپ اٹھے، ایمان کی آخری منزل سے پہلی منزل تک سارا سفر ایک ہی جواب میں طے کر دیا؛ “نہیں۔۔۔”

Published inافسانچہڈاکٹر بلند اقبالعالمی افسانہ فورم