Skip to content

نوشہ ابا

نوشہ ابا

معظم شاہ
نوشہ ابا بھی اپنی نوعیت کے ایک عجیب انسان تھے ،اتنے رنگین مزاج کہ کوئی ان کی طبیعت کی جولانیوں کو الفاظ کا روپ ہر گز نہیں دے سکتا تھا ان کا مزاج رنگین سے کہیں اوپر کی کوئی چیز تھا ۔ خاندانی سید تھے ، پیری مریدی کا سلسلہ تھا اور شروع ہی سے ضدی اور لاڈ اٹھوانے والے ثابت ہوے تھے ، کشادہ پیشانی بادامی آنکھیں اور خوبصورت مردانہ وجاحت سے بھرپور نقوش یہ نوشہ ابا کی جوانی رہی ہو گی ، اب تو بدن پھیل چکا تھا ، ریش مبارک چہرے پر بہار دکھاتی تھی اور آنکھوں میں ایک انوکھی چمک اب بھی مخاطب کو دیر تک ان کی آنکھوں میں دیکھنے کی جرات سے روکتی تھی ، نوشہ ابا کی ایک بڑی خصوصیت ان کا بزعم خود بہادر ہونا اور ایک بڑی خامی کانوں کا کچا پن تھا ، ایک اوسط ذہانت کا آدمی منٹوں میں انہیں کوئی بھی پٹی پڑھا سکتا تھا اور نوشہ ابا اسی کے پیچھے تمام نمازیں نیت لیتے تھے ۔ آج نوشہ ابا کا تذکرہ کچھ یوں پڑا کہ محلے کی کچھ لڑکیاں بالیاں ہمارے گھر اکٹھی ہو گئیں ، میں سدا کی پابندیوں میں جکڑی لڑکی ، مجھے تو گھر میں کسی اپنی ہم عمر کی آمد ایک عظیم تفریح کی مانند لگا کرتی تھی ۔ باتوں باتوں میں محلے کے ٹھرکی مردودوں کا تذکرہ چھڑا ، اور کیوں نہ چھڑتا ؟ ہم عورت ذاتوں کو سب سے بڑی تکلیف تو ان نظروں کی برچھیوں کی ہی ہوتی تھی جو اک زری نظر آنے پر ان مردوں کی آنکھوں سے بدن میں اترتی محسوس ہوتی تھیں ، توبہ ہے ، دن کے وقت ایک گھر سے دوسرے گھر جانا بھی مشکل ہوجاتا ہے ، خیر ہم بات کر رہے تھے کہ فضل خان صاحب کی منجھلی لڑکی بولی “بہن برا مت ماننا تمہارے ابا بھی کوئی کم رنگین مزاج نہیں ہیں ” میں نے کہا “مت کر بکواس ، میرے ابا ایسے نہیں ” تو بولی اری تجھے کیا پتا میں امتحان میں کامیابی کے لیئے تعویز لینے آئی تھی ، مجھے اپنے پاس بٹھا لیا اور سر پہ دم کرنے کے بہانے پہلے سر پر ہاتھ پھیرتے رہے پھر میرا چہرہ دونوں ہاتھوں میں لیا اور پھونکیں مارنی شروع کیں کمر پر ہاتھ پھیرنے لگے تو میں اٹھ کر بھاگ گئی “۔ مجھ سے تو پہچانے ہی نہیں جا رہے تھے میں کہتی تھی یا خدا ، یہ وہی نوشہ ابا ہیں جو راہ چلتے دعا دے کر جاتے ہیں ۔ میں اس سے ناراض ہو گئی ، مجھے لگا اس نے میرے نوشہ ابا کو بدنام کرنے کی سازش کی ہو ، لیکن یہ کیا ، اس کی بات سننے کے بعد میں لاشعوری طور پر نوشہ ابا کی حرکات پر نظر رکھنے لگی تھی ، زنان خانے میں واقع تعویزوں والے کمرے میں کسی ضرورت کا بہانہ کر کے اچانک چھاپہ مارنا بھی اسی کوشش کا ایک حصہ تھا ۔ میں اچانک داخل ہوئی تو گھر کی نوکرانی (جوکہ 12/13سال کی لڑکی تھی ) نوشہ ابا کی گود میں تھی اور وہ اسےخود سے لپٹائے جی بھر کر پیار کر رہے تھے ، مجھے وہ وقت یاد آ گیا جب میں بہت چھوٹی تھی ، نوشہ ابا مجھے ساتھ لے کر بازار جایا کرتے تھے ، گڑیاں دلایا کرتے تھے اور ایسے ہی لپٹا کر پیار کرتے تھے ، میرے چہرے پر ایک حسرت بھری مسکراہٹ آ گئی لیکن نوشہ ابا کے چہرے پر پیار کی بجائے ایک عجیب خجالت سی تھی ، وہ گڑبڑائے ہوے انداز میں بولے ، کیوں بیٹا ، کیا بات ہے ؟ میں نے کہا کچھ نہیں ابا رات کو میری کتاب ادھر رہ گئی تھی ، میں نے کتاب اٹھائی اور جھٹ سے باہر نکل آئی ، نوکرانی مجھے سے پہلے اڑنچھو ہو چکی تھی ۔ یہ اس بات کا دوسرا دن تھا ، اماں باورچی خانے میں نوکرانی کو بالوں سے پکڑ کر جھٹکے دے رہی تھیں اور کہ رہی تھیں ” میری سوت، تو کہاں سے اس بڑھاپے میں میرے بخت میں لکھی تھی ، نہ تجھے نکال سکتی ہوں نہ رکھ سکتی ہوں ، خبر دار اب اگر تو مجھے بڈھے کے آس پاس بھی نظر آئی ” اور وہ کہ رہی تھی ، باجی قسم لے لو اگر میں خود جاتی ہوں تو ، وہ تو آواز دے کر نوشہ ابا مجھے بلا لیتے ہیں اور قسم سے میں تو تنگ آ گئی ہوں یہ دیکھو ، نیل پڑ گئے ہیں ، اتا درد ہوتا ہے کہ رات کو سو بھی نہیں سکتی” میں یہ الفاظ سن کر سکتے میں آ گئی ۔ تو یہ کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ میں دیر تک اپنے نصیبوں کو روتی رہی ، کتنا فخر تھا مجھے اپنے نوشہ ابا پر ، میں انہیں دنیا کا سب سے بہادر ، سب سے نیک اور سب سے اچھا انسان سمجھتی تھی ، آج میرا مان ٹوٹا تھا ، لیکن میں چھپ چھپ کر رونے کے علاوہ کر بھی کیا سکتی تھی ۔ دو ہفتے ایسی ہی سوچوں کی گھمبر گھیریوں میں گزر گئے ۔
نوشہ ابا دو گلی چھوڑ کر ایک گھر میں کبھی کبھی دم کرنے اور گھر کی خیر و برکت کے لیئے اوراد و وضائف کرنے جاتے تھے ، سردار صاحب ان کے دل سے مرید تھے اور ان کا ایمان تھا کہ ان کے گھر کی تمام رونقیں نوشہ ابا کے دم سے تھیں سنا ہے سردار صاحب کا کالا بھجنگ یہ بڑا سا چہرہ تھا ، مونچھیں صفا کرتے تھے اور جامع زیب تھے اچھی خوشبو استعمال کرتے تھے ، آپ بھی رنگین مزاجی میں بہت آگے کی چیز واقع ہوے تھے ، انسپکٹر سکولز تھے اور استانیوں کے ساتھ مخصوص شفقت سے پیش آنا ان کا خاصہ تھا ، انہوں نے ہماری گلی میں ایک چوبارہ الگ سے کرایہ پر لے رکھا تھا جہاں سوچ و بچار اور دماغی کام کیا کرتے تھے ۔ کئی استانیوں کو تعلیمی معاملات میں رہنمائی فراہم کرنے کے لیئے فارغ اوقات میں اسی چوبارے پر بلایا کرتے تھے اور تین تین گھنٹے ان کو تفصیلی رہنمائی فراہم کرنے کے بعد چپکے سے آگے پیچھے دیکھ کر نکال باہر کرتے تھے ۔ ان کی بیگم ان کے کرتوتوں پر نظر رکھنے کے لیے اپنے بچوں کو بطور جاسوس استعمال کیا کرتی تھیں اور استانیوں کے حلیوں کی تفصیل کے ساتھ ان سے باز پرس بھی کیا کرتی تھیں ، میاں بیوی میں اس حوالے سے گھمسان کی جنگ آئے روز کا معمول تھا ۔ یہ ساری معلومات ان کے گھر کی نوکرانی صغرا ، اماں کو چپکے چپکے بتاتی رہتی تھی اس کا بھی ہمارے گھر پانچ سات روز بعد چکر لگتا رہتا تھا ۔ ایک دن تپتی دوپہر میں بولائی بولائی اماں کے پاس پہنچی اور ان کے پائنتی بیٹھ کر پاؤں دبانے لگی ، اماں نے اشارے سے پوچھا کہ کیابات ہے ؟ تو بولی ” بی بی جی کچھ نہ پوچھو ، آج تو جو دیکھا وہ دیکھنے سے پہلے مر جاتی تو بہتر تھا ” اماں بولیں ” اری کچھ بک بھی ” بولی ، بی بی جی آج نوشہ پیر سردار صاحب کے گھر گئے تھے ، آپ جانو اس وقت گھر میں ایک بیگم صاحبہ ہی تو ہوتی ہیں ، سردار صاحب تو دوروں پر ہوتے ہیں اور بچے سارے کے سارے سکول کالج میں ، مجھے بیگم صاحبہ نے کہا کہ یہ پکڑ کرایہ اور مکیش کا کام ساڑھی پر مکمل ہو گیا ہو تو لے آ (یہ کریم آباد میں ایک عورت کو ساڑھی مکیش کے کام کے لیئے دی تھی ، بیگم بھی بڑی سیانی ہیں ابھی سے ننھی کے جہیز کے لیئے کچھ نہ کچھ جمع کرتی رہتی ہیں ) میں نے کہا بھی کہ بی بی جی ، صرف جانے آنے میں ہی ایک گھنٹہ تو لگ جائے گا اور میرے پییٹ میں گڑ بڑ ہے مجھ سے اس حالت میں سفر نہیں ہو گا ، راستے میں ضرورت پیش آ گئی تو میں عورت ذات کہاں خوار ہوتی پھروں گی ، صغرا کی زبان قینچی کی طرح چل رہی تھی ۔ بیگم کہنے لگی “چل ری بڑی آئی نخرے والی ، یہ بہانے چھوڑ اور سیدھی جا کے ساڑھی لے کر آ ، کام مکمل ہو چکا ہو گا ” اب بی بی جی تم جانو میں تو ان بیگم کا مزاج سمجھتی ہوں لاکھ سخت سست کہتی ہیں ، مار بھی لیتی ہیں لیکن یہ کوسنے ، گالیاں اور مار تو ہم غریبوں کے نصیب میں اس سوہنے مالک نے لکھ رکھا ہے اب اس سے تو جان بچائی نہیں جا سکتی میں نے دروازے کو کھول کر اس طرح بند کیا جیسے گھر سے باہر نکل گئی ہوں ، اور اپنی کوٹھڑی میں جا کر لیٹ رہی ، کیا کرتی پیٹ میں کمبخت مروڑ کے باعث بل پڑ رہے تھے ۔ ابھی میں اطمینان سے لیٹی ہی تھی کہ کھڑکی سے دیکھا کہ نوشہ پیر تشریف لائے ہیں ، اندر داخل ہوتے ہی ادھر ادھر دیکھا اور غڑاپ سے دروازہ بند چوروں کی طرح رہائشی حصے میں چلے گئے ، تم جانو میں کبھی کسی کی کھوج میں تو رہی نہیں لیکن دس پندرہ منٹ میں ہی میری برداشت سے بات باہر ہو گئی ، دل نے کہا ، ایسی بھی کیا بے خبری ، جا کر دیکھ تو سہی ، یہ بیگم تجھے نکال کر نوشہ پیر کے ساتھ کیوں بند ہو گئی ۔ نوشہ پیر داخلی دروازے کو تو بند کر کے جا ہی چکے تھے میں نے جا کر رہائشی دروازہ دھکیلا تو کھل گیا ڈیوڑھی میں قدم رکھتے ہی مانو ایسی آوازیں آئیں جیسے بیگم کو پھر درد قولنج اٹھا ہو(بیگم کو کبھی کبھی شدید درد اٹھتا تھا جو نوشہ پیر کے دم سے ٹھیک بھی ہو جاتا تھا ، نوشہ پیر کہتے تھے کہ ایک دیو بیگم جان پر عاشق ہے اور اس کے دورے سے یہ درد اٹھتا ہے )آوازیں بیگم کی خواب گاہ سے ہی آ رہی تھیں ، خواب گاہ کے دروازے پر پہنچی تو نوشہ پیر بھی کچھ کہتے سنائی دیئے ان کا سانس پھولا ہوا تھا اس لیئے الفاظ سمجھ نہ آ رہے تھے صرف آواز آ رہی تھی لگتا تھا جیسے دیو سے سخت مقابلہ کرنا پڑ رہا ہو نوشہ پیر کو ۔بی بی میں نے کھڑکی سے جھانک کر دیکھا تو خدا جھوٹ نہ بلوائے ٹانگوں سے جان نکل گئی ، مجھ سے ہلا بھی نہیں جا رہا تھا ، نوشہ پیر کو خدا ہدایت دے یہ تو شیطان کو بھی پیچھے چھوڑ گئے ، وہیں سے واپس پلٹی اور سیدھی تمہارے پاس آئی ہوں ۔ اماں نے ایک سرد آہ بھری اور آنسو ان کے گالوں پرلکیریں سی بناتے ہوے گرنے لگے شدید دکھ کے عالم میں وہ ایسے ہی رویا کرتی تھیں ۔ صغرا کب گئی مجھے پتا نہیں چلا ۔
زندگی بیزار سی ہو کر رہ گئی تھی ، اماں گھر میں ایک زندہ لاش کی مانند تھیں ، وہ دن بہ دن ایسے گھلتی جا رہی تھیں جیسےنمک کا ڈلا کسی نے پانی میں ڈال دیا ہو ۔ انہی دنوں میرا رشتہ آیا ، نوشہ ابا نے ہاں کر دی اور چٹ منگنی پٹ بیاہ ، میں دعا کر رہی تھی کہ میرا شوہر نیک ہو ، کسی غیر عورت کی طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھنے والا ، مجھے اپنے نوشہ ابا سے گھن آنے لگی تھی ۔ مجھے لگتا تھا کہ ان سے بڑا منافق دنیا میں کوئی نہیں جنہوں نے اپنے کرتوتوں پر مذہب کا پردہ ڈال رکھا تھا ۔ میں اپنے شوہر کو ایسا نہیں دیکھ سکتی تھی ۔ اور اللہ نے میری سن لی ، میری زندگی کے ساتھی ویسے ہی تھے جیسے میں نے چاہا تھا ۔ میرا بہت خیال رکھتے ، میری زرا سی اداسی پر پریشان ہو جاتے ، مجھے کہتے ، تم سے زیادہ حسین دنیا میں کوئی نہیں میں کسی اور کو کیسے دیکھوں مجھے تو ہر سمت تم ہی تم نظر آتی ہو ۔ میری ہر گھڑی گویا ایک سرور میں گزر رہی تھی ، نوشہ ابا کی جانب بھی کم ہی دھیان جاتا تھا ، میں اپنے گھر میں ہی گم ہو کر رہ گئی تھی کہ ایک دن میری دنیا اجڑ گئی ۔
رانی میرے سسرال میں گزشتہ 8 سال سے کام کر رہی تھی ، بھروسے کی نوکرانی تھی ، تیس پنتیس سال کی پختہ کار عورت تھی لیکن بے پناہ خوبصورت ، بھرے بھرے بدن پر میری بڑی نند کے دیئے کپڑے عجیب بہار دکھاتے تھے ۔ ایک دن میں اپنی ساس کے پاس بیٹھ کر باتیں کر رہی تھی کہ ان کی خدمت کا شوق چرایا میں نے رانی کو آواز دی کہ میرے کمرے سے تیل اٹھا لاؤ میں اماں کے بالوں میں لگا دوں ، رانی شاید کسی کام میں مصروف تھی ، میں تیزی سے اٹھ کر اپنے کمرے کی جانب گئی ، دروازہ بھڑا ہوا تھا میں نے اپنی روٹین میں ایک دم سے کھولا اور ۔ ۔ ۔ ۔ یا خدا ، جو میں نے دیکھا وہ دیکھنے سے پہلے میں مر کیوں نہ گئی ، میرے شوہر نے رانی کو باہوں میں لیا ہوا تھا اور پاگلوں کی طرح اسے چوم رہے تھے ۔ مجھے دیکھتے ہی انہوں نے رانی کو چھوڑ دیا جو باہر بھاگ گئی ۔ میرے شوہر نے میرے سامنے ہاتھ جوڑ دیئے کہ معاف کر دو آئندہ ایسے نہیں ہو گا ۔ مجھے ہوش کہاں تھے کہ کسی بات کا جواب دیتی ، میں تو بس ایک بات سوچ رہی تھی ، جیسے نوشہ ابا تھے ویسے ہی میرے شوہر بھی تھے ، عورت کو مال غنیمت کی طرح ٹٹولنے والے اور لوٹ لینے والے ۔
کئی دن تک میں گم سم رہی ، جلتی رہی ، کڑھتی رہی ، اور کچھ نہ کر پائی ، جی تو چاہتا تھا کہ سارے زمانے کو اپنے ابا اور شوہر کے کرتوت چیخ چیخ کر بتاؤں لیکن جانتی تھی کہ کوئی یقین کہاں کرے گا سبھی مجھے ہی پاگل کہیں گے ۔ انہی دنوں اماں شدید بیمار ہو گئیں دو دن ہسپتال میں گزرے اور تیسرے دن مجھے روتا چھوڑ کر اللہ کے پاس چلی گئیں ۔ میں نوشہ ابا کو بناوٹی دکھ کی چادر اوڑھے دیکھتی تھی تو میرا خون کھول جاتا تھا ۔ میری ماں کا مان چھینا تھا انہوں نے ، وہ شرافت کی پتلی ساری عمر شوہر کے نام کی مالا جپتی رہیں اور شوہر نے انہیں کیا دیا ، بے وفائی کا داغ ، ہر وقت کا احساس کمتری اور تذلیل ۔ اماں مر گئیں اور میرا درد آہستہ آہستہ غصے میں تبدیل ہونے لگا ، آخر کیا وجہ ہے کہ یہ مرد ہی بے وفائی کر سکتے ہیں ، یہ ایک بیوی کے ساتھ چار چار داشتاؤں سے بھی تعلقات رکھیں تو درست کہ سبھی مرد ایسے ہی ہوتے ہیں ، مرد تو ایسا کرتے رہتے ہیں ، مرد اور گھوڑے کو قابو میں نہ رکھو تو ایسا ہی کرتا ہے جیسی کہاوتیں جو انہی مردوں کی گھڑی ہوئی تھیں ہمارے صبر کا امتحان لینے آ کھڑی ہوتی تھیں ۔ کوئی تو ہو جو انہیں بتا دے کہ شرافت صرف تمہارے گھر کی عورتوں ہی کا فرض نہیں ہے ، تمہارا اچھا کردار بھی ہم عورتوں کی بنیادی ضرورت ہے ، ہم نہ باپ کو بد کردار دیکھ سکتی ہیں نہ شوہر کو اور اگر وہ دونوں بد کردار ہو سکتے ہیں تو ہم کیوں صبر کی پتلی بن کر بیٹھی رہیں ۔
ہمارے پڑوس میں شاہد رہتا تھا ، کسی یونیورسٹی میں پڑھتا تھا اور مکان سے متصل مکان کرائے پر لے رکھا تھا ، میں جب چھت پر کپڑے ڈالنے جاتی تو اپنے مکان کی چھت سے مجھے چھپ چھپ کر دیکھا کرتا تھا ، میں ہمیشہ اس پر ایک نفرت بھری نظر ڈال کر نیچے آ جاتی تھی لیکن ایک دن پتا نہیں کیوں میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا اور میں نے اسے غصے سے پوچھا ، کیوں اس طرح گھورتے ہو ، تمہیں شرم نہیں آتی ۔ بڑی مسکین سی صورت بنا کر بولا ، آپ مجھے بہت اچھی لگتی ہیں اسی لیئے رہا نہیں جاتا ، دیکھ لیتا ہوں ۔ مجھے اس کی بات سن کر ہنسی آ گئی ، میں نے سوچا انتقام لینے کے لیئے یہ بھی برا نہیں ، رات 10 بجے چھت پر آنا ، یہ کہ کر میں جھپاک سے نیچے بھاگ گئی ۔
ہمارے تعلق کو تین ماہ گزر گئے ، اب اکثر میرے شوہر رات رات بھر باہر رہتے تھے بہانہ آفس میں کام کی زیادتی تھا ۔ میں رات کو چھت پر آ جاتی اور وہ دیوار پھلانگ کر میرے پاس پہنچ جاتا تھا ، میں نے سوچا تھا کہ اسی حد تک جاؤں گی جس حد تک اپنے شوہر کو رانی کے ساتھ دیکھا تھا لیکن شاہد کی حالت اب بری ہوتی جا رہی تھی ، وہ اکثر میرے نہ نہ کرنے کے باوجود اپنے گستاخ ہاتھوں سے بہت سی حدیں توڑ دیا کرتا تھا ۔ ایک دن میری اماں کی ایک سہیلی پوچھتی پچھاتی ہمارے گھر تک پہنچیں اور بتایا کہ ان کی بھابی کل ان سے ملنے آئی تھیں ان کا کہنا تھا کہ نوشہ پیر کی بیٹی کو بتاؤ اپنے شوہر کو قابو کرے ، میرا دل دھک سے رہ گیا ، پوچھا ، ایسی کیا بات ہوئی ، بولیں بھابی کا کہنا ہے کہ ان کے پڑوس کے فلیٹ میں ایک عیسائی لڑکی نئی آئی ہے ، اس کا شوہر رات گئے آتا اور صبح سویرے چلا جاتا ، بھابی نے کل صبح اتفاق سے اس عیسائن کے شوہر کو دیکھا ، وہ قسمیں کھا کر کہتی ہیں کہ وہ تمہارے شوہر ہی تھے ، بھابی تمہارے سسرالی خاندان کو بہت عرصے سے جانتی ہیں ان کا کہنا ہے کہ ان کی نظریں دھوکہ نہیں کھا سکتیں ، میری ٹانگوں سے یہ سنتے ہی جان نکل گئی ۔ وہ بولیں ، بیٹی ہمت پکڑو اگر اس نے شادی کی ہوئی ہے تو پھر تو کچھ ہو نہیں سکتا لیکن اگر ویسے ہی رکھی ہوئی ہے تو بلڈنگ والوں سے بات کر کے دھکے دے کر نکلوا دوں گی کلموہی کو ۔ چار پانچ دن بعد ہی ان کا فون آ گیا بولیں بیٹا تمہاری بلا تو ٹلی میں نے کہا وہ کیسے ، کہنے لگیں میں نے بھابی سے کہا تھا ، بھائی نے پوچھ پڑتال کی تو پتا چلا کہ وہ میاں کے دفتر کی ساتھی ہے موئی نے پھانس لیا ، فلیٹ تمہارے میاں نے ہی لے کر دیا تھا اور بے نکاحی رکھی ہوئی تھی ، معاف کرنا بلڈنگ کے لڑکے کچھ جذباتی ہو گئے تھے ، دروازہ بجا کر جب دونوں کو باہر نکالا گیا تو لڑکی مظلوم بن گئی کہ یہ مجھے بلیک میل کر کے یہاں رکھے ہوے ہے ، وہ تو نکل گئی اور تمہارے شوہر کی خوب دھلائی ہوئی ، منہ پر کالک مل کر نکال دیا نہوں نے بلڈنگ سے ۔ مجھے یقین نہ آیا لیکن اسی شام میرے شوہر گھر آئے تو ایک آنکھ سوج کر کپا بنی تھی اور کان پر سیاہی بھی لگی ہوئی تھی ، میں سمجھ گئی ، انہوں نے نیند کی دو گولیاں لیں اور منہ سر لپیٹ کر سو رہے ، میں رات مقررہ وقت پر چھت پر پہنچی اور آج میں نے شاہد کی باگیں ڈھیلی چھوڑ دیں ، آج میرا دل چاہ رہا تھا کہ نوشہ ابا اور میاں کی عزت کی دھجیاں اڑا دوں ، حقیقت میں دونوں کے منہ پر کالک مل دوں ، شاہد کو تو اشارہ چاہیئے تھے بگٹٹ دوڑا تو ہر حد کو پیچھے چھوڑ گیا ، جذبات کا طوفان اپنی انتہا کو پہنچا تو ہم دونوں اکٹھے ہی غلاظت کے گڑھے میں گر پڑے شاہد کا دل شاید نہیں بھرا تھا وہ اپنے پورے وزن کے ساتھ میرے اوپر گر پڑا اور مجھے ایک بار پھر چومنا شروع کر دیا ۔ اسی دوران دروازے کے پاس سے آواز آئی اور شاہد چھلانگ لگا کر اپنے چھت سے نیچے بھاگ گیا ، میرے شوہر نے ہمیں دیکھ لیا تھا ، انتہائی خاموشی سے انہوں نے میری چٹیا پکڑی اور مجھے نیچے لا کر کمرے میں بند کر دیا ، میری ساس سے کھسر پھسر کی اور گھر سے چلے گئے ، ایک گھنٹے بعد نوشہ ابا کی آواز آئی اور میں کھڑکی کے قریب چلی گئی ، نوشہ ابا کہ رہے تھے کہ پچھلے کمرے میں بند کر دو چیخے چلائے تو ہاتھ پاؤں اور منہ باندھ دینا ، اسے کھانے کے لیئے کچھ نہ دو پانی کا ایک مٹکا کمرے میں رکھ دو ، پانچ دس دن میں جان چھوٹ جائے گی اور تم پر کوئی الزام بھی نہیں آئے گا ، محلے میں مشہور کر دو کہ بیمار تھی ، باپ نے اپنے ہاں بلوا لیا وہیں علاج ہو رہا ہے ۔ میں اپنے مرید خاص کو بھیجتا ہوں اس بے غیرت پر ایک گولی خرچ کر دے گا ۔ میری چھوٹی نند کو میرے ساتھ ہمدردی تھی اسے کچھ کچھ اپنے بھائی کے کارناموں کا بھی اندازہ تھا ، وہ چھپ کر میرے پاس پہنچی اور مجھے کچھ شکر پکڑا گئی ، بتا رہی تھی کہ کل کسی نے شاہد کو قتل کر دیا ، مجھے اس قید تنہائی میں آج چوتھا دن ہے حواس ساتھ چھوڑتے جا رہے ہیں ایک مشت شکر پر کوئی کب تک جی سکتا ہے میں نے نند سے کہا تھا کہ مجھے کاغذ قلم لا دے جو بیتا ہے وہ لکھ دوں گی شاید کسی کو شرم آ جائے ۔ ابھی ہمت کر کے اٹھتی ہوں اور اس کاپی کو بستروں والی الماری کے اوپر پھینک دوں گی ، مجھے امید ہے کہ میری نند اسے ڈھونڈ لے گی ۔
میں وہ بدنصیب لڑکی ہوں جس کی بھابی کو قتل کیا گیا ، اس دن اماں نے مجھے اس کمرے کی کھڑکی کے پاس دیکھ لیا جس میں بھابی کو قید کیا گیا تھا ، بھائی نے مجھے بہت مارا اور خالہ کے گھر چھوڑ آئے میں بہت بزدل تھی کسی کو نہ بتا سکی کہ ہمارے گھر پر کیا قیامت گزر گئی ہے آج بھابھی کا سوئم تھا ، بھابی بہت سخت جان تھیں بہت دن بھوکی رہنے کے بعد اس ظالم دنیا سے منہ موڑ گئیں ۔ لیکن میرے بھیا اور نوشہ پیر جیسے اس دھرتی کے بوجھ اسی طرح دندناتے پھر رہے ہیں ، پتا نہیں انہیں بھی کبھی سزا ملے گی کہ نہیں ۔

Published inعالمی افسانہ فورممعظم شاہ