Skip to content

ننگی خاموشی

عالمی افسانہ میلہ 2015

افسانہ نمبر 60

ننگی خاموشی

فارس مغل، کوئٹہ، پاکستان

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عابد اندر کے منظر میں محو تھا۔ بچے کی پُر درد صدا اشرف کے کانوں سے ٹکرائی۔ وہ بری طرح سے چونک اٹھا۔ اسے محسوس ہوا جیسے بچے کی دلخراش صدا نے سکول کی خاموشی کو ننگا کر دیا ہے۔ ایک سرکاری سکول، معلمین، اطفالِ مکتب اور خاموشی! ٹن ٹن ٹن ٹنگھنٹی کی آواز سن کر طلباء اپنے اپنے کمرہ جماعت کی جانب بھیڑ بکریوں کی طرح ایک دوسرے سے ٹکراتے غل غپاڑا دھینگا مشتی کرتے بھاگے چلے جا رہے تھے۔ ماسٹر طفیل ہاتھ میں پکڑی ہوئی چھڑی کو ہولے ہولے اپنی دائیں ٹانگ پر تھپتھپاتے ہوئے بچوں پر نظر جمائے چھت پر کھڑا تھا۔ وہ چالیس کے پیٹے میں، درمیانے قد کا سانولا، دھان پان ساآدمی تھا۔ اس کے چہرے پر کالک سے ذیادہ سیاہ مونچھیں تھیں اس کی مونچھوں کا اک بھی بال کبھی کسی آنکھ نے سفید نہ دیکھا تھا، ہاں سر کے بالوں کا معاملہ جدا تھا کہ جنگل تقریباً اجڑ چکا تھا۔

ماسٹر طفیل اس سرکاری سکول میں چھٹی جماعت کے تمام سیکشنز کو ریاضی کا مضمون پڑھانے پر معمور تھا چھٹی جماعت کے کچے کچے سے لڑکے ماسٹر طفیل کی چھڑی سے خوب آشنا تھے ماسٹر کا رعب داب ان کے ذہن کی جڑوں میں سرائت کر چکا تھا لیکن ان میں چند ماسٹر کے چہیتے بھی تھے۔ جہاں باقی طلباء میں ماسٹر سے مضمون سے متعلقہ کوئی سوال کرنے کی بھی جراٗت نہ تھی، وہیں ماسٹر کے چہیتے بلا جھجک اوٹ پٹانگ سوالات کر کے ماسٹر کے لبوں پر ناچتی ہوئی معنی خیز مسکراہٹ سے لطف اندوز ہوتے۔

اس چھوٹے سے غیر معروف شہر میں چھبیس سالہ محمد اشرف کمیشن کا امتحان پاس کرکے بطور سینئر سائنس ٹیچر نیا نیا سکول میں آیا تھا۔ وہ خود ایک بہترین پرائیویٹ سکول کا تعلیم یافتہ تھا لیکن باپ کی وفات کے بعد اس کا پورا خاندان رُل گیا۔ مشکلات سے دوچار تعلیمی سلسلہ جاری رکھنے کے بعد جب وہ اس سرکاری سکول کا حصہ بنا تو گھر میں شکرانے کے نفل ادا کیئے گئے۔ وہ بہت جلد اپنی قابلیت اور ملنسار طبیعت کی بدولت سکول کے دیگر اساتذہ میں گھل مل گیا۔ اسے نویں دسویں کے طبیعات و کیمیا کے مضامین تفویض کیئے گئے لیکن اسے شروع میں ہی دھچکا لگا جب اس نے دیکھا کہ ستّر طلباء کی جماعت میں سے صرف چھ سات ایسے تھے جنہیں ٹھیک سے اردو اور انگریزی لکھنا آتی تھی جبکہ باقی طلباء کے خط کا حال ’ لکھے مُو سا پڑھے خود آ‘ سا تھا۔

’’ایسے طلباء امتحانات میں کامیاب ہو کر کیسے اگلی جماعتوں میں چلے آتے ہیں؟‘‘ یہ وہ پہلا سوال تھا جو اشرف کے دماغ نے یہاں کے سرکاری نظام تعلیم پر اٹھایا تھا۔

چھٹی جماعت کے چند طلباء مرغا بنے ہوئے تھے اور ماسٹر طفیل ان کے مختلف حجم کے کولہوں پرچھڑی برسا رہا تھا۔۔۔۔ ٹخ۔۔۔۔ ایک گول مٹول بچہ اپنا کولہا مالش کرتا ہوا روہانسی شکل کے ساتھ کھڑا ہوا اور دوبارہ انسان سے مرغا بن گیا۔ ماسٹر کے لبوں پر مسکراہٹ نمودار ہو کر غائب ہوگئی۔۔۔۔ اشرف دُور سے یہ سارا منظر دیکھ رہا تھا۔ اسے بڑا عجیب سا لگا کہ ماسٹر طفیل بچوں کے کولہوں کو چھڑی سے ٹٹول ٹٹول کر ان کی نرماہٹ اور حجم کا ایسے جائزہ لے رہا تھا جیسے بکر عید پر دنبوں کے شوقین حضرات بکرا منڈی میں اپنے ہاتھوں سے دنبوں کی چکی کا دبا دبا کرلیتے ہیں

عابد ، اشرف سے چار سال سینئر تھا دونوں میں اچھی دوستی ہو گئی وہ اشرف کو سرکاری سکولوں کی زبوں حالی کے متعلق بتایا کرتا۔ ایک مرتبہ اپنے سکول کے ماحول کا ذکر چھڑ گیا تو عابد نے اشرف کو رازدارانہ انداز میں ایسی باتیں بتائیں جنہیں سن سن کر اشرف کا دماغ سن ہونے لگا۔ ان باتوں میں کئی ایسی باتیں بھی تھیں جنہیں ہضم کرنا اشرف کیلئے بہت ہی مشکل تھا۔

’’توبہ کرو یار، معلم کا درجہ تو روحانی باپ کا ہے۔ ‘‘ اشرف نے افسوس سے سر ہلایا۔

’’اچھا یہ بات ہے تو خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لینا۔‘‘ عابد نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا۔

اشرف نے بے یقینی سے اسکی طرف دیکھا۔

’’وہ کیسے؟‘‘

’’بس یہ مجھ پہ چھوڑ دو۔‘‘ عابد نے مسکرا کر سر ہلانے لگ۔ا’’بس خاموشی سے تماشا دیکھنا، منہ سے ایک لفظ نہ نکلے گا۔۔۔۔ وعدہ کرو۔‘‘

اشرف نے کچھ سوچتے ہوئے آہستہ سے اثبات میں سر ہلا دیا۔

اُس دن ہوا بالکل بند تھی۔ چلچلاتی دھوپ میں دوپہر کا بدن تلملارہا تھا۔ سکول کی خستہ حال عمارت کی دیواروں پرسے گرمی کے مارے کمزور پلستر کی تہہ ہٹ چکی تھی۔ ننگی اینٹیں عجیب ڈھنگ سے دعوتِ نظارہ دے رہی تھیں۔ میدان کے قریب چبوترے پر نصب ایک لوہے کے زنگ آلود پائپ پر قومی پرچم ٹنگا تو ہوا تھا البتہ اس کی رنگت اُڑی ہوئی تھی۔ اڑھائی بج چکے تھے۔ طلباء کے سنگ شور مچاتا ہوا سکول اب کسی مفلس بڈھے کی مانند گہری سوچ میں ڈوبا ہوا تھا۔ اُس وقت سکول میں چوکیدار کے علاوہ ایک طفلِ مکتب اپنے معزز استاد صاحب کی موٹر سائیکل کو انہماک سے غسل دے رہا تھا۔ ایک اور معلم صاحب دنیا و مافیا سے بے نیاز ہری گھاس پر لیٹ کر اپنے متعلم سے پنڈلیاں دبوا رہے تھے جبکہ چند معلمین اسٹاف روم میں اپنے چہیتے طلباء کے ساتھ چُہل میں مصروف تھے۔ جس گھڑی معلمین سٹاف روم سے نکل رہے تھے اسی لمحے عابد نے اشرف کو اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا۔ دونوں دبے پاؤں سیڑھیاں چڑھ کر اوپری منزل پر پہنچ گئے۔ دائیں جانب راہداری کے آخر میں ایک برائے نام سائنس لیبارٹری تھی۔ وہ دونوں لیبارٹری سے متصل جماعت ہشتم کے کمرے میں داخل ہوئے۔ کمرہ تنور کی مانند تپ رہا تھا۔ لیبارٹری اور کمرے کا ایک مشترکہ روشندان تھا جس کے غبار آلود شیشوں سے آر پار کچھ دکھائی نہ دیتا لیکن شیشوں کے ٹوٹے ہوئے کونوں پر آنکھ رکھنے سے اندر کا سارا منظر نہ صرف صاف دکھائی دیتا بلکہ سنائی بھی دیتا تھا۔ دس منٹ بعد لیبارٹری کا دروازہ کھلا تو آواز سن کر عابد آرام سے ڈیسک پر چڑھ گیا اور روشندان کے کونے پر آنکھ رکھ دی کچھ توقف کے بعد اشرف کو بھی ڈیسک پر چڑھنے کااشارہ کیا۔ دونوں اندر جھانکنے لگے ماسٹر طفیل میلی بنیان پہنے کرسی پر براجمان ہو چکا تھا اس کی پشت روشندان کی جانب تھی۔ ایک صاف گندمی رنگت، مناسب جسامت، دس گیارہ برس کا معصوم صورت بچہ سکول یونیفارم میں کرسی کی دائیں ہتھی پر ٹکا ہوا تھا۔ اس نے اپنے بازو ماسٹر کے گلے میں حمائل کر رکھے تھے۔

’’سر وہ چوکیدار مجھے دیکھ کر ہنس رہا تھا اور آنکھ بھی ماری۔‘‘ بچے نے معصومانہ لہجے میں شکایت کی۔

’’ہنسنے دو اس مادر۔۔۔۔۔ کو۔‘‘ ماسٹر نے گالی بکتے ہوئے بچے کے کولہے پر چٹکی کاٹی۔

’’نہیں نہیں سر، وہ سارے سکول میں مشہور کردے گا۔ ‘‘ بچے نے برا سا منہ بنا کر تشویش کا اظہار کیا۔

ماسٹر مسکرا دیا۔ ’’بہنچو کہہ جو دیا کہ کچھ نہیں ہو گا پہلے کچھ ہوا جو اب ہو گا۔‘‘ بچے نے دوبارہ لب کھولے ہی تھے کہ ماسٹر نے اسکے گالوں میں اپنے ہونٹ پیوست کر دیئے۔ بچے نے کوئی مزاحمت نہ کی بلکہ خود کو ماسٹر کے سپرد کر دیا۔ بچے کی بے تکلفی سے اندازہ ہوتا تھا کہ یہ عمل اس کے لیئے ہرگز نیا نہیں تھا۔ وہ کھسک کر گود میں آ گیا۔ ماسٹر اس کا گداز بدن اپنے سینے کے ساتھ بھینچ کر دیوانہ وار اسے چومنے لگا۔ عابدشاید ایسے کئی منظر دیکھ چکا تھا اس لئے وہ آرام سے آنکھ ٹکائے کھڑا رہا لیکن اشرف کی حالت غیر ہوتی چلی جا رہی تھی۔ وہ پسینے سے شرابور تھا۔ ماتھے سے پسینے کا ایک قطرہ بار بار اس کی آنکھ کے آگے آ جاتا جسے وہ پلکیں جھپکا کر منتشر کر دیتا۔ اس کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ وہ بدیسی نوجوان جوڑوں کی ننگی فلمیں دو چار مرتبہ دوستوں کے ساتھ دیکھ چکا تھا لیکن اس نے سوچا بھی نہ تھا کہ کبھی وہ براہِ راست ایک ایسی فلم دیکھے گا جس میں استاد اپنے معصوم شاگرد کے ساتھ اسکول کی حدود میں بلا خوف و خطر بدفعلی کر رہا ہو گا اور وہ اسے کسی بدیسی فلم کا منظر سمجھ کر خاموشی سے دیکھتا چلا جائے گا۔۔۔۔ بالکل خاموشی سے۔۔۔۔ ایک مرتبہ پھر اس نے آنکھ جھپکائی۔

’’سر اُس دن بہت درد ہوا تھا۔ ‘‘ بچہ بنا قمیص کے ماسٹر سے لپٹا ہوا تھا۔

’’برداشت کر۔۔۔۔ سالانہ امتحان قریب ہے۔۔پاس ہونا ہے نا؟‘‘ ماسٹر نے پھولی ہوئی سانس کے ساتھ اسے جھنجوڑا۔۔ اس کی آنکھیں سرخ تھیں جیسے کسی نے ابھی ابھی لال مرچیں پھونک دی ہوں۔

’’جی ہونا ہے پاس، سر۔‘‘ بچے نے آہستہ سے جواب دیا اس کا لہجہ اس قدر شکستہ تھا جیسے ابھی پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع کر دیےگا۔ ماسٹر کی زبان اس کی سپاٹ چھاتی کو چاٹ رہی تھی جب زبان اس کی بھٹنی کو چھوتی تو بچہ ایک جھرجھری لے کر آنکھیں موند لیتا۔ اشرف کی نگاہ میں بھلے دو جسم حرکت میں تھے لیکن اس کے دماغ میں دو روحیں آپس میں مدغم تھیں۔۔۔۔ روحانی باپ اوراسکا روحانی بیٹا!

’’آؤ نیچے۔‘‘ ماسٹر نے اسے خود سے علیحٰدہ کیا۔ بچہ گود سے اتر کر ماسٹر کی رانوں کے درمیان دو زانوں بیٹھ گیا۔ ماسٹر نے اپنا ازار بند کھول کر ٹانگیں پھیلا دیں بچے نے جونہی اپنا سر جھکایا۔ اشرف آنکھیں بند کر کے وہیں ڈیسک پر بیٹھ گیا۔ اس کا سارا جسم پسینے سے شرابور اور دماغ میں سائیں سائیں ہونے لگی۔ عابد اندر کے منظر میں محو تھا ذرا سے توقف کے بعد بچے کی پُر درد صدا اشرف کے کانوں سے ٹکرائی۔ وہ بری طرح سے چونک اٹھا اسے محسوس ہوا جیسے بچے کی دلخراش صدا نے سکول کی خاموشی کو ننگا کر دیا ہے۔ وہ فوراً ڈیسک سے نیچے اتر آیا۔اس کی دیکھا دیکھی عابد بھی روشندان سے آنکھ ہٹا کر نیچے آ رہا اور اشرف کا بازو پکڑ کر اسے خاموشی سے دوسری جانب کی سیڑھیوں سے نیچے لے آیا۔ اسے ڈر تھا کہیں اشرف کوئی گڑ بڑ نہ کر دے۔

’’نہیں!‘‘ اشرف سیڑھیوں کے بیچ رک گیا۔

’’آؤ اس جانور کو سبق سکھائیں۔‘‘ وہ پلٹنے لگا لیکن عابد نے مضبوطی سے اسکا ہاتھ تھام لیا۔

’’خاموش رہو،تم وعدہ کر چکے ہو۔‘‘

یار یہ سب۔۔‘‘ الفاظ اشرف کے حلق میں پھنس گئے۔

’’ہاں یہ سب اس سکول میں کہیں نہ کہیں تقریباً روزانہ ہوتا ہے۔‘‘ عابد نے اسے خاموشی سے سیڑھیاں اترنے پر آمادہ کرتے ہوئے کہا۔

دونوں سکول کے باغیچہ میں چنار کے گھنے پیڑ تلے کچھ دیر تک چپ بیٹھے رہے۔ گرمی اپنے عروج پر تھی۔ سکول کا چوکیدار دُور پھاٹک کے پاس سگریٹ سلگائے بیٹھا تھا۔ اشرف کو اب تک یقین نہیں آ رہا تھا کہ اس نے جو دیکھا۔۔۔۔ وہ حقیقت تھی کوئی فلم نہیں۔۔۔۔ عابد اسکی کیفیت بھانپتے ہوئے گویا ہوا۔

’’جانتے ہو میں نے تم سے خاموش رہنے کا وعدہ کیوں لیا تھا؟‘‘ اشرف غصے میں تھا اس لئے کوئی جواب نہ دیا۔

’’کیونکہ میں ایک بار بول کر بری طرح پچھتا چکا ہوں اپنے ہاتھوں سے اپنے ضمیر کا گلا دبایا تھا میں نے۔‘‘ اشرف نے عابد کے سنجیدہ چہرے کی جانب دیکھا۔’’سنو برادر،تین سال پہلے میں نے ایک لعنتی استاد کو اپنی جماعت کے ایک طالبعلم عظمت کے ساتھ زبردستی کرتے دیکھا تو خون کھول اٹھا تھا۔ میں بھی ایک سرکاری سکول سے پڑھا ہوا ہوں اور اس ’’بچہ بازی‘‘ سے بخوبی واقف تھا اس لیئے یہ سوچ کر احتجاج کیا کہ شاید میری آواز میں دیگر معزز اساتذہ آواز ملا کر اس مکروہ فعل کی روک تھام کے لئے میرا ساتھ دیں گے۔‘‘ عابد نے افسوس سے سر ہلایا اور کچھ توقف کے بعد گویا ہوا۔

’’لیکن ایسا کچھ بھی نہ ہوا پرنسپل صاحب نے مجھے تنہائی میں بلا کر کہا۔ دیکھئے عابدصاحب اپنے کام سے کام رکھئے اور میری ایک بات غور سے سن لیجئے میں بے شک یہاں کا سربراہ ہوں لیکن بے بس ہوں اورمیں اس بات کا پوری ذمہ داری سے اعتراف کرتا ہوں کہ ایک دلال دس رنڈیوں کو ایک ساتھ با آسانی چلا سکتا ہے لیکن مجھ جیسا کوئی بے اختیار و کمزور پرنسپل چار اساتذہ کو ایک ساتھ نہیں چلا سکتا کیونکہ ان کی پشت پر ایک نہیں چھ چھ یونینز کھڑی ہیں اور یونین کس بلا کا نام ہے آپ جانتے تو ہو ن گے؟برائے مہربانی اس معاملے پر خاموشی اختیار کیجیے ورنہ سکول کی بڑی بدنامی ہوگی‘ پرنسپل کا برتاؤ سن کراشرف دانت پیس کر رہ گیا،’خیر پرنسپل صاحب نے معاملہ اپنے ہاتھ میں لے کر اسے جلد سلجھانے کی یقین دہانی کروا دی۔ اگلے روز عظمت کو پرنسپل صاحب نے دفتر بلایا اور اس کے ہاتھ پر سکول خارج کا سرٹیفیکیٹ رکھ کر اسے چلتا کر دیا۔ وہ جماعت میں اپنا بستہ لینے آیا تو اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ میں نے پرنسپل صاحب سے احتجاج کیا کہ اس معاملے میں عظمت تو بے گناہ ہے پھر سزا اسے کیوں دی جا رہی ہے؟ تو انہوں نے بڑے تحمل سے میری طرف دیکھ کر اپنے کاندھے اچکاتے ہوئے قولِ زریں ارشاد فرمایا؛ ’میں مجبور ہوں عابد صاحب‘ یہ جواب سن کر میرے بدن میں آگ بھڑک اٹھی لیکن ۔۔۔’لیکن؟‘ مجھے دیگر معزز اساتذہ نے سمجھا بجھا کر ٹھنڈا کیا کہ اس نظام کو برداشت کر نا سیکھو۔ انقلابی بننا مہنگا پڑ سکتا ہے۔ تم گھر کے واحد کفیل ہو۔ کیوں دریا میں رہ کر مگر مچھوں سے بیر رکھتے ہو۔ سرکار کے نوکر ہو اس لئے خاموشی سی نوکری کرو۔

ؔ ’’تم خاموش ہوگئے؟‘‘ اشرف نے اسکی نظروں سے نظریں ملانے کی ناکام کوشش کی۔

’’ہاں خاموش ہوگیا۔۔۔۔ نوعیت جدا سہی لیکن مجھے بھی پرنسپل صاحب کی طرح مجبوریاں گھیر چکی تھیں۔‘‘ عابد کا لہجہ سپاٹ لیکن آنکھوں میں افسردگی عیاں تھی۔

’’اچھا بات مکمل کرو۔‘‘ کچھ توقف کے بعد عابد دوبارہ گویا ہوا۔ ’’دو روز بعد مجھے اطلاع ملی کہ ایک گھنٹہ قبل عظمت اپنی ماں کے ساتھ پرنسپل صاحب سے ملنے آیا تھا۔ میں نے سوچا شاید پرنسپل صاحب نے ایک ماں کی فریاد سن لی ہو لیکن یہ میری خوش فہمی نکلی کہ اس دن کے بعد میں نے کبھی عظمت کو سکول میں نہیں دیکھا اور ابھی دو ہفتے پہلے۔۔۔‘‘ماسٹر طفیل کو اپنی جانب آتا دیکھ کر عابد نے قصہ ادھورا چھوڑ دیا۔

’’کیا بات ہے عابد صاحب ابھی تک گھر نہیں گئے؟ بھابھی سے تعلقات تو ٹھیک ہیں نا؟‘‘ ماسٹر قہقہ لگاتے ہوئے ان کے قریب بیٹھ گیا۔

’’جی بالکل صاحب ابھی آپ کی بھابھی مجھ سے مایوس نہیں ہوئی۔‘‘ عابد کا جواب سن کر ماسٹر نے ایک اور قہقہ بلند کیا۔ اشرف کو ماسٹر طفیل کا وجود غلاظت کی گھٹری دکھائی دے رہا تھا۔ اسے ماسٹر کے قہقہوں سے سخت کوفت ہورہی تھی۔

’’گویا آپ نے ہم ملنگوں کا حال اشرف صاحب سے بیان کر ہی دیا۔‘‘ماسٹر نے کن اکھیوں سے اشرف کو دیکھا۔

’’اوہ اچھا۔۔۔۔۔ نہیں صاحب میں چاہتا ہوں وہ واقعہ آپ خود سنائیں۔‘‘ عابد نے ماسٹر کا اشارہ سمجھتے ہوئے کہا۔

’’یہ واقعہ تو میری ذات سے منسلک لطیفہ بن گیا ہے۔ ‘‘ ماسٹر نے مسکرا کر مونچھوں کو تاؤ دیا۔

’’اشرف صاحب ایک دفعہ میں اپنے گاؤں کے ڈاکٹر کے پاس اپنا ایک مسئلہ لے کر گیا۔ ڈاکٹر بڈھا آدمی تھا اور اونچا سنتا تھا میں نے اسکے کان کے قریب جاکر کہا کہ’ ڈاکٹر صاحب بہت پریشان ہوں کہ’ یہ‘ بیوی کو دیکھ کر نہیں جاگتا ‘ ڈاکٹر نے پوچھا ’کیا نہیں جاگتا ‘میں نے دونوں رانوں کے درمیان اشارہ کیا تو وہ مسکرا کر کچھ ادویات پرچی پر لکھنے لگا۔

’’ارے بھائی یہ تو اب ہمارا قومی مسئلہ بن چکا ہے پریشانی کی کوئی بات نہیں۔ ‘‘۔۔۔۔۔ میں نے کہا ’ آپ مجھے نامرد سمجھتے ہیں؟‘ ڈاکٹر کا قلم تھم گیا، ’’تمھارا ہتھیار بیوی پر نہیں چلتا تو اس کا کیا مطلب ہوا ؟‘۔۔۔۔۔ میں نے دوبارہ اس کے کان میں کہا، ’’بیوی پر نہیں جاگتا صاحب لیکن چھوکروں پر سیٹی بجاتے ہی جاگ جاتا ہے۔‘ ،’’چھوکرے؟‘‘،’’ہاں میں۔۔وہ۔۔ سکول میں۔۔۔۔‘‘ ڈاکٹر کے چہرے کا رنگ بدل گیا اور میں سمجھ گیا معاملہ گڑبڑ ہے میں وہاں سے فوراً کھسک لیا اور جونہی دروازے کے قریب پہنچا، عقب سے گالیوں کے تیر میری سماعت میں پیوست ہو گئے۔۔۔۔ حرامی۔۔۔۔ چریا۔۔۔۔ خنزیر۔۔۔۔غلی۔۔۔۔ لوطی‘‘

واقعہ بیان کر کے ماسٹر طفیل ہنستا ہوا دہرا ہو گیا۔ عابد نے بھی ایک مصنوعی قہقہ لگایا البتہ اشرف کا چہرہ کسی بھی قسم کے تاثر سے عاری تھاؔ۔

’’آپ بھی استاد ہو طفیل صاحب۔‘‘ عابد کے لہجے میں چھپا طنز اشرف بخوبی سمجھ گیا۔

’’اچھا ایک بات بتائیں صاحب کیا واقعی بیوی پر۔۔‘‘ عابد نے ماسٹر کی چٹکی لی۔

’’حلف لے لو ۔۔۔۔ جھوٹ بولنے والے پر خدا کی لعنت ہو پتہ نہیں، اس بہنچو کو ہوا کیا ہے۔‘‘ ماسٹر نے اپنے پیلے دانتوں کی نمائش کرتے ہوئے ایک نظر اشرف کی جانب دیکھا اور اشرف نے یوں آسمان کی جانب دیکھا جیسے کوئی بڑا سا پتھر ماسٹر طفیل کو کچلنے کے لیئے زمین کی جانب بڑھ رہا ہو۔ اچانک ماسٹر کی نگاہیں اس بچے پر جم گئیں جس کا وہ تھوڑی دیر پہلے لیبارٹری میں ’’پیریڈ‘‘ لے کر آیا تھا بچہ تیز تیز قدم اٹھاتا سکول کے مرکزی پھاٹک کی جانب روانہ تھا۔ ’’بڑے غور سے بچے کو دیکھ رہے ہو ماسٹر، خیر تو ہے۔‘‘ عابد، ماسٹر سے آج کے تازہ گناہ کا اعتراف کروانا چاہتا تھا لیکن ماسٹر کسی اور ہی دھن میں تھا۔

’’کبھی میں بھی ایسے ہی سکول آیا جایا کرتا تھا۔‘‘ ماسٹر کی بات پر اشرف اور عابد نے ایک دوسرے کی جانب دیکھا۔ جب تک بچہ پھاٹک سے باہر نہیں ہو گیا ماسٹر نے اس سے نظریں نہ ہٹائیں۔

’’چلتے چلتے ایک لطیفہ سنو صاحب۔‘‘ ماسٹر پنجوں کے بل بیٹھ گیا۔ ’’اسے میں خود پر لے کر سناتا ہوں مزا آئیگا‘‘

’’سنائیے ماسٹر جی سنائیے۔ ‘‘

’’میں اور میرا دوست مسجد میں مُلا کا وعظ سن رہے تھے، لوگو قومِ لوط کے انجام سے عبرت پکڑو یاد رکھو یہ جو خبیث لوگ معصوم لونڈوں کے ساتھ بد فعلی کرتے ہیں یہ تمام لونڈے روزِحشر ان کے کاندھوں پر لاد دیئے جائیں گے اور پلِ صراط سامنے ہوگا‘۔۔۔۔۔’استغفراللہ استغفراللہ‘ مسجد میں موجود مقتدیوں نے کانوں کو ہاتھ لگا کر چھت کی جانب دیکھا۔۔ میرے دوست نے آہستہ سے میرے کان میں کہا ، ’سن لو اور توبہ کرو‘ میں نے جواباً کہا، ’فکر مت کرو یار، میں تو خود کسی کے کاندھے پر سوار ہوؤں گا۔‘‘ ماسٹر لطیفہ سنا کر ہنستے ہوئے رخصت ہو گیا عابد مسکرا رہا تھا جبکہ اشرف کو جیسے سانپ سونگھ گیا ہو! تھوڑی دیر سکول کی ننگی خاموشی میں بیٹھنے کے بعد دونوں آہستہ آہستہ قدم اٹھاتے گھروں کو روانہ ہوئے تو راستے میں اشرف نے عابد کو عظمت کا ادھورا قصہ یاد کروایا۔ عابد نے سرد آہ بھری۔

’’ ہاں۔۔۔۔ ابھی دو ہفتے پہلے بازار میں میری ملاقات عظمت سے ہوئی تھی۔ اس کا لباس کسی گیراج میں بطورِ چھوٹو کام کرنے کی چغلی کھا رہا تھا۔۔۔۔ اس کی حالت دیکھ کر میرا پہلا سوال یہی تھا کہ عظمت تم نے کسی اور سکول میں داخلہ کیوں نہ لیا؟ جواباً اس نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھا لئے۔’’نہیں سر۔۔۔۔ بس۔۔۔۔۔ خدا مجھے سکولوں سے بچائے۔ ‘‘، مجھے لگا جیسے اس نے مجھے گالی دی ہو۔۔۔۔ خیر میں اسے سمجھانے کی کوشش کرتا رہا لیکن پھر اس نے جو بات مجھ سے کہی اس کے بعد میرے لئے کچھ بھی کہنے کو باقی نہ رہا تھا۔

’’کیسی بات؟‘‘

اس نے بتایا کہ وہ اپنی ان پڑھ بیوہ ماں کے اصرار پر پرنسپل صاحب کے پاس اپنے ’ناکردہ گناہکی معافی مانگنے گیا تھا اُس کی ماں بھی پرنسپل صاحب کی منت سماجت کرتی رہی بالآخر پرنسپل کا دل کچھ نرم ہوا اور انہوں نے عظمت کو دفتر سے باہر کھڑا رہنے کا حکم دیا اور خود اس کی ماں سے کچھ ضروری گفتگو کرنے لگے۔۔۔۔۔ ذرا دیر بعد اس کی ماں طیش کے عالم میں دفتر سے باہر آئی، خاموشی سے اس کا ہاتھ پکڑ ا اور دونوں ماں بیٹا سکول کی حدود سے باہر آ گئے۔ عظمت نے وجہ جاننا چاہی تو اس کی ماں نے روتے ہوئے صرف اتنا کہا۔ ’’خدا تمھارے اس لعنتی بے شرم پرنسپل کی بیوی کو بیوہ کرے۔ ‘‘، ’اشرف اس نفرت کا عالم بیان سے باہر ہے جو میں نے اس سمے عظمت کی آنکھوں میں دیکھی تھی اور جسے وہ میرے چہرے پر تھوک کر بھاگ گیا تھا۔

خاموشی مزید گہری ہو چکی تھی۔ اس ننگی خاموشی میں وہ دونوں خلافِ معمول چوکیدار کے سلام کا جواب دیئے بغیر ہی پھاٹک سے باہر نکل گئے

Published inعالمی افسانہ فورمفارس مغل