Skip to content

نجات

عالمی افسانہ میلہ 2015
افسانہ نمبر 100
نجات
مریم ثمر، لاہور، پاکستان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دروازے کی بے وقت بجنے والی گھنٹی اس وقت سر پہ کسی ہتھوڑے کی مانند محسوس ہوئی۔ سرفراز صاحب کے چہرے پر ناگواری کے تاثرات ابھر آئے، گردن گھما کر بیگم کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا۔ شائستہ بیگم تو جیسے پہلے سے ہی تیار بیٹھی تھیں۔ فورا رضائی کو اپنے اوپر کھسکا لیا۔
لو بھلا اب اس سردی میں کون باہر جائے۔” سرفراز صاحب شائستہ بیگم کے خاموش انکار کو سمجھ چکے تھے۔ چارو ناچار خود ہی اٹھے۔ پلنگ کے نیچے پڑی چپلوں کو ٹٹول کر باری باری پہنا، کرسی سے گرم چادر اٹھا کر اپنے ارد گرد اچھی طرح لپیٹا، ہاتھوں کو کوٹ کی جیب میں ڈالا اور آنے والے کو دل ہی دل میں برا بھلا کہتے، بڑبڑاتے ہوئے دروازے کی طرف چل دیئے۔
بیٹھک کے ساتھ والا بچوں کا کمرہ تھا جہاں سے جاندار قہقہے وقفے وقفے سے باہر آتے اور پھر واپس لوٹ جاتے وہ سب موسم سے بھرپور لطف اٹھاتے ہوئے چلخوزے اور مونگ پھلی کھا رہے تھے اور کیرم کھیل رہے تھے۔
سرفرازصاحب نے بچوں کے کمرے میں جھانکا، کھیل میں مگن دیکھ کر اطمنان کا سایہ ان کے چہرے پر لہرایا اور مسکراتے ہوئے آگے بڑھ گئے۔ بیرونی دروازے کے قریب پہنچ کر اونچی آواز میں بولے۔
کون ہے بھئی؟” ان کی آواز میں برہمی اور ناگواری تھی۔
صاحب جی بہت سردی ہے اگر تھوڑی دیر کے لئے اندر آنے کی اجازت مل جائے تو میں کچھ دیر یہاں رک جاوٗں۔ بارش تھمتے ہی چلا جاوٗں گا۔
سرفراز صاحب نے دروازے کے چھوٹے سے سوراخ سے جھانک کر باہر دیکھا۔ پچاس پچپن سالہ لاغر جسم سردی سے تھر تھر کانپ رہا تھا۔ ایک لمحے کے لئے سوچا کہ بیٹھک کا دروازہ اس کے لئے کھول دوں۔ مگر پھر روزمرہ کی دہشت گردی کی خبروں اور متنبہ کرنے والے اشتہارات نے انہیں ایسا کرنے سے منع کر دیا۔
نجانے کون ہے؟ کہاں سے آیا ہے؟ اور پھر آج کل کے حالات بھی تو ایسے نہیں کہ کسی اجنبی کو محض ہمددری کی خاطر اور اس پر ترس کھا کر گھر کے اندر گھسا لیا جائے۔ کیا پتہ کوئی دہشت گرد ہی ہو اور بہانہ بنا رہا ہو۔
ہمارے گھر کوئی جگہ نہیں ہے۔ ساتھ والے گھر سے پتہ کر لیں۔” سرفراز صاحب صاف انکار کرتے ہوئے پلٹ آئے۔
شائستہ بیگم نے رضائی ذرا سی سرکائی اور سوالیہ اندازمیں بولیں۔” کون تھا؟
پتہ نہیں لوگوں کو بھی گھر میں چین نہیں آتا بھلا اس سردی اور بارش کے موسم میں باہر نکلنے کی کیا ضرورت ہے۔ آرام سے گھر بیٹھیں۔ نہ عمر دیکھتے ہیں، نہ وقت۔۔۔۔۔” سرفرازصاحب نے چادر کرسی پر رکھتے ہوئے کہا۔
ان کے لہجے میں کافی جھنجھلاہٹ تھی۔ شاید وہ اس کی مدد بھی کرنا چاہتے تھے مگر بدلتے ہوئے ناموافق اور خراب حالات ایسا کرنے سے روک رہے تھے۔ وہ سلیپر اتار کر پھر بستر میں گھس گئے اورضائی سر تک لے کر خود کو گرم کرنے لگے۔
یہاں سے مایوس ہو کر بوڑھا سامنے مسجد کی طرف ہو لیا ۔ اس پر کپکپاہٹ طاری تھی۔ کپڑوں سے پانی ٹپک رہا تھا۔ مسجد کے باہر سائیکل سٹینڈ کے اوپر پلاسٹک کی سبز رنگ کی چادر تنی تھی۔ وہ قدرے اطمنان سے ایک کونے میں سمٹ کر اکڑوں بیٹھ گیا اور بارش تھمنے کا انتظار کرنے لگا۔
کچھ ہی دیر بعد اچانک ایک کرخت آواز اس کے کانوں سے ٹکڑائی۔
اؤے با با ایتھاں کیوں۔۔۔۔ بیٹھا ھئیں۔۔۔۔ چل اٹھ باھر ونج بہ۔
بوڑھے نے آہستگی سے گردن گھما کردھندلائی ہوئی آنکھوں سے آواز کی سمت دیکھا۔ اب تو اس میں بولنے کی سکت بھی نہیں رہی تھی۔
درمیانی عمر کا ایک نوجوان سفید اور کالے رنگ کے ڈبیوں والے کمبل کی بکل مارے ایک ہاتھ میں چھتری تھامے غصے سے تلملاتا ہوا قریب آیا۔
پتہ نی کتھوں آ ویندیں نے۔۔۔۔۔اٹھ ایتھوں۔۔۔۔۔ تیڈ ے پیو دا گھر کئی نی۔
بوڑھا کوئی جواب دیئے بغیر خاموشی سے سر جھکائے ہانپتے کانپتے ہوئے باہر آ گیا۔ سردی سے کپکپاہٹ میں تیزی آ گئی تھی۔ قدم اٹھانا محال ہو رہے تھے۔ ٹھنڈ سے دانت بج رہے تھے۔
اس نے دیکھا ایک کتا تھڑے کے نیچے بارش سے بچنے کے لئے پناہ لئے ہوئے تھا اگرچہ وہ بھی بری طرح بھیگ چکا تھا مگر کم از کم اسے ایک محفوظ چھت میسر آ گئی تھی اس لئے اطمنان سے اگلی دونوں ٹانگوں کو کراس کا نشان بنا کر زمین پر لیٹا ہوا تھا۔ اس نے ایک نظر بوڑھے کی طرف دیکھا اور ہلکی سی بھوں کی آواز نکال کر تھوڑی کو ٹانگو ں پر رکھ لیا۔ چند لمحے اپنی گول مٹول آنکھیں بوڑھے پر مرکوز رکھیں پھر انسانوں سے بھی زیادہ بیزاری سے بند کر لیں۔
عین اس وقت بادل کچھ اس زور سے گرجے کہ جیسے اس کی غربت کا سارا غصہ اسی پر نکال رہے ہوں۔
بارش مسلسل برس رہی تھی۔ رات ڈھل رہی تھی۔ شور سے پتہ چلتا تھا کہ پانی نالیوں میں تیزی سے بہہ رہا ہے۔ بھیگے مکانوں کے بند دروازں پر اندھیروں کا راج تھا۔ کہیں سے روشنی کی ایک کرن بھی دکھائی نہ دیتی تھی۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ جیسے روشنی ڈر کے چھپ گئی ہو۔۔۔۔۔ بوڑھا سیاہ مکانوں کے گھیرے میں تھا۔ بارش کی ہولناک آواز اور گھن گھرج اور بھی نمایاں ہوتی جا رہی تھی۔ دور کہیں بلیوں کے رونے کی آواز بھی ماحول کو پراسرار بنا رہی تھی۔ چھجوں اور ٹین کی چھتوں سے بہنے والا بارش کا پانی بھی انہیں آوازوں میں شامل تھا۔
بوڑھے نے معدوم ہوتی روشنی میں اپنے ہاتھوں اور پاوٗں کی انگلیوں پر نظر ڈالی جو اب سن ہو چکیں تھیں اور ان میں بے شمار باریک لکیریں بن گئیں تھیں جیسے کسی نے بہت مشکل راستے بنا دیئے ہوں اور وہ ان بھول بھلیوں میں کہیں کھو گیا ہو، اس کے گھر کا چند قدم کا فاصلہ جیسے میلوں پر محیط ہو گیا تھا۔
بوڑھا گھاس پھوس کی بنی کٹیا میں داخل ہوا۔ سامنے اس کی بیوی فرش پر لیٹی تھی۔ اس کی ننھی بچی چھاتی سے لگی دودھ کے لئے منہ مار رہی تھی۔ کچھ نا ملنے پر او ۔ویں ، او ۔ ویں کرنے لگتی پھر دوبارہ ایک امید کے سہارے منہ قر یب لے جاتی مگر ہر بار اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا۔ نجانے تلاش کا یہ سلسلہ کب سے جاری تھا۔
اسے اندر آتا دیکھ کر اس نے بچی کو ایک طرف لٹا دیا اور لپک کر قریب آئی۔
بڑی دیر کر دی فیقے! بچے کب سے بھوک سے بلک رہے تھے بس ابھی سونے کے لئے لیٹے ہیں۔ کچھ لایا بھی ہے یا آج پھر خالی ہاتھ آ گیا ہے۔ اس نے سہارا دے کر اپنے سر کے سائیں کو بٹھانے کی کوشش کی۔
ارے تجھے تو تپ چڑھ گئی، ادھر آرام سے بیٹھ جا۔۔۔۔” بیوی کے چہرے پر تشویش کے نمایاں آثار تھے۔
وہ خاموش اور خالی نظروں سے اسے دیکھے جارہا تھا۔
کچھ بولے گا بھی یا نہیں، کیا لایا ہے کھانے کو۔” اس کی بیوی نے کریدا۔
وہ بے بسی کی تصویر بنا اس کے سامنے بیٹھا تھا۔ اس نے آدھا کھایا سوکھی روٹی کا ایک ٹکڑا اس کی طرف بڑھایا ساتھ ایک ہڈی بھی تھی جس کے ایک طرف تھوڑی بوٹی لگی رہ گئی تھی۔
یہ کہاں سے مل گئی تجھے؟” بیوی نے پوچھا۔
اللہ کی زمین سے، تو اسے کھا لے اور بچوں کو بھی کھلا دے۔” اس نے نظریں چراتے ہوئے ہلکی آواز میں بمشکل کہا۔
فیقے سے اپنی یہ بے بسی برداشت نہیں ہو رہی تھی۔ اس نے ادھر ادھر بے چینی سے دیکھا۔ بچے کئی دنوں کے فاقے سے سوکھتے جا رہے تھے مگر نجانے پیٹ کیسے خالی ہونے کے باوجود ایسے بھرے اور ابھرے ہوئے تھے کہ جیسے ان میں کھانا زبردستی ٹھونس دیا گیا ہو۔
اس نے ایک نظر اپنی کچی کوٹھری پر ڈالی جس کی چھت گھانس پھونس اور پرانے کپڑوں سے ملا کر بنائی گئی تھی۔ دروازے پر پڑے ٹاٹ کے لیرو لیر کپڑے سے ٹھنڈی ہوا کے تھپیڑے مسلسل اندر آ رہے تھے اس نے سر اٹھا کر ایک ہی نظر میں چھت کا جائزہ لے لیا، ہر طرف رنگ برنگے لٹکتے ہوئے کپڑے او ر ان سے ٹپ ٹپ کرتا پانی اس کی غربت کا مذاق اڑا رہے تھے۔ اس نے ایک لمحے کو کچھ سوچا اور ایک دم لڑکھڑاتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔ نیچے لٹکتے دو تین کپڑوں کو ملا کر ایک ساتھ کھینچنا شروع کر دیا۔ اس وقت نجانے کہاں سے اس میں بجلی کی سی طاقت آ گئی تھی۔
فیقے کی بیوی گھٹی ہوئی چیخ نما آواز نکالتے ہوئے اس کی طرف لپکی۔ ” نہ کر فیقے کیا کر رہا ہے چھت گر جائے گی کچی ہے۔ وے رک جا ۔۔۔۔۔مگر فیقے پر تو جیسے وحشت سوار تھی۔
سورج انگڑائی لے کر بیدار ہوا۔ بادل اپنے آنچل کو لہراتے کبھی سورج کے سامنے آتے تو کبھی پرے ہو جاتے۔ اس آنکھ مچولی میں سورج کی کرنیں سونے کی طرح شفاف اور چمکدار ہر طرف اپنا جلوہ بکھیر رہی تھیں۔ درخت ایک دن پہلے کی بارش سے نہا دھو کر صاف ستھرے ہو گئے تھے۔ کہیں کہیں کالے بادل کی سیاہ ٹکڑیاں کسی سفید عمارت کے پیچھے چُھپن چھپائی کھیلتیں تو سفید عمارت کا رنگ اور نمایاں ہو جاتا۔ مگر نجانے ان مکانوں میں رہنے والے مکینوں کے من کا رنگ بھی بدلتا تھا یا کہ سیاہ ہی رہتا تھا۔
ہلکی ہلکی ہوا چلتی تو پتے ایک دوسرے سے بغل گیر ہو جاتے، گرمجوشی سے مصاٖفحہ کرتے اور پھر جدا ہو جاتے۔ اتنی خوشگوار صبح ہونے کے باوجود ایک عجیب قسم کی اداسی فضا میں رچی بسی ہوئی تھی۔
سرفراز صاحب کے گھر کی گھنٹی بجی۔ وہ اس وقت ناشتہ کر رہے تھے۔ انہوں نے جلدی سے گرم چائے کی ایک چسکی لے کر پیالی ٹیبل پر رکھی اور اٹھ کھڑے ہوئے۔
محلے کے چند معززین باہر جمع تھے۔
سلام دعا کے بعد سرفرازصاحب نے پوچھا۔
خیر تو ہے حاجی صاحب، آج صبح ہی صبح؟
خیریت ہی تو نہیں ہے سرفراز صاحب رات فیقے کے گھر کی چھت گر گئی۔ پورا خاندان اس کے نیچے آ گیا۔ کوئی بھی زندہ نہیں بچا، اب عصر کے بعد جنازہ ہے۔ آپ سے درخواست ہے کہ شرکت فرمائیں اور کچھ رقم بھی عنایت کر دیں تاکہ کفن دفن کا انتظام کیا جائے۔
اوہ! افسوسناک خبر ہے، آپ اندر تشریف لے آئیں۔” سرفراز صاحب نے بیٹھک کا دروازہ کھولتے ہوئے انہیں اندر آنے کےلئے راستہ دیتے ہوئے کہا۔
سب باری باری اندر آ کر کرسیوں پر بیٹھ گئے۔
سرفراز صاحب نے حاجی صاحب کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھتے ہوئے بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا۔
حاجی صاحب یہ تو ثواب کا کام ہے۔ یہ پانچ سو روپے تو ابھی رکھ لیں۔ میں اپنی بیگم کو بھی بتا کے آتا ہوں وہ صدقہ و خیرات کرنے میں مجھ سے بھی آگے ہے۔” یہ کہتے ہوئے سرفراز صاحب نے روحانی خوشی محسوس کی۔
حاجی صاحب نے تسبیح کے دانوں کو گھماتے ہوئے کہا،
اس دفعہ میں پھر عمرہ او رحج کے لئے جا رہا ہوں۔ چوتھا حج ہے میرا ماشاء اللہ اور عمرے تو اتنے کر چکا ہوں کہ گنتی بھی یاد نہیں رہی۔ اس سال بھی جانے کا ارادہ ہے۔ سرفراز صاحب آپ کے لئے تو خاص دعا کروں گا۔ انشاء اللہ
ماشاء اللہ، ماشاء اللہ، جسے اللہ توفیق دے، جس کی قسمت اور نصیب۔ ” سرفرازصاحب نے مرعوب ہوتے ہوئے جواب دیا۔
میرے لئے دعا کرنے کا بہت شکریہ حاجی صاحب اللہ آپ کے حج اور عمرے قبول کرے۔” ”
آمین۔” سب نے ایک ساتھ کہا۔
سرفراز صاحب ایک بات اور بھی کہنا تھی، ماشا ء اللہ آپ فی سبیل اللہ بہت کام کرتے ہیں۔ ایک تجویز زیر غور ہے۔ میرا ایک پلاٹ برسوں سے خالی پڑا ہے۔ ایک اور خوبصورت سی مسجد تعمیر کرنے کا ارادہ ہے۔ تمام مراحل بفضل خدا طے پاچکے ہیں۔ بس تھوڑی رقم کی کمی آڑے آ رہی ہے۔ چاہیں تو آپ بھی اپنا حصہ ڈال کر ثواب حاصل کر لیں۔” حاجی صاحب نے ایک ہی سانس میں اپنی دلی خواہش کا اظہار کر دیا۔
جی جی حاجی صاحب، کیوں نہیں نیکی او ر پوچھ پوچھ۔۔۔۔ ابھی لیجئے، جتنی بھی مساجد ہوں، کم ہیں۔ آخر ہمارا مقصد حیات اللہ کی عبادت ہی تو ہے اور یہی نجات کا ذریعہ بھی۔ اب دیکھیں نا ہمارے برادر ملک سعودی عرب نے شام کے پناہ گزینوں کے لئے 200 سے زائد مساجد کی تعمیر کرنے کی نیک خواہش کا اظہار کیا ہے۔” سرفراز صاحب نے سرخوشی کے جزبے سے سرشار ہو کر کہا۔
بے شک، بےشک، جرمنی جیسے کافر ملک میں مسلماںوں کے لئے اتنی بڑی تعداد میں مسجد تعیمر کرنا بے حد ثواب کا کام ہے اور پھر حالات جیسے بھی کیوں نہ ہو ں عبادت تو ہر حال میں فرض ہے۔” حاجی صاحب بے کمرے میں بیٹھے تما م افراد کی طرف باری باری تائیدی نظروں سے دیکھا۔ جس کے جواب میں سب نےحمایت میں سر ہلایا۔
حاجی صاحب کے دائیں طرف بیٹھے ایک نوجوان نے پرجوش انداز میں کہا۔ ” کافر اسلامی ملک جرمنی میں جب اللہ اکبر کی صدائیں ایک ساتھ گونجیں گی تو پھر آپ دیکھیں ان کے ایوان کیسے کانپیں گے اور ان میں ہیبت طاری ہو گی۔
بے شک، بے شک۔ ” سرفراز صاحب سر کو مثبت انداز میں ہلاتے ہوئے اٹھے اور ڈائینگ روم میں آ گئے ۔
بیگم چائے کی پیالی ختم کر چکی تھیں اور برتن سمیٹ کر کچن میں رکھنے جا رہی تھیں۔ سرفراز صاحب بھی پیچھے پیچھے کچن میں چلے آئے اور بولے۔
بھئی شائستہ بیگم، محلے میں فوتگی ہو گئی ہے، کچھ دینا چاہو تو دے دو اور ہاں نئی مسجد بھی بن رہی ہے، اس کے لئے بھی اگرٍچندہ دے سکو تو اچھا ہے۔
ارے یہ کوئی پوچھنے کی بات ہے۔” شائستہ بیگم بات مکمل ہونے سے پہلے ہی بولیں اور پھر اپنے کمرے کی طرف مڑیں۔ تکیئے کے نیچے رکھا پرس اٹھایا اور اس میں سے کچھ پیسے نکال کر سرفراز صاحب کو دیتے ہوئے بولیں۔
ایک ہزار میری طرف سے اور پانچ ہزار مسجد کے لئے اور ہاں میرے پاس کچھ فالتو کمبل بھی پڑے ہیں آپ کو تو پتہ ہی ہے کہ اب بچے انہیں استعمال نہیں کرتے۔ وہ بھی ساتھ دے دیں۔۔۔۔ سنا ہے مُردوں کو بھی ٹھنڈ لگتی ہے۔

Published inعالمی افسانہ فورممریم ثمر