Skip to content

میلہ

عالمی افسانہ میلہ 2018
افسانہ نمبر 36
میلہ
عامر رفیق، گوجرانوالہ پاکستان

’’ہائے! میں زارا شیخ۔ پہچانا مجھے؟‘‘
’’اوہ تم؟ ہاں کیوں نہیں؟‘‘
’’بالکل ٹھیک۔ کیسی چل رہی زندگی؟‘‘
’’بے کار۔‘‘
’’او ہو ابھی تک ویسی ہی؟؟ کوئی ملی نہیں کیا؟‘‘
’’نہیں۔ کوئی بھی نہیں۔‘‘
’’انہہ۔۔ پچھلے کچھ دنوں سے بہت مس کر رہی تھی تمہیں۔ پتا نہیں کیوں۔‘‘
’’واہ۔۔خدا خیر کرے۔‘‘
’’رکو ایک منٹ۔‘‘
’’ اچھا۔‘‘
’’اب کرو بات۔۔ وہ دراصل سوہا کا بھائی آ گیا تھا۔‘‘
’’اوہ۔۔کتنے بچے ہو گئے سوہا کے؟‘‘
’’ایک بیٹا ابھی تو یار۔ تین ماہ کا، بہت پیارا اور حنا کی بیٹی، ایک ماہ کی۔‘‘
’’اور وہ جو عائشہ تھی اُس کے؟؟‘‘
’’اُس کے دو۔‘‘
’’یار یہ سب رات کو کتنا مزہ کرتے ہوں گے؟‘‘
’’ہا ہا ہا تو تم بھی کر لو پھر شادی اور کر لیا کرنا مزے۔‘‘
’’نہیں۔ میری قسمت میں کسی کا ملنا کہاں؟؟‘‘
’’کیوں نہیں؟ تم ایسے کیوں کہتے ہو؟‘‘
’’پتا نہیں۔‘‘
’’تم کچھ چھپاتے ہو۔‘‘
’’نہیں تو، بس مجھے اندازہ ہو گیاہے اپنی قسمت کا۔‘‘
’’تم بھی ناں۔۔ ایسے تو نہیں کہتے۔۔ تمہارا کاروبار ٹھیک ہوا اب؟؟‘‘
’’ہاں تھورا سا۔‘‘
’’تو کیا مسئلہ ہے پھر؟ تم ابھی بچوں کے بارے میں نہ سوچنا۔‘‘
’’ چلو اوئے پاگل۔‘‘
’’تم بھی جاو اوئے پھر۔ ہی ہی ہی‘‘
’’مصائب اور تھے پر دل کا جانا تو۔۔۔ عجب اک سانحہ سا ہو گیا ہے‘‘
’’واہ۔۔ذوق بہتر ہو گیا تمہارا۔‘‘
’’کلاسیکی شاعری پڑھ رہی ہوں آجکل۔‘‘
’’اچھا یہ بتاو تم بن گئی فیشن ڈیزائنر؟‘‘
’’بس سمجھو بن ہی گئی۔۔ فائنل سمیسٹر میں ہوںْ‘‘
’’کیا؟؟ فائنل سمیسٹر میں تو تب تھی۔‘‘
’’نہیں ۔ میں نے تم سے جھوٹ بولا تھا۔‘‘
’’ جھوٹ بولا تھا؟ جبکہ ہمارے درمیان طہ ہوا تھا کہ ہم جھوٹ نہیں بولیں گے۔‘‘
’’ یار۔۔ وہ دراصل اس وقت میں بہت چھوٹی تھی۔ تب میرا فرسٹ ائیر کا سیکنڈسمیسٹرتھا۔ مجھے تھا اگر میں نے تمہیں سچ بتا دیا تو تم مجھ سے دوستی نہیں کرو گے۔‘‘
’’ہی ہی ہی۔ کر لینی تھی دوستی۔‘‘
’’ہیں؟ واقعی؟‘‘
’’ ہاں ناں اس میں کیا تھا؟‘‘
’’ اوہ مجھے تو میری کزنوں نے بتایا تھا کہ تم زیادہ چھوٹی عمر کی لڑکیوں کے ساتھ دوستی نہیں کرتے۔‘‘
’’ ہاں ٹھیککہاتھا انہوں نے۔ لیکن تمہاری باتیں ذہنی پُختگی کی غُماز ہوتی تھیں۔ویسے بھی بڑے ہوتے ہوتے دس، بارہ سال کا فرق کوئی بہت زیادہ فرق بھی نہیں رہ جاتا۔اچھا تمہیں ایک بات بتاوں؟‘‘
’’ہاں بتاو۔‘‘
’’ میں جیسے جیسے بڑا ہو رہا ہوں ویسے ویسے کمعمرلڑکیوں میں میری دلچسپی بڑھتی جا رہی ہے۔‘‘
’’ہیں۔۔؟‘‘
’’ہاں۔ اور پتا نہیں کیوں مجھے زیادہ تر کم عمر لڑکیاں اور لڑکے ہی فون کرتے ہیں اور دوستی کی خواہش بھی۔‘‘
’’وہ لڑکیوں کا اثریت پسندی کا جو دور ہوتا ہے جبکہ تمہاری باتیں بڑی ہٹ کر ہوتی ہیں، سوچنے پر عجیب طرح سے راغب کرنے والی اور تمہاری آواز کی مٹھاس اور لب و لہجہ کی دلکشی اند ر کسی جگہ گُدگُدا سا دیتی ہے کچھ۔‘‘
’’اچھا؟؟ کس جگہ ویسے؟؟‘‘
’’بے شرم۔ ہی ہی ہی۔ اچھا ایک بات سچ سچ بتاو گے؟ پوچھوں؟‘‘
’’میں نے کبھی جھوٹ نہیں بولاجو کہ پتا ہونا چاہیے تمہیں۔خیر پوچھو۔‘‘
’’مجھے معلوم ہے تمہارا شادی کرنے کو دل کرتاہے؟‘‘
’’ہاں کرتاہے، تو؟‘‘
’’تو کیوں نہیں کر رہے تم شادی؟‘‘
’’چھوڑو یار۔ ایک تو یہ کہ میرے مسائل ہیں کچھ اور ویسے بھی اپنی زندگی کے ساتھی کے لیے میری خصوصیات تصوریت کی حد تک ہیں جو کسی ایک میں بیک وقت ہونا ناممکن تو خیر نہیں لیکن بہت مشکل ضرور ہیں۔‘‘
’’مثلاََ‘‘
’’مثلاََ یہ کہ لڑکی Loyal ہو، حد سے زیادہ خوبصورت ہو، پڑھی لکھی تو ضرور ہو، ذرا گھمنڈی بھی ہو، اور ظاہری بات ہے جب لڑکی بے حد خوبصورت اور تعلیم یافتہ ہو گی تو گھمنڈی تو ہو گی ہی۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ان اوصاف کی حامل لڑکی ، طبقاتی کشمکش کے چنگل کے باعث، میرے جتنے معیار والے لڑکے، جس کے پاس کسی حد تک شہرت تو ہے لیکن رائج الوقتی معاشرتی مظبوط مقام نہیں، کو ہر گز پسند نہیں کر سکتی۔ْ‘‘
’’ہمم۔۔تو تم ترجیحات کم کر لو ناں اپنی۔‘‘
’’چلو کر دیں۔ خوبصورت تھوڑی کم ہو جائے لیکن قبول صورت سے بہرحال زیادہ ہو، پر یہ سمجھوتا میں اُسی صورت میں کروں گا اگر اُس کا تعلق کراچی یا اسلام آباد سے ہوگا۔‘‘
’’تو تم اُس کی سیرت نہیں دیکھو گے؟‘‘
’’نالائق تمہیں loyal کا مطلب نہیں پتا؟ ہی ہی ہی۔۔۔ میں نے سب سے پہلے Loyal ہی ٹائپ کیا ہے اور وفادار بھی وہ ہی ہو سکتا ہے جو سیرت کا بھی اچھا ہو۔‘‘
’’پتا ہے مجھےLoyal کا مطلب بڑی اچھی طرح سے، میں بس یہ جاننا چاہ رہی تھی کہ تم اسے کن معنی میں لیتے ہو؟‘‘
’’اووپس‘‘
’’چلو اب سَیڈ سائن کیوں بھیجنا شروع ہو گئے ہو؟‘‘
’’میں کہیں دُور چلا جانا چاہتا ہوں۔رونے کو دل چاہتا ہے بہت۔‘‘
’’انہہ۔۔۔تمہاری تلاش نے تمہیں اَور تھکا دیا تو؟؟ کیا کرو گے پھر؟؟ پچھتانا نہ پڑ جائے کہیں تمہیں ؟؟ اور شاید تمہاری قسمت کام کر بھی جائے۔‘‘
’’نہیں یار۔ کہیں دُور چلے جانے کی خواہش کی وجہ کچھ اور ہے‘‘
’’ وہ کیا؟؟
’’ زیادہ اچھی بات پتا کیا ہوتی ہے؟‘‘
’’کیا؟؟‘‘
’’آپ بہت محدود ہوں۔بہت کم جانتے ہوں آپ۔ بچے کے چہرے پر معصومیت اس لیے ہوتی ہے کیونکہ وہ کچھ جانتا نہیں ہوتا۔ اُس پر نہ تو ابھی وقت اور موسم کی شدت و تبدیلی نے کچھ اثر کیا ہوا ہوتا ہے اور نہ ہی سوچ کی۔وہ جیسے جیسے جانتا چلا جاتا ہے ویسے ویسے معصومیت کھوتا جاتا ہے۔ہر نئی بات کا جاننا اُس کے چہرے سے معصومیت کی اک لہر اُڑا دیتا ہے۔انسان کو ملنا بھی کم لوگوں سے چاہیے۔ کسی کی نظر آپ پر نہ پڑے اور آپ کی کسی پر۔اسی طرح گفتگو کا بھی معاملہ ہے۔ایک حد تک کی گمنامی بہت بڑی دولت ہے۔‘‘
’’لو یہ کیا بات کی تم نے؟ کتنا اچھا لگتا ہے لوگوں میں گھِرے ہوئے ہونا۔ وہ لوگ بھی ہمیں جانتے ہوں جن کا ہم نے کبھی نام تک بھی نہ سُنا ہوجبکہ ہمیں اُن کے گھر میں گھر کے فرد کی سی حیثیت حاصل ہو۔لوگوں کو ہمارے بارے میں ہم سے زیادہ پتا ہو۔تم جانتے ہو؟ ہم سب اگلے دن تمہارے شو میں تمہاری کہی ہوئی ساری باتیں دہرایا کرتی تھیں؟تم نے یہ کہا ، تم نے وہ کہا، مری جاتی تھیں ہم تمہیں دیکھنے کے لیے۔۔۔تم نے فیس بُک پر اپنی تصویر لگائی تھی اور نہ ہی ریڈیو کی سائیٹ پر۔ پھر جب تم نے ایف بی پر اپنی ایک تصویر اَپ لوڈ کی تو۔۔تو ساری لڑکیاں چیخیں مارتی موبائل چھین رہی تھیں جن جن موبائلز میں تمہاری تصویر سَیو تھی۔لیکن اس کے بعد تم نے اپنی کوئی تصویر اَپ لوڈ نہیں کی۔لیکن ہمارے کالج کی ایک لڑکی تمہاری اسی تصویر کو لیکچر کے دوران بھی مہویت سے گُھورتی رہتی۔اُسے تمہای آنکھیں اس قدر پسند آئی تھیں کہ ہم سے باتیں کرنے کی بجائے اُنہی میں ڈوبی رہتی اور ہم سے کہتی دیکھو۔۔یہ دیکھو! آر جے میری طرف مُسکرا کر دیکھ رہا ہے۔پھر ایک دن وہ تمہاری باتیں کرتی اور تمہاری آنکھوں میں بیگانگی سے جھانکتی اتنی تڑپی کہ ۔۔۔اُس نے اپنا موبائل دیوار پر دے مارااور چہرہ ہاتھوں میں چُھپائے ہچکیاں لیتی روتی رہی۔‘‘
’’انہہ۔۔۔ لیکن میرے لیے یہ بالکل عام بات ہے۔میں عادی ہوں ان سب کا۔اور نہ ہی اب میں ان باتوں سے متاثر ہوتا ہوں۔‘‘
’’تمہاری یہی باتیں تمہیں کسی تک پہنچنے نہیں دیتیں۔‘‘
’’میں رش میں جو گھرا ہوا ہوں۔نہیں پہنچ سکتا کسی تک بھی۔اور جو کوئی میرے تک آیا ہے وہ بھی میرے تک کب پہنچا ہے بھلا؟ مجھے ایک لڑکی یاد آ گئی۔ایک رات میں پروگرام ختم کر کے ریڈیو اسٹیشن سے باہر نکلا تو ۔۔۔ایک کار کی ہیڈ لائٹس آن ہوئیں۔۔۔میں نے آنکھیں چُندھیاتے اور اُن پر ہاتھ رکھتے ، کار کی سمت دیکھا تو اسٹیرنگ سیٹ پر بیٹھی ایک لڑکی نظر آئی۔۔وہ مجھے ایسی نظروں سے دیکھ رہی تھی جیسے مجھے پہچاننے کی کوشش کر رہی ہو ۔۔۔پھر وہ باہر نکل کر مجھ تک ذرا جھجھکتے ہوئے پہنچی۔۔۔اور ہم دوست بن گئے۔۔۔بہت گہرے دوست۔۔۔ہمارے درمیان تکلفات کی سرحدیں بڑی جلدی ختم ہوتی گئیں ، جیسی کہ میری عادت ہے۔پھر ایک مہینے چار دن بعد اُس نے مجھ سے ایک اور آر۔جے کا نمبر مانگ لیا۔‘‘
’’واقعی؟؟‘‘
’’ہاں۔مجھ پر حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹے تھے اور صدموں کے بھی۔پھر اس جیسے ایک ، دو اور واقعات کے بعد میں جیسے کچھ اَن کہا ہوا جان گیا۔۔۔جس سے میرے چہرے اور میری روح سے معصومیت کی تہیں تو اُڑ گئیں ، لیکن پھر میں کبھی حیرت زدہ ہوا اور نہ ہی رنجیدہ۔ ہاں دل کے اندر کہیں گہرائیوں میں کوئی نوکدار چیز سی چُبھتی ضرور رہی۔‘‘
’’اوہ خدایا! کیا لڑکیاں ایسی ہوتی ہیں؟؟‘‘
’’ لڑکیاں نہیں ، انسان! سب ایسے ہی ہوتے ہیں۔ دراصل ہم اپنی موجودہ حالت ، جو عام طور پر ہماری جذباتی کیفیت ہوتی ہے ،سے ٹھیک طرح آگاہ نہیں ہوتے ، یا ہونا نہیں چاہتے، اور ایسے جذبات کا اظہار کر بیٹھتے ہیں جو دیر پا نہیں ہوتے، وقتی ہوتے ہیں۔پھر جب کچھ وقت گزرنے کے بعد داخلی اور خارجی صُورتِ حال بدلتی ہے تو ہم باآسانی اُن کہی باتوں سے پِھر جاتے ہیں اور جو لوگ اپنے کیے وعدوں کا بھرم قائم رکھنے کے لیے اُن پر قائم رہنا چاہتے ہیں، وہ ساری عُمر شدید اُلجھاو اور ٹُوٹ پُھوٹ کا شکار رہتے ہیں۔ویسے اس قسم کے کرب سے تو اُن لوگوں کو بھی دوچار رہنا پڑتا ہے جو پانی کی تبدیلی کی فطرت کی مانند خود کو تبدیل کرتے رہتے ہیں۔
مجھے جب پہلی بار ایک لڑکی نے کہا تھا کہ میں نے پہلی مرتبہ تمہارا شو سُنا تو میں اپنے باغ میں ٹہل رہی تھی۔چانداپنی دھیمی دھیمی چاندنی میں جگمگا رہا تھا اور ستارے شرارت سے جھلملا رہے تھے۔ ابھی تمہارے پروگرام کا بیک گراونڈ میوزک چل رہا تھااور جب تم بولنا شروع ہوئے تو۔۔۔تو میری سانسیں رُک گئیں۔۔۔میرے قدم حتی کہ دُنیا کی ہر شےء تھم گئی۔ تمہاری آواز جیسے اک سناٹے سے اُٹھتی ہوئی میرے اندر کرب کی وہ کیفیت پیدا کر رہی تھی جو بہت زیادہ لذت اور مٹھاس کے بعد پیدا ہوتی ہے۔۔تو میں نے بے اختیار ہاتھ اُٹھا کر تمہیں اپنے رب سے مانگ لیا تھا، خود بہ خود بہتے آنسووں میں۔اُس کی یہ بات سُن کر اور لہجے کی بے قراری اور لذت اور میرے ساتھ بات ہو جانے پر حیرت ومُسرت اور رشک کو محسوس کر کے میرے اندر بھی کچھ لہریں سی اُٹھی تھیں۔لیکن تمہیں بتاوں بہت ہی تھوڑے عرصہ میں ہمارا تعلق بڑے اطمینان سے ختم بھی ہو گیا تھا۔‘‘
’’انہہ۔۔۔‘‘
’’پھر ایک بار، ہم آپ کے فین ہیں، آپ کا پروگرام بڑی دلچسپی سے سُنتے ہیں کہتے، دو بڑی رعب دار شخصیت کے حامل لڑکے ، مجھے کار میں بٹھا کر ایک شاندار ہوٹل میں کھانے پر لے گئے، جبکہ میرا بوکھلاہٹ اورحیرت میں سٹپٹانابالکل بے کار ثابت ہوا۔لیکن مجھے جلد ہی اندازہ ہو گیا کہ دونوں مہذب انسان ہیں ، ایک بزنس مین جبکہ دوسرا لیکچرار تھا۔وہ دونوں بڑی رغبت سے مجھے دیکھ رہے تھے اور ریڈیو کے حوالے سے حیرت میں ڈُوبے ،سوالات کر رہے تھے۔لیکچرار لڑکا تو ضرورت سے زیادہ میرے آگے جیسے بچھا جا رہا تھااور بار بار میرا ہاتھ پکڑ کر محبت سے دبا رہا تھا۔وہ مجھے بالکل کسی بچے کی طرح کوئی بہت دل پسند کھلونا مل جانے پر چہرے پر نہ تھمنے والی مسکراہٹ اور آنکھوں میں چمک لیے مبہوتی سے دیکھتا رہا تھا لیکن بزنس مَین لڑکے کے تاثرات کچھ یُوں تھے جیسے کوئی دیکھ تو بڑی رشک آمیز نگاہوں سے رہا ہو لیکن ظاہری طور پر نظر اندازی سے کام لے رہا ہو۔ بالآخر اُس نے بتا ہی دیا، جس دن آپ کا پروگرام ہوتا ہے ۔۔۔مجھے بڑی اذیت ہوتی ہے۔۔۔پھیکی سی ۔۔۔کچھ زہر آلود سی ہنسی ہنسا تھا وہ۔۔۔میری منگیتر۔۔۔آپ کا پروگرام سُنے بغیر مجھ سے بات نہیں کرتی۔۔بہت انتظار کرواتی ہے مجھے!!
لیکچرار لڑکا اس کے بعد کئی بارراہ چلتے ملا تھا مجھے لیکن اُس نے دُور سے ہی ہاتھ ہلا کر ہیلو ہائے کرنے کے علاوہ کبھی میری طرف قدم تک نہیں بڑھایا۔جبکہ ہوٹل کے بعد میری اُس سے پہلی مڈ بھیڑ پرمیں اندر ہی اندر بڑا اترایا تھا کہ یہ ابھی آکر مجھے بڑی گرم جوشی کے ساتھ گلے ملے گااور آس پاس سب لوگ حیران ہو کر دیکھنے لگیں گے۔ لیکن اُس نے دُور سے ہی ہاتھ ہلا کر چلتا بننے پر اکتفا کیاتھا۔
یہ چند واقعات تو کچھ بھی نہیں ہیں۔ میں جیسے جیسے تمہیں ٹیکسٹ کر رہا ہوں زیادہ حیرت انگیز اور چُبھن لیے واقعات اور زندگی کے سُنہری پل یاد آتے جا رہے ہیں جن میں دلکشی، رنگ و خوشبو، مٹھاس اور نغمگیت سب کچھ تھا لیکن محض وقتی۔۔۔جبکہ مستقل تھا تو صرف دھوکا، فریب اور لا علمی۔خیر چھوڑو ان باتوں کویہ تو بتاو وہ لڑکی بھلا کون تھی جسے میری آنکھیں بڑی پسند آ گئی تھیں؟؟‘‘
’’وہ۔۔؟؟ ہاں وہ۔۔ فائنل ائیر کی اسٹوڈنٹ تھی۔ اُس پر مجھے بڑی حیرت تھی کہ یہ تم سے کبھی بھی کوئی رابطہ کیوں نہیں کرتی؟؟ویسے بعد میں اُس کے دو بڑے زبردست افئیرز بھی چلے تھے۔اور اب شادی کروا کر باہر چلی گئی ہے وہ اپنے شوہر کے پاس۔‘‘
’’انہہ۔۔۔اُنہی میں سے کسی کے ساتھ شادی کروا کر؟؟‘‘
’’ہی ہی ہی۔۔نہیں شادی تو اُس نے گھر والوں کی پسند پر کی تھی۔‘‘
’’ہا ہا ہا۔۔۔اچھی بات ہے۔‘‘
’’ویسے نازش تمہارے ساتھ سنجیدہ تھی۔‘‘
’’ہاں مجھے معلوم ہے۔‘‘
’’تمہیں کیسے معلوم ہے؟؟ اظہار کیا تھا اُس نے؟؟‘‘
’’نہیں تو۔لیکن اندازہ تھا مجھے۔ اپنی ماما سے بھی ملوایا تھا اُس نے مجھے۔‘‘
’’ہیںَ؟؟ کب؟؟ یہ تو نہیں بتایا اُس نے ہمیں۔۔۔‘‘
’’اوہ۔۔۔ میں نے بھی ایسے ہی بتا دیا تمہیں۔۔مجھے نہیں اندازہ تھا کہ۔۔۔‘‘
’’اچھا۔۔تو بات یہاں تک پہنچ چُکی تھی؟؟‘‘
’’اچھی لڑکی تھی وہ بہت اچھی۔۔محدود سی رہنے والی۔۔مجھے، اُس کے ساتھ ہونے والی آخری بات کے لہجے کا کرب اور اذیت اب تک یاد ہے جسے سوچ کر میں آج بھی افسردہ ہو جاتا ہوں اور یہ سوچنے پر مجبور بھی کہ کہیں کچھ پانے کے پیچھے سب کچھ کھو تو نہیں دیا میں نے؟؟تم تو جانتی ہی ہو کہ وہ پڑھائی کے سلسلے میں دوسرے شہر رہتی تھی اور ہفتوں بعد کی چھٹیوں پر ہی گھر آنے پر میرا پروگرام سُن پاتی تھی۔اُس دن وہ اچانک کسی بہت ضروری کام کی غرض سے گھر آئی تھی، جس کا مجھے معلوم نہیں تھا ، اور اب واپس جاتے ہوئے مجھے سُن رہی تھی۔اُن دنوں میں رات کے پروگراموں کے علاوہ دن میں بھی ’’فلم ریویو‘‘ کے نام سے پروگرام کیا کرتا تھا۔اُس دن میں حالیہ زیرِنمائش فلم ’’The Twilight Saga‘‘ جس نے منافع کمانے کے گذشتہ کئی ریکارڈز توڑ دیے تھے ، کا جائزہ پیش کر رہا تھا جبکہ خود کو فلم پسند نہ آنے اور سطحی سے معیار کی معلوم ہونے پر تنقید کر رہا تھاتو نوجوان جیسے چیخ اُٹھے تھے اور دھڑا دھڑ فون پر فون آ رہے تھے جن میں حسبِ معمول لڑکیوں کے فون کرنے کی تعداد زیادہ تھی کہ پروگرام میں اچانک نازش کی بھی کال مل گئی جس پر میں شو میں لائیو کال ملنے پر خُوشی سے چہک اُٹھا تھامگر اُس کے لہجے میں گہرا درد تھا اور وہ رُک رُک کر بات کر رہی تھی جیسے بہت ضبط کر کے بول رہی ہو۔ اور پھر وہ پُھوٹ پڑی کہ کیسے کر لیتے ہیں آپ اتنے لوگوں کے ساتھ باتیں ؟؟ ہر ایک کے ساتھ ہی چہک چہک کر بول رہے ہیں۔میں آئندہ آپ سے کوئی رابطہ نہیں رکھوں گی اور نہ کبھی آپ کا پروگرام سُنوں گی۔یہ کہہ کر اُس نے فون بند کر دیا تھا جبکہ میں کچھ دیر کے لیے خود سے ہی اُلجھ گیا تھا۔کتنا خالص پّن تھا اُس کے لہجے اور جذبے میں جبکہ میرا سب کچھ تو بناوٹی تھا۔زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اپنی طرف لُبھانے کی کوشش کرنے والا، محض اپنے پروگرام کی رَیٹنگ بڑھانے کے لیے۔لیکن میں اگلے ہی لمحے بالکل نارمل بھی ہو گیا تھا۔میری زندگی میں بہت تیزی جو تھی۔میرے پاس ایک لمحہ بھی ٹھہرنے کی مہلت نہیں تھی۔میں اُن دنوں زمین پر کب چل رہا تھابھلا ؟ مجھے تو لوگوں کا اپنے ہاتھوں ہاتھ لینا ، میری آواز سُن کر مجھے پہچان جانا، میرے ساتھ تصویریں کھچوانا، انجان لوگوں کی طرف سے بھی ڈھیروں تحائف آنا، یہ سب کچھ مجھے زمین سے نجانے کتنا اُوپر اُڑا رہا تھا۔
لوگ میرے اتنے قریب آتے رہے اور میں بھی بلا کسی تفریق سب کے اتنا قریب ہوتا رہا کہ میں خود سے جُدا ہو گیا۔میں ہنس رہا ہوں تو کسی اور کی ہنسی، سسکیاں لے رہا ہوں تو کسی اور کی سسکیاں،بول رہا ہوں تو میں نہیں کسی اَور کا لہجہ بولنے لگاتھا میرے اندر۔۔ذرا ذرا کر کے میں سارا بکھر گیا۔ میں شہرت حاصل کرنے کے حریس پّن میں بے توقیر ہونے کی حد تک لوگوں میں گُھلتا ملتا رہا جبکہ لوگ تو بس لمحے بھر کومیرے تک آتے تھے۔ جیسے ہی اُن کا دل بھرتا وہ کھسک جاتے رہے اور اُن کی جگہ نئے لوگ لے لیتے رہے۔ اس لیے کسی کا چلے جانا مجھے کوئی نقصان نہ پہنچاسکا۔لیکن یہ تو میری خام خیالی تھی۔میں ہر ایک کے دل کی دھڑکن بن جانے کی لَت میں عقل و خرد کو بروئے کار لائے بغیر بھاگتا رہااتنا بھاگتا رہا کہ میں ہانپنے لگا لیکن میں نے اپنی رفتار کم نہیں کی۔ اور پھر میں بھاگتا بھاگتا اور ہانپتا ہانپتا اُس بوڑھے گھوڑے کی طرح ہو گیاجو اُلٹا اپنے مالک پر ہی بوجھ بن جاتا ہے۔ لیکن اب کوئی فائدہ نہیں رہا تھا۔جوکچھ میں گنوا بیٹھا تھا وہ کبھی بھی لوٹ کر ملنے والا نہ تھا۔‘‘
’’خیر چھوڑو ان باتوں کو تم بتاو کیا چل رہا ہے آجکل ؟ اور آج مجھے کیسے کر لیا فون؟‘‘
اُس نے کچھ دیر انتظار کیالیکن جواب نہیں آیا، اُس نے ایک دو میسج اورکیے لیکن جواب پھر بھی نہیں آیا۔ اُس نے بے بسی سے فون کیا تودوسری طرف فون تو نجانے کب کا بند ہو چُکا تھا۔یہ جان کر بے بسی کی اک اور لہر اُس پر گزری تھی!!!

Published inعالمی افسانہ فورمعامر رفیق