Skip to content

مونسٹر

عالمی افسانہ میلہ 2019

افسانہ نمبر :45

” مونسٹر “

فریدہ نثار احمد انصاری (دوحہ قطر)

وہ دل میں محبت بھرے جذبات میں محو کمرے میں جا رہا تھا کہ رخشی کی چیخ و پکار نے مانو اس کے قدموں کو جکڑ لیا۔

” نہیں یہ نہیں ہوسکتا۔میں اور اس مونسٹر کو اپنے پیٹ میں رکھوں، ناممکن۔امی! میں نے باجی کی حالت ان دنوں دیکھی ہے۔کس کس کرب سے نہ گزری تھیں۔ہر لمحہ ابکائ، کھانا کھانا چاہتیں پر کھا نہ پاتیں۔اس میں سے وہ مونسٹر شکمِ مادر میں کس قدر آرام سے گھومتا تھا مانو تفریح کر رہا ہو ، میں نے وہ بھی دیکھا ہے اور وہ آخری لمحوں میں دردِ زہ! اس کو تو میں بھول ہی نہیں پاتی، اب بھی کبھی کبھار میرے کان ان چیخوں کا درد محسوس کرتے ہیں۔مجھے نہیں چاہئے اور اِن دنوں آپ جانتی ہیں پارٹی کی مشغولیات۔اب اگر میں اس گورکھ دھندے میں پھنس گئی تو کیا ہوگا؟ ابو کے الیکشن سر پر ہیں ۔پارٹی کے سارے انتظامات میں سنبھالتی ہوں۔نہ نہ، میں نہ ہی اپنی صحت برباد کر سکتی ہوں نہ فیگر نہ اپنا امیج۔۔سوری۔”

کامران دم بخود رہ گیا کہ رخشی اللہ تعالیٰ کے عطیے سے انکار کر رہی تھی۔وہ عطیہ جو ایک عورت کا ازلی خواب ہوتا ہے، جس سے اس کی ذات مکمل ہوتی ہے، جو اس کے مستقبل کی ضمانت ہوتا ہے۔ شادی کے بعد ہی اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ رخشی میں مادہ پرستی خون کی طرح گردش کر رہی ہے۔کئ بار اس نےٹوکا بھی تھا لیکن ابو کی خوشی کے خاطر نظر انداز بھی کیا تھا۔یہ سوچ کر کہ کوئ انسان مکمل نہیں ہوتا۔اگر اس میں خامیاں ہیں تو خوبیاں بھی کئ ہیں۔جس طرح چاند بادلوں کی اوٹ میں چھپ کر بھی چاند کہلاتا ہے اسی طرح رخشی بھی میری زیست کے سفر کا حصہ ہے۔مانا ناسمجھ ہے، وقت اس کے خیالات کو بدل دے گا ۔

رخشی لاء گریجویٹ تھی۔بحث و مباحثے میں دلائل کی کاٹ سے اپنا لوہا منوا لیتی۔کامران کے ابو اسی کالج میں پروفیسر تھے اور سیاست کا شغف بھی خوب تھا۔وہ کالج کی یکسانیت سے تھک چکے تھے اور سیاست کے میدان میں قسمت آزمانا چاہتے تھے۔ان کی نظر اس من چاہی شخصیت پر پڑی تو انھیں اپنا مستقبل درخشاں نظر آیا اور یوں بیگم اور بیٹے کو راضی کیا۔ بہ ظاہر رخشی خوبصورت ،تعلیم یافتہ تھی۔بس متوسط طبقے سے تعلق رکھتی تھی جب کہ پروفیسر صاحب کا تعلق معاشرے کے ایلیٹ طبقے سے تھا۔رخشی کے والدین کے لئے یہ رشتہ ایک نعمت تھا وہیں رخشی بھی ہوا کے دوش پر سوار اپنی قسمت پر نازاں و فرحاں تھی۔سسرال کی دہلیز پار کر اس نے جو خواب آنکھوں میں سجائے تھے ان کی تعبیر مل گئی تھی۔کامران خوش تھا کہ ایک تعلیم یافتہ، باسلیقہ لڑکی اس کی شریک سفر تھی ساتھ اس کی خوشی کو چار چاند لگ گئے تھے کہ والدین اس سے بے حد خوش تھے۔

جب وہ اپنے دوستوں کے ننھے منے، گول مٹول بچوں کو دیکھتا تو اس کے دل کی کیفیت بھی من مانگے مور سی ہو جاتی۔کئ بار اس نے رخشی سے اس بات کا اظہار بھی کیا لیکن رخشی سنی ان سنی کر جاتی۔وہ جان گیا تھا کہ رخشی کا رجحان ظاہری چیزوں پر زیادہ ہے۔والدین کی خوشی کے پیش نظر وہ کچھ نہ کہتا اور زندگی رواں دواں گزر رہی تھی۔اس کی امی نے دبے انداز میں اس کا اظہار بھی کیا تھا لیکن پروفیسر صاحب نے انھیں خاموش کروادیا تھا۔

لیکن آج تو لگ رہا تھا سارے بند ٹوٹ گئے ہوں۔اسے ایسی توقع نہ تھی۔ دل مانو ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا ۔آس کا پنچھی جب خزاں آلودہ پیڑ پر رین بسیرا کرے تب زرد پتوں کے علاوہ اسے کیا مل سکتا ہے!!! سمجھانے کی ساری کوششیں رائیگاں ہو چلیں اور وہ منھ دیکھتا ہی رہ گیا۔اس نے سوچا قوام کا پلڑہ بھاری ہوتا ہے لیکن یہاں تو آوے کا آوہ اوندھا پڑا تھا۔

اور رخشی نے قاطع حمل کا فیصلہ کر لیا ۔مشکل اب یہ تھی کہ وطن عزیز میں یہ گھناونا فعل انجام دیا جائے تو مخالف پارٹی کو کسی طرح خبر ہو جائے گی اور پارٹی کے لئے ایک اور محاذ تیار ہو جائے گا۔پروفیسر صاحب کی امیج داغدار ہو جائے گی۔جس الیکشن کا انھیں برسوں سے انتظار تھا وہ انتظار ملیامٹ ہو جائے گا۔آخر طئے یہ پایا کہ بیرون ملک جا کر ہی اس قضیے کو حتمی شکل دی جائے تاکہ یہاں کسی کے کانوں کان خبر نہ ہو۔

کامران نے دل پر پتھر رکھ کر والد کے آگے یہ مدعا رکھا کہ ویسے بھی اسے بزنس ٹرپ پر جانا ہی ہے تو رخشی بھی ساتھ جائے تاکہ کہیں کوئ مشکل درپیش نہ ہو اور بات بھی بنی رہے۔ اس نے سوچا کہ تنہائی کا استفاده کرتے ہوئے ہو سکتا ہے وہ اس کی مرضی کو بدل دے لیکن سمندر کی موجیں ہمیشہ آگے کی جانب کوچ کرتی ہیں، پیچھے مڑ کر تھوڑے ہی دیکھتی ہیں۔

ڈاکٹر نے بڑی ہی احتیاط کے ساتھ سفر کی اجازت دی تھی۔پہلا وقت ،احتیاط لازم تھی۔رخشی کے والدین غلط راہوں کا انتخاب دیکھ کر سبھی سے نالاں تھے ،لیکن سسرالی معاملات میں دخل اندازی نہیں چاہتے تھے۔اور آخر دونوں نے بیرون ملک کی سرزمین پر قدم رکھے۔ پہلے ہی سے یہاں کے ڈاکٹرز سے روابط جاری تھے تاکہ جلد از جلد اس کام سے فارغ ہوں اور کامران اپنی میٹنگز میں مصروف ہو۔دوسرا دن اسپتال رخشی کاانتظار کر رہا تھا اور بچہ ماں کی کوکھ میں چھپنے کے زاویے تلاش کر رہا تھاجوکہ لا حاصل تھا کہ اس ماں نے خواہشات کی قربان گاہ میں مامتا کو صلیب پر چڑھا دیا تھا۔اس کی ابکائیاں بڑھ رہی تھیں۔جب دل ہمکنے کی تمنا کرے تب طبعیت کی ناسازی بھی راحت پہنچاتی ہے لیکن جب طبعیت ہی نہ چاہے تو درون دل میں سبک ہوا کے جھونکوں پر بھی بادِ صرصر کا گمان ہوتا ہے۔

حفظ ماتقدم کے تحت بہت سے ٹیسٹ کروائے گئے اور آخر بے ہوشی کے عالم میں ماں کی کوکھ کو مختلف ادویات کے زہر سے بھر کر مشینوں کے ذریعے جیتی جاگتی ہستی کو تہ تیغ کر دیا گیا۔ معصوم بچے کی چیخیں بھی اس قتل سے خود کو بچا نہ پائیں اور وہ کام جس کی ہر مذہب میں ممانعت تھی اسے پیسوں کے زور پر بڑی آسانی سے کروادیا گیا۔

آپریشن تھیٹر کے باہر کامران کی حالت دگرگوں تھی۔جب نرس نے آکر اسے بتایا کہ ایم ٹی پی آپریشن ہو چکا تو اس کی دبیز آنکھوں سے موٹے موٹے آنسو گرے جسے نرس کی تجربہ کار آنکھوں نے پڑھ لیا۔وہ خاموش تماشائی بن، پھر اندر کی طرف چل پڑی اور یکایک جیسے گئ ویسے ہی الٹے پیر واپس لوٹ آئ اور بتایا کہ اچانک مریضہ کی طبعیت بگڑ گئی ہے۔بے جا خون بہہ رہا ہے اس لئے فوراً خون کی ضرورت لاحق ہے۔سنتے تھے کہ پہلے قبر میں حساب کتاب ہوتا تھا لیکن آج تو مکافاتِ عمل اسی دنیا کی گزرگاہ بنتی ہے۔جس نے کچھ دیر قبل اپنی مرضی سے بچے کو موت کی دستک سنوائ ابھی چند پلوں میں وہ خود موت کے شکنجے میں پل پل کستی چلی جا رہی ہے۔

کامران تقریباََ بھاگتے ہوئے انتظامیہ ڈیسک پر پہنچا اور روتے ہوئے کہنے لگا : ” کچھ بھی ہو، کتنا بھی خرچ آئے رخشی کو بچایا جائے ۔” ڈاکٹر تھیٹر سے باہر آیا اور صورتحال بتائ کہ” مسئلہ یہ ہے کہ رخشی کا خون او نیگیٹیو ہے اور اسپتال میں صرف دو بوتلیں دستیاب ہیں، اب کیا کیا جائے، بلڈ بینک سے لاتے ہوئے بھی وقت درکار ہے اور مریضہ کے پاس اتنا وقت نہیں ہے۔” اتنے میں نرس نے کہا ” نو پرابلم ڈاکٹر! یو کین ٹیک مائ بلڈ، آئی ایم او۔نیگیٹیو۔” کامران کی آنکھوں میں جلتے بجھتے دیپ جل اٹھے اور شکر گزاری سے نینوں کی برکھا برسنے لگی۔

اور رخشی گویا موت سے لڑ کر واپس آگئ۔رات بھر آئ سی یو میں گزاری۔دوسرے دن نئ صبح نے سانسیں لیں وہیں رخشی کی گرتی طبعیت کا گراف کچھ حد تک بحال ہوا۔قدرت جب زندگی عطا کرتی ہے تب لمحہ لمحہ ماں کی گود اس کا انتظار کرتی ہے لیکن گور کے در سے واپسی زیست کو توڑ کر رکھ دیتی ہے۔

کامران کی ملاقات دوسرے دن نرس سے نہیں ہوئ۔شاید اس نے دو دنوں کی چھٹی لے لی تھی۔رخشی بھی فرشتہ صفت کا شکریہ ادا کرنا چاہتی تھی ۔آخر دو دنوں بعد وہ ڈیوٹی پر آئ۔ہمیشہ کی طرح ہونٹوں پر وہی پیشہ ورانہ مسکراہٹ جو کہ ایک نرس کا خاصہ ہوتی ہے۔رخشی نے دلی شکریہ ادا کرنا چاہا لیکن اس نے مصروفیت کا بہانہ بنا اسے نظر انداز کر دیا ساتھ یہ بھی کہ یہ کارکردگی بھی اس کی ڈیوٹی کا ایک حصہ تھی۔ وارڈ کے باہر کامران نے بھی جب شکرگزاری کے کلمات ادا کئے تب اس کی سرخی مائل آنکھوں نے غموں کے دبیز بادلوں کی غمازی کی۔اس نے دریافت کرنا چاہا کہ آیا طبعیت کی ناسازی تو نہیں۔لیکن نفی میں سر ہلا اور وہ آگے بڑھ گئی ۔

دوسرے دن کینٹین میں وہ کافی سے لطف اندوز ہو رہی تھی۔ گوری رنگت ، شانوں پر لہراتے سنہرے بالوں نے غضب ڈھایا تھا ساتھ نیلی چمکتی آنکھیں اللہ تعالیٰ کی صناعی کی تعریف بیان کر رہی تھیں۔اس پر ایک شانِ بے نیازی نے اس کی شخصیت کو منفرد انداز دیا تھا کہ کامران کی نظر اس پر پڑی اور وہ شکریہ ادا کرنے کے بہانے اس کی اجازت سے وہیں بیٹھ گیااور نام جان کر شکریہ کے ساتھ ایک لفافہ اس نے روزینہ کے حوالے کرنا چاہا کہ بروقت مدد نہ ہوتی تو کیا ہوتا اور اسی لئے وہ چاہتا ہے کہ اس نایاب عطیے کا کچھ تو حق ادا کیا جائے ۔

روزینہ نے اس کی آنکھوں میں جھانکا اور گویا ہوئ : ” مجھے ڈالرز کی ضرورت نہیں۔میری تنخواہ کافی ہے۔”

” پھر بھی میں چاہتا ہوں کہ آپ کو کچھ گفٹ دوں، چلئے آپ ہی بتائیے۔” اس نے دوستانہ ماحول قائم کرتے ہوئے کہنا چاہا۔روزینہ نے سر ہلاتے ہوئے کہا : ” میں جو چاہتی ہوں وہ آپ مجھے نہیں دے سکتے. جانے دیجئے خواہ مخواہ پریشان نہ ہوں۔” اور وہ اپنی جگہ سے اٹھ گئی کہ بریک ختم ہوگیا۔

دو تین دنوں تک یہی سلسلہ چلتا رہا ۔مرد کو جب یہ جتلایا جائے کہ وہ نہیں دے سکتا تب اس کی انا اسے مزید سر اٹھانے کی راہوں پر لے جاتی ہے اور وہ بھی ایسا مرد کہ دولت جس کے گھر کی باندی ہو وہ ہار کیسے مان سکتا ہے۔ روزینہ بھی روزانہ اس کے سوال و جواب سے تنگ آچکی تھی اس لئے ایک دن دل کڑا کر اس نے جواب دے ہی دیا

” ٹھیک ہے جو میں مانگو گی کیا وہ آپ مجھے سچ مچ دے دیں گے؟ ” اب سٹپٹانے کی باری کامران کی تھی ” دیکھئے کوشش یہی ہوگی کہ آپ کو مایوس نہ کروں گا یہ وعدہ رہا۔”

روزینہ نے مسکراتے ہوئے کہا :” آج اور سوچ لیجئے، کل اسی وقت ملاقات ہوگی۔” وہ تو چلی گئی پر اپنی شینیل کی خوشبو سے جہاں فضا کو معطر کر گئی وہیں کامران کو عجب تذبذب میں مبتلا کر دیا۔

اگلے دن بریک پر وہ منتظر تھی۔ کامران بھی بیٹھ گیا ۔اس نے رسمی سوال و جواب سے قطع نظر کہہ دیا :” کیا آپ نے سوچ لیا؟ ” ” جی میں بالکل تیار ہوں، آپ جتنی رقم چاہیں گی بتا دیجئے ،دیکھئے میں بلینک چیک سائن کر آیا ہوں۔” ” میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ مجھے پیسوں میں کوئ انٹرسٹ نہیں اگر آپ دینا ہی چاہتے ہیں تو میرے لئے سپرم ڈونر sperm donor بن جائیے۔میں ماں بننا چاہتی ہوں۔مجھے اور کچھ نہیں چاہئے آپ پریشان نہ ہوں میں آپ کی رفاقت نہیں چاہتی، نہ میں آپ کی فرسٹ لیڈی کی جگہ لینا چاہتی ہوں۔میں بس ماں بننا چاہتی ہوں۔میں نے شادی ماں بننے کے لئے کی تھی لیکن میرے سابق شوہر کو بچوں میں دلچسپی نہیں تھی ، وہ چاہتا تھا کہ میں ماڈلنگ کروں، اپنی تشہیر کروں جو مجھے منظور نہ تھا۔میں چاہتی تھی کہ میرا ایک گھر ہو اور میرا شوہر جب گھر آئے تو اسے گرما گرم کھانا کھلاؤں، اس کے بچوں کو سنبھالوں لیکن اسے یہ سب منظور نہ تھا، کہیں کوئ ماڈل یہ سب افورڈ کر سکتی ہے؟ اس لئے میں نے اس سے طلاق لے لی۔اور آگے یہی تجربہ پھر سے نہیں کرنا چاہتی ،پر ابھی بھی بچے کی چاہ کم نہیں ہوئ ہے۔ میں نے رخشی میم کے ابارشن کے وقت آپ کی آنکھوں سے آنسو گرتے دیکھے تھے تب ہی مجھے لگا تھا کہ آپ بھی شاید اسی غم کے مارے ہوئے ہیں۔اس لئے میں نے اس غم کا مداوا تلاش کرنے کی چاہ کی۔”

کامران اسے دیکھتے ہی رہ گیا کہ وہ کہاں کچھ لینا چاہتی ہے وہ تو صرف دینا چاہتی ہے۔ابھی وہ اپنی سوچ کے پیچ وخم میں ہی الجھا ہوا تھا کہ وہ گویا ہوئ :” میں IVF Mother,

” سروگیٹ مدر “surrogate mother بننا چاہتی ہوں۔آپ بالکل بے فکر رہئے میں اسے ایک سچا مسلمان بناؤں گی۔مجھے کسی قسم کی مالی اعانت کی ضرورت نہیں۔میں اس ذمہ داری کو اپنی آخری سانسوں تک نبھاؤں گی اور یہ وعدہ ہے کہ نہ انڈیا میں کسی کو بتاؤں گی نہ یہاں کہ اس کا باپ کون ہے؟ ویسے بھی ہمارے یہاں آج کل باپ کے خانے میں ماں کا نام بھی لکھا جا سکتا ہے کیوں کہ یہاں معاشرے کی اکثریت کے پاس یہ جواب نہیں ہوتا کہ بچے کا باپ کون ہے؟ “

” لیکن نکاح کے بغیر یہ شاید گناہ ہوگا۔معاشرے کو بچے کی نسل کا پتہ نہ چلے گا۔ میں تم سے نکاح نہیں کر سکتا کیوں کہ رخشی کے لئے بٹوارہ ناممکن ہوگا اور نہ ہی میرے والدین اس کی اجازت دیں گے کہ میرے ابو سیاسی پارٹی کے ممبر ہیں، حزب مخالف ہمارے شب و روز پر نظر گاڑھے رہتے ہیں۔میں کوئ ایسا قدم نہیں اٹھا سکتا جو میرے خاندان کے لئے باعثِ ندامت ہو۔ آپ جتنی چاہے رقم لے کر کوئ اور سپرم ڈونر تلاش کر لیجئے یہاں تو پیسے کے زور پر ہر کام ہو جاتا ہے۔” اس نے کہا۔

” آپ نے صحیح جانا لیکن پیسے کے زور پر حاصل کئے سپرم میں کیا آپ سی اخلاقیات ہوں گی؟ میرا بچہ معاشرے کی پراگندگی میں مزید اضافہ کرے گا جو میں نہیں چاہتی۔میں ایک لائق و فائق اولاد سے زیادہ اسے نیک انسان بنانا چاہتی ہوں کہ آج کا دور اخلاقیات کا متقاضی ہے۔”

کامران سر جھکائے اس کی باتیں سن رہا تھا، اسے رشک آرہا تھا کہ مغرب زدہ ماحول میں مشرقی تہذیب کی ردا اوڑھ رکھی ہے اور ایک ہمارے لوگ!!! وہ گویا ہوا :” آپ کے خیالات اتنے پاکیزہ ہیں، آپ مذہبِ اسلام کو کیوں نہیں اپنا شعار بنا لیتیں؟ “

” میں دینِ محمّدی کو پڑھ رہی ہوں، جاننے کی کوشش کر رہی ہوں، جب مکمل جان لوں گی تب سوچوں گی۔نیا دین اپنا کر صرف نام بدل لینا مقصد حیات نہیں۔کیا قبول اسلام ہونے پر ہی آپ ڈونر بنیں گے؟ کیا یہ شرط ہے؟ “

” دیکھئے پہلے ہی میں کہہ رہا ہوں کہ اس طرح کے فعل کے لئے دین میں کوئ جگہ نہیں۔”

” اور جو اسقاطِ حمل کروایا ، کیا دین اس کی اجازت دیتا ہے؟ کیوں آپ نے رخشی کا ساتھ دیا؟ “

اور وہ لاجواب ہوگیا کہ سچ مچ اس گناہ میں اس کا بھی برابر کا حصہ تھا۔ندامت سے اس کا سر جھک گیا کہ روزینہ نے کہا ” آپ مجھے وعدہ دے چکے ہیں۔ کیا آپ اپنا وعدہ بھول گئے ۔وعدے کو پورا کرنا بھی مرد کی شان ہے۔”

اور وہ کچھ نہ بول سکا، بس انگلیوں سے میز کی سطح کو کھرچنے لگا۔نفسیاتی طور پر کیا کرے کیا نہ کرے کی گو مگو کیفیت سے دوچار تھا کہ روزینہ کی آواز اسے اس سحر سے باہر لے آئ ۔اس نے کہا :” آپ کو کل صرف لیب میں سپرم ڈونر بن کر جانا ہوگا اور سیمپل دینا ہے۔بس “

” پھر کیا ہوگا؟ “

” اتفاق کی بات ہے کہ کل میرا “مِڈ سائیکل ڈے ” ہے انہی دنوں خواتین بھی بچے کے ایگس خارج کرتی ہے ۔لیب میں دونوں کو ملایا جاتا ہے جسے IVF یا

In-vitro fertilization

کہتے ہیں۔دو تین دنوں تک اسے جانچا جاتا ہے پھر healthy embryo کو ماں یا آئ۔وی ایف مدر کے پیٹ میں ٹرانسفر کیا جاتا ہے اس طرح حمل ٹھہر جاتا ہے۔پلیز میری اس درخواست پر غور کیجئے ، میں کبھی بھی، کسی بھی موقعے پر آپ کی زندگی میں پھر نہیں آؤں گی اور نہ ہی اس بچے کو آپ تک لانے کی کوشش ہی کروں گی یہ میرا ،ایک آئ۔وی ۔ایف مدر کا وعدہ ہے۔ساتھ اسے ایک بااخلاق مسلم کردار بنانے کی حتی الامکان سعی کروں گی ۔”

کامران لاجواب ہو گیا اور وہاں سے بات کا جواب دئیے بغیر ہی ایک سمت کی جانب چل پڑا۔اسپتال بہت پیچھے رہ گیا۔آخر تھک گیا۔نظر اٹھا کر دیکھا تو یہ اس کی ڈگر نہ تھی۔بہت تھک چکا تھا، سامنے ایک بینچ پر بیٹھ گیا ۔اب تک ذہن کو حتمی فیصلہ نہیں کر پارہا تھا۔ایسا لگ رہا تھا وہ نفسیاتی طور پر ٹوٹ چکا تھا۔رخشی کی طبعیت ایک طرف اور روزینہ کا اصرار دوسری جانب ۔ ایک کو مدر بننے سے انکار اوردوسری مدر بننے کو تیار۔کچھ دیر اسی طرح جامع و ساکت بیٹھا رہا ،ذہن نے جب جسم کا ساتھ دیا تب اٹھ کر اپنا راستہ تلاش کیا اور ہوٹل پہنچ گیا۔

نئ صبح نے سانسیں لیں خوبصورت سبز باغ کے نظاروں نے سورج کو خوش آمدید کہا۔سورج مکھی کے پھولوں نے اپنا چہرہ اس کی جانب کر ہوا کے جھونکوں سے گویا انھیں سلام کیا۔دبیز پردوں کی اوٹ سے سورج کی مدھم شعائیں ہوٹل کے روم میں آڑھےترچھے بیڈ پر سوئے کامران کے چہرے پر پڑئیں اور وہ اٹھ بیٹھا۔گھڑی پر نظر پڑی اور سٹپٹا کر وہ واش روم کی جانب چل لپکا۔

” وہ آئے گا، وہ نہیں آئے گا۔ وہ آئے گا، وہ نہیں آئے گا۔” کی تکرار دل و دماغ کی جنگ بن گئی اور وہ لیب کے باہر کی کرسیوں پر ڈھے گئ۔دماغ نے کہا ” میں نہ کہتا تھا وہ نہیں آئے گا، وقت کی سوئیاں اپنے زاویئے پر سفر کر رہی تھیں لیکن دھڑکتے دل کی فریاد اب بھی گواہ تھی کہ “وہ آئے گا” وقت کی چادر کچھ اور سرکی اور لیب کا دروازہ کھلا، اندر سے وہ برآمد ہوا۔ تیر کی تیزی سے اس کی طرف آیا اور کہا ” سیمپل میں نے دے کر ایک باوقار مرد کا وعدہ نہ چاہتے ہوئے بھی پورا کیا۔اب یہ چاہتا ہوں کہ اس بچے کا خرچ جب تک مجھ سے ہو سکے گا، برداشت کروں گا اور کبھی کبھار کرب نارسائ کا مداوا اسے دور سے دیکھ کر کر لوں گا۔قریب نہیں آؤں گا کہ کہیں بچے کی محبت مجھے آپ سے مانگنے کا گناہ نہ کروا لے۔”

اور تیزی سے لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہ راہداری میں کھو گیا۔اس کی شریک سفر آنکھوں میں آنسو لئے اس کی منتظر تھی۔ڈاکٹرز کی ٹیم نے اس کا معائنہ کیا تھا اور مریض ہی کو بتا دیا تھا کہ اب وہ کبھی بھی ماں نہیں بن پائے گی کیوں کہ یہ اس کے وضع حمل کا دوسرا trimester تھا۔۔یہ سوچے سمجھے بغیر کہ اس سے مریض پر کیا بیتے گی۔شاید یہاں کا چلن ہی یہی ہے کہ مریض کو سبھی باتیں بتا کر دماغی طور پر تیار کرنا ہو۔

ڈاکٹر سے استفسار پر بتایا گیا کہ

جب ایمپلانٹ ہوا تھا وہ ٹھیک نہ تھا ایسا خلافِ معمول ، شاذونادر، کبھی کبھار ہوتا ہے کہ

Placenta accreta which was undigonsed during the first trimester, so during the operative procedure uncontrollable haemorrhage occured theatering the life of mother, so Hysterectomy was unavoidable.

نطفہ اور علقہ کے دورانیے کے دوران یہ پرابلم ہوئ تھی۔

رخشی نے وہی پرچے جس میں اس کے ڈسچارج کے پیپرز تھے کامران کو دئیے اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔جب لوگ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے انکار کرتے ہیں تب وہ ان سے یہی چھین کر انھیں بتاتا ہے کہ یہی مکافات عمل ہے۔اسے لگ رہا تھا کہ سورہ الرحمن اس کے کان کے پردوں سے اس کی روح میں سرایت کر رہی ہے۔کامران گویا ہوا:” تم تو یہی چاہتی تھیں نا، یہ سب تمہاری مرضی کے عین مطابق ہوا ہے پھر اب آنسو بہانا بے معنی ہے۔ ” اس نے بستر سے اٹھتے ہوئے رخشی کو سہارا دیا ،باہر آئے، ایک موٹا بِل مستقبل کو تاراج کرنے کا ادا کیا اور ہوٹل لوٹ آئے۔ کامران کی بزنس ڈیل بھی ختم ہو چکی تھی، انھوں نے وطن عزیز کا سفر کیا ۔

گھر آ کر رخشی کے دل کسی پہلو قرار نہ آیا۔جب روح مجروح ہو تو دوائیں بھی اثر کم کرتی ہیں۔ابو نے اسے پارٹی اور الیکشن کی کارکردگی کی بات کی۔ بتایا کہ یہاں یہ کہہ دیا ہے کہ کچھ دنوں کی تعطیل پر اپنے شوہر کے ہمراہ گئ ہوئ ہے اور بات کچھ بن گئی ۔کامران نے بھی کافی دل جوئ کی۔اس نے دل سے اس سے محبت کی تھی، نہیں چاہتا تھا کہ اسے اس کی کسی بات سے گزند پہنچے۔امی خود بہو کے آگے پیچھے رہتیں لیکن وہ کیا کرے؟ سمجھ میں نہیں آتا تھا۔باجی بھی دوردیس گئی ہوئ تھیں۔آخر کسی طرح اس نے خود کو جمع کیا اور پارٹی کے کاموں میں مصروف کر دیا۔لیکن وقتاً فوقتاً جب کبھی کوئی بچہ اس کے سامنے آتا، اس کی حالت دگرگوں ہوجاتی۔اس کا دم خم بھی گویا دوسرے دیس کا باسی بن چکا تھا ۔کامران نے بھی مصروفیت کو اپنا شعار بنا لیا تھا۔ اور آخر الیکشن کا رزلٹ آگیا اور ابو کی پارٹی کی کسی طرح جیت ہو گئ۔اگلے پانچ سالوں کے لئے جو ان کا ہدف تھا اسے انھوں نے پالیا۔لبوں پر مسکراہٹ سجائے اس نے خوشی کا استقبال کیا لیکن درون خانہ اندھیرا ہی اندھیرا تھا۔پھر بھی زیست کے کچھ دن آگے سرک رہے تھے اب امی، ابو کو بھی بچے کی کمی کھل رہی تھی۔امی نے کامران سے دبے لفظوں میں نکاح ثانی کا اصرار کیا لیکن اس نے سختی سے انکار کر دیا۔رخشی نے بھی دروازے کی اوٹ سے سن لیا تھا ۔وہ کامران جیسے وجیہہ و باوقار شوہر کو پاکر قسمت پر رشک کر رہی تھی وہیں یہ سوچ رہی تھی کہ اس نے کامران کو کیا دیا؟ وہ تو کچھ بھی نہ دے سکی، اس کی ضد نے اسے کہیں کا نہ رکھا۔

ماہ و ایام گزرتے رہے اور باجی بھی لوٹ آئیں۔رخشی کی پژمردگی کو دیکھ کر امی نے کچھ دنوں اسے میکے جانے کی اجازت دے دی۔ویسے بھی ابھی پارٹی کے کام ابو سنبھال لیتے تھے۔رخشی امی کے گھر پہنچی تو ان کے مانسٹر نے ہی رخشی و کامران کا استقبال کیا۔دونوں بچے کو دیکھ کر کھل اٹھے۔توتلی زبان کی باتیں سیدھے دل میں اترتی ہیں۔ گولو گولو کا ساتھ کیا ملا کامران کی خوشی دیدنی ہو گئی لیکن رخشی کبھی بہت زیادہ خوش ہوتی تو کبھی رنج و الم کی تصویر بن جاتی۔ اس کی اس حالت میں اضافہ ہونے لگا اور کب اس نے سکیزوفرنیک فوبیا کے دروازے پر دستک دی پتہ نہ چلا۔ایک دن اس کی ہسٹریائ چیخوں سے درودیوار گونج اٹھے۔فوراً اسپتال پہنچایا گیا اور کامران کو خبر دی گئی ۔ڈاکٹرز نے صاف طور پر بتا دیا کہ یہ نفسیاتی مریضہ بن چکی ہیں۔ان کے سامنے کبھی کسی بچے کی کلکاری نہ گونجے حتی کے گھر سے بچوں کی تصاویر بھی ہٹا دی جائیں۔

اب تو گھر والوں کی رہی سہی امید جو کامران کے نکاح ثانی کے جواز میں تھی اس پر بھی تالے پڑ گئے ۔ہر ایک اپنے خول میں بند خود کو قصوروار گردانتا تھا کہ کاش! اس وقت کسی طرح رخشی کو روکا ہوتا۔قدرت کی جانب سے اس قدر سنگین سزا تو نہ بھگتنا پڑتی پر اب کچھ نہیں کیا جا سکتا تھا۔کرنا تھا تو وقت کا انتظار اور انتظار۔ خواب آور ادویات نے رخشی کو چلتا پھرتا مجسمہ بنا دیا تھا ساتھ اسپتال میں جب وہ برقی شاک سے گزرتی تب اس کے ہونے والے درد کو سبھی اپنا درد محسوس کرتے۔نہ آنکھ سے آنسو رواں ہوتے نہ کہنے کے لئے الفاظ ساتھ دیتے۔روح پر لگی چوٹ کہیں کسی سے بتائ نہیں جاتی، صرف محسوس کی جا سکتی ہے۔آس کا پنچھی کبھی اس ڈال تو کبھی اس ڈال پر بیٹھتا لیکن کہیں اپنا آشیانہ بنا نہیں پاتا تھا۔

آخر اللہ اللہ کر کے رخشی کی طبعیت قدرے بہتر ہوتی نظر آئ مگر پہلے والی کھلکھلاتی مسکراتی رخشی تو کہیں روٹھ گئی تھی اس کی بازیافت نہ ہو سکی۔جہازی کوٹھی کے مکین ایک دوسرے کو بس دیکھ دیکھ کر جی رہے تھے کہ ایک دن رخشی کمرے میں پہنچی تو کامران کو بستر پر آڑھا ترچھا گرا ہوا پایا۔ اس کی چیخ سن کر ابو امی آئے اور ایمبولینس بلوائ۔ڈاکٹر نے تفتیش کے بعد فالج کے حملے کی خبر سنائ۔ گھر والے ایک بار پھر اسپتال اور گھر کے درمیان پھنس گئے ۔جب جینے کی چاہ نہ ہو تو علاج معالج کچھ نہیں کرسکتے۔کامران دل ہی دل میں اللہ کے حضور توبہ کرتا رہا کہ ایک گناہ جو رخشی کے نہ روکنے کا اس سے سرزد ہوا تو دوسرا گناہ وہ سیمپل جو اس نے ایفائے عہد کے لئے آئ۔وی ۔ایف مدر کو دیا تھا۔ آخر اس کا وقت پورا ہو گیا۔روزی روٹی اور وہ سانسیں جو اللہ جل شانہ نے اس کے حصے کی دنیا میں رکھی تھیں وہ پوری ہو چکی تھیں ۔دیکھتے ہی دیکھتے جوان بچہ والدین کی آنکھوں کے آگے موت کے دوش پر سوار ہو کر اس دارِ فانی سے کوچ کر گیا۔رخشی آنکھیں پھاڑے دیکھتی رہ گئی ۔امی ابو سہم گئے کہ رخشی پھر سے نفسیاتی بیماری کا شکار نہ ہوجائے اس لئے اپنے آنسو بھی پی لیتے۔ وقت کبھی رُکتا نہیں، پر لگائے اڑتا رہا۔والدین کے قدم جہاں بڑھاپے کی دیوار عبور کر آگے بڑھ رہے تھے رخشی کے بالوں میں بھی چاندی کے تار جھلملا رہے تھے۔

ایک دن رائٹنگ ٹیبل پر اس کی نظر اس دراز پر پڑی جس کو کامران کبھی چابی سے بند کرنا نہیں بھولتے تھے۔اس نے احتیاط سے اسے کھولا تو اندر سے ایک ڈائری دستیاب ہوئ۔صفحے پلٹنا شروع کئے ہی تھے کہ ایک گولو گولو مونسٹر کی تصویر اس کے پیروں پر گری۔بڑی پیاری تصویر تھی ۔وہ دیکھتے رہ گئی ۔صفحے پر نظر دوڑائی تو وہی تاریخ تھی جب اس نے ایک مونسٹر سے آزادی پائ تھی۔دو بے نور جاموں میں صبر کی مئے چھلک اٹھی۔دل نے کہا:

” میرا مونسٹر ایسا ہی ہوتا “

اور ڈائری تر ہوتی رہی۔آنسوؤں نے سیاہی پر پردہ ڈالا اور کچھ راز مندمل ہوئے لیکن مکمل نہیں۔سر اٹھایا اور اسے پڑھنے لگی۔ اُن دنوں اس کے پاس وقت کہاں ہوتا تھا کہ وہ جانے کہ شوہرِ نامدار ڈائری بھی لکھتے ہیں۔وہ سوچتی تھی کہ اپنے بزنس کے بارے میں کچھ جمع تفریق، ضرب اور تقسیم کرتے رہتے ہوں گے لیکن راز افشا ہو ہی جاتے ہیں۔پڑھتے پڑھتے آخر اس نے آئ۔وی۔ایف مدر کو دریافت کر ہی لیا۔ آگے پڑھا تو نو ماہ بعد کی تاریخ سے جس دن کامران کو اسپتال لے جایا گیا تب تک کی تاریخ میں ایک چیک اسی جگہ ارسال ہوتا آیا تھا ۔اس نے جگہ نوٹ کر لی۔

ابو نے بھی پارٹی کو تیاگ دیا تھا اور کامران کے بزنس پر اپنی توجہ سونپ دی تھی۔ان کے بزنس ٹور ہوتے تو دونوں خواتین گھر پر بولائ بولائ گھومتیں۔اس لئے اس بار رخشی نے کہہ دیا تھا کہ وہ دونوں بھی ساتھ چلیں گی۔

ابو بھی خوش ہوئے کہ رخشی نے ایک عرصے بعد گھومنے کی فرمائش کی تھی۔

ایماندار اسٹنٹ نے جب جگہ بتائ تو وہ دم بخود رہ گئے کہ یہیں سے تو زندگی کی راہوں میں پگڈنڈیوں کا آغاز ہوا تھا۔گھر آنے کے بعد انھوں نے بیگم سے ذکر کیا۔وہ بھی سوچوں میں گم ہو گئیں ۔رخشی کے آگے انھوں نے اپنا عندیہ رکھا اور ڈر رہے تھے کہ پتہ نہیں کیا جواب ملے۔لیکن اس نے ہنس کر سر ہلا دیا۔

اگلے ہفتے ان کی پرواز اپنی منزل کی طرف تھی۔راستے بھر رخشی بڑی خوش نظر آرہی تھی۔بوڑھے والدین یہی تو چاہتے تھے، لگ رہا تھا کوئ دُرِنایاب اس کے ہاتھ لگ گیا ہو۔وہ نہیں سمجھ پا رہے تھے کہ رخشی کو اچانک کیا ہوگیا۔بس وہ تو اسے خوش ہوتا دیکھ کر خوش ہو رہے تھے مانو شبِ دیجوری کے سائے سے صبح دم اپنے آنے کی نوید سنا رہی ہو۔

ہوٹل پہنچ کر ابو نے آرام کرنا چاہا لیکن رخشی کو قرار کہاں ؟ بستر پر کروٹیں لیتی رہی ۔شام کے شنگرفی آنچل نے آسمان کو اپنے رنگ میں رنگ لیا تھا۔رخشی سبھی کے ساتھ اپنی مطلوبہ جگہ پہنچ گئی لیکن وہاں کا منظر دیکھ کر سبھی دہل گئے کہ ایک لاشہ کفن اوڑھے چین کی نیند سو رہا تھا اور ایک نوجوان سر پر ٹوپی پہنے اپنی ماں کے قدموں کی جانب بیٹھا آنسو بہا رہا تھا۔امی، ابو یہ منظر دیکھ پیچھے رُک گئے لیکن رخشی آگے بڑھی ۔لڑکا گویا ماں سے گفتگو کر رہا تھا۔زبان اردو میں اس نے کہا :” امی! آپ کتنی اچھی ہیں۔آپ نے میری خاطر کیا نہیں کیا۔مجھے باکردار مسلم شخصیت میں ڈھالنے کے لئے خود دین کا مطالعہ کیا، انسان اپنا مذہب مشکل سے بدلتا ہے، آپ میرے لئے روزینہ سے زرینہ بنیں۔سچ مچ آپ زرتار کی بنی ہوئی تھیں امی، امی کن ہاتھوں سے آپ کو منوں مٹی میں دباپاؤں گا، مجھے خود پتہ نہیں۔میرے لئے تو آپ ہی امی، آپ ہی ابو۔آپ نے ہمیشہ میرے ابو کی تعریف کی۔کل رات ہی آپ نے ایک راز کی بات بتائ کہ جو پیسے ابو میرے لئے ارسال کرتے تھے، آپ نے اسے بینک میں میرے نام کر رکھا۔ایک پیسہ بھی خرچ نہیں کیا۔مام یو آر گریٹ مام۔گریٹ نہیں گریٹیسٹ!! “

رخشی سوچنے لگی :” کامران! تم گریٹ ہو، گریٹیسٹ! تم نے شبِ زفاف جو وعدہ مجھ سے کیا تھا اسے تاحیات بہترین انداز میں نبھایا، کبھی ایک بار بھی تو میرے بانجھ پن کا طعنہ دیا نہ میرے غرور پر جملہ کسا۔تم چاہتے تو روزینہ جیسی خوبصورت خیال کی ملکہ یا کوئ اور ہماری زندگی میں آسکتی تھی لیکن تم نے ایفائے عہد نبھایا اب میری باری ہے میں تمہارے اس عہد کی لاج رکھوں گی اور اس بچے کو اس کی نسل، اس کے خاندان سے آگاہ کروں گی۔”

وہ اس کے قدموں سے ہلنے کے لئے تیار نہ تھا اور کہہ رہا تھا ” امی! آپ نے بتایا تھا جنت ماں کے قدموں تلے ہے، مجھے آپ کے قدموں میں رہنا ہے امی! مجھے یوں چھوڑ کر نہ جائیں۔” جیسے ہی لوگوں نے اسے ہٹانا چاہا امی ابو نے اسے دیکھ لیا اور اپنی آنکھوں پر اعتبار نہ آیا۔

رخشی نے سوچا کہ یہ مونسٹر تو ہو بہو اپنے والد کا عکس ہے صرف بال اور آنکھیں شاید ماں کی لی ہیں۔اس نے پیار سے آگے بڑھ کر اس کے سر کو سہلایا جو اپنی ماں کے قدموں میں جنت تلاش رہا تھا۔

Published inعالمی افسانہ فورمفریدہ نثار احمد انصاری