Skip to content

موم کی گڑیا

افسانہ برائے میلہ 2018
افسانہ نمبر110
موم کی گڑیا
محمد نواز کمالیہ،پاکستان
نیدو کی عمر سترہ سال تھی جب باپ اسے شاپنگ مال میں چھ ہزار روپے ماہوار کام پر لگوا آیا تھا ،کمانے والا ایک تھا اور کھانے والے گھر کے آٹھ افراد ،مرتا کیا نہ کرتا ،نیدو بڑا تھا اسکول سے اٹھا لیا اور سیل بوائے کے طور پر شاپنگ مال میں کام پر بیٹھا دیا ،کام کوئی زیادہ مشکل نہ تھا ،بس شاپنگ مال میں آنے والے گاہکو ں کو یہ بآور کرنا تھا کہ ان کے برانڈکی کوالٹی دوسرے برانڈ سے زیادہ اچھی ہے ۔ کوئی ایک ماہ تک کام کرنے کے بعد نیدو کو ہوزری والے اسٹال پر بیٹھا دیا گیا اور ساتھ ہی تنخواہ میں بھی اضافہ کر دیا گیا ،نیدو کے ساتھ اس کا باپ بھی خوش تھا ،دونوں کی مل ملا کر اتنی آمدن ہونے لگی تھی کہ چولہے میں دو وقت آگ جلنے لگی تھی ، ایک کمرہ جس کے سامنے دو چار پائیوں جتنا صحن اور قد برابر چار دیواری ،جس پر ٹاٹ کے لگے پیوند غربت کے ساتھ افراد کی بھی خستہ حالی عیاں کر رہی تھی،پس دیوار کھڑے ہو جاﺅ تو باآسانی گھر میں جھانکا جا سکتا تھا ۔ نیدو شاپنگ مال آیا تو جگمگاتی روشنیوں میں اس کی آنکھیں چندھیا نے لگیں ۔
ہوزری کے ا سٹال پر زیادہ تر سامان عورتوں کے متعلق تھا ،ایک سیل بوائے سامان کا نام لے لے کر اسے بتانے لگا جسے نیدو بڑے غور سے سن رہا تھا ” یہ بلاﺅز ہیں ۔۔۔۔۔ تم جانتے ہو نا “ ” نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “ نیدو کا چہرہ سرخ ہوگیا ۔” حیرت ہے ۔۔۔۔۔۔ تجھے اس کا نہیں پتا “ سیل بوائے نے ایک بلاﺅز اس کے ہاتھ میں تھماتے ہوئے کہا ” گاہکوں کے آنے سے پہلے اسے ڈسپلے پر رکھی ڈمی کو پہنا دو “ سیل بوائے نے سٹال کے باہر رکھی ڈمی کی طرف اشارہ کیا اور خود دوسرے کاموں میں مشغول ہو گیا ۔ نیدو بلاﺅز کو پہلی بار ہاتھ سے چھو رہا تھا ۔ نرم و ملائم بلاﺅز انگلیوں کے پوروں میں ریشم کا تاثر پیدا کر رہا تھا ” نیدو تم بلاﺅز کو پکڑے ابھی تک ادھر ہی کھڑے ہو اور گاہکو ں کے آنے کا وقت ہونے والا ہے “ سیل بوائے نے نیدو کو آواز لگائی ۔” اچھی طرح سے پہنا دینا تا کہ بلاﺅز نیچے نہ گرے “ سیل بوائے کی آواز اس لمحے نیدو کی سماعت سے ٹکڑائی جب وہ ڈسپلے پر رکھی ڈمی کو بلاﺅز پہنا رہا تھا ۔
گاہک آنے لگے اور نیدو گاہکی میں مصروف ہو گیا ،اسے یاد بھی نہ رہا کہ اس نے صبح آتے ہی ڈسپلے پر رکھی ڈمی کو اپنے ہاتھوں سے بلاﺅز پہنایا تھا اور اسے یہ کام بڑا عجیب لگا تھا۔ گاہک آتے رہے اور وہ دوسرے سیل بوائے کے ساتھ ہوزری کا سامان بیچتا رہا ۔رات چار پائی پر سونے کو لیٹا تو ہاتھوں میں گداز بلاﺅز کااحساس ہونے لگا ۔ اسے لگا جیسے ڈمی سچ میں ایک خوبصورت لڑکی ہے اور وہ اسے نرم ہاتھوں کے پوروں سے چھو رہا ہے ۔ چھونے کا یہ احساس اسے بدن میں محسوس ہونے لگا تھا ۔ اس نے ٹانگوں کو سمیٹ لیا جیسے جاڑے کے موسم میں اسے سردی محسوس ہوتی تھی اور خود کو سردی سے بچانے کیلئے ٹانگیں سمیٹ کر سینے سے لگا لیتا تھا ۔ اب تو جاڑے کا موسم جا چکا تھا پھر اسے سردی کیوں محسوس ہو رہی تھی ؟
” بلاﺅز الگ سائز اور الگ نمبر کے ہوتے ہیں ۔۔۔۔“ اگلے دن نیدو کے ساتھ کام کرنے والے دوسرے سیل بوائے نے بتایا اور لگا نیدو کو سائز اور نمبر دکھانے ،نیدو تھا کہ ابھی تک شرما رہا تھا ،ماتھے پر پسینے کے چند قطرے اس کی تشویش میں اضافہ کر رہے تھے ۔ ” نیدو ۔۔۔۔۔۔۔ اس کام میں شرماتے نہیں ۔۔۔۔۔۔۔ ڈمی اٹھاﺅ اور ڈسپلے پر لگا دو “ بنا کچھ بولے نیدو نے بلاﺅز پہنے ڈمی کو اپنی بانہوں میں بھرا تو خود کو فلم کا ہیرو سمجھنے لگا جو دور سے دوڑ کر آتا ہے اور ہیروئن کو بانہوں میں بھر لیتا ہے ۔ہیر وئن اپنا سارا بوجھ ہیرو پر ڈال دیتی ہے ،گھوم کر ایک چکر مکمل کرتے ہیں اور پھر ایک دوسرے پر گر جاتے ہیں ،پہاڑی ڈھلوان پر دور تک گول پتھر کی طرح لڑکتے جاتے ہیں ،بالآخر رکتے ہیں تو لب لبوں میں ہوتے ہیں ” نیدو ۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا کرتے ہو؟ ڈمی اگر ٹوٹ جاتی تو مالک نے اس کے پیسے تمھاری تنخواہ سے کاٹ لینے تھے ۔ نیدو کو ڈھیڈاکیسے لگا تھا اور ڈمی کیسے اس کے ہاتھ سے پھسل گئی تھی اسے یاد نہ تھا۔
نیدو دن بھر کے کام کاج سے تھک ہار کر چارپائی پرگرتا توڈمی اس کی آنکھوں کے سامنے زندہ لڑ کی کی طرح آن کھڑی ہوتی ،نر م و گداز جسم اس کے ہاتھ میں موم کی طرح پگھلنے لگتا اور نیدو موم کی گڑیا سے کھیلنے کی جستجو میں ،سوچ ،سمجھ ،عقل اور طاقت سب کچھ کھو بیٹھتا ۔ نیدو کے ساتھ کیا ہو رہا تھا ؟ اکتاہٹ کا شکار ہوتے ہوئے اس نے کئی بار شاپنگ مال نہ جانے کا فیصلہ کیا مگر پھر اس خیال سے کہ ابا اکیلا گھر بھر کا خرچ کیسے پورا کرے گا ،دوبارہ کام پر جانے لگا ۔دوسرے سیل بوائے کو کسی کام سے جانا پڑا تو نیدو کو ہی اسٹال کی دیکھ بھال کرنا پڑی ،اس کی نظر یں خرید اری کیلئے آنے والی خواتین کا طواف کرنے لگیں تھیں ،اسٹال پر آنے والی ہر لڑکی اسے ڈسپلے پر رکھی ڈمی ہی نظر آتی بعض اوقات تونیدوکی نظریںکاونٹر کے سامنے کھڑی لڑکی کی مانگ سے بھی نیچے اتر جاتیں اور وہ سمندر میں ڈوبنے والے کی طرح غوطے کھانے لگتا ” بھائی اچھی کوالٹی کا دیکھانا ۔۔۔۔ پرائس کیا ہے ؟ ۔۔۔۔۔ سکن کلر نہیں ہے کیا ؟ “ یہ الفاظ اسے واپس کنارے پر کھینچ لاتے ،وہ اس سے اچھی کوالٹی کا بلاﺅز دیکھانے میں مگن ہو جاتا ،پرائس بتاتا ،یا مطلوبہ کلر اٹھا لاتا ۔مگر دماغ جیسے کانٹے دارجھاڑی میں ہی الجھا تھا ،چھڑوانے کی کوشش میں کبھی ہاتھ زخمی کر بیٹھتا اور کبھی دل ۔ اسے اپنی ہم عمر لڑکیاں اچھی اور بھلی لگنے لگی تھیں ،اس کا دل چاہتا تھاوہ اس سے بلاﺅز کے ہی موضوع پر بات کرتی رہیں ۔ اس کا دل چاہتاتھا وہ ان سے پوچھے کہ کیابلاﺅز ان کے نمبرز کے عین مطابق ہے ،کہیں سے تنگ تو نہیں ،کبھی کبھی تو اس کے ساتھ ایسا بھی ہوتا تھا کہ لڑکی کے نرم و سفید جسم پر پہنی قمیض اتنی نحیف اور باریک ہوتی کہ نیچے پہنا بلاﺅز واضح دیکھائی دےنے لگتا ،اس کا دل چاہتا تھا جیسے وہ ڈمی کو پہناتے ہوئے ابھار چھو لیتا ہے ایسے ہی سامنے کھڑی ہم عمر لڑکی ،جس کے ابھار اتنے بڑے اور پھولے ہوئے غبارے کی طرح ہیں ، وہ ان کو چھو لے، بچپن میں جب وہ غباروں کے ساتھ گلی کے بچوں سے کھیلا کرتا تھا ،غبارہ پھلاتے ہوئے پھٹ جاتا تھا اور وہ افسردہ سا چہرہ لیئے گھر لوٹ آتا ،کبھی کبھی جب اس کی نظر غبارے نما ابھاروں پر پڑتی تو وہ ڈر جاتا کہ اگر اس نے ہاتھ لگایا تو وہ پھٹ جائیں گے ،مگر اب کی بار وہ افسردہ نہیں ہونا چاہتا تھا۔
نیدو دیر سے گھر لوٹا مگر آتے ہوئے دو نئے سوٹ بھی لے آیا ،گھر کی دیواروں پر لٹکے پرانے ٹاٹ کی طرح اس کے کپڑے بھی خستہ اور پرانے ہوگئے تھے ،اس کا ذکر وہ کئی بار باپ سے کر چکا تھا اس ماہ جب اسے شاپنگ مال سے تنخواہ ملے گی تو وہ اپنے لیئے دو نئے سوٹ بنوائے گا ،اورسوٹ بنوانے کی ساتھ ہی اس نے وجہ بھی بتا دی تھی کہ اسٹال پر پرانے کپڑے پہنے اب اسے شرم آتی ہے ،فخریہ انداز میں وہ باپ کو بتانے لگا کہ ”اسٹال پر جو عورتیں سامان خریدنے آتی ہیں ان میں زیادہ تر امیر عورتیں ہوتی ہیں “ نا جانے کیوں باپ نے اس کی بات کا جواب دینا مناسب نہ سمجھا شائد اس لیئے کہ کہیں وہ اپنی ہی زبان سے اپنی غربت کا مذاق نہ بنا لے ۔ ٹین کے دروزے کو ہلکا سا دھکا لگاتو کھڑ کھڑ کی آواز نے سب کے کان کھڑے کر دئیے ۔” نیدو بھائی ۔۔۔۔۔“ ایک باریک سی نسوانی آواز نے اس کا خستہ حال کمرے میں آتے ہی استقبال کیا یہ نجی تھی ،نیدو کی پڑوسن ،ماں بیمار تھی ، نیدو کی ماں سے کوئی چیز مانگنی ہوتی تو نجی ہی آتی جاتی تھی اب بھی ماں نے اسے سالن لینے بھیجا تھا۔نیدو اور نجی کاجب بھی آمنا سامنا ہوتا وہ اسے نیدو بھائی ہی کہتی ” میں نے کتنی بار تجھے کہا ہے مجھے بھائی نہ کہا کرو “ نجی دوپٹے کا پلو درست کرتی کمرے سے باہر چلی گئی ،نجی نے جونہی دوپٹہ ٹھیک کرنے کو اوپر ہوا میں لہرایا تو نیدو کی نظر مخروطی اعضا ءکا طواف کر گئی ،اس کے جسم میں ایک سرد لہر سرائیت کر گئی ،نیدو نجی اور ڈسپلے پر رکھی پلاسٹ کی ڈمی میں الجھ کر رہ گیا ،نجی کے اعضاءکاسائز بھی ڈمی جتنا ہی تھا ۔نیدو نے خواب میںدیکھاڈمی کی شکل و شباہت نجی جیسی ہے ،اس کے ہاتھ میں بلاﺅز ہے اور نجی کے نرم و گداز جسم کو چھو نا چاہتا ہے ،جونہی وہ چھونے کی کوشش کرتا ہے نجی کی جگہ ڈمی لے لیتی ہے ،ایسا اس کے ساتھ متعدد بار ہوچکا تھا ۔ آنکھ کھلنے پر دونوں کو موجود نہ پا کر اسے عجیب سا احساس ہوتا ۔ ٹانگوں میں اینٹھن محسوس ہونے لگتی ،جیسے کسی نے گندم کی بوری اوپر رکھ دی ہو
نہا دھو کر نیا سوٹ پہنے نیدو شاپنگ مال آیا تو تیور کے ساتھ اس کے جذبات بھی بدلے تھے ۔ ابھی تک دوسرا سیل بوائے نہیں آیا تھا ،نیدو نے جھاڑ پونجھ کے بعد بلاﺅز ترتیب سے رکھے اورڈمی اٹھا کر باہر رکھنے لگا تو اسے پہنا بلاﺅز پرانا پرانا لگنے لگا ،کتنے ہی دن ہو گئے تھے تبدیل کیئے ہوئے ،ایک نیا بلاﺅز اٹھا کر ادھر ادھر دیکھا قریب قریب اس کے سوا کوئی نہ تھا چند گز کے فاصلے پر دو ایک سیل بوائے اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھے ۔ نیدو نے ڈمی کو بلاﺅز پہنانا چاہا ،نجی کے سینے سے دوپٹہ اوپر اٹھنے کا منظر آنکھوں میں فلم کی طرح گھوم گیا ”کاش ۔۔۔ ۔۔۔ ڈمی کی بجائے یہاں نجی ہوتی اور وہ اپنے ہاتھوں سے اسے بلاﺅز پہناتا “ اس نے دل میں سوچا ۔مگر اس کا یہ خیال محظ گونگے کا خواب تھا ۔ اس سے پہلے کبھی نجی کا خیال اس کے من میں نہ آیا تھا ۔ اس کا سامنا دن میں ایک دو بار نجی سے ہو ہی جاتا تھا ۔ پڑوسی ہونے کے ناطے نجی کا آنا جانا لگا ہی رہتا تھا ۔ دونوں کا تعلق غربت کے ایک ہی قبیلے سے تھا ۔ دونوں کے گھر وں کی حالت زار تقریباً ایک جیسی تھی ،غربت اگر نیدو کے گھر کی ملکہ تھی تو نجی کے ہاں بھی وہ ڈائن کی طرح اپنا سایہ ڈالے ہوئے تھی ۔ نجی کی ماں لوگوں کے گھروں میں کام کاج کر کے گزارہ کرتی تھی مگر اب کئی دنوں سے بیماری کی وجہ سے چار پائی مقدر بنی تھی ۔ کنبہ بڑا تھا اسی لیئے نجی کے باپ کو کئی کئی گھنٹے کام کرنا پڑتا تھا جس سے زیادہ تر وقت گھر سے باہر ہی گزر جاتا تھا ” نجی کا بلاﺅز بھی خستہ اور پرانا ہو گیا ہو گا “ نیدو نے ایک گاہک کو نیا بلاﺅز دیکھاتے ہوئے اپنے دل میں سوچا اور نظریں سینے پر بنے پہاڑوں کے درمیان میں گاڑ دیں ،کھلے گلے کی قمیض میں پھنسے ابھار صحرا کی ریت کے ٹیلے معلوم ہو رہے تھے ۔ نیدو کی آنکھوں میں حوس کی تیز آندھی امڈ آئی تھی ،لڑکی نے جیسے آندھی کو چڑھتے دیکھ لیا ،فوراً کندھے پر لٹکتا دوپٹہ سر کا کر ڈھانپ لیئے ۔
نیدوڈمی اور نجی کے درمیان ایسے الجھا تھا جیسے ریشم کے دھاگے آپس میں الجھ جائیں ،سلجھائیں تو ٹوٹنے کا ڈرہمہ وقت موجود رہتا ہے،نیدو نے ڈمی کا نام نجی رکھ لیا تھا اور اکثر اس سے نجی کی باتیں کرتا ۔ وہ شاپنگ مال جلدی آ جاتا جھاڑ پونچ کرتا اور بانہوں میں بھر کر اسٹال کے باہر رکھتا ،جب تک دوسراسیل بوائے نہ آ جاتا ،نیدو کی ماڈل سے خسرپسر لگی رہتی ،” کاش نجی اسٹال کے سامنے ڈسپلے پر رکھی ماڈل ہوتی “ یہ خواہش اس کے دل میں گھر کر گئی ،مگر دونوں کا گھر ایک ساتھ ہونے کے باوجو ندی کے دو کنارے بنے تھے ۔ دونوں کناروں کے درمیان بہنے والا پانی نیدو کے جسم میں طلاطم پیدا کر چکا تھا وہ ایک ہی جست میں اسے عبور کرلینا چاہتا تھا ۔ چھوٹے سے صحن کے کونے میںبنی سیڑھی سے چھت پر آیا تو کتنے دنوں کے بعد چھت سے آسمان اور گھروں میں جلتی روشنیوں کو ایک ساتھ دیکھا ، اس لمحے اس کے دل کے چھوٹے سے آنگن میں نجی جگنو بن کر ٹمٹما رہی تھی ۔
” دیکھ میں تیرے لیئے کیا لایا ہوں نجی ۔۔۔۔۔؟“ نیدو نے خاکی لفافہ نجی کے سامنے کرتے ہوئے کہا ۔کتنے دنوں کے بعد نیدو کو گھر میں تنہا رہنے کا موقع ملا تھا ،باقی گھر والے دور پار کے رشتہ دار کی شادی میں شرکت کیلئے گئے ہوئے تھے نیدو کو پختہ یقین تھا نجی ضرور آئے گی وہ کتنی دیر سے اس کا انتظار کر رہا تھا ۔ ” یہ کیا ہے ۔۔۔۔۔ نیدو ؟“ ” کتنے دن پہلے میں شاپنگ مال سے اٹھا لایا تھا ۔۔۔۔ سب گھر پر ہوتے ہیں ا س لیئے دے نہ سکا۔۔۔۔۔یہ بہت قیمتی بلاﺅز ہے ،اسے صرف امیر لڑکیاں ہی پہنتی ہیں ،جلد خراب نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔۔۔ میں صرف تیرے لیئے لایا ہوں ،لے پہن لے “ گویا نیدو نے اپنا ہاتھ آگے بڑھانے کی کوشش کی ” تو کتنا بے شرم ہو گیا ہے نیدو ۔۔۔۔۔ ۔۔“ نجی شرم سے پانی پانی ہو گئی ۔ ” اس میں شرمانے کی کیا بات ہے نجی ۔۔۔۔۔۔۔۔ ادھر شاپنگ مال پرہر لڑکی خریدنے آتی ہے ،انہوں نے کبھی شرم محسوس نہیں کی ،وہ تو کھلے الفاظ میں اپنا سائز اور نمبر بتا کر بلاﺅز خرید لیتی ہیں ،بلکہ وہ تو کائنٹر کے ساتھ بنے کیبن میں پہن کر چیک بھی کر لیتی ہیں کہ کہیں تنگ یا کھلا تو نہیں ۔۔۔۔ مجھے پتا ہے تمھارے پاس ایک ہی بلاﺅز ہے اور وہ بھی پرانا اور خستہ ۔۔۔۔۔اس لیئے میں نیا اور مہنگے والا لے آیا ۔۔۔۔۔۔ اور تم ہو کے شرما رہی ہو ‘ ‘ نیدو نے نجی کو ایسے ہی بانہوں میں بھر لیا جیسے وہ ڈسپلے پر رکھی ڈمی کو اٹھاتے ہوئے بھرلیاکرتا تھا ۔ نجی بانہوں میں مچھلی کی طرح تڑپنے لگی ۔” تم مجھے اچھی لگتی ہو۔۔۔۔ نجی “ نیدو نے اسے بانہوں کے گھیرے سے آزاد کرتے ہوئے کہا ۔ نجی کا چہرہ سرخ اور گلا خشک ہو چکا تھا ۔ گلے میں کانٹے چھبنے لگے ۔ بلاﺅز زمین پر پٹخ دیا اور دروازے کی طرف لپکی ،پھر نہ جانے کیا سوچ کر پیچھے مڑی او ر نیدو سے بغل گیر ہو گئی ” میں سمجھتی تھی تم نیرے بدھو ہو ۔۔۔۔۔مگر تم تو کافی سمجھ دار ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نیدو تمہیں میرا سائز کیسے پتا چلا ۔۔۔۔۔؟ “ پھر اینٹوں کے کمرے میں کھلکھلاہٹ گونجنے لگی ۔
نجی سے ملاقات کا اثر نیدو کے دل و دماغ پر ابھی تک ترو تازہ تھا ۔وہ صبح سویرے ہی شاپنگ مال پر آکر جھاڑ پونچھ کرنے لگا ۔اس نے نیا بلاﺅز اٹھایا اور ڈمی کو پہناتے ہوئے بولا ” لوگ ایسے ہی تجھے ڈمی کہتے ہیں تم تو موم کی گڑیا ہو “ نیدو نے موم کی گڑیا کو بانہوں میں بھرا اور ڈسپلے پر لگا دیا ۔

Published inعالمی افسانہ فورممحمد نواز