Skip to content

موت کا نوحہ

افسانہ برائے عالمی افسانہ میلہ 2015
افسانہ نمبر 109
موت کا نوحہ
عنایت علی خان، ناڑہ شریف، اٹک، پاکستان

وہ تین دن سے اپنا لاشہ اٹھائے در بدر گھوم رہا تھاکوئی قبرستان سڑک یا پگڈنڈی اس نے نہیں چھوڑی لیکن اسے کہیں جگہ نہ ملی جہاں وہ اپنی لاش کو دفنا سکے۔تین دن سے اس نے کچھ کھایا بھی نہیں تھا لیکن بھلا لاشیں بھی کب کھاتی ہیں مردے تو اس بھوک و پیاس سے بے نیاز ھوتے ہیں نہ بھوک نہ پیاس نہ درد اور تو اور کوئی احساس بھی تو نہیں ھوتاکوئی مرے یا جئے بھلا مردوں کو کیا پتہ بہت ازیت ناک موت تھی اس کی ۔سانس گویا حلق میں آ کر اٹک سا گیا تھاپہلے پہل تو اس نے دھیان نہ دیا لیکن تیسر ے دن اسے محسوس ھوا کہ وہ مر رہا ھے اس کا احساس اسے تب ھوا جب اس نے اپنے ارد گرد سب کو بے حس و حرکت پایااسے سمجھ نہ آیا کہ وہ مر چکا ھے یا اس کے ارد گرد زندگی ختم ھو چکی ھے۔ پورا ایک دن وہ یہ سمجھتا رہا کہ باقی سب کچھ مردہ ھو چکا ھےاور صرف وہ زندہ ھےلیکن دوسر ے دن یہ بھیانک راز اس پہ آشکار ھوا کہ وہ مر چکا ھے اور اس کے ارد گرد زند گی جوں کی توں ھے ابھی ایک جوڑا ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے اس کے پاس سے گزرا ھے مرد نے عورت کے کان میں کچھ کہا تو عورت کا چہرہ شرم سے گلنار ھو گیا دو بچے بھی یہاں سے گزرے ہیں جن کے ننھے منے ہاتھوں میں سگریٹ دبے ہیں محلے کے مولوی سے لیکر جیرو چمار تک یہاں سے گزر کر گئے ہیں لیکن کسی نے اس پہ توجہ نہ دی پورا ایک ھفتہ وہ زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلارہاپھر وہ نزع کی حالت میں چلا گیااس کو جب دوبارہ ہوش آیا تو وہ مر چکا تھاگھنٹوں وہ اپنی لاش کہ پاس بیٹھا رہاآنسو بہائے۔بین کیا۔جب اس سے بھی دل ہلکا نہ ھوا تو دونوں ہاتھ سینے پہ مارتے مارتے پیٹنے لگ گیاماتم بھی کہاں تک کرتا با الآخر تھک کر وہیں گر گیاتھوڑی دیر بعد وہ اٹھا اور اپنی لاش کو کندھے پر اٹھا لیا۔ وہ پہلی فرصت میں اسے دفنانا چاھتا تھاوہ سب سے پہلے قبرستان پونچا اور ایک مناسب سی جگہ دیکھ کر لاش ابھی رکھی ہی تھی کہ گورکن آ گیا اور اسے فورا یہاں سے جانے کا کہااس نے بہت منت سماجت کی لیکن وہ نہ مانامجبورا اس نے لاش کو پھر کاندھے پر اٹھایا اور قبرستان سے باہر آ گیاپورے تین دن وہ اپنا لاشہ کندھے پر اٹھائے شہر شہر گھومتا رہاگورکن سے حاکم شہر تک اس نے ہر دروازہ کھٹکھٹایالیکن اسے لاش دفنانے کی اجازت نہ ملی وہ لاش کندھے پہ اٹھائے اٹھائے شہر کے چوک میں پونہچ گیاجہاں پہ ایک مداری کوئی تماشا دکھا رہا تھااس نے تھوڑے فاصلے پر لاش کو زمیں پر پٹخا اور ہانپتے ہانپتے وہیں بیٹھ گیاکچھ لوگ اسے بھی مداری سمجھ کر اس کے ارد گرد جمح ھونا شروع ھو گئےاس نے ہانپتے ہانپتے آنکھیں کھولیں اور ایک نظر ہجوم کو دیکھااچانک اس نے ایک بھیانک چیخ ماری اور وحشیوں کی طرح لاش کو نوچ نوچ کہ کھانا شروع کر دیاہجوم نے تالیاں بجایئں کچھ سکے اس کی طرٖ ف اچھالےاور پھر آہستہ آہستہ ہجوم چھٹنے لگا

Published inعالمی افسانہ فورمعنایت علی خان