Skip to content

منت

عالمی افسانہ میلہ 2015
افسانہ نمبر 121

ڈاکٹر صادقہ نواب سحرؔ ؔ

منت

ممبئ سے پنڈھر پور جانے والی ٹولیاں لیزم بجاتی، نرم سخت دھوپ میں سر پر پھیٹا باندھے، لکڑی کی دِنڈی (پالکی) میں وِٹھل کی مورتی کو لئے آگے بڑھتی چلی جارہی تھیں۔ پونے، بارامتی، انداپور روڑ کے راستے یہ ٹولی شولہ پور روڈ چھوڑ کر پونے ضلع کے آخِری گاؤں باوڑا سے آگے بڑھی۔ باوڑہ میں ہون راؤ اپنی بہن مکتا اور ماں شانتا ،جسے وہ ‘آئی’ ٗ کہتے تھے ،کو لئے ٹولی کے ساتھ ہو لیا ۔

باوڑہ ایک چھوٹا سا گاوٗں ہے۔ یہاں چھوٹی چھوٹی دوکانیں ہیں۔ پورے گاؤں میں کوئی پانچ سو گھر ہوں گے۔ گاؤں کے آس پاس کھیتی میں گیہوں، جوار اور گنّے کی فصل ہوتی ہے، یہ بہت شانت گاؤں ہے۔ یہاں ہفتے میں ایک دن یعنی جمعہ کے دن ’آٹھوڑے بازار‘ (ہفتہ بازار) لگتا ہے۔ جس میں سبز یاں، کھا نے پینے کی چیزیں، کریانہ، راشن اور تھوڑا بہت کپڑا ملتا ہے۔ دوسرے دنوں میں خریداری کے لیے گاؤں والوں کو ’ آکلج‘ جانا پڑتا ہے۔ یہیں ان لوگوں کا بڑا سا گھر ہے، آئی مکتا کے لئے منت کرنا چاہتی تھیں۔

۔’’اگلی بار تبھی آؤں گی، جب میری منوتی پوری ہوگی۔‘‘

’’ہے وٹھل پانڈو رنگ! میری لیک (بیٹی) کو شادی لائق بنادے۔‘‘ ، اپنے سر پر گملے میں تلسی کا پودا اٹھائے انہوں نے عقیدت سے کہا تھا۔ اس وقت مکتا اٹھارہ سال کی تھی۔ گدرائے جسم کی، تیکھے نین نقش، درمیانہ قد، کھلتا ہوا رنگ، شوخ رنگ چوڑیوں سے ہاتھ بھرے ہوئے، بیچ کی مانگ، دوچوٹیاں لال ربن سے بندھی ہوئی، بڑے گھیر کے لہنگے جیسا ٹخنوں تک کا پرکر، اور شرٹ جیسا چھوٹا کرتا، ماتھے پر کم کم کا ٹیکہ، کھیت پر بابا کو کھانا دینے جاتی، تو گاؤں کے لڑکے آہیں بھر کردیکھتے….ببن کی آنکھ چل جاتی اور وہ فوراََ آنکھ پکڑ کر رگڑنے لگتا، کیونکہ رُک کر اسے مکتا گھورتی۔

’’شادی کرے گی میرے سے؟‘‘

’’اپنے بابا کو بھیجوں؟‘‘

’’چل بھاگ جاتے ہیں۔‘‘ ببن ہر بار ایک نیا فقرہ پھینکتا۔

’’کیوں؟اپنے بابا کو بھیجتا کیوں نہیں رہے؟….خالی بڑبڑ کرتا ہے ۔ میرے بابا سے ڈرتا ہے کیا؟‘‘

’’نہیں، تیرے بابا سے نہیں….‘‘

’’تو؟‘‘

’’اپنی ماں سے ….!‘‘

’’تو جا نا گھر اپنے! مجھ سے کیوں پوچھتا ہے؟….شادی کرے گی کیا میرے سے ہونہہ!! اپنی ماں سے پوچھ نا!!‘‘، ببن کی ماں سر پیٹ لیتی ہے۔

۔’’کیا کمی ہے اس میں؟ لنگڑی ہے کہ اندھی کانی؟‘‘ببن چڑ کر کہتا ہے۔

۔’’وہ بھی چل جائے گی مگر مکتا نہیں۔‘‘

۔’’آئی، تو مکتا سے جلتی ہے کیا؟‘‘

۔’’اب کیا بولوں رے تجھے؟‘‘

مکتا بھی اپنی دوسری بہنوں کی طرح کھیلتی کودتی بڑی ہوئی تھی۔ سکول جانے کا شوق تینوں ہی بہنوں میں نہیں تھا۔

بھائی نے تو حسا ب کتاب تک کی پڑھائی کر لی تھی۔ سود پر پیسہ دیتا تھا، باپ کسان تھا۔ ایک ایک کر کے دونوں دونوں بہنیں جوان ہو گئیں۔ مکتا ویسی ہی رہی۔ کتنے ڈاکٹروں، ویدوں کو بتایا۔ کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ کسی نے ممبئی کے کسی بڑے زنانہ بیماریوں کے ڈاکٹر کا نام سجھایا، مگر شہر جا کر علاج کیسے کروائیں ۔ وہاں کوئی ایسا اپنا بھی تو نہیں، جس کے پاس جا کر کچھ دن رہ سکیں۔ با ت دھری رہی۔ دوائیوں کا فائدہ تو نہیں ہوا لیکن ہاں، مکتا کا جسم ضرور پھول گیا تھا۔ وہ عمر سے بڑی لگنے لگی تھی۔ چھوٹی بہنیں ایک کے بعد دوسری سولہ سال کی ہوئیں اور بیاہ کر کے بِدا کر دی گئیں۔ لڑکوں کی ماؤں نے انہیں سختی سے منع کر رکھا تھا کہ مکتا کو نظر اٹھا کر نہ دیکھیں مگر نظر یں پکڑا نہ سکیں۔ ان کی اپنی نظریں بھی اس پر تھیں، دولت مند گھرانے کے لڑکی جو تھی، بہت ملے گا۔ ببن کی ماں کو بھی یہی لالچ مکتا کی ماں کے پاس لے گئی۔ مگر شانتا تائی نے سمجھا کر بھیج دیا۔ ۔’’بعد میں دکھ اٹھانے سے اچھا ہے، شادی ہی نہ کریں۔ لڑکی ہم پر بوجھ نہیں ہے۔‘‘ کیسی چہکتی تھی مکتا بچپن میں۔ سب بہنوں سے تیز تھی، وہ باپ کی لاڈلی! اب وہ ایک طرح سے خوش تھا کہ بیٹی اس کے پاس رہے گی۔ بیٹے کا کیا ہے بیاہ تک اپنا! مگر کبھی کبھی اس کا دل بھی کچوٹتا۔ ’’کاش سب کچھ ٹھیک ہو تا …..!‘‘

چھوٹی بہنو ں کی شادیوں کے بعد سے مکتا کچھ بجھی بجھی سی رہنے لگی تھی۔ گھر میں بھابی آ چکی تھیں۔ سبھی کو تین چار بچے تھے۔

بھابی کے ساتھ کچن میں چخ چخ رہنے لگی تو ماں نے کہا۔ ’’تو گائے بھینس دیکھ لے۔‘‘ مکتا بڑی صفائی پسند تھی۔ اپنے ہاتھوں سے طویلے کی صفائی کر تی، گائے بھینسوں کو نہلاتی ، انہیں چارہ دیتی، دودھ دوہتی۔ اسے پانی بہت اچھا لگتا تھا۔ بار بار ہاتھ صاف کر تی، اپنا بر تن خود دھو کر رکھتی۔ گیہوں، جوار وغیرہ صاف کر تی، مگر چولہے کے پاس نہیں پھٹکتی تھی۔ جلدی جلدی وِلی (پاؤں درانتی ) پر سبزیاں کاٹ کر رکھ جاتی۔ کبھی کبھی وہ اپنے برتنوں کے ساتھ ساتھ سارے برتن دھو ڈالتی لیکن جب موڈ نہیں ہوتا تو کہہ دیتی؛ ’’نہیں کروں گی۔‘‘

مکتا کی تین سہیلیاں اَن بیاہی تھیں۔ فرصت میں ان سے گپیں لڑاتی مگر شیلا، پھر مایا پھر ریکھا۔ تینوں سہیلیاں مشکل سے ہی سہی، بیاہ دی گئیں۔ اور کچھ دنوں میں اپنی گرہستیوں میں کچھ ایسی الجھیں کہ ملنا ملانا تک مشکل ہو گیا۔ مکتا کو چپی لگ گئی ۔’اجّی‘ یعنی دادی کے پاس بیٹھی رہتی۔ گائے بھینسوں کا کام بھی چھوڑ دیا۔ کھانا لگ جانا تو دادی کے ساتھ رسوئی میں آ جاتی اور دادی کی طرح ہی سیدھے ہانڈیوں سے برتن میں کھانا لے کر بیٹھتی، دوبارہ نہ کہتی۔ بھابی نارضگی سے دیکھتیں کہ کھانا بنانے میں تو نہیں آئی لیکن پروسنے بھی مہیں دیتی ، خود لے گی ہونہہ! ’دادی ساس‘ کے ڈرسے وہ کچھ بولتی نہیں تھی۔ پھر اسے بھی اس عادت ہو گئی ۔ کھانے کے بعد دادی اسے لے کر چلی جاتیں۔ ماں مٹی کے چو لہے پر پانی گرم کرتیں، کپڑے حمام میں لگاتیں اور آواز لگاتیں۔ ’’مکتا….؟…..؟…..؟‘‘

مکتا آتی اور گرم پانی کی بالٹی اٹھا کر حمام میں چلی جاتی۔ عمر کے ساتھ ساتھ مکتا میں ایک خاص قسم کی ضد آگئی تھی یا پھر اکیلے پن کی خواہش!۔۔۔۔ دادی کی موت کے بعد تو وہ تنہائی پسند ہو گئی تھی۔ بس دہلیز پر بیٹھی دروازے کی طرف دیکھ کر خود سے باتیں کرتی رہتی۔ کوئی بات باربار بڑ بڑاتی اور پھر اپنے آپ سے کہتی۔ ’’چپ بیٹھ ، تھپڑ ماروں کیا؟‘‘ وہ دن میں کبھی نہیں سوتی۔ بیٹھی رہتی یا گھر میں گھو متی رہتی۔ کھانا وہ بھی ذرا سا کھانے لگی تھی ۔ گھر میں سبزی آتی تو صاف کرنے ضرور بیٹھ جاتی ۔بہنیں مائیکے لوٹتے ہوئے اس کے پیر پڑتیں، تو کہتی:

’’تجھے پونا آنا ہے۔‘‘

’’چلو نا ماؤسی!‘‘ بھانجے بھانجی بلاتے۔

’’نہیں بعد میں۔‘‘ وہ ڈرجاتی۔

کسی کی شادی میں یا کسی کاج میں زبردستی لے جاتے تو گبھراتی۔

’’یہاں کیوں آئے؟‘‘ گھر سے باہر نکلتے ہوئے ڈرتی تھی ۔بھیڑ میں ہاتھ کس کر پکڑ لیتی۔ وہ اپنی کسی پسند کا اظہار نہ کرتی۔

سویرے کے نو بجے ہوں گے۔ بھابی الگنی پر کپڑے سکھا کر تہہ کر کے لائی اور ماں نے مکتا کے لیے حمام میں کپڑے لگا کر آواز دی کہ وہ آ کر نہانے کا گرم پانی لے جائے ۔

’’ میرے کپڑے مڑا دیے ، میں نہیں نہاؤں گی…..کپڑے مڑادیے….. میرے کپڑے….‘‘

مکتا نے ہمیشہ کی طرح حمام میں گر م پانی دیکھا تھا، کپڑے دیکھے تھے اور چلا نے لگی ۔ ماں دوڑی آئیں ۔

’’کپڑے مڑے دیے ….. میرے کپڑے…..‘‘

’’آہستہ بول وِ ہنی(بھابی) کو برا لگے گا۔ بیچاری سارا دن کھٹتی رہے۔

’’میرے کپڑے….‘‘

’’چپ کر بیٹا….چپ کر ،وہنی کو…..‘‘

’’کپڑے مڑادیے….. میرے کپڑے…..‘‘

شاید بھابی نے سن لیا تھا۔ اس کے بعد مکتا مقررہ وقت پر ہاتھ کے دھلے کپڑے جھٹک کر ڈالتی اور سو کھتے ہی اچھی طر ح تہہ کرکے رکھ لیتی۔

ایک ایک کرکے نجانے کتنے برس گزر گئے ۔ آج بھابی ہون راؤ کی بڑی بیٹی کے لیے رشتے والے آنے والے تھے۔ ماں بہو کی مدد کرنے میں پیچھے نہیں رہتیں۔ شاید بیٹی کی بھرپائی کرتی تھیں۔ مکتا کی دادی کے مرنے کے بعد وہ کسی بھی کام میں کیوں نہ ہوں، درمیان میں مکتا کے پاس ضرور بیٹھ آتیں….. آج ماں نے سمجھا بجھا کر مکتا کو اندر اس کے کمرے میں بھیج دیا تھا۔ ناشتہ لگانے میں مدد کی۔ کچھ دیر لڑکے والوں کے ساتھ بیٹھ کر، پوتی کو ان کے پاس بٹھایا اور بیٹی کے کمرے میں آ گئیں…..مکتا آئنیے میں اپنا چہرا بڑے غور سے دیکھ رہی تھی۔ ماں نے اسے دھیان سے دیکھا ۔ اس نے اپنے سارے گہنے پہنے ہوئے تھے اور اپنی بھابی کی شادی کا گھو نگھٹ سر پر اوڑھے ہوئے تھی۔ مانگ کی جگہ پر ایک چھوٹا سا سفید گھنگر الے بالوں کا گچھا بندیا کی طرح جھول رہا تھا۔ ماں چپ چاپ پلٹ گئیں۔ کمرے کے دروازے کے باہر آ کر گہری گہری سانسیں لینے لگیں، پیر کانپنے لگے، لگا گر پڑیں گی۔ زمین پر بیٹھ گئیں۔

’’ساسو ماں!‘‘ بہو ڈھونڈتی ہوئی آئی،’’ کیا ہوا؟…..اہو!….سنو…..دیکھو تو کیا ہواآئی کو ….‘‘ ادھر سے ہون راؤ، ادھر سے مکتا ماں کے پاس دوڈی آئی۔ ماں نے مکتا کو اوپر سے نیچے تک دیکھا۔ وہ ویسی ہی سیدھی سادھی چھ واری عام عورتوں کے پہننے والی شوخ گلابی رنگ کی پھولوں والی ساڑی میں لپٹی تھی۔ بدن پر زیور تھا نہ گھونگھٹ ۔ پھر وہ سچ تھا کہ خیال !…..اس کی کپکپی زور پکڑ رہی تھی۔

’’جا کھانا کھا کر آ‘‘، اس حالت میں بھی ماں کو سرہانے بیٹھی ٹکٹکی لگائے اپنے کو دیکھ رہی مکتا کی فکر تھی لیکن اس نے انکار میں سر ہلادیا۔

ڈاکٹر پانچ بجے آئے گا، شہر گیا ہے ۔‘‘ہو ن راؤ دں کر پتہ کر آیا ’’ایک گھنٹہ ہے۔‘‘ ’’ ساسو؟؟؟؟ مو ئی، خود کو سنبھالیے۔ ‘‘بہو نے ان کے پیرو ں کی مالش کرتے ہوئے کہا۔

’’تو نے کھایا سون بائی ؟‘‘ انہوں نے بہو کو پوچھا۔

’’ہاں ساسو ماں ‘‘ بہو نے مکتا کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔

’’اس کا من ٹھیک نہیں۔ ٹھیک لگے گا تو لے لے گی ….. ہو سکے تو بیٹی کے ہا تھ سے دودھ بھجوا دو۔‘‘ مکتا نے انکار میں سر ہلا یا ، تو بولیں، ’’ٹھیک ہے ۔نہیں لائے گی….. تو گھبرا مت…..میں تیرے مرنے کے بعد ہی مروں گی۔‘‘ بستر پر تیز بخار میں وہ بڑبڑا رہی تھیں ….. ان کی حا لت دیکھ کر سب رو رہے تھے۔

ماں ٹھیک ہو گئیں مگر ان کے پیر اکڑ گئے۔ کھڑی نہیں ہو پاتی تھیں۔ گھر بھر میں گھِسٹتی پھرتیں ۔ لیکن بہو کی مدد کرنے میں بیٹھے بیٹھے جو کر سکتیں، کرتیں۔ پیروں کی مجبو ر ی کم ہی آڑے آتی۔ بہو بہت کہتی۔

’’بیٹی مدد کردے گی۔‘‘

’’نہیں، پڑھنے دو میری پوتی کو۔ اس کی شادی کے دن دور نہیں۔‘‘ وہ بڑے پیا ر سے کہتیں اور بہو مسکرا د یتی۔ ماں بوڑھی ہو گئی تھیں۔ بابا بھی لکڑی ٹیکتے تھے۔ کھیت پر کم جا تے۔ مزدور، کسا ن گھر آ کر آنگن میں بیٹھتے۔حسا ب دیتے، گپیں لڑاتے ۔

ما ں کتنی بار بیما ر ہوئیں اس کی گنتی کیا! ہر بار اٹھ بیٹھتیں۔ ہر بار کہتیں۔

’’مکتا کو چھو ڑ کر نہیں مر سکتی۔‘‘

کچھ دنوں سے مکتا نے بھی ہانڈیو ں سے کھانا لینا چھوڑ دیا ۔ بس چاول کا ایک چمچ اور دال لے کر بیٹھ جاتی تھی۔ کھانا کھا کر، اپنے برتن دھو کر کونے میں رکھ دیتی۔ صر ف دوپہر میں کھانے لگی تھی۔ رات میں ماں گھِسٹتی ہوئی آتیں اور دودھ پلا جاتیں ۔ گدرایا بد ن دھیر ے دھیرے ہڈیوں کا ہار دکھائی دینے لگا۔

مکتا اب دو دنوں میں ایک بار کھا نا کھانے لگی تھی۔ اس کے باقی روز مرہ کے کا م برقرار تھے۔ صبح کے کامو ں سے نپٹ کر اپنی پسندیدہ دہلیز پر جا بیٹھتی۔ٓٓ

آج ببن نے مکتا کو پچیس سال بعد دیکھا تھا۔

ویسی ہی ، با لکل ویسی ہی سندر اور معصوم۔ لال پھو لو ں کی سا ڑ ی، سو نے کی چو ڑیاں، گلے میں چین، کانو ں میں موتی کے پھو ل۔

ّّّّّّّّّّّّّّّّّ’’پہچا نا ؟ …..میں ببن ….. پڑھا ئی کے لیے امریکہ گیا تھا نہ ، وہیں بس گیا تھا ۔ پچیس سا ل بعد آیا ہو ں …..تم تو با لکل ویسی ہی ہوں ۔ ‘‘ اس نے اپنی خوشی بھر ی ہنسی دبا ئی ۔ مکتا نے اسے نظر بھر دیکھا ۔ آنکھیں مسکرائیں ، پھر شا نت اور انجا ن ہو گئیں ۔ وہ اپنی ساڑی کے پلو میں چھپا کر اپنی انگلیاں گننے لگی ۔ ببن وہیں رک کر اسے ایک ٹک دیکھ رہا تھا ۔ وہ پھر سر کھجا نے لگی ۔

’’پتنی بھی آئی ہے ۔ کل لاؤں گا ملا نے ۔‘‘

’’چل ہٹ‘‘ ، مکتا نے پا س پڑا اینٹ کا ٹکڑا اٹھا کر پھینکا ۔ ببن کی پیشانی سے خون بہنے لگا ۔

’’سالی …..!آئی ایم ساری ۔ آئی ایم ساری …..‘‘ معاف کر ؟؟؟؟نیٹا ، یہ باؤلی ہوئی ہے ، تو برا مت ماننا ۔‘‘ مکتا کی ماں گھسٹتی ہوئی آہیں ۔

’’اندر اآجا پٹی کرتی ہوں ۔ ما تھے سے خون بہہ رہا ہے ۔‘‘

’’کا کی آپ کے پیر وں کو کیا ہوا؟‘‘، انہیں گھسٹتے دیکھ کر وہ اپنی تکلیف بھو ل گیا تھا ۔ مگر پھر اچا نک پیشا نی کی چوٹ سے بہتے خون اور شر مندگی کا خیا ل آیا اور ’’کو ئی با ت نہیں ….کوئی با ت نہیں ۔‘‘ کہتا ہوا جواب سنے بغیر ہی ببن وہاں سے چلا گیا۔

شام گہرا گئی تھی۔ مکتا کی ماں سرہا نے بیٹھی اسے پنکھا جھل رہی تھیں ۔ صبح سے وہ کچھ بولی نہ ہلی ڈلی ۔ کنی دنو ں سے اس کا کھا نا بند تھا ۔ ماں بیٹے کو دیکھ کر بو لیں ۔

’’ہون راؤد یکھ تو ،دید ی ٹھیک تو ہے؟‘‘

’’آئی !دید ی تو ٹھنڈی ہو گنی ‘‘،ہون راؤناڑی دیکھ کر بولا۔

’’جا با با کو بتا دے ‘‘، انہو ں نے اتنی شا نتی اور بغیر کسی تنا و کے ہون راؤ سے کہا تو وہ تڑپ کر ماں کے گلے لگ گیا ۔

مکتا کو مرے آج تیر ہ دن ہوئے تھے ۔ پورا گاؤں کھانا کھا کر گیا تھا ۔ ماں بخار سے تپ رہی تھی پھر بھی ہا تھ میں جھا ڑو لیے صفا ئی کرر ہی تھیں ۔ بہو ہاتھ سے جھاڑو لینے لگی تو پیا ر سے ڈانٹا۔

’’کیا سکھ اٹھا یا تو نے بھی !یم راج بلا تے تھے مگر تجھ پر بوجھ نہیں ڈالنا تھا نہ ، اس لیے میں نہیں گئی ‘‘ انہو ں نے ہنس کر بہو کو گلے لگا لیا ۔

اگلی صبح گاؤں والوں کو پھر اسی گھر میں جمع ہونا پڑا۔ مکتا کی ماں نہیں رہی تھیں۔

ببن پنڈھر پور کی یا ترا کے لیے لکڑی کی دِنڈی (پالکی ) میں وٹھل کی مورتی کو سجا رہا تھا۔

’’تو ،تو اسے پسند کرتا تھا لیکن مکتا تو تیرے سے پیار کر تی تھی ۔‘‘

’’کیسے معلوم ؟؟؟،ببن نے سو چا ’ آج ماں کو کیا ہو گیا ہے!‘

’’وہ بو لی تھی میرے کو ، ایک بار …..اپنے کھیت میں آئی تھی پو چھنے کو کہ …..‘‘

’’کہ ؟‘‘ببن راؤ کی بے چینی ماں سے چھپی نہیں رہی۔

’’کہ میر ا کیا دوش ہے ؟؟‘‘

’’پھر ؟‘‘

’’میں بولی، پورے رشتہ داروں کو معلوم ہے تجھے ما ہو ار ی نہیں آئی ۔ کتنی جڑی بوٹیاں ہضم کر گئی ۔‘‘

’’اب اس میں میرا کیا دوش!!‘‘

’’پھر !!!‘‘ببن نے پو چھا ۔

’’وہ پلٹ کر جا نے لگی تھی تو میں نے اسے روکا اور بولی۔‘‘

’’سن بیٹا ، کسی کو معلوم نہیں ہوتا یا ہم دوسرے گاؤں کے ہو تے تو اور بات تھی ۔ اب لوگ پو چھیں گے نہ کہ تیرے بیٹے میں کیا دوش تھا کہ آنکھ دیکھی مکھی نگل لی۔‘‘

ممبی سے پنڈھر پور جانے والی ٹولیاں لیز م بجاتی نرم سخت دھوپ میں ہمیشہ کی طرح آ ج بھی سر پر پھینٹا باند ھے لکڑی کی دنڈی میں وٹھل کی مورتی کو لیے پندرہ دنوں کی جترا میں شامل ہونے کے لیے آگے بڑھتی چلی جاری تھیں ۔ پونے ، بارامتی ، انداپورروڈ کے راستے سے یہ ٹولی شولہ پور روڈ چھوڑ کر پونے ضلع کے آخری گاؤں باؤڑہ کے لیے بڑھی ہے۔ ہر سال ببن کی ماں اپنے بھا ئی بہنوں کے ساتھ آشاڑھ اور کارتک کے مہینوں میں وٹھل رُکمائی (کرشن رُکمنی )کے در شن کرنے پیدل جاتی ہیں اس بار فرق اتنا تھا کہاباؤڑا میں امریکہ رٹرنڈ ببن راؤ اپنی آئی اور بیوی کی ضد پر انہیں لے ٹولی کے ساتھ شامل ہو جانے کو کھڑا تھا۔کچھ لوگ سر پر پینے کے پانی کی کلسیاں اور تلسی کا پودا بڑی عقیدت سے اٹھائے ہوئے تھے ۔

’’اگلی بار تبھی آؤں گی ، جب میری منوتی پوری ہوگی۔‘‘، ببن کی آئی اپنی بہو کے لئے منّت کرنا چاہتی تھی، ’’ہے وٹّھل پانڈورنگ!میری سوُن کی گود بھر دے۔‘‘اپنے سر پر گملے میں تلسی کا پودا اٹھائے انہوں نے شردھا سے کہا تھا ۔اور ’’ہری وٹّھل ،ہری وٹّھل ،ہری وٹّھلا کا جاپ کرنے لگ گئیں۔

Published inڈاکٹر صادقہ نواب سحرعالمی افسانہ فورم