Skip to content

ملن

‘ملن”
غزالہ پرویز
گھرمیں ایک جشن سا سما تھا ۔۔ ساجدہ کا لرزتا کانپتا دل اور زور زور سے دھڑکنے لگا ۔۔۔ وہ آگۓ ۔۔۔ اور فرطِ جذبات سے اُس نے اپنی سوا تین سالہ بیٹی کو باہوں میں بھینچ لیا اور اُسکے چہرے پہ بوسوں کی بوچھار کردی ۔۔۔ “مما چھوڑیں نا” عروبہ بے چین ہوکر مچلنے لگی ۔۔” پاپا کے پاس چلیں نا ” ۔۔۔
ساجدہ نے آئینے میں اپنے سراپے پہ ایک تنقیدی نظر ڈالی۔۔ لال جوڑا، کلائیاں لال چوڑیوں سے بھری بھری ، گہری لپ اسٹک ، کانوں میں جھمکے ۔۔ اُسے خود سے ہی لاج آگئ اور اُسنے مہندی رچے ہاتھوں سے اپنا چہرہ ڈھانپ لیا ۔۔۔ اُس لمحے اُسے سہاگ رات میں یوں اپنا چہرہ چھپانا یاد آگیا ۔۔۔
“میں کچھ زیادہ ہی تیار تو نہیں لگ رہی ہوں ” ۔۔ اُسنے اپنا سُرخ تپتا چہرہ آئینے میں دیکھتے ہوۓ سوچا اور فوراً ٹشو پیپر دونوں لبوں کے درمیان رکھ کر دباتے ہوۓ لالی کو دھیما کیا ۔۔ اپنے دھڑکتے دل کو سنبھالتے ہوۓ ایک گہری سانس لی اور آہستگی سے کمرے کا پردہ ہٹایا اور دروازے کی چوکھٹ سے لگ کر کھڑی ہوگئ ۔۔۔ عروبہ اُسکے ٹانگوں سے لپٹی اپنی مٹھی میں اُسکی قمیض کے دامن کو زور سے پکڑے کھڑی تھی ۔۔۔
فہد اماں،ابا، آپا بی، نسرین اور بچوں میں گھرا کھڑا تھا ۔۔۔ کس قدر وجیہ لگ رہا ہے ۔۔۔ داڑھی کتنی شاندار لگ رہی تھی، وہ لااُبالی پن جاچکا تھا اور ایک بردبار سی سنجیدگی آگئ تھی ۔۔۔ اُسنے فون پہ ٹھیک ہی کہا تھا “سب کہتے ہیں مجھ پہ داڑھی بہت جچتی ہے” ۔۔۔
“سب کہتے ہیں” وہ کس قدر اُلجھی تھی ۔۔۔
اماں بلائیں اُتار جارہیں تھی صدقے کے نوٹ وار وار کر۔۔ “چار سال کیسے گزر گۓ پتہ ہی نہیں چلا ” اماں نے اُسے لپٹاتے ہوۓ کہا ۔۔۔
“کیسے گزرے کوئ مجھ سے پوچھے” ، ساجدہ کے دل نے دھائ دی ۔۔۔ اور ۔۔ فہد نے اماں کے کاندھے پہ سر رکھے نظر اُٹھائ اُسکی جانب ۔۔ ڈُبک اُسکے دل نے ڈبکی لگائ ۔۔۔ اور اچانک یوں لگا اُسے جیسے اُنکے درمیان صرف سلگتی سانسوں کا فاصلہ تھا ۔۔۔ گرم گرم پگھلتا لاوا سی مسکراتی نظر اُسکے انگ انگ میں بہ گئ اور وہ دھک اُٹھی ۔۔
“میری عروبہ بابا کے پاس آؤ” ۔۔ اُسنے وہیں سے اپنے باہوں کو پھیلایا اور ایک قاتلانہ مسکراہٹ سے اُسے دیکھا اورساجدہ نے اپنے نچلے ہونٹ کو دانتوں سے اتنے زور سے دبایا کی خون کا ذائقہ محسوس ہونے لگا ۔۔۔
“جاؤ نا پاپا کے پاس” ساجدہ نے اپنا دامن عروبہ کی مٹھی سے چھڑاتے ہوۓ کہا ۔۔
“مما” عروبہ لپٹ گئ اُسکی ٹانگوں سے ۔۔۔
آپا بی ایک چھلانگ سے اُس تک پہنچ گئیں اور ایک جھٹکے سے عروبہ کو دبوچ لیا اور اچلتی مچلتی عروبہ اپنے پاپا کے گود میں تھی ۔۔۔ پورا قافلہ ڈرائنگ روم میں داخل ہوگیا اور ساجدہ یونہی چھپکلی کی مانند چوکھٹ سے چپکی رہ گئ۔۔ اُسنے ایک گہری سانس لی اور اُسے احساس ہوا کہ چوکھٹ اُسکے پسینے سے کس قدر شرابور ہوچکا تھا ۔۔ وہ اُلٹے قدموں کمرے میں آئ اور جھپاک غسل خانے میں ۔۔ گرم چہرے پہ ٹھنڈے پانے کے چھپاکے مارے تو منہ سے سسکاری سی نکلی اُسنے اپنی بے ترتیب سانسوں کو درست کرتے آئینے میں خود کو دیکھا ۔۔
شادی کا یہ چوتھا سال تھا ۔۔ چند مہینے ہی شادی کو ہوۓ تھے جب فہد کے دوست نے اسے دبئ آنے کا کہا “وہاں کیا دکان پہ بیٹھے ہو یہاں ٹیکسی چلانے میں کافی پیسہ ہے” ۔۔۔
“فہد کیوں؟ مجھے چھوڑ کر نہ جائیں نا ۔۔” ساجدہ نے تقریباً اُسکے کرتے کے گریبان کو کھسوٹتے ہوۓ کہا۔۔
“پگلی کچھ عرصے کی بات ہے ، آپا بی کی شادی ہوجاۓ بس” ۔۔۔
“فہد، میں آپ کے بنا نہیں رہ سکتی۔۔” ۔۔۔
” وقت کا پتہ ہی نہیں چلے گا میری جان ” ۔۔۔۔
اور ایک ایک دن ، ایک ایک رات گنتے گزر گئ ۔۔۔ عروبہ کے آنے کی خبر ملی، عروبہ پیدا ہوئ اور وہ بڑی ہوتی گئ ۔۔۔ پیسے آتے رہے جس کی وہ صرف خبر سنتی رہی۔۔ آپا بی کا رشتہ آگیا ، شادی ہوگئ تو ایک سال رُکنے کا ابا نے کہ دیا کہ گھر پکا ہوجاۓ، گاڑی خرید لی جاۓ ۔۔۔ پھر ایک سال اور اماں ابا کے کمرے میں اے سی لگ جاۓ، ایک اور کمرہ بن جاۓ دیور کی شادی بھی تو ہوگی اوریوں نسرین گھر آگئ ۔۔۔ اب اماں کے گھٹنے کا آپریشن ہوجاۓ۔۔۔ ضرورتیں شیرے کی لیس کی طرح جکڑتی گئیں اور مہینے سال، اور سال کئ سال بنتے گۓ عروبہ بڑی ہوتی گئ۔۔۔ ساجدہ کے جھلستی راتوں اور تڑپتے دنوں کا کس کو خیال تھا ، بس وہ ایک موبائل تھا جو اُسکی زندگی کا واحد سہارا تھا ۔۔۔۔
” ساجدہ،ساجدہ، ارے بھئ یہ ساجدہ کہاں رہ گئ ” ۔۔۔ابا کی پکار سماعت سے ٹکرائ ۔۔ اُسنے گھبرا کر اپنا حلیہ درست کیا اور ڈرائنگ روم کے دروازے پہ پہنچتے پہنچتے قدم بھاری ہوگۓ ۔۔ وہی چبھتی مسکراہٹ اُسکی جانب جیسے کہ رہی ہو “کب تک دور رہو گی” ۔۔۔ سبھی اُسکی جانب دیکھ رہے تھے ساجدہ دوبارہ گلابی ہوگئ ۔۔۔ دھیمی چال چلتے وہ فہد کے برابر کے صوفے کی جانب قدم اُٹھایا ہی تھا کہ اماں بولیں ۔۔ “ارے دلہن ادھر آکر بیٹھو میرے پاس اور وہ سوٹ کیسوں کو پھلانگتے گرم شعلے کی آنچ کو محسوس کرتے فہد کے برابر سے گزرتی اماں کے پاس جا بیٹھی ۔۔۔
تحفے بٹ رہے تھے نام پکارے جا رہے تھے اور ساجدہ کبھی فہد کو چپکے سے دیکھتی کبھی نظر جھکا کر پاؤں کے انگوٹھے سے قالین کھرچنے لگتی ۔۔۔ ایک لمحے کو دل میں آیا ایسا ہو کہ اچانک سب منظر سے غائب ہوجائیں اور بس وہ اور فہد ۔۔۔ یہ خیال آتے ہی کہ کوئ اُسکی سوچ نہ پڑھ رہا ہو اُسنے اپنے ناخن صوفے میں گھسا ہی دیے۔۔۔
عروبہ کے ہاتھ اُس کے قد کے برابر گڑیا دیتے ہوۓ فہد نے کہا ۔۔ ” یہ گڑیا میری گڑیا کے لیے” ۔۔۔عروبہ تو جیسے سکتے میں آگئ اُسے تھامے ۔۔۔۔
“بھائ یہ غلط کیا آپ نے ، سبھوں کو ایک جیسا تحفہ دینا تھا ” آپا بی منمنائیں کیونکہ اُنکی بیٹی نے جھٹ اپنی گڑیا زمین پر پھینک دی تھی “مجھے وہ بڑی والی چاہیے” ۔۔۔ ” ارے واہ آپا بی ، میں اپنی بیٹی سے پہلی بار مل رہا ہوں اور کچھ خاص بھی نہ دوں ؟” اُسنے عروبہ کو اپنے باہوں میں بھر کر زور سے گالوں پہ پیار کیا اور کن انکھیوں سے ساجدہ کی جانب ایک وارفتگی بھری مسکراہٹ سے دیکھا ۔۔۔ اور ساجدہ خود کو موم سا پگھلتا محسوس کرنے لگی ۔۔۔
“اور بھابھی کا تحفہ کہاں ہے ؟” نسرین نے ہانک لگائ ۔۔۔ “ارے وہ تو کمرے میں دیا جاۓ گا ” آپا بی کی آواز میں طنز نمایاں تھا ۔۔ اماں نے نسرین کہ سر پہ چپت رسید کی ” چپ کر بے شرم” ۔۔۔
ساجدہ نظر اپنے ہاتھوں پہ گاڑے اپنی اُنگلیاں مڑوڑنے لگی ۔۔۔
“چلو بھی لڑکیوں کھانے کا انتظام کرو” اماں نے حکم نامہ جاری کیا اور وہ فوراً اۃٹھ کھڑی ہوئ ۔۔۔
باورچی خانہ خوشبؤں کی اماجگاہ بنا ہوا تھا ۔۔۔ ” کیا کچھ بنا ڈالا میاں جی کے لیے ” ۔۔ آپا بی باورچی خانے میں داخل ہوکر دیگچیوں میں جھانکتی ہوئ بولیں “کیا مہینے بھرکا کھانا آج ہی بنا ڈالا ؟، ایک تو حد کردی تم نے یہ لال لال جوڑا، مہندی، کچھ تو شرم لحاظ بھی ہوتا ہے، ساس سسر بیٹھے ہیں اور بی بنو سجی سجائ “۔۔
ساجدہ سر جھکاۓ تیز ہاتھوں سے روٹیاں بیلنے لگئ۔۔
” کیا یہ مہندی اور چوڑیوں میں روٹیاں بنیں گی ، ہٹو بی بی اب دلہن بن ہی گئ ہو تو جاؤ دولہے میاں کے پاس، ہم ڈالے دیتے ہیں روٹیاں” ۔۔۔
“نہیں آپا آپ میز پہ بیٹھیں ” ساجدہ نے آنسؤں میں دھندھلاتی ہوتی روٹی کو توے پہ ڈالا اور انگلی گرم توے کو چھو گئ۔۔۔ نسرین میز لگاؤ جب تک۔” ۔۔ اُسنے اپنی آواز کو سنبھالتے اور جلن کو اپنے اندر سموتے ہوۓ اپنی دیورانی کو آواز دی ۔۔۔
سبھی میز پہ تھے “بھئ ساجدہ کے ہاتھوں کی گرم گرم روٹیوں کا اپنا مزہ ہے ” ابا بولے۔۔ ساجدہ نے فہد کے برابر کھڑے ہوکر روٹی کپڑے میں لپیٹ کے رکھی اور فہد کا ہاتھ اُسکے جسم سےچھوگیا اور کرنٹ کا جھٹکا سا لگا اُسے ۔۔ وہ گھبرا کر جلدی سے واپس پلٹی باورچی خانے میں ۔۔
” کیا میں نے غلط کیا ؟ کیا یہ میرا حق نہیں تھا اپنے شوہر کے لیے تیار ہونا ؟ ” ۔۔۔ آنسو تھے کہ امڈے ہی چلے آرہے تھے ۔۔ اُسنے توے سے پھولی روٹی کو اُتارا اور وہ پھٹ گئ گرم بھاپ نے ہاتھ کے پشت کی مہندی کو گہرا کردیا ۔۔۔ ” میں نہ پھٹی تو روٹی ہی سہی” وہ دھیرے سے بڑبڑا ئ ۔۔
“باجی میں نے کھا لیا، باقی روٹیاں میں ڈال لوں گی،،، آپ جا کر بیٹھیں ” نسرین نے اُسکے ہاتھوں سے بیلن چھینتے ہوۓ کہا اور وہ کچھ نہ بولی بس چپ چاپ میز پر جا بیٹھی، سر جھکاۓ ۔۔۔
آخر کار فہد پردہ ہٹاتا کمرے میں داخل ہوا ۔۔۔ ساجدہ گود میں عروبہ کو لٹاۓ تھپک رہی تھی، اور وہ مسکراتا بستر پہ آبیٹھا اُسکے سامنے، آگے جھکا اور اُسکے حنائ ہاتھوں کو تھام لیا ۔۔۔ ساجدہ کے جلے ہوۓ ہاتھ کی تکلیف اور اسکے لمس نے جیسے اُسے لمحے بھر کو پتھر کا کردیا۔۔۔ اُسی لمحے دروازے پر زور سے دستک ہونے لگی ساجدہ نے جھٹکے سے ہاتھ چھڑایا اور ایک چھلانگ سے بستر سے اُٹھ کھڑی ہوئ اور دروازہ کھول دیا ۔۔ ” چھوٹی خالہ اپنے اہل و عیال کے ساتھ آئیں ہیں ۔۔ اماں فہد بھائ کو بلا رہی ہیں ” ۔۔۔ نسرین ایک سانس میں بول گئ۔۔۔۔
دن تھا کہ گھیسٹتا جارہا تھا، ساجدہ نے اتنا مشکل دن پہلے کبھی نہیں گذارا تھا، ایک ایک لمحہ جیسے ابلہ پا، چھبتی طنزیہ نظروں کے کانٹوں سے چھالے پھٹتے ہوۓاورلمحات گزرتے ہوۓ بھی نا گزرتے ہوۓ ۔۔۔ “صبح کرنا شام کا، لانا ہے جوۓ شیر کا” اُسے یہ شعر اپنے آپ پہ مصداق آتا لگ رہا تھا ۔۔۔ وقت چیونٹی کی رفتارسے گزرہا تھا اوراُسے محسوس ہوا سب سے فروری کا سب سے گرم دن آج ہی کا دن تھا ۔۔۔
اس مختصر سے مکان کے ایک چھوٹے سے کمرے میں تین ماہ کی دلہن نے جیسے صدیاں بیوگی جیسے صبر و تحمل سے ، شکایت کے ایک لفظ ، ماتھے کی ایک شکن کے بنا کاٹ لی تھیں ، خواہشات کے جھولے پہ کبھی بیٹھی ہی نہیں، گھر کے لوگ تو جیسے اُسکے وجود اسکے جذبات ، اُسکی ضروریات سے ہی منکر تھے ۔۔ اُنکے سامنے اُنکی اپنی ضرورتیں منہ پھاڑے کھڑی تھیں ۔۔۔
لیکن آج کا ایک دن اُس سے برداشت نہیں ہو رہا تھا ، جسم کی اضطرابی کیفیت اُسے بے چین و بے قرار کیے ہوے تھی ایک دبی دبی گدگدی سی ۔۔ اور جانے کیوں اُسے اپنی اس کیفیت سے شرم سی محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔ اُسے جھرجھری سی آگئ، آج دو مدھ بھر آنکھوں نے اُسکے سوۓ جسم میں بیداریاں جگا دی تھیں، اور وہ بارش کے بعد کی نکھری دھوپ میں کھلی قوسِ قزح بن گئ تھی ۔۔ مگر ۔۔ ابھی بھی کتنے گھنٹے انتظار کے باقی تھے ۔۔۔
اور پھر وہ ساعت آہی گئ ۔۔۔ اُسے یوں محسوس ہوا جیسے وہ دوبارہ سہاگ کے سیج پہ بیٹھی منتظر دلہن تھی ۔۔ ڈرائنگ روم سے آتے قہقہوں کی آوازیں برچھیاں بن کر اُسے چبھ رہی تھیں ۔۔ اور وہ اپنے اندر کی آواز چھپانے کی خاطر تھوڑی بلند آواز سے لوری گانے اور عروبہ کو تھپکنے لگی ۔۔۔ “دھیرے سے آجا رے ۔۔۔”اور اُسے محسوس ہوا شاید وہ اپنے آپ کوتھپک رہی تھی، اپنے جذبات کو سُلا رہی تھی ۔۔۔
“ساجدہ ” انگاروں نے اُسے چھوا اور وہ گھبرا کر اُٹھ بیٹھی ۔۔۔
“شششش عروبہ اُٹھ جاے گی یار” ۔۔۔۔ فہد نے اُسے شانے سے دبا کر بستر پہ ٹکا دیا ۔۔۔
اورآخرش چار سال کے آنسو کے بند آچانک ٹوٹ گۓ ۔۔۔ اسنے حنائ ہاتھوں سے فہد کے کرتے کو کھسوٹ لیا اور طفلِ معصوم کی طرح اُسکے کاندھے پر سر رکھ کے بلکنےلگی۔۔۔
“شششش، میں آگیا ہوں نا ساجدہ تمہارے پاس” ۔۔
لیکن اُسکے آنسؤں کی جھڑی تھی کہ رُک ہی نہیں رہی تھی جیسے سیلاب روکے نہ رُکے ۔۔ لیکن ۔۔ فہد نے سمیٹ لیا “میری گڑیا” ۔۔ اور دھیمے دھیمے سسکیوں کا انداز بد لتا گیا ۔۔۔
” اُ ففف صوفیہ ” فہد کی سسکاری نکلی
۔۔ اور۔۔۔۔
لمحے ساکت ہوگۓ ۔۔۔
چند لمحے صدیوں پہ محیط ۔۔۔
“ساجدہ” ۔۔۔۔ فہد نے ایک کوشش کی پکڑنے کی مگر ساجدہ مچھلی کی مانند پھسل گئ اور سیدھے غسل خانے میں ۔۔ دھڑام ۔۔ دروازہ بند ۔۔
نل سے بہتا ڈھنڈا یخ پانی اُسکے جذبات کو پھر سے منجمد کر چکا تھا ۔۔۔۔

Published inعالمی افسانہ فورمغزالہ پرویز