Skip to content

مفلس

عالمی افسانہ میلہ 2020

افسانہ نمبر 18

“مفلس”

جی۔ حسین غازی

شیخوپورہ, پاکستان۔

“Thus, conscience makes cowards us of all!”- Hamlet

اس کا کوئی دوست نہ تھا۔ یا یوں کہہ لیجیے! اسے اپنی سابقہ زندگی میں سے اپنے بچپن کے کسی بھی دوست کا نام ۔۔۔ باوجود کوشش کے بھی ۔۔۔ یاد نہیں آتا تھا۔ کبھی بہت زور ڈالتا تو پردہ یاداشت پر دھندلی سی, گڈ مڈ سی ہوتی تصویریں ابھرتیں اور کبھی کبھار مدھم سی آوازیں سماعت کو چھیڑ جاتیں۔ اب اس نے ان کے نام اور شکلیں یاد رکھنے کی خواہش ہی ختم کر دی تھی۔ البتہ کسی کسی روز عمدہ قابوں میں سجے قیمتی کھانے سامنے آنے پر اس کے سر کے بائیں حصے میں ایک کوندا سا لپکتا۔ کس طرح اس کے بچپن میں کئی کئی دن ماں اسے سوکھی روٹی کے ٹکڑے پانی میں بھگو کر دیتی اور ساتھ کھسیانا سا ہنستے کہتی ‘ہمارے نبی بھی شوق سے کھاتے تھے’۔ اچھا اس دن تو عید ہوتی جب چاول ابالے جاتے اور ان کی اُتری “پچھ” کو تڑکا لگتا۔۔۔ یا پھر رات کو بھگو دئیے گئے روٹی کے ٹکڑوں میں اگلےدن گڑ ڈال کر میٹھا راتب سا تیار کیا جاتا۔

وہ جب بچوں کو جیب خرچ سے چیزیں خریدتے، کھاتے اور بے فکری میں اچھلتے کودتے دیکھتا تو اسے اپنا بچپن یاد پڑتا کہ وہ مدتوں خالی جیب پھرتا اور دوسرے بچوں کو پیسے خرچتے دیکھتا تو نہ جانے کیوں اسے اپنا آپ گلی کے مدقوق میلے کتے جیسا محسوس ہوتا۔

پھر ایک واقعہ ہوا۔ ان کے خاندان میں کوئی تقریب تھی۔ ایک بڑے شہر سے ایک لڑکی اپنے والدین کے ہمراہ آئی۔ تب وہ غالبا گیارہ بارہ سال کا تھا اور وہ لڑکی سترہ اٹھارہ برس کی ۔۔۔ سیپ سے نکلے نمدار دودھیا شہہ موتی جیسی! جب پہلی شام سب کے سامنے کھانا رکھا گیا تو اس دودھیا چہرے پر بنے گلابی ہونٹوں سے شہد سے بھی میٹھی آواز آئی۔ ‘اسد اللہ! تم میرے ساتھ اس پیالی سے کھانا کھاؤ’۔ ہاں! اسے آج بھی یاد ہے وہ ایک شادی کے تقریب تھی۔ وہ بڑے شہر کی لڑکی سات دن وہاں رہی۔ اسداللہ بن نامعلوم کے لیے چھوٹی سے زندگی کے معنی بدل گئے۔ اسی کی ہڈیوں پر منڈھی خشک کھال اور اس سوکھے خشک سے بدن پر جھولا نما نیکر اور کیرولین کی بوشرٹ ہی اس کو میسر پہناوا تھا۔ لیکن اب اس کی خشک جلد میں کچھ چمک سی آ رہی تھی۔ ہاں! یاد آیا! اس شہری لڑکی کو سب دیبا دیبا پکارتے تھے۔ ادھر دیبا تھی کہ صرف اسداللہ کو بھگاتی پھرتی۔

ان سات دنوں دیبا نے کھیتوں میں دوڑیں لگائیں۔ ‘اسد اللہ اسداللہ! تم مجھے پکڑ کے دکھاؤ تو!!!’ اور وہ اسے شکاری کتے کی طرح جا پکڑتا۔ وہ خود، اسے پکڑنے کا کہہ کر جوش میں دوڑ پڑتا اور آن ہی آن میں بہت دور نکل جاتا۔ اسے پیچھے تھکی تھکی، عاجزانہ آوازیں کانوں میں پڑتیں۔ ‘اسداللہ اوئے اسداللہ رک جاؤ!!! میں تھک گئی! میں تمھیں نہیں پکڑ سکتی! دیکھو! رک جاؤ!’ وہ گھبرا کے مڑتا۔ پہلے سے بھی زیادہ قوت سے دوڑتا۔ اپنے آپ کو کوستا ہوا اس کے قریب آ کے گر جاتا۔ دیبا اس کی آنکھوں میں ندامت کی نمی محسوس کرکے ہنس دیتی اور نیچے بیٹھ کر اس کے کیچڑ ہوتے بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگ جاتی۔

اسے آج تک جو چند باتیں نہ بھول سکیں تھیں ان میں دیبا کے سراپا کی خوشبو بھی تھی۔ شام کو صحن اور چھتیں چارپایوں سے بھر جاتیں تو وہ اسے چھت پر اپنی چارپائی پر ساتھ لٹا کر شہر کی باتیں، تعلیم کی اہمیت، ستاروں کے جھرمٹوں پر اور نہ جانے کیا کیا سناتی جاتی ۔۔۔ اور وہ خوشبوئے سراپا میں گم تقدیر کی ایسی گرہوں میں بندھتا جاتا جن کو پھر وہ کبھی نہ کھول سکا۔

‘اسد اللہ! پتا ہے میں صرف تم سے ہی بات کیوں کرتی ہوں؟ صرف تم سے ہی کیوں کھیلتی ہوں؟ صرف تمھیں ہی کیوں اپنے ساتھ کھلاتی ہوں؟” ایک دن اس نے رات کو چارپائی پر ساتھ لیٹے اسداللہ سے پوچھا تھا۔۔۔

زندگی کے اگلے پچاس برسوں میں ان گنت سورج طلوع ہوئے اور ڈوبے ۔۔۔ تعلیم مکمل ہوئی۔ اس نے عوام کی خدمت گزار اشرافیہ کا حصہ بننے کا خواب دیکھا۔ اسے یاد پڑتا جب وہ کالج میں زیر تعلیم تھا تو ایک اور آمر نے ملک پر قبضہ کر کے سارے آسمان پر سیاہ روغن پھروا دیا تھا۔ اسداللہ نے اس کے خلاف جدو جہد کرنے والوں کا ساتھ دیا۔ وہ قید رہا۔۔۔ عقوبت خانے میں دنوں کے حساب سے بے لباس رکھ کر اس کی خود داری و انقلابی روح کو کچلنے کا ہر حربہ استعمال کیا گیا۔ سیاہ آسمان کے تنبو کے نیچے ماہ و سال گزرتے رہے۔ مدتوں بعد آسمان کی سیاہی دھل گئی۔ لیکن نئی صبح نور سے خالی تھی۔ سماج مدتوں خوف کے سایوں میں پل کر منافقت کے نئے ہنر سیکھ چکا تھا۔ دنیا بھر سے قدیم و جدید دانش مندوں کی دانش, بصورت کتب اس کا اثاثہ بنتی گئی۔ پھر قسمت نے یاوری کی ۔۔۔ اسداللہ سے جناب، سر، چوہدری اور ملک صاحب جیسے القابات ملے۔ وہ کسی کو نہ ٹوکتا نہ روکتا۔۔۔ جس کو وہ جیسا لگتا وہ اسکو ویسے پکار لیتا اور وہ انھیں سپاٹ آنکھوں سے دیکھتا رہتا۔

ساٹھ سال کی عمر عبور کرنے تک وہ بھولنے لگ گیا تھا ۔۔۔ حتی کہ کل کیا ہوا تھا، وہ بھول جاتا۔ اسے لگتا عمر گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کے دل کے خانے میں سجی دو رنگی تصویر میں سُچے موتی کی چمک اور جدائی کی سیاہی گہرے ہوتے جاتے تھے۔

دیبا کے چلے جانے کے بعد پچاس برسوں میں، وقت گزرنے کے ساتھ، انتھک محنت، دھوپ چھاؤں جیسے معمولات زندگی کی دھول بڑھتی رہی ۔۔۔ لیکن پھر کسی ہونٹوں سے اس نے نہ سنا۔۔۔’اسداللہ مجھے پکڑ کے دکھاو تو مانوں’

خود بطور اسد اللہ ابن بے نام، اس میں جرات پیدا ہی نہ ہو سکی کہ وہ کسی کو کہتا۔’دیبا تم بھاگو! میں تمھیں جلد ہی پکڑ لوں گا!’ ویسے بھی کاروباری مسابقت میں سرکاری اہلکاروں کا ڈھٹائی سے پیسے بٹورنا اس کی روح کو جھنجوڑتا۔ اس کی خود داری کا قتل ہوتا رہتا۔ سوچتا دیبا تو اغوا ہو کر اس کے لیے زندگی میں نشان رہ گزر بن گئی لیکن سماج میں ہر نئی حکومت کے ساتھ استحصال کی ایجاد ہوتی نئی شکلوں سے کس طرح مفاہمت پیدا کرتا؟ وہ سب بھول کر ایک مثالی ملک کا عام مثالی انسان بن کر رہنا چاہتا تھا۔

پھر ساٹھ برسوں کی یادوں پر ایک رحمت اتری ۔۔۔ وہ تنہائی میں اترنے کے راز کو پا گیا۔ ہجوم میں ہوتا تو سر کے بائیں کرے پر دھمک پڑتی۔ کتنی بار وہ اس بڑے شہر گیا ۔۔۔ شاید سفید اور کالی تصویر میں بھرنے کو رنگ اور وہ نایاب خوشبو مل جاتی۔ وہ سب بھلا بیٹھا۔

وہ بیوی سے کہتا۔ ‘تم مجھ سے ہفتہ پہلے، مہنیہ پہلے یا برسوں پہلے کی باتیں کیوں پوچھتی ہو؟ مجھے کچھ یاد نہیں۔ مجھے آج کیا کام کرنے ہیں، صرف وہ بتایا کرو ۔۔۔ کوئی کمی چھوڑوں تو تمھارا مجرم۔ ماضی نہ پوچھا کرو، للہ کچھ یاد نہیں۔’ وہ سٹپٹا جاتی۔ عاجز آکر اس کے سپاٹ چہرے، روکھی آنکھوں میں دیکھتی۔ وہاں کچھ بھی نہیں ہوتا تھا۔ اسے یوں لگتا وہ آج ہی دنیا میں آیا ہو۔ وہ اسے مستقبل میں کوئی بڑا کاروبار کرنے یا کاموں کی تفاصیل بتاتی تو اطمینان سے کہتا۔ ‘ کیا ہم کل دنیا میں ہونگے؟ مجھے صرف آج کے کام نبٹانے ہیں۔’ وہ اسے کچھ نہ کہتی بس اسے اطمینان سے جاتا دیکھتی رہ جاتی۔ اسے یوں لگتا جیسے وہ انسان اپنا ماضی اور مستقبل اپنی یاداشتوں سے کھرچ کر کہیں رکھ کر بھول گیا تھا۔

وہ کبھی اس کی کوئی خواہش پوچھتی تو چہرہ جھکا کر اپنے سینے سے لگا لیتا یا منہ پرے کرے کے لمبی سوچ میں ڈوب جاتا۔ آخر ایک روز ایسے ہی کسی سوال پر اس نے کہا۔’ میں نے اپنے اندر خوب جھانک لیا ہے۔۔۔ میں اتنا ‘مفلس’ ہو چکا ہوں۔ ۔ ۔ میں تمھیں دکھ بھی نہیں دے سکتا ۔۔۔ میری محنت سے کمائی دولت تم پر احسان نہیں بلکہ تمہارا نصیب ہے۔ وہ تمھیں کما کے دیتا رہوں گا۔’ اس روز بھی سر کے بائیں جانب درد کا ہتھوڑا سا پڑا تھا۔ ‘اور سنو! مجھے تم سے ڈر آتا ہے۔ تم وہ سب نہیں سن سکو گی جو میں بتاؤں گا ۔۔۔ پر سوچو! تمھیں سب جان کر حاصل کیا ہو گا؟ تم میری بیوی ہو۔ تم نے میرے گھر کی تکمیل کی۔ اولاد پیدا کرکے، پڑھا لکھا کے باہر کے ملکوں روانہ کر دی۔ تم میری روائتی بیوی ہو۔ میں تمھیں ہرگز دکھی نہیں کرنا چاہتا۔۔۔ میرا کوئی دوست ہوتا تو اسے بتاتا۔ اس پہلو سے بھی ‘مفلس’ ہی رہا۔ تم میری دوست نہیں ہو۔’

وہ عاجز آ جاتی ۔۔۔ سٹپٹا جاتی۔ کریدنے سے باز نہ آتی۔ وہ بھی ہر بار لمبے لمبے استغراقی وقفوں کے بعد ویسے ہی مبہم سے جملوں میں جواب دیتا رہتا۔ ایک روز بولی۔ ‘مجھے تمھاری حالت سے ڈر آنے لگ گیا ہے۔’ وہ تڑپ کر بولا۔ ‘ساری دنیا سے ڈرنا۔ مجھ سے نہ ڈرنا۔ میں ہی تو تمہارا واحد دوست ہوں۔ مجھ سے شادی سے پہلے کی زندگی میں جو جو نرم گرم تمھارے ساتھ پیش آیا تم نے میری جھولی میں ہی تو ڈالا تھا۔ میں نے کبھی اعتراض کیا؟ کیونکہ تب تم اپنی زندگی میں کچھ بھی کرنے کو آزاد تھیں۔ اس لیے میں ہی تمہارا حقیقی دوست ہوں۔ برسوں بعد بھی تمہیں احساس نہیں ہو سکا، حیرت ہے۔

پھر۔۔۔اس کے بعد وہ ان باہمی مکالمات کو بھی بھول گیا۔

لیکن اکثر رات کے پر سکوت لمحوں میں وہ یہ ضرور سوچتا۔ ‘کیسے ممکن ہے؟ ویسی مہک کسی اور بدن سے نہ آئی۔ اس نے ہڈیوں پر چمڑہ منڈھے لڑکے کو ہی اذنِ مجلس کیوں دیا تھا؟ اس کو بڑے شہر کی ہیرا منڈی کے کنجر اغوا کر کے لے گئے تھے۔ اس نے تب ہی سنا تھا اس کے حقیقی باپ کا کسی کو علم نہ تھا بلکہ اس کی ماں کو بھی۔ اس کی ماں کو خریدا تو وہ بطور “پچھلگ اولاد” ساتھ آئی تھی۔ جب ماں مری تو کنجر اس کے سوتیلے باپ سے واپس لینے کی کوشش کرتے رہے, جب وہ نہیں مانا تو کنجروں نے اغوا کروا لیا۔ اس نے عورتوں کو کہتے سنا ‘ توبہ توبہ’ کنجر بہت زورا ور ہوتے ہیں۔ ان کی بڑی پہنچ ہوتی ہے۔’ اس کے سر میں درد کی ضربیں شدید ہو گئیں۔ اس نے سوچا وہ خبر سن کر اسی وقت مر کیوں نہیں گیا تھا؟ وہ پھر بھی بڑے شہر اس خوشبو اور شفق چہرہ کی تلاش میں کیوں جاتا رہتا ھے؟’ جب سوالوں کے جواب نہ ملتے اور سر کے بائیں جانب ٹیسیں اٹھتیں تو بے قرار ہو کر وہ بیچارگی میں اٹھتا۔ کتابوں کی الماریاں کھولتا ۔۔۔ کتابوں پر ہاتھ پھیرتا ۔۔۔ اپنے آپ سے حیرت زدہ سا ہو کر پوچھتا۔ ‘ کیا میں نے یہ سب کتابیں کبھی پڑھی بھی تھیں یا یونہی خرید خرید کر رکھتا گیا؟

اچھا!!! ‘ان کتابوں نے ہی مجھے سب کچھ بھلا دیا! مجھے میرے ماضی سے نفرت کروا دی، مستقبل چھین لیا۔ ہاں! یہ کتابیں ہی ہیں!’ وہ چلا اٹھتا۔

وہ سر جھٹکتا۔ زور لگا کے سوچتا۔ میرے سر میں اٹھتی ٹیسوں کا کارن تو شاید بے ضمیر، موقع پرستوں کا تہہ در تہہ جم غفیر ہے! غیرت، عزت نفس یا اجتماعیت کو کچھ اس طرح ریزہ ریزہ کیا گیا کہ مدتوں جدو جہد کے بعد بھی وہ اور ہم خیال کچھ نہ کر سکے۔ پھر وہ ان سب باتوں کے تصورات سے بھی مبرا ہو گیا۔

اس کا یقین تھا ہر نظام میں ‘اشرافیہ سماج کا دماغ ہوتی ہے’۔ جب دماغ ہی خراب ہو جائے تو جسم کے اعضائے رئیس کو کئی جانے ان جانے سرطان کھا جاتے ہیں۔

‘اسداللہ بن نامعلوم’ ۔۔۔ ‘دوستوں کے دھوکے’ ۔۔۔ ‘سماج کی کینسر زدگی’ ۔۔۔ یہی سوچیں رات کو دائرے میں گھوم گھوم کر رقص کرتیں تو اس سے فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا کہ اس کی تنہائی کا ان میں سے اصل سبب کیا تھا؟

ایک روز حسب معمول تیار ہوا ۔۔۔ نفیس لباس زیب تن کیا ۔۔۔ بیوی کو بتایا۔ ‘آج بڑے شہر جانا ہے۔’ وہ پورے اطمینان سے چلا گیا۔

اور پھر کبھی لوٹ کر واپس نہ آیا۔۔۔

Published inعالمی افسانہ فورمغلام حسین غازیمرد افسانہ نگار