Skip to content

مصور

عالمی افسانہ میلہ 2018
افسانہ نمبر..113
“مصور”
ساحل فخر ، لاہور پاکستان

مال روڈ پر خوب شوپنگ کرنے کے بعد جب وہ دونوں گاڑی میں بیٹھیں تو اچانک نمرہ نے کہا اوہ یار میں تو بھول ہی گئی ،
کیا ؟ نمرہ کی سہیلی منزہ نے پوچھا ،
یار کل میرے کزن فہد کی سال گرہ ہے اُسے آرٹ کی تصویریں بہت پسند ہیں گھر سے نکلے سے پہلے سوچا تھا کہ وہ بھی خریدوں گی باتوں باتوں میں بھول ہی گئی ،
اور یہ فہد کزن کون ہیں ؟ منزہ نے شوخی سے پوچھا ،
بتاتی ہوں بھئی پہلے یہ بتاؤ کہاں چلیں ؟ نمرہ نے مسرت بھرے لہجے میں کہا ،
اِدھر نیلا گنبد کی طرف چلتے ہیں منزہ نے مشورہ دیا ،
نمرہ بغیر کچھ کہے گاڑی اسٹارٹ کی روڈ پر لاتے ہوئے کہا ،
فہد میرا بڑا کزن ہے دو سال سے ً قطر ً میں ہے ابھی ایک ماہ کی چھٹی پر آیا ہوا ہے ان دنوں میں اُس کی نظروں میں رہوں گی تو ہو سکتا ہے وہ مجھے پسند کر لے اتنا پڑھا لکھا اور اتنی بڑی جائیداد کا اکلوتا وارث ہے آخر کون پاگل لڑکی اُسے اپنے خوابوں کا شہزادہ نہیں کہے گی ،
وہ دونوں باتیں کرتے ہوئے نیلا گنبد کے پاس آ گئے پاس ہی آرٹ کی بہت سی دُکانیں تھیں ایک دکان کے سامنے گاڑی کھڑی کر کے دُکان کے اندر پہنچیں دُکان دار نے خوش آمدید کہا ،
مجھے کسی اچھے مصور کی تصویر دکھائیں نمرہ نے دُکان دار سے مخاطب ہو کر کہا ،
دُکان دار نے ایک تصویر دکھاتے ہوئے کہا یہ دیکھیے بہت اچھے مصور نے بنایا ہے ، تصویر میں سمندر کے کنارے دو کشتیاں باندھی کھڑی تھیں ،
نمرہ نے ایک نظر اُس تصویر پر ڈال کر کہا نہیں بھائی صاحب مجھے ایسی تصویر نہ دکھائیں کچھ اور دکھائیں ،
جی اچھا ، دُکان دار عاجزی سے کہتے ہوئے دُکان کی پچھلی طرف گیا دو تصویریں اور اُٹھا لایا،
یہ دیکھیے بہت کمال کی مصوری ہے ،
ایک تصویر میں دور سے پہاڑ دکھائے دے رہے تھے نہچے ندی نالے پتھر وغیرہ نظر آ رہے تھے،
دوسری تصویر میں دیہات کے ایک گھر کا منظر تھا ایک سر سبز درخت کے پاس پانی کا نلکا لگا ہوا تھا اور دو عورتیں کپڑے دُھو رہیں تھیں ،
نمرہ نے منہ بسورتے ہوئے کہا ارے نہیں بھائی صاحب مجھے ایسی تصویریں بالکل پسند نہیں ، کچھ الگ سے کچھ ہٹ کر ہے تو بتائیے نہیں تو ہم کسی اور دُکان پر چلتے ہیں ،
اچھا ٹھہریں ایک پیس اور دکھاتا ہوں پھر جیسے آپ کی مرضی ، دُکان دار نے کہا اور پاس پڑے کاٹن میں سے کچھ تصویریں نکالیں اور اُن میں ایک تصویر چُن کر باقی تصویریں کاٹن میں رکھ دیں ،
یہ دیکھیے دُکان دار پُر اُمید لہجے میں بولا ،
اُس تصویر میں لڑکا اور لڑکی ایک دوسرے کا ہاتھ تھامی کھڑے تھے دور سے پیرس کا ایفل ٹاور نظر آ رہا تھا آسمان پر بادل منڈلا رہے تھے اور تصویر کے ایک کونے میں پرندے اُڑتے دکھائی دے رہے تھے ،
نمرہ نے تصویر دیکھی پھر تصویر سے نظر ہٹائے بغیر خوش ہو کر بولی یہ ہوئی ناں بات ، ایسی تصویر تو لینا چاہا رہی تھی ، یہ تصویر اور دیوار پر لگیں کچھ تصویروں کے ایک کونے میں
ً سلمان فاروقی ً لکھا ہوا ہے شائد ایک ہی مصور نے بنایا ہے آپ بھی کیسے دُکان دار ہیں ایسی تصویریں چھپا کر رکھتے ہیں ، نمرہ اپنی خوشی کی روانی میں بولتی چلی گئی ،
نمرہ نے منزہ کو تصویر دکھاتے ہوئے کہا دیکھو کیسی تصویر ہے ؟
ہاں اچھی ہے بس جلدی کرو دیر ہو رہی ہے ،
دُکان میں داخل ہونے سے اب تک منزہ جو خاموش تماشائی بنی ہوئی تھی ، اب جا کے بولی ،
بھائی صاحب یہ جلدی سے پیک کر دیں ، نمرہ نے تصویر دُکان دار کو دیتے ہوئے کہا ،
جی اچھا ،
کچھ ہی دیر میں پیک شدہ اور پسندیدہ تصویر نمرہ کے ساتھ میں تھی نمرہ نے قیمت سے زیادہ معاوضہ ادا کیا اور وہ دونوں دُکان سے باہر نکل آئیں نمرہ نے سڑک کے پار فروٹ کی لگی ریڑھی دیکھی تو منزہ کو پیک شدہ تصویر دیتے ہوئے کہا تم گاڑی میں بیٹھو میں فروٹ لے کر آتی ہوں یہ کہتے ہوئے نمرہ چلی گئی،
اسی دُکان کے باہر ایک نوجوان جوتا سلائی کر رہا تھا منزہ کی اُس پر نظر پڑی تو وہ آگے بڑھتے بڑھتے روک گئی ، اور بغور سے جوتا سلائی کرتے ہاتھوں کو دیکھنے لگی
غور کرنے کی ہی بات تھی کہ اُس نوجوان کے دونوں ہاتھوں میں ایک ایک اُنگلی ایک ایک انگوٹھا تھا ، وہ بڑی مہارت سے جوتا سلائی کر رہا تھا ،
نوجوان نے کسی کی موجودگی محسوس کی تو سر اُٹھا کر منزہ کو کھڑے پایا تو پوچھا جی فرمائیے ،
منزہ نوجوان کے تمیز بھرے لہجے سے چونکی چوں کہ اُسے اس طرح کے کسی پیشہ سے تعلق رکھنے والے کو تمیز سے بات کرنے کی توقع نہیں تھی ،
منزہ ہلکی مسکراہٹ سے بولی ، ہم تصویر لینے آئے تھے آپ کو کام کرتے دیکھا تو ٹھہر گئی ،
کوئی حادثہ پیش آیا یا پیدائشی ہی ۔۔۔۔۔۔ منزہ نے ادھورا فقرہ چھوڑا ،
نوجوان اُس کا سوال سمجھ گیا تھا کہا ،
پیدائشی ہی ایسا ہوں مگر اپنے رب کی رضا میں راضی ہوں ،
نواجوان کے لہجے میں جو اطمینان و سکون منزہ نے محسوس کیا شائد ہی کبھی محسوس کیا ہو ،
اچھا میں چلتی ہوں ، منزہ نے کہا اور پاس کھڑی گاڑی کی طرف بڑھی موسم خوش گوار ہو گیا تھا آسمان پر گہرے بادل تیرتے نظر آ رہے تھے منزہ موسم کے بدلتے تیور دیکھ رہی تھی ٹھنڈی ہوا چل پڑی منزہ نے ہاتھ میں تھامی تصویر کو گاڑی میں رکھ دی اور بیٹھنے کی بجائے باہر کھڑی ہو کر نمرہ کر انتظار کرنے لگی ،
منزہ کی دوبارہ جوتا سلائی کرتے نواجوان پر نظر پڑی وہ اپنے کام میں مگن تھا جس سے انہوں نے تصویر لی وہ دُکان دار اُس نوجوان کے پاس آ کر ایک کرسی پر بیٹھ گیا ، وہ دونوں باتیں کرنے لگے ہوا کے دوش پر ایک فقرہ منزہ کے کانوں تک پہنچا دُکان دار نوجوان کو کہہ رہا تھا کہ
سلمان میاں دنیا بڑی عجیب ہے ،
نوجوان جس کا نام دُکان دار نے سلمان لیا تھا مسکرا دیا ،
سلمان کے نام پر منزہ کو جانے کیوں تجسس ہوا اور وہ تجسس کے باعث ذرہ آگے بڑھی کہ اُن کی مزید کوئی بات سُن سکے ،
سلمان کہہ رہے تھا کہ ماموں جان دُنیا عجیب نہیں اس دُنیا میں جو لوگ بستے ہیں اُن میں کچھ لوگوں کی سوچ عجیب ہے ،
دُکان دار نے کچھ رقم گنتی کر کے نوجوان کو دیتے ہوئے کہا یہ رہا تمہارا معاوضہ ،
ویسے تمہارا ابا فاروقی صاحب ٹھیک ہی کہتے تھے کہ لوگ مصوری کو مصور کی نگاہ سے نہیں دیکھ سکتے ،
نوجوان دوبارہ مسکرا دیا اور اپنے کام میں مصروف ہو گیا ، دُکان دار کے بھی گاہک آ گئے وہ اُٹھ کر دُکان کے اندر چلا گیا ،
اس اثناء میں نمرہ آ گئی اور وہ دونوں گاڑی میں بیٹھ کر دنیا کی گہما گہمی میں گم ہو گئے

Published inساحل فخرعالمی افسانہ فورم