Skip to content

مسز رحمان

عالمی افسانہ میلہ 2015
افسانہ نمبر 65
مسز رحمان
اقبال حسن خان، اسلام آباد، پاکستان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مسز رحمان پر ہمارے دفتر کے تقریباً سبھی مرد عاشق تھے۔ یوں تو ہمارے ہاں دفتروں میں کام کرنے والی عورت کیسی ہی شکل و صورت کی ہو، یار لوگ اکثر اُس پہ عاشق ہو ہی جاتے ہیں لیکن اگر مسز رحمان پہ لوگ عاشق تھے تو اس کی ایک نہیں کئی وجوہات تھیں۔ مسز رحمان ڈھاکہ کی رہنے والی تھی تو اُس کے بال اور آنکھیں سیاہ تھے، رنگ کھلتا ہوا سانولا تھا جسے وہ میک اپ کی مدد سے تقریباً گورا بنا لیا کرتی تھی۔ مسز رحمان کے چہرے پر آنکھوں کے بعد نمایاں چیز اُس کے ہونٹ تھے۔ میں الفاظ میں ان کا نقشہ نہیں کھینچ سکتا کیونکہ میں کتنے ہی اچھے الفاظ استعمال کر لوں، اُن کی تعریف بیان نہیں ہو سکتی۔ مسز رحمان طویل القامت عورت تھی اور ہمیشہ ساڑھی میں ملبوس رہتی تھی۔ سنا تھا کہ اُس کے کسی عزیز کی ڈھاکہ میں ساڑھیوں کی ہی دکان تھی جو جب بھی کوئی نیا رنگ آتا وہ دو چار ساڑھیاں اُسے بھجوا دیا کرتا تھا۔ وہ بیوہ تھی۔ شوہر کا چند سال قبل انتقال ہو چکا تھا۔ وہ بھی ہمارے ہی محکمے میں ملازم تھا لیکن میں نے اُسے نہیں دیکھا تھا کیونکہ یہ میرے یہاں تبدیل ہو کے آنے سے پہلے کی بات تھی۔ مسز رحمان کی دو بچیاں تھیں، ایک اُس وقت فرسٹ ائیر میں تھی اور دوسری سکول کی آخری جماعتوں میں۔ مسز رحمان ہر کسی سے ہنس کے بات کرتی تھی، اپنا کام دل جمعی سے کرتی تھی اور ٹھیک پانچ بجے گھر کے لئے روانہ ہو جاتی تھی۔ وہ ہمیشہ گہرے میک اپ میں رہتی تھی اور پیر بخش چپراسی نے قسم کھا کر بتایا تھا کہ ایک مرتبہ جب ایم ڈی صاحب بیرون ملک دورے پر جا رہے تھے تو اُنہیں مسز رحمان کی دراز سے کچھ ایسے کاغذات کی ضرورت پڑی تھی جو وہ دن میں اُس سے لینا بھول گئے تھے اور پیر بخش چابیاں لینے اُس کے گھر گیا تھا تو وہ رات کے ڈیڑھ بجے بھی پورے میک اپ کے ساتھ ہی دروازے پر آئی تھی۔ پیر بخش چرس پیتا تھا، اور تنخواہ ملتے ہی ریس کھیلنے جایا کرتا تھا تو کسی نے اس کی اس بات کا یقین نہ کیا۔ مسز رحمان کے عاشقوں میں جو شخص سر فہرست تھا وہ ہمارا منیجر سیلز سلطان تھا۔ طویل القامت اور فارغ البال۔ ہر وقت پان چباتا اور خود کو عورتوں پر اتھارٹی سمجھا کرتا تھا۔ سلطان نے مسز رحمان کو آسان شکار سمجھ کر اُسے پہ ڈورے ڈالنے کی بارہا کوشش کی تھی مگر وہ چونکہ کسی بھی مرد کو ، کام کے حوالے کے سوا منہ نہیں لگاتی تھی تو اُس نے سلطان کو بھی منہ نہیں لگایا۔ سلطان مایوس نہیں تھا۔ وہ ہمیشہ مجھ سے کہتا۔
سالی دفتر کے فرش پہ نہیں، میرے دل پہ چلتی ہے۔ایک دن اس کی لٹک مٹک نہ نکال دی تو میرا نام بھی سلطان نہیں.”
میں اُس دن کا منتظر تھا۔میں ایک دوسرے شہر سے آیا تھا۔ چھ ماہ ہم نے ایک انتہائی تنگ گھر میں گزارے۔ ڈھنگ کا مکان ملتا ہی نہ تھا اور اس سلسلے میں کوشش جاری تھی۔ یہ کوشش رنگ لائی اور مجھے ایک اچھا مکان مل گیا۔ یہ بس اتفاق تھا کہ ہمارا یہ گھر مسز رحمان کے گھر سے چار چھے گھر چھوڑ کر تھا۔ میں شام کی واک کے لئے نکلتا تو وہ مجھے کبھی اپنے برآمدے میں بیٹھی، کبھی لان میں پائپ سے پانی دیتی دکھائی دیتی۔ کبھی وہ تنہا ہوتی اور کبھی ایک یا دونوں بیٹیاں اُس کے ساتھ ہوتیں۔ ایک مرتبہ ہم رات کے گیارہ بجے کہیں سے واپس آئے۔ شدید گرمیوں کے دن تھے۔ میں نے مسز رحمان کو گھر کے برامدے میں بیٹھی کتاب پڑھتے دیکھا وہ اُس وقت بھی پورے میک اپ میں تھی۔ میں نے اس کا تذکرہ سلطان سے کیا تو وہ جل کر بولا۔
مانو نہ مانو۔سالی دھندہ کرتی ہے۔ دیکھتے نہیں یہ نئی نئی ساڑھیاں۔ یہ سونے کی چین۔ کل سے ہاتھ میں یہ موٹا سونے کا کڑا ڈالے پھر رہی ہے۔ بھیا ہم تو تنخواہ دار آدمی ہیں۔ ہم سے کیوں پھنسنے لگی سالی؟
سلطان دیر تک بکتا جھکتا رہا۔ پیر بخش چپراسی نے ایک دن میرے کان میں اُس وقت دھیرے سے کہا جب مسز رحمان ہال سے گزرتے ہوئے میری میز کے قریب سے گزری تھی۔
سلطان صاب ویسے ہی گرم ہو رہے ہیں سر جی۔ یہ بہت اُونچا کام ہے۔ سلطان صاحب تو مہینے کے آخر میں مجھ سے اُدھار لے کے سگریٹ کا خرچہ پورا کرتے ہیں۔
مجھے اب دھیرے دھیرے یقین ہونے لگا کہ مسز رحمان وہ نہیں تھی جو دکھائی دیتی تھی۔ اُس کا ہروقت کا میک اپ میرے شک کو مہمیز دیتا تھا۔ عورتیں کتنی بھی فیشن ایبل ہوں، دن بھر خود کو کتنا ہی لیپ پوت کے رکھیں، سوتے وقت ہر عورت میک اتارتی ہے۔ مسز سلطان کا میک اپ کیسا تھا جو چوبیس گھنٹے برقرار رہتا تھا؟
رات کے ڈیڑھ بجے میری بیوی نے مجھے سوتے سے جگایا۔ چھوٹی لڑکی کے پیٹ میں شدید درد تھا۔ بیوی دیسی دوا دارو کر چکی تھی اور بچی کو اب ہسپتال پہنچائے بغیر چارہ نہ تھا۔ وہ موبائل فون کا زمانہ نہ تھا اور نہ ہی ہمارے گھر میں فون تھا۔ میرا سالا چند میل دور ایک ہسپتال میں کام کرتا تھا۔ میں نے اُسے فون کرنے کا فیصلہ کیا۔ میں چونکہ اس علاقے میں نیا تھا تو کسی کو اتنا زیادہ نہیں جانتا تھا اور پھر رات کے ڈیڑھ بجے کسی کا دروازہ کھٹکھٹانا مجھے اچھا نہیں لگا جبکہ مسز رحمان چند گھر چھوڑ کر رہتی تھی اور اُس کے گھر میں فون بھی لگا ہوا تھا۔ میں تیز قدموں سے چلتا اُس کے گھر پہنچ گیا۔ گھر کے گرد چار دیواری نہیں تھی۔ کھٹے کی باڑھ لگی تھی اور ایک چھوٹا سا علامتی قسم کا دروازہ۔ میں برامدے کے دروازے پر پہنچا اور میں نے گھنٹی پر اُنگلی رکھ دی۔ مسز رحمان نے دروازہ کھولا۔ پریشانی کے باوجود میں حیرت زدہ رہ گیا۔ وہ اس وقت بھی میک میں تھی۔ یہی نہیں اُس نے کانوں میں بیلے یا چنبیلی کے سفید پھول بھی اُڑس رکھے تھے۔ دروازہ کھولتے ہی خوشبو کا احساس دو چند ہو گیا۔ میں نے اپنی مشکل بیان کی۔ وہ مجھے گھر کے اندر لے گئی۔ میں نے فون کیا اور میرا سالا دوائیوں کے ساتھ دس پندرہ منٹ میں پہنچ گیا۔ میرا مسئلہ حل ہو گیا لیکن مسز رحمان کے تعلق سے اُلجھن بڑھ گئی۔ وہ جب بھی دفتر میں ملتی اُسے دیکھتے ہی مجھے خیال آتا کہ یہ عورت اچھی نہیں ہے۔ اُس رات جب میں فون کی تلاش میں اُس کے گھر گیا تھا تو وہ یا تو کہیں سے آرہی تھی یا جا رہی تھی ورنہ ایک گھریلو عورت رات کے ڈیڑھ بجے مکمل میک اپ میں نہیں ہو سکتی تھی۔ میں نے سلطان سے اس بات کا تذکرہ کیا تو وہ میری ران پہ ہاتھ مار کے بولا۔
میں نہ کہتا تھا کہ سالی….۔” وہ دیر تک مسز رحمان کے حوالے سے اپنے جنسی منصوبوں کا اظہار کرتا رہا۔ مجھے مسز رحمان کو اس حالت میں دیکھنے کا دوسرا تجربہ اُس رات ہوا جب اُس کا نوکر مجھے بلانے آیا کیونکہ میں نے اُس کی اجازت سے اُس کا فون نمبر دو ایک رشتہ داروں کو دے رکھا تھا۔ میرے چھوٹے بھائی کا امریکہ سے فون تھا اور اُس احمق نے وقت کا خیال کئے بغیر مجھے فون کر دیا تھا۔ میں نے فون سنا۔ بھائی کو سرزنش کی اور جب میں چلنے لگا تو میں نے وہ کانٹا دل سے نکالنے کا فیصلہ کیا جو کتنے ہی مہینوں سے مجھے چبھ رہا تھا۔ میں نے مناسب معذرت کے بعد کہا۔
مسز رحمان۔میں آپ سے کچھ پوچھوں تو آپ برا تو نہیں مانیں گی؟
اُس کے ناقابل بیان ہونٹوں پر مسکراہٹ گہری ہوئی اور وہ بولی۔
’’
ضرور پوچھیں”۔
میں نے کہا۔
’’
میں نے آپ کو بغیر میک اپ کے کبھی نہیں دیکھا۔ دن میں تو بات سمجھ میں آتی ہے۔اتنی رات گئے….‘‘
مجھے شاید بات مکمل کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔وہ بیٹھی اور مجھے بھی بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہو ئے سنجیدگی سے بولی۔
’’
آپ نماز پڑھتے ہیں؟‘‘
سوال گندم جواب چنا شاید اسی کو کہتے ہوں گے۔ میں حیران رہ گیا اور میں نے کہا۔
’’
جی پابندی سے تو نہیں پڑھتا۔ جمعہ البتہ ضرور پڑھتا ہوں۔
مسز رحمان مسکرائی۔
نماز سے پہلے آپ کیا کرتے ہیں؟
میں نہیں سمجھا تو میں نے کہا۔
میں نہیں سمجھا بہرحال میں نہاتا ہوں، صاف ستھرا لباس پہنتا ہوں اور بس۔
وہ مسکرائی۔
نماز پڑھنے کا مطلب ہوتا ہے کہ آپ اپنی محبوب ترین ہستی سے ملنے جاتے ہیں۔ ہے نا؟ میں بھی یہی کرتی ہوں۔ میں سارا دن دفتری الجھنوں کی وجہ سے نماز نہیں پڑھتی۔ تمام نمازیں رات کو قضا پڑھتی ہوں۔ پھر تہجد بھی پڑھتی ہوں۔ پہلے میں گھریلو سادہ کپڑوں میں عام عورتوں کی طرح نماز پڑھا کرتی تھی۔ پھر میں نے ایک دن سوچا۔ میں دوسروں کے لئے ہر روز اتنا سنورتی، سجتی ہوں کہ اُنہیں خوش کرنا چاہتی ہوں تواُس کے سامنے سر جھاڑ منہ پہاڑ صورت میں کیوں جاؤں جس نے مجھے اتنا محبوب رکھا ہے کہ مجھے دنیا کی ہر نعمت دی ہے۔ اُس کا حق مجھ پہ سب سے زیادہ ہے کہ میں اُسے اچھی لگوں۔ہے نا؟ میں اپنا بہترین لباس پہنتی ہوں، بہترین میک اپ کرتی ہوں، مہنگی خوشبو لگاتی ہوں، زیور پہنتی ہوں اور پھر اُس کو سجدہ کرتی ہوں۔ میں تہجد کے بعد میک اپ اُتارتی دیتی ہوں۔

وہ کچھ اور بھی کہہ رہی تھی مگر میں اتنی شدید حیرت کے عالم میں تھا کہ فقط ہلتے ہونٹ ہی مجھے دکھائی دے رہے تھے

Published inاقبال حسن خانعالمی افسانہ فورم