Skip to content

مزدور دوس

عالمی افسانہ میلہ 2018
افسانہ نمبر76
مزدور دوس
رضیہ کاظمی۔نیو جرسی۔امریکہ

“کہاں جات ہو مائی؟ ہمکا چھوڑ کے نہ جا ؤ مائی! ”
چھوٹو نے سکھیا کی ساڑی کا پلوکھینچتے ہوئے کہا ۔
سکھیا کو کام پر پہنچنے میں دیر ہورہی تھی۔ اس نے اپنے پانچ سالہ اکلوتے بیٹے کو خود سے الگ کرنا چاہا تووہ اسکی میلی ساڑی سے اس طرح جھول گیا کہ اس کی گرفت سے چھڑانا مشکل ہوگیا۔اس جدو جہد میں اس نے جو بچے کا ہاتھ پکڑا تو وہ بخار سے تپ رہا تھا۔ایسے دیہاڑی مزدور جن کی زندگی کا انحصارصرف روزانہ کی آمدنی پر ہو وہ گھر رکنے کی عیاشی بھی تو نہیں کرسکتے۔سکھیا نے چھوٹو کوشام کو ٹافی لاکر دینےکا وعدہ کر کےکسی طرح بہلایا۔جلد ہی اسے بخار کی شدت نےببے سدھ کردیا۔اس نے چھوٹو کوگھر کی اس اکلوتی کھری کھاٹ پر آہستہ سے لٹایا دیا جس پر اس کی بوڑھی ساس پہلے ہی سے پڑی ہوئی تھی۔پھروہ بڑی بی کواس کے سر پر پٹی رکھنےاور پہلے ےکھر پر پڑی ہوئی بخار کی گولی کھلانے سے متعلق ہدایتیں دے کر تقریبا” بھاگتی ہوئی کام پر روانہ ہوگئی۔
اس کا شرابی شوہر کنگو دو دنوں سے گھر نہیں آیا تھا۔اکثر وہ اسی طرح غایب ہوجایا کرتا تھا۔کئی بارتومحلہ والوں نے اسے از راہ ہمدردی کیچڑ سے لت پھت گلی سے اٹھا کر گھر پہنچا یا تھا ۔ایسی حالت میں وہ گھر آکرگھنٹوں نیم مردہ حالت میں پڑا رہتا۔کبھی کبھی پینے کی طلب شدت اختیارکرنے پر وہ سکھیا کی پٹائی بھی کردیا کرتاتھا۔اسی صورت حال میں جیسے تیسےان کے زندگی کی گاڑی چلتی جارہی تھی۔غنیمت یہی تھی کہ اپنے طبقہ کے دوسرے خاندانوں کی طرح انھوں نے ابتک کریکٹ یا کم از کم والی بال ٹیم نہیں تیار کی تھی۔
سکھیا اور گنگو کا تعلق بلاسپور کے ایک پسماندہ ان پڑھ مزدور گھرانے سے تھا۔یہاں کے مزدور دوسرے علاقہ کے مزدوروں سے نسبتا” زیادہ محنتی اور ایماندار ہوتے ہیں۔یہاں کی عورتوں کو صنف نازک کی صف میں رکھنا شاید ایک خوبصورت مذاق ہے۔یہ عورتیں اپنے سروں پر ڈیڑ ھ دو درجن اینٹیں رکھ کر بانس کی سیڑھیوں بآسانی چڑھ اتر لیتی ہیں ۔مئی جون کی گرمی اور دھوپ میں ان کی یہ محنت کشی دیکھ کر اجنبی آنکھیں حیرت سے پھٹی رہ جاتی ہیں۔سکھیا لگ بھگ دو سال سے اپنے رہائش گاہ کے نزدیک ہی ایک زیر تعمیر عمارت میں دیہاڑی مزدور لگی ہوئ تھی ۔گنگو بھی یہیں کام کرتا تھا۔گنگو کو مرد ہونے کے ناتے سکھیا سے زیادہ اجرت ملتی تھی مگر اس کی اس آمدنی کا بیشتر حصہ ٹھرا (دیسی شراب) کی نذر ہوجاتا تھا۔
آج سکھیا جب کام پرپہنچی تو پندرہ منٹ دیر ہوجانےکی وجہ سےسزا کے طور پرسپر وائزر نے اسے حاضری رجسٹرپپر انگوٹھا لگانے سے روک دیا ۔بیٹے کی بیماری کے حوالے سےمنت سماجت کرنےپرکسی طرح حاضری تو درج ہوئی لیکن شام کو اسے آدھا گھنٹہ دیر تک کام کرنے کا حکم صادر ہوگیا۔آج کی اجرت بھی اسے ساڑھے پانچ کے بعد ہی ملنی تھی۔بچے کی فکر میں اسے ایسے ہی آج کادن پہاڑ ہوگیا تھا اور ایک ایک پل کاٹنا مشکل ہورہا تھا۔
شام کو سارے مزدوروں کے جانے کے بعد بادل ناخواستہ معینہ مدت تک وہ بکھرے ہوئے سامان سمیٹتی رہی ۔کام سے فارغ ہوکرجب وہ اپنی اجرت لینے آفس پہنچی تو وہ بند ہوچکا تھا۔اسے تو جیسے سکتہ ہوگیا۔دیرتک اسی عالم میں وہیں کھڑی رہنے کے بعد دوڑتی ہوئی چوکیدار کے پاس پہنچی ۔اس سے معلوم ہوا کہ ٹھکیدار نے سب مزدوروں کو اجرت بانٹ کر حسب معمول وقت مقررہ پر دفتر بند کردیا تھا۔اب وہاں اس کی تلاش بے سود جان کے وہ عمارت سے نکل آئی ۔جیسے ہی وہ باہر آئی اسے کہیں سے مائک پر بجنے والے گانے کی آوازیں سنائی دینےلگیں۔گانا تھا:
ساتھی ہاتھ بڑھانا
ایک اکیلامرجائے گا
مل کر بوجھ اٹھانا
ساتھی ہاتھ بڑھانا
آگے بڑھی تو سڑک کے کنارے کنارے دور دور تک چمچماتی ہوئی کاروں کا قافلہ نظر آیا۔کچھ دور پر ایک میدان میں بہت بڑا شامیانہ نصب تھا ۔گانے کی آوازیں بھی وہیں سے آرہی تھیں۔شامیانے کے گیٹ پر جو بینر آویزاں تھااس میں کام کرتے ہوئےمحنت کشوں کی قد آدم تصویریں دور سے راہ گیروں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی تھیں۔اس نے اندازہ لگایا کہ ٹھیکیدار یہیں ہوسکتا ہےاور اس کے قدم ادھر ہی چل پڑے۔
تازے پکوانوں اور گرم کافی کی خوشبو ؤں نے آگے بڑھ کر اس کا استقبال کیا۔وہ بچتی بچاتی گیٹ تک پہنچی توواقعی اس کا اندازہ صحیح ثابت ہوااور ٹھیکیدار اسے وہیں مل گیا۔اس نے اسے دور ہی سے دیکھ لیا تھااور وہ اس سے نظریں بچا کر اندر گھسنے ہی والا تھاکہ سکھیا نے اسے جالیا۔
“ صاحب! ۔۔۔صاحب جی ! ۔۔۔میری پگارتو دیتے جاؤ۔میرا بیما ر بچہ بھوکا مرجائے گا۔” اس نےآگے بڑھ کر ٹھیکیدار کا راستہ روکتے ہوئے تقریبا” چلا کر کہا۔
کئی کھدر پوش مہمان بھنویں چڑھاکر ادھراُدھر سمٹ گئے کہ مبادا ان کےاجلے ملبوسات داغدار نہ ہوجائیں۔
“ کیا میں پیسے جیب میں لےکر گھومتا ہوں؟”ٹھیکیدار چیخ کر بولا اور سامنے کی سیٹ پانے کی ہوڑ میں آگے بڑھنے لگا۔
سکھیا اس کے پیچھے لگی رہی۔
“ کل ۔کل ۔آفس آنا۔”اس کا حتمی جواب تھا۔
جاتے جاتےوہ ایک کا نسٹبل سے اسے وہاں سے باہر نکالنے کا اشارہ کر گیا تھا۔کانسٹبل نے شاید اسے بھکارن سمجھااور مستعدی سے اس کے حکم کی تعمیل میں ڈنڈا گھماتے ہوئے اس پر پل پڑا۔
بیچاری سکھیا عالم کسمپرسی میں سر جھکائے بوجھل قدموں سے اپنے گھر کی طرف چل پڑی۔
“بھارت ماتا کی :
جے۔”
“!مزدور دوس :
امر رہے۔”
عین اسی وقت فضا میں اسٹیج سے یہ فلک شگاف نعرے گونج اٹھے۔

Published inرضیہ کاظمیعالمی افسانہ فورم