Skip to content

مرد

عالمی افسانہ میلہ 2018
افسانہ نمبر ۔۔ 44
” مرد ”
اقبال حسن آزاد ۔۔۔ مونگیر، بہار انڈیا

”اگر شوہر بستر پر دوسری جانب کروٹ بدل کر سونے لگے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ بیوی اب اپنی کشش اور جاذبیت کھوتی جا رہی ہے ۔ یا کسی دوسری عورت کا سایہ اس پر پڑ گیا ہے۔اور نہیں تو اب وہ عورت کے قابل نہیں رہا ۔“
راحیلہ کی بات سن کر شگفتہ سناٹے میں آ گئی۔شاکر اچھا خاصا مرد تھا۔ ایک سال قبل تک شگفتہ کو اس سے کوئی شکایت نہ تھی ۔ اس کا سینہ چوڑا اور بانہیں مضبوط تھیں۔ کبھی کبھی تو شگفتہ کو اپنی ہڈیاں کڑ کڑاتی ہوئی محسوس ہوتیں۔ وصل کے لمحوں میںاس کے ہونٹوں سے جب شہوت انگیز سسکاریاں نکلنے لگتیں تو شاکر کچھ اور پُر جوش ہو جاتا۔دونوں ایک دوسرے پر حاوی ہونے کی کوشش کرتے لیکن ہار جیت کا فیصلہ کبھی نہ ہو پاتا۔
”مرد کی خصلت کچھ عجیب سی ہے۔اسے تسکین ہی حاصل نہیں ہو پاتی۔وہ ہمیشہ نئے جہانوں کی تلاش میں رہتا ہے۔اس کے حواس خمسہ عورت کے وجود کا احساس کرتے ہی جاگ پڑتے ہیں۔اس کا دل بھی بہت کشادہ ہوتا ہے۔وہ اچھی بُری کی تفریق نہیں کرتا۔اس کی آنکھیں بھی سدا متحرک رہا کرتی ہیں اور کان ہمہ وقت کھلے رہتے ہیں۔ بڑھتی عمر بھی اس کا کچھ نہیں بگاڑ پاتی۔عبادت و ریاضت بھی اسے اس شے لطیف سے بیگانہ نہیں کر پاتی۔ بزرگ حضرات آنکھیں بند کر کے پتا نہیں وظیفے پڑھتے ہیں یا پھر کسی حسینہ کے تصور میں گُم رہتے ہیں۔ کہا نہیں جا سکتا۔“
راحیلہ تو چنگاری دکھا کر چلی گئی اور شگفتہ اس چنگاری کو شعلہ بنتے دیکھتی رہی۔اس کی آنکھیں سُرخ ہو گئیں۔ کنپٹیاں دُکھنے لگیں اور سینہ زور زور سے دھڑکنے لگا۔ اس نے جلدی سے بلڈ پریشر ناپنے کاآلہ اُٹھایا۔150بٹا110
اس نے لہسن کے تین جو چھیلے اور انہیں دانتوں سے کُتر کر پانی کے سہارے حلق کے نیچے اُتار لیا۔سانسیں کچھ ہموار ہوئیں تو وہ بستر پر چِت لیٹ گئی ۔اس کا دماغ اب بھی سائیں سائیں کر رہا تھا اور ذہن میں طرح طرح کے خیالات آ رہے تھے۔ شاکر ایک سرکاری بینک میں پی او تھا۔ان دونوں کی ارینجڈ میرج ہوئی تھی۔ دونوں ایک دوسرے سے خوش تھے۔لیکن جیسا کہ دنیا کا دستور ہے ،شادی کے چند مہینوں کے بعد ہی کسی نئے مہمان کی آمد کا انتظار شروع ہو گیا۔دو تین سال تو پر لگا کر اُڑ گئے ۔پھر خدشات نے سر اُٹھانا شروع کیا۔اور ڈاکٹروں،ویدوں، حکیموں اور باباوں کے یہاں حاضری دی جانے لگیں لیکن کوئی بھی تدبیر کار گر نہ ہوئی۔دونوں ہر طرح سے مکمل تھے مگر قدرت کے بھید کون جانے۔شگفتہ اب چڑی چڑی سی ہو گئی تھی۔ شاکر ٹھنڈے مزاج کا آدمی تھا۔وہ اس کی تلخ کلامی کو شکر کے گھونٹ سمجھ کر پی جاتا۔ بعد میں شگفتہ کو ندامت کا احساس ہوتا۔وہ رونے لگتی اوراس کی زبان سے ناشکری کے الفاظ نکلنے لگتے۔
”کیوں، آخر میرے ساتھ ہی یہ سب کیوں ہو رہا ہے؟“وہ کبھی کبھی دبی زبان میں خدا کی شکایتیں بھی کرنے لگی تھی۔ اسے لگتا جیسے اوپر والے نے اسے تہی دست کر دیا ہے۔ وہ یہ بھول جاتی کہ اس کے پاس اللہ کا دیا ہوا سب کچھ ہے۔ایک پیار کرنے والا شوہر ہے۔ ذاتی مکان ہے۔ عیش و آرام کی ساری چیزیں میسر ہیں بس ایک ہی کمی ہے۔اس کے گھر میں کسی بچے کی قلقاری نہیں گونجتی۔الگنی پر چھوٹے کپڑے نہیں سوکھتے۔بستر پر کوئی پیشاب نہیں کرتا۔ گھر میں دودھ کے ڈبے اور بوتلیں نہیں ہیں۔پیمپرس اور ہگیس نہیں ہیں، پوٹی نہیں ہے۔جھنجھنا نہیں ہے۔بستر پر اس کے اور شاکر کے بیچ کی جگہ خالی ہے اور یہ سب سوچ سوچ کر اس کا دل اندر سے بالکل خالی خالی محسوس ہونے لگتا۔لیکن شاکر کو یہ خلا محسوس نہیں ہوتا۔ اور اگر ہوتا بھی تھا تو وہ اس کااظہار نہیں کرتا تھا۔مرد کا دل عموماً سمندر کی طرح گہرا ہوتا ہے۔اس کی تہہ میں جا کربہت ساری باتیں ڈوب جاتی ہیں۔اسے اپنے جذبات پر قابو پانا آتا ہے۔ وہ بچوں کی طرح پھپھک پھپھک کر نہیں روتا۔لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں تھا کہ وہ شگفتہ کی جانب سے بالکل ہی غافل تھا۔ وہ اسے اچھے سے اچھے ڈاکٹر کے پاس لے جاتا۔ جتنے قسم کے ٹسٹ کی ضرورت ہوتی سب کرواتا۔ اس نے ایک بڑے مولانا سے تعویذ بھی لا کر دیا ۔اب اس کے آگے وہ کیا کر سکتا تھا۔ ایک دن تو اسے بہت غصہ آیا۔ اس کے سسرال سے ایک نوکر کچھ سوغات لے کر آیا۔ دونوں نے اس کی خوب آؤ بھگت کی لیکن جاتے جاتے وہ بول پڑا۔
”کیا بابو!جور نہیں لگاتے ہو کا؟“ پہلے تو وہ اس کی بات کامطلب نہیں سمجھ سکا لیکن جب اس نے شگفتہ کو مند مند مسکراتے دیکھا تو اس کا پارہ گرم ہو گیا۔ نوکر کے جانے کے بعد وہ اُکھڑ گیا۔
”کیسے کیسے گنوار لوگوں کو تمہارے گھر والوں نے پال رکھا ہے۔ بات کرنے تک کی تمیز نہیں۔“
شگفتہ نے اپنی ہنسی روکتے ہوئے کہا۔
”اس میں بُرا ماننے کی کیا بات ہے۔ یہ ہم لوگوں کے آبائی گاوں کا رہنے والا ہے۔ اور تم تو جانتے ہی ہو کہ گاؤں کے لوگ سیدھے سادے اور صاف گو ہوتے ہیں۔“
”ہوتے ہوں گے لیکن مجھے اس قسم کی سادگی پسند نہیں۔“
کال بیل بجی تو وہ اپنے کپڑے درست کرتے ہوئی اُٹھی۔ بکھرے بالوں کا جوڑا سا بنایا اور ساری کے پلّو سے منہ پونچھتے ہوئے اُٹھی۔ دروازے پر دودھ والا کھڑا تھا۔اس نے خاموشی کے ساتھ اسے برتن لا کر دیا۔ گوالے نے نپنے سے دودھ ناپ کر دیا اور جاتے جاتے اس کی جانب کنکھیوں سے دیکھا۔ اسے طمانیت کا احساس ہوا۔ مردوں کی نظریں اب بھی اس پر ٹکتی ہیں۔ دودھ کو چولہے پر چڑھا کر وہ بیڈ روم میں آئینے کے سامنے جا کھڑی ہوئی۔وہ ابھی بھی خوبصورت اور جوان تھی۔اس نے ساری اُتار کر الگ رکھ دی۔اور گھوم گھوم کر آئینے میں خود کو دیکھنے لگی۔سارے خطوط واضح تھے اور قوسین بھی اپنی جگہوں پر چست اور درست تھے۔زلفیں ہنوز سیاہ تھیں۔آنکھوں کی چمک برقرار تھی۔چہرہ ابھی بھی شاداب تھااور ہونٹ سدا کی طرح نم اور پُر کشش تھے۔پھر اس نے اپنا پیٹی کوٹ ذرا سا اوپر اُٹھایا۔ گوری رانیں گداز اور چکنی تھیں۔اس نے دھیرے سے داہنی ران پر ہاتھ پھیرنا شروع کیا۔بدن میں ایک سہرن سی اُٹھی۔اس کی آنکھیں آپے آپ بند ہونے لگیں اور وہ چشم تصور سے شاکر کو اپنے جسم سے کھیلتے دیکھنے لگی۔پتا نہیں وہ کتنی دیر تک اس عالم میں مستیاں لیتی رہی۔ اچانک اس کے نتھنوں سے دودھ کے جلنے کی بو ٹکرائی ۔اس نے چونک کر آنکھیں کھولیں اور بے اختیار کچن کی جانب دوڑ پڑی۔ دودھ اُبل کر گیس برنر پر گیا تھا۔ چولہا بجھ گیا تھا اور کچن میں جلے ہوئے دودھ اور گیس کی ملی جلی مہک پھیلی ہوئی تھی۔ اس نے جلدی سے چولہے کو بند کیا اور اپنی بے ترتیب سانسوں کو درست کرتے ہوئے دوبارہ بستر پر لیٹ رہی۔لیٹے لیٹے اس کا ذہن ایک بار پھر راحیلہ کی جانب چلا گیا۔ تو کیا شاکر کی نگاہیں کہیں اور جا کر ٹھہر گئی ہیں ؟اس کے ذہن میں اپنی بہنیں، سگی، چچا زاد، خالہ زاد، پھوپھی زاد اور ماموں زاد گھوم گئیں۔اس نے اپنی تمام سہیلیوں کے چہرے یاد کئے۔شاکر جب ان میں سے کسی سے ملتا تو خوب گھل مل کر بات کرتا۔ ان میں سے کئی ایک بہت حسین تھیں۔ لیکن اس نے شاکر کو کبھی حد سے بڑھتے نہیں دیکھا۔ایک دو بار کڑے کمان جیسی نوکرانیوں نے بھی اس گھر میں کام کیا جوکافی چنچل اور بے باک بھی تھیں لیکن اس نے اپنے شوہر کو کبھی ان کی جانب حد سے زیادہ متوجہ نہیں پایا۔اس نے کئی بار چپکے چپکے اس کا موبائل بھی چیک کیا لیکن اس میں اسے کسی لڑکی کا نام نہیں ملا۔ گرچہ وہ جانتی تھی کہ بہت سارے لوگ نام نہ لکھ کر کوئی کوڈ لکھ دیتے ہیں لیکن شاکر ایسا نہیں کرتا تھا۔ کر ہی نہیں سکتا تھا۔ اس نے کئی بار اسے آزمایا تھا اور وہ ہر بار کھرا اُترا تھا۔ پھر بھی کیا پتا…. مرد آخر مرد ہی ہوتا ہے۔ گہرا اور شانت۔
کئی روز گذر گئے لیکن شگفتہ کے ذہن سے راحیلہ کی بات نہ گئی۔ وہ شاکر کی بے رخبتی کی وجہ جاننا چاہتی تھی۔بہت غور و فکر کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچی تھی کہ نہ تو ابھی اس کی کشش ختم ہوئی ہے اور نہ ہی شاکر کے قدم بہکے ہیں ۔ تو کیا جوانی کی آگ سرد پڑ گئی ہے؟ اتنی جلدی؟؟ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟؟؟وہ ہر وقت اسی فکر میں غلطاں و پیچاں رہنے لگی۔وہ ہمہ وقت شاکر کی بے رُخی کے بارے میں سوچتی رہتی۔ اس نے فکر کے آئینے میں کبھی بھی اپنا چہرہ دیکھنے کی کوشش نہیں کی۔وہ اکثر آئینے کے سامنے جا کھڑی ہوتی۔ آئینہ بس حیرت سے اس کا منہ تکتا رہتا۔ وہ بہت کچھ کہنا چاہتا تھا مگر بے چارہ بے زبان تھا۔صرف دیکھ سکتا تھا۔بولنے کی سکت اس میں نہیں تھی۔ اگر اس کے پاس بھی زبان ہوتی تو کہتا ۔
”بی بی! تم جب نہ تب صرف اپنا سراپا دیکھتی رہتی ہو۔ کیا تم نے کبھی شاکر کی آنکھوں میں جھانک کر یہ معلوم کرنے کی کوشش کی کہ آخر اسے کیا چاہئے؟ نہیں ناں!مرد جسم کا نہیں، پیار کا بھوکا ہوتا ہے۔اسے کسی کی توجہ درکار ہوتی ہے۔ جب تک بچہ رہتا ہے اسے باپ کی شفقت اور ماں کا پیار چاہئے ہوتا ہے۔بہن کی محبت ….بھائیوں کی یگانگت….اور شادی کے بعد وہ اپنی بیوی کا بن کر رہنا چاہتا ہے۔ شرط یہ ہے کہ بیوی میں اسے اپنا بنانے کی صلاحیت ہو۔ “
شادی کے چند برسوں بعد تک تو زندگی کسی خوبصورت سفر کی طرح طے ہوتی رہی۔وہ اس کے کھانے پینے سے لے کر اس کے لباس اور جوتوں کا خیال رکھا کرتی۔ اس کی پسند ،ناپسند پر دھیان رکھتی لیکن جب کئی ساون گذر جانے کے بعد بھی اس کی گود ہری نہ ہوئی تو وہ سوکھی دھرتی کی طرح چٹخنے لگی۔اس کی زبان پر کانٹے اُگنے لگے ۔شاکر نے اب اس کی باتوں کا جواب دینا چھوڑ دیا تھا۔ایک انسان کے بس میں جو کچھ بھی ہو سکتا ہے اس نے کیا۔ اب قدرت کو کیا منظور ہے اسے کیا معلوم؟کبھی کبھی وہ اسے سمجھانے کی کوشش کرتا۔
”شگفتہ ! یہ مت سوچو کہ تمہارے پاس کیا نہیں ہے بلکہ یہ سوچو کہ تمہارے پاس کتنا کچھ ہے۔“
مگر اب وہ اس کی بات سنتی ہی کب تھی۔سوتے جاگتے ، اُٹھتے بیٹھتے اس کے تصور میں ایک گل گوتھنا بچہ رہتا ۔جب وہ کسی اخبار، رسالے، ٹی وی یا موبائل پر کسی خوبصورت بچے کی تصویر دیکھتی تو بس دیکھتی ہی رہ جاتی۔ رشتہ داروں، سہیلیوں اور محلے کی عورتوں کے بچوں پرحسرت بھری نگاہ ڈالتی اور تنہائی میں ٹھنڈی آہیں بھرا کرتی۔ شروع شروع میں تو وہ اپنی بے بسی، بے کسی اور تہی دامنی پر پھپھک پھپھک کر رو پڑتی لیکن پھر دھیرے دھیرے اس کے آنسو خشک ہوتے چلے گئے اور آنکھوں میں ویرانی ڈیرے جمانے لگی۔
موبائل کی گھنٹی بجی تو وہ اپنے خیالوں سے باہر نکل آئی۔دوسری جانب شاکر تھا۔ کہہ رہا تھا کہ آج بینک میں بہت کام ہے۔ہو سکتا ہے کہ آج اسے آنے میں کافی دیر ہو جائے۔شاکر کی بات سن کر اسے پھر راحیلہ کی بات یاد آئی اوردل میں شک سا پیدا ہوا ۔ کہیں گھر سے باہر تو کوئی افیئر نہیں چل رہا ہے۔اس نے شاکر کو کال بیک کیا لیکن سوئچ آف تھا۔وہ یقینی اور بے یقینی کے درمیان جھولتی رہی اور شاکر کا انتظار کرتی رہی۔
دن ختم ہوا۔ رات آئی اور دھیرے دھیرے آگے بڑھنے لگی۔ شاکر نے گھر آنے میں کبھی اتنی دیر نہ کی تھی۔ اس کے دوستوں کا ایسا کوئی حلقہ نہیں تھا جس میں وہ اپنا وقت برباد کرتا۔ اسے ادھر ادھر بھٹکنے کا بھی شوق نہیں تھا۔ شہر میں کوئی ایسا قریبی رشتہ دار بھی نہیں تھا جس کے یہاں حاضری دینی ضروری ہو۔ اگر اسے کہیں جانا ہوتا تھا تو بتا کر جاتا تھا۔بینک میں اگر کبھی کام زیادہ ہوتا تو بھی آٹھ بجتے بجتے وہ گھر پہنچ جایا کرتا تھا۔لیکن اب تو دس بجنے جا رہے تھے اور اس کا دور دور تک کوئی پتا نہیں تھا۔موبائل کا سوئچ آف تھا تو بس آف تھا۔ کیا کوئی ایکسیڈنٹ….؟نہیں نہیں۔ وہ یہ سب بیکار کی باتیں کیوں سوچ رہی ہے۔ہو سکتا کہ اس کی موٹر سائکل خراب ہو گئی ہو یا کوئی اور بات ہو۔
یہی سب سوچتے سوچتے ایک گھنٹہ اور گذر گیا۔ اس کے دل میں پھر طرح طرح کے وہم سر اُٹھانے لگے۔وہ گھبرا کر اُٹھی اور شیلف پر سجی شاکر کی فوٹو کے سامنے جا کھڑی ہوئی اور اس پر یوں نظر ڈالی گویا اسے پہلی بار دیکھ رہی ہو۔ کتنا معصوم اور پیارا سا شخص ہے۔ کوئی گلہ نہیں، کوئی شکوہ نہیں۔اُف خدایا! میں ایسے اچھے آدمی کا دل دکھاتی رہی ہوں۔اس کا دل بھر آیا اور آنکھوں میں آنسو اُمڈنے لگے اور پھر چند ہی ثانیوں میں اس کے گالوں پر آنسووؤں کی لڑیاں بہنے لگیں۔پتا نہیں کتنی دیر تک وہ یونہی روتی رہی اور پھر اسی حال میں اسے جھپکی سی آگئی۔
نہ جانے وہ رات کا کون سا پہر تھا کہ اس کے کانوں میں کال بیل کی آواز آئی۔وہ چونک پڑی۔کال بیل مسلسل بج رہی تھی۔ وہ تیزی کے ساتھ اُٹھی اور جھٹ سے دروازہ کھول دیا۔ سامنے شاکر کھڑا تھا۔ تھکا ہارا….حیراں و پریشاں۔ وہ اندر داخل ہوا اور آتے ہی صوفے پر ڈھیر ہو گیا۔اسے دیکھ کر شگفتہ کی جان میں جان آئی ۔پھر وہ اس کے قریب آئی اور سر پر دھیرے سے ہاتھ رکھا اور پوچھنے لگی۔
”بہت تھک گئے گیا؟“شاکر نے اثبات میں سر ہلایا اور ایک ایک پھیکی مسکراہٹ اس کی جانب اچھال دی۔
”اچھا !آپ کپڑے بدل کر فریش ہو لیں۔ تب تک میں کھانا نکالتی ہوں۔“ اس کا لہجہ اس قدر نرم اور میٹھا تھا کہ شاکر چونکے بغیر نہ رہ سکا۔ ایک ہلکی سی توجہ نے اس کے تھکے ہوئے جسم میں گویا نئی جان ڈال دی تھی۔وہ جلدی سے اُٹھا۔کپڑے تبدیل کئے اور فریش ہونے کے لئے واش روم کی جانب قدم بڑھا دیئے۔
اور اس رات …. بہت دنوں کے بعد….شگفتہ کی ہڈیاں ایک بار پھر کڑ کڑا رہی تھیں۔

Published inاقبال حسن آزادعالمی افسانہ فورم