Skip to content

مراجعت

عالمی افسانہ میلہ 2019

افسانہ نمبر98

مراجعت

زادی زیب ۔ کراچی ۔ پاکستان

اس پرندے کی آواز جب فضا کی لامتناہی وسعتوں میں گونجی تو وہ خود ششدر رہ گیا اور کتنی ہی دیرحیرت کی حیرانیوں میں گم رہا ۔ اسے یوں لگا کہ جیسے اس کی آواز نے کسی بازگشت کو مَس کردیا ہو ۔ اس لمحے اس پر منکشف ہوا کہ بظاہر جسے وہ خاموشی سمجھ رہا تھا۔۔۔۔۔ وہ سکوت تو کسی گونج سے لرزتا ارتعاش ہے ، عرفانی لمحوں کے تسلسل نے اسے یہ علم بھی عطا کیا کہ رفعتوں کے منظرنامے میں طاری ارتعاش کے لرزے سے وہ خود بھی عاری نہیں ہے ۔ اس نادیدہ چھوون کے لمس نے اسے” اپنے ہونے“ کے ساتھ اوربھی ”کوٸ ہے“ کے اولین ادراک سے دوچار کردیا ۔

اکاٸی اور دوٸی کے اس گنجلک وجدان سے اس کی وہ آہنگ جو سر خوشی اور سر مستی کی ایک بےساختہ پکار تھی ، گنگ ہو کر رہ گٸی۔ کسی موجود کے خیال کی ہیبت اور دباٶ سے عاجز ہو کر اس نے اپنی گردن خم کردی اور خاموشی سے نیلگوں آسمان تلے پرواز کرنے لگا۔

اب ایک طرف وہ انکشاف کے بوجھ سے لاچار تھا ، اُس پر عجیب کیفیت یہ تھی کہ اظہار کی جس لذت سے وہ آشنا ہو گیا تھا وہ آشناٸی اس سے پھر اسی کیف کا تقا ضہ کرنے لگی تھی ۔”اسے اظہار کا آزار لاحق ہو چکا تھا۔ “۔۔۔۔۔۔ پہلے پہل تو وہ اپنے اندر کی اس آواز کو ان سنی کرتا رہا لیکن جب بے کلی بڑھنے لگی تو اس نے اسے رد کرنا شروع کردیا بات یہاں بھی نہ بنی اور نوبت انکار تک آپہنچی مگر اظہار کی ہُںوک چپ ہو کر نہ دی۔ اسے اپنا دم گھٹتامحسوس ہونے لگا اس کا دل چاہتا کہ وہ آسمان کی طرف سر اٹھاۓ اوراس ہںو ک کے گولے کو نکال پھونکے مگر کوٸی ہیبت تھی ، جس کے سامنے وہ مجبور محض تھا ۔۔۔۔۔

دباٶ کےبوجھ نے اس کی اڑان کو پست کردیا اور وہ مناظر کے قریب ترہوتا گیا۔ اس پر رنگ کھلنے لگے شکلیں واضح ہونے لگیں یوں منظرنامہ بدل گیا اب خیال کے ساتھ نظر بھی تھی اور نظارہ بھی اور سماعت جسے پہلے محض سکوت کا ادراک تھا اسےآواز بھی حاصل ہوگٸی ۔ اس نے پرندوں کی آوازیں سنیں ، ہوا کی سرگوشی سنی ، پتوں کی سرسراہٹ سنی ، موجوں کا تلاطم سنا ، اس وقوف نے پرندے کے من میں خوشی بھردی اور اس کی چہکار جاری ہوگٸی ۔ اب پرندہ مسرور تھا اس کی مسحور کن آواز ماحول اور مخلوق کی ستا ٸش اور آفرینی میں گھل جاتی اور اس قبولیت سے دل کشی کا ایسا سماں بندھتا کہ جیسے سب کے سرے آپس میں گندھ گٸے ہوں ، پرندہ جنگلوں ٗ وادیوں ٗ سمندر ٗ کہساروں پر اڑتا اور گاتا پھرتا۔۔۔۔۔ اس نے نٸی طرزیں ایجاد کیں اس کی آواز نکھرتی گٸی مگر اس کا وجدان اس گونج سے خالی نہ ہوسکا ۔ اسے لگتا جیسے ہر آواز کی لے میں خاموشی کی ایک دبیز تہہ بچھی ہو۔

ایک دن اچانک اسے خیال آیا کہ میں گاتا کیوں ہوں ؟ مجھے چہکار کیوں حاصل ہوٸی ؟مجھے نغمہ گر ہونا کیوں سکھایا گیا ؟ اسے حیرانی ہوٸی کہ اس کے پاس اپنے ہی سوالوں کے کوٸی مکمل جواب نہیں تھے۔ اس کے سب جواب گمان سے پر تھے ۔ سب پر شاید کے سابقے لگے ہوۓ تھے۔۔۔۔۔

شاید میں اپنی خوشی کے لٸے گاتا ہوں !

شاید میرے گیت ، میری آواز مسرت اور اثبات کی تخلیق و تقسیم کرتے ہیں !

شاید میں کاٸنات کی روانی میں اپنا حصہ ڈال رہا ہوں !

اس استفہام نے پرندے کی چاہت پر کنڈل مار لیا ۔۔۔۔۔

پرندہ گاتے گاتے تھکنے لگا۔ اس کے اظہار کی ہںوک اور چاہ ختم ہو چکی تھی ۔ ماحول یونہی داد اور آفرینی سے معمور تھا مگر وہ تھک رہا تھا اور کسی کو اس کی تھکن سے کوٸی سروکار نہ تھا ۔ جونہی اس کا نغمہ بلند ہوتا سب اس کی دل نشینی میں گم ہو جاتے ۔اس نے کچھ کھویا تو نہیں تھا مگر وہ سوچتا رہتا کہ اظہار کی طلب میں اس نے پایا کیا ؟ اسے اپنے اندر سے جواب ملتا ” شاید خوشی اور تکمیل“ ! یہ گمان سے پُر جواب اسے اور آزردہ کردیتا وہ یہ سوچ کر مغموم ہوجاتا کہ یہ اگر سچا جواب ہوتا تو اب وہ خوشی کہاں گٸی ؟ طبعیت کی جولانی ، اضمحلال میں کیوں ڈھلنے لگی؟؟؟ اور پرندے کا خیال بے نام سےملال کی گہری کھاٸ میں لڑھکنےلگتا۔۔۔۔۔۔

پرندے کی وحشت بڑھی تو اسے پھر وہ رفعتیں یاد آنے لگیں ، جہاں کا وہ باسی ہوا کرتا تھا ۔ اس یاد نے پرندے کو سخت بے چین کردیا اس کے ”ہونے “کی سرشاری نے آگہی کی گہراٸی ناپی تو اس پر یہ عقدہ کھلا وہ تو خود دراصل اظہار کے پروگرام کا ایک حصہ تھااسے تودرحقیقت عرفان اور معرفت کی ”اَور“ نکلنا تھا لیکن وہ اپنے اظہار کے بکھیڑوں میں الجھ کر رہ گیا ۔اس آگہی نے پرندے کے نغموں میں سوز بھردیا اور اس کی تہ میں دبی خاموشی کی سطح بلند ہونے لگی جوں جوں خاموشی کی جھنجناہٹ بڑھتی گٸی ، پرندہ بھی بلندی کی جانب پرواز بھرتا رہا اس کے نغموں کے سر تال لے طرزیں آشناٸ کی رمزوں سے بھرتی گٸیں ۔ بالآخر اس نے نیچے رہ جانے والے منظر پر الوداعی نگاہ ڈالی ۔ بے نیازی سے منظر کو دیکھتے ہوٸے اس نے طویل اڑان بھری اور فضا کی لامحدود وسعتوں میں یوں محو ہو گیا جیسے رفعتوں نے اسے آغوش میں بھر لیا ہو

Published inافسانچہزادی زیبعالمی افسانہ فورم