Skip to content

مشورہ

عالمی افسانہ میلہ 2018
افسانہ نمبر 104
مشورہ
محمود انصاری
میراروڈ, ممبئی، انڈیا

“دیکھو! تُم ناں اک بار رئیس چاچا سے بات کر ہی لو کہ اپنے بچوں کو سمجھائیں، نہیں تو کسی دن اُن کے گھر کی عورتوں سے میرا جھگڑا ہوجائے گا”
کہتے ہوئے زارا ناشتے کی پلیٹ تھامے میری طرف لپکی.
” یہ کیا تُک ہے یار؟ آفس سے آکر ٹھیک سے بیٹھا بھی نہیں اور تم شروع ہوگئیں!!!”
میں نے جواباً کہتے ہوئے اپنی ناراضی جَتلائی تو وہ بھڑک کر کہنے لگی.
” تم سے کِس وقت بات کی جائے؟ مجھے ٹائم ٹیبل بتا دو، صبح کچھ کہنے کی کوشش کرو تو کہتے ہو ابھی آفس کے لیے نکلتے وقت ہی کہنا ضروری ہے کیا؟؟ لنچ بریک میں فون کرو تو کہتے ہو کھانا کھاؤں یا تم سے گپّیں لڑاؤں؟؟ رات میں تو نیند تمہیں اتنی پیاری ہوتی ہے کہ کچھ سننا ہی گوارا نہیں”
زارا کے سخت تیور دیکھتے ہوئے میں نے اُس کی شکایت سُن لینا ہی بہتر سمجھا اور قریب ہی پڑی کرسی پر بیٹھ کر زارا سے پانی کا گلاس لیتے ہوئے نرم لہجے میں دریافت کیا
” اچھا بولو! کیا بات ہے؟”
زارا نے تفصیل بتانی شروع کی…
” کل رات جب ہم چُھٹّیاں گزار کر گاؤں سے یہاں پہنچے تب تو میں نے تَھکان کی وجہ سے دھیان نہیں دیا مگر آج صبح صفائی کرتے وقت کھڑکی کے شیشے تڑخے ہوئے دیکھے، یقیناً یہ رئیس چاچا کے پُوتوں کی حرکت ہوگی۔ سارا دن کرکٹ کھیلتے رہتے ہیں۔ گیند کبھی کسی کی کھڑکی پر لگتی ہے تو کبھی کسی کے دروازے سے ہوتے ہوئی گھر میں جَا پہنچتی ہے، پڑوسیوں کو پریشان کر رکھا ہے اُن بچوں نے.”
میں نے گہری سانس لیتے ہوئے اپنا خدشہ ظاہر کیا۔
“اِس کی وجہ کچھ اور بھی ہوسکتی ہے زارا، بِناء ثبوت انہیں ذمّہ دار ٹھہرانا مناسب نہیں. ویسے بھی چھوٹے سے گھر میں بے چارے پندرہ لوگ آپس میں ہی اُلجھے رہتے ہیں”
زارا نے زِچ ہوتے ہوئےکہا۔
“یہی تو کہہ رہی ہوں میں, اِس کو اُس کو تکلیف دینا اُن کی عادت ہے. اور تُم؟ تُم بڑی سائیڈ لے رہے ہو پڑوسیوں کی تو اُنہیں کے گھر جا کر رہو”
میں ہونقوں کی طرح, کچن کی جانب پیر پٹکتے ہوئے جاتی زارا کو دیکھتا رہ گیا۔ بات کو مزید طُول نہ دیتے ہوئے میں نے ٹی وی آن کیا اور میرے بائیں ہاتھ کا انگوٹھا ریموٹ پر حرکت کرنے لگا…. تیزی سے بدلتے چینل اور انگوٹھے کی حرکت, ٹی وی اسکرین پر اُبھرتی حادثاتی تصویروں پر جا کر رُک گئیں. مُلک کے سرحدی علاقے کی فوجی چھاؤنی میں ہوئے دہشت گردانہ حملے کی خبریں بیان کرتے نیوز رپورٹر پر نگاہیں جَم گئیں. ‘نیوز ابھی تک’ کا نوجوان رپورٹر دہشت گردانہ کاروائی پر اپنے مخصوص انداز میں سوال اٹھا رہا تھا –
” بڑی خبر آرہی ہے کہ سرحدی علاقے پَردَھان کوٹ میں واقع فوجی چھاؤنی پر آتنکیوں نے ہلّہ بول دیا ہے. یہ علاقہ عام شہریوں کے لیے ممنوعہ علاقہ مانا جاتا رہا ہے۔ حملے میں پڑوسی ملک کی دہشت واد تنظیم کے ملوث ہونے کی بھی خبریں آرہی ہیں. اب تک مِلی جانکاری کے مطابق سوال یہ اُٹھ رہا ہے کہ چھ سات آتنکی ہماری مضبوط اور چَوکنّا فوج کی آرام گاہ اور اسلحہ جات کے ذخیروں تک کس طرح پہنچ گئے؟؟ جہاں اک نہتّے معصوم شہری کا پہنچنا دُشوار گزار ہوتا ہے وہاں مسلّح آتنکی کس طرح رسائی پا گئے؟؟؟ کیا اِس آتنکی حملے کے پیچھے چُھپی کہانی منظر عام پر آسکے گی؟؟؟ یہ سب جاننے کے لیے جُڑے رہیئے ہم سے… پَردَھان کوٹ سے جلیل سردار، نیوز ابھی تک”
اسکرین پر اب جلیل سردار کی جگہ کیسر سے بنے پان مسالہ کی خوبصورت پاؤچ اشتہار میں نظر آرہی تھی۔ میرا ذہن جلیل سردار کے بیان کردہ سوالوں کی گرداب میں پھنسا جارہا تھا۔ دِل یہ بات قبول کرنے کے لیے پس و پیش میں تھا کہ جہاں کے مَلٹی پیلکس تھیٹروں میں بغیر ٹکٹ اور بِناء چیکنگ کے اندر داخل ہونا ممکن نہیں وہاں کی فوجی چھاؤنی میں اسلحہ بردار دہشت گرد داخل ہوگئے. اور کیا کوئی اتنا بھی بے وقوف ہے کہ غیر قانونی اور دہشت گرد کاروائی پر نکلتے ہوئے اپنی شناخت کے تمام شواہد ساتھ لے آئے؟
اچانک کچن میں گلاس ٹوٹنے کی آواز نے مجھے سوالوں کی دنیا سے نکال کر وہیں پہنچا دیا جہاں کچھ وقت پہلے ہی زارا ناراض ہو کر مجھے پڑوس میں جَا بسنے کا مشورہ دے گئی تھی۔ میں یہ سوچتے ہوئے اُٹھ کر کِچن کی طرف بڑھ گیا کہ دہشت گردانہ حملے پر ذہن میں اُمنڈتے سوالوں کے جواب میں بھی کہیں زارا کے مشورے کی طرح کوئی مشورہ میرا منتظر نا ہو۔

Published inعالمی افسانہ فورممحمود انصاری