Skip to content

محبت کے دائروں سے رہائی

محبت کے دائروں سے رہائی
معظم شاہ ۔۔۔۔۔۔کیمبلپور ۔۔۔۔۔۔پنجاب ۔۔۔۔۔۔۔پاکستان
پتا نہیں کیوں اسے دیکھ کر مجھے اپنا علی یاد آ گیا ۔یہ اکتوبر کی ایک رات تھی قریب نو بجے کا وقت ہو گا ، سردی کسی حد تک گرم کپڑوں میں بھی محسوس ہونے لگی تھی ۔ میں سڑک کے ایک جانب کھڑا تھا اور وہ سڑک کے دوسری جانب فٹ پاتھ پر چل رہا تھا ۔ بیس بائیس سال کا اونچا لمبا صحت مند جوان گھٹنوں سے تھوڑا نیچے تک پرانا گلابی رنگ کا ٹراؤزر اور اوپر گہرے سبز رنگ کی چھوٹی ہوتی ہوئی ٹی شرٹ پہنے ٹراؤزر شرٹ دونوں کا رنگ کثرت استعمال سے خراب ہونے لگا تھا سامنے سے بڑے اور سائڈوں سے فوجی کٹ بال بہت چھوٹی لیکن گھنی داڑھی پاؤں میں پرانی سافٹیاں پہنے کندھے پر دو غبارے رکھے جا رہا تھا ۔ یہ مختلف رنگ کی لائٹوں سے سجے ہوے غبارے تھے مرکز میں پھولا ہوا بڑا غبارہ جسے چھوٹے غباروں کی ایک لڑی نے اپنے ہالے میں قید کیا ہوا تھا ، وہی لڑی کسی لڑکی کی سختی سے باندھی ہوئی چٹیا کی طرح ایک ڈنڈے کی صورت نیچے تک آ گئی تھی اس لڑی اور غبارےمیں لائٹیں لگی تھی ، چھوٹے بچوں کے لیئے بڑی کشش والی چیز تھی ۔ اگر اس کے ٹراؤزر اور شرٹ نئے ہوتے اور وہ پاؤں میں قیمتی جاگرز پہنے واک کر رہا ہوتا تو میں بلا جھجک اسے علی کہہ کر آواز دے دیتا ، لیکن وہ تو کوئی غبارے بیچنے والا تھا ،میرا علی نہیں تھا ۔ علی اور بہادر ، میری کل کائنات میرے دو بچے تھے ، میرا دھیان پھر علی کی جانب چلا گیا ۔
وہ تیرہ نوئمبر کی ایک ابر آلود صبح تھی ۔ میں ہسپتال کے بیرونی حصے میں چپ چاپ ایک بینچ پر بیٹھا تھا ۔ دل زور زور سے دھڑک رہا تھا لیکن بظاہر میں پرسکون تھا ۔ کسی سے سنے یہ الفاظ میرے دماغ میں بار بار گونج رہے تھے “عورت موت کو چھو کر آتی ہے جب بچہ پیدا کرتی ہے ” مجھے پروین کی زندگی عزیز تھی ، کیا تھا اگر ہم اولاد نہ چاہتے ؟ ۔ کچھ ایسی ہی سوچیں دماغ میں دائرے بنا رہی تھیں اور میں خدا سے پروین کی زندگی کی دعا مانگ رہا تھا ۔
پھر میرے ہاتھوں میں ایک ننھا سا وجود آیا ، میں اسے اٹھانے میں جھجک رہا تھا لگتا تھا یہ ہاتھوں سے پھسل کر گر پڑے گا ۔ میں نے اسے چوما اور سینے سے لگا لیا اس وقت دل کا عجیب عالم تھا ۔ میرے دل سے بے اختیار اللہ کا شکر بلند ہوا ۔
میں رزق کی تلاش میں صبح سویرے گھر سے نکل جاتا اور شام کے بعد واپسی ہوتی ۔ دن بھر میرا دل علی میں اٹکا رہتا ، ابھی سو رہا ہو گا ، اب جاگ چکا ہوگا ، علی ایسے ہنستا ہے ، علی ایسے روتا ہے ۔ ۔۔۔۔۔کہیں رو نہ رہا ہو۔۔۔۔۔۔۔۔ شام کو گھر پہنچتے ہی اسے اٹھاتا اور باہر نکل جاتا دیر تک گلی میں ٹہلتے ہوے اسے سینے سے لگائے اس سے آہستہ آہستہ باتیں کرتا رہتا ۔ علی سات ماہ کا تھا جب مجھے ملازمت مل گئی ۔ ٹریننگ کے لیئے دوسرے شہر جانا تھا اور تین چار ماہ سے پہلے واپسی کی کوئی امید نہیں تھی ۔ اس دن میں علی کو لے کر گھر سے دور نکل گیا ۔ اسے سینے سے لگائے چلتا رہا ، روتا رہا اور اسے بار بار چومتا رہا ۔ دل کا غبار نکل گیا تو واپس گھر جا کر اسے اس کی ماں کے سپرد کیا اور خود تیاری میں لگ گیا ۔
ساڑھے تین ماہ بعد گھر واپس آیا تو علی بیڈ پر بیٹھا ہوا تھا میں اسے اٹھا کر پیار کرتا رہا ، پروین نے بتایا کہ اسے پیسوں کی پہچان ہو گئی ہے نوٹ ہاتھ میں دو تو باہر کی طرف زو ر لگاتا ہے کہ اب مجھے دکان سے کچھ کھانے کی چیز دلاؤ ۔ اس وقت تک علی ۔۔۔۔۔۔اللہ ، ماما، باباوغیرہ ایک آدھ لفظ بولتا تھا ۔ میں نے اسے بستر پر بٹھایا اور اپنی ساری تنخواہ نکال کر اس کی گود میں ڈال دی اس نے کھلکھلا کر ہنستے ہوے دونوں ہاتھوں میں نوٹ تھامے اور پہلا مکمل جملہ کہا “بہت چھالے ہیں ” (بہت سارے ہیں )
تین سال بعد اللہ نے بہادر دے دیا ۔ اب میرے پاس دو کھلونے آ گئے ۔ میں جب بھی چھٹی پر گھر جاتا واپس آنے کو جی نہیں چاہتا تھا ۔ مجھے گھر سے نکلنے میں پروین کا رویہ بہت مدد دیتا تھا ۔ پتا نہیں اس اللہ کی بندی کا مزاج کیسا تھا ۔ ہر بات میں منفی پہلو نکال کر مایوسی پھیلانا اس کا کام تھا ۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر شکووں کے انبار لگا دینا اس کی عادت تھی ۔ دو چار دن میں ہی میرا گھر میں رہنا دوبھر ہو جاتا اور میں دونوں بچوں کو چھوڑ کر واپس ڈیوٹی پر چلا جاتا ۔ ایک تو فطرتاََ سخت مزاج اوپر سے استانی ، گویا کڑوا کریلا نیم چڑھا والی بات تھی ۔ سردیاں گرمیوں میں اور گرمیاں سردیوں میں ڈھلتی رہیں ۔بچوں کی محبت مجھے طاقت دیتی تھی تو پروین کی نفرت اندر سے نچوڑ دیتی میں گویا مردہ وجود لئے گھر سے نکل جاتا ۔ یوں ہی سرد گرم جھیلتے پانچ سال گزرے اور میری پوسٹنگ واپس میرے شہر میں ہو گئی ۔
مستقل طور پر واپس گھر آنا گویا عذاب ہو گیا ۔ پروین کے کچھ نفسیاتی مسائل تھے ، کچھ ہم دونوں کے گھروں کا ماحول بہت مختلف تھا ، اس کی سوچ دیہاڑی سے شروع ہو کر دیہاڑی پر ختم ہو جاتی تھی ۔ آج کا دن بے کار گزر گیا ، آج فلاں کام نہیں ہوا ۔۔۔۔۔کچھ پس انداز کرو تا کہ کل نہ ہو تو مشکل پیش نہ آئے ۔۔۔۔۔۔نپا تلا پکاؤ جو گھر میں کھا لیا جائے ۔۔۔۔۔مستحقین کو مہینے بعد تھوڑا بہت دے دیا کرو ۔۔۔۔۔۔۔روز کے کھانے سے ایک دو کا حصہ نہیں نکال سکتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فلاں سے تعلق رکھو اس میں فائدہ ہے ۔۔۔۔ اسی قسم کے بھاشن سننے کو ملتے ۔ میں نے توکل کے ماحول میں پرورش پائی تھی ،مردانہ حصے کے دروازے دن میں کبھی بند نہیں ہوے تھے وہاں سے روزانہ دو تین مسافریا بھکاری کھا کے جاتے تھے ۔ پاس ہے، اور کوئی مستحق دروازے پر آ گیا ہے تو بنا مدد کئے اسے واپس بھیجنے کا کوئی تصور نہیں تھا ۔ میں برابری کی سطح پر تعلقات کا قائل تھا کسی مفاد کی خاطر کسی مغرور اور خود پسند انسان سے تعلق رکھنا میرے بس کی بات ہی نہیں تھی ۔ کچھ نام کے ساتھ لگا “شاہ ” معاشرے میں وہ خاص عزت بھی دلاتا تھا جو ایک بہت پیاری نسبت سے کی جاتی تھی ۔ علی اور بہادر نہ ہوتے تو کب کا اس روز کی چخ چخ سے پیچھا چھڑا چکا ہوتا ، لیکن مجھے ان دونوں فرشتوں نے باندھ رکھا تھا ۔
علی اور بہادر دونوں بڑے حوصلے والے بچے تھے ۔ اس تلخ ماحول میں بھی انہوں نے خود کو ان جھگڑوں سے الگ رکھا ہوا تھا ۔ تمہارے باپ سے کوئی توقع نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔میں اپنے بچے کو فلاں چیز لے کر دوں گی ۔۔۔۔۔۔یہ میں ہی ہوں جو تمہارا خرچ اٹھا رہی ہوں ، تمہارے باپ تک ہو تو تمہیں سرکاری سکولوں میں پڑھائے اور چیتھڑے پہنائے ۔ ۔۔۔۔۔۔اب ایسی غربت بھی نہیں تھی کہ میں بچوں کا خرچ پورا نہ کر سکتا ۔ کئی لوگ مجھ سے آدھی تنخواہ میں بہترین طور سے گھر چلا رہے تھے ۔ بس وہاں خواہشات محدود تھیں اور اپنی چادر کو پہلے دیکھا جاتا تھا ۔ ایسے ماحول میں بھی اگر بچے 95 فی صد سے اوپر نمبر لیں تو انہیں ذہین ماننا پڑتا ہے ۔ بہادر واقعی بہادر نکلا ، ماں کے تلخ جملوں کو سہہ گیا ۔ علی سے یہ نہ ہو سکا اور وہ مجھ سے دور ہونے لگا ۔
علی دسویں جماعت میں تھا ۔ فوجی سکول تھا ، اس کے ہم جماعت اور دوست کرنیلوں اور برگیڈئیروں کے بچے تھے ۔ میرے پاس ایک چھوٹے سے شہر کے چھوٹے سے تھانے کا چارج تھا اور میں حرام کی کمائی سے کوسوں دور اپنی سفید چادر میں گزر کر رہا تھا ۔ ایک دن پروین نے علی سے کہا کہ تمہارے بابا کو کل سکول بھیجتی ہوں ۔ علی کا جواب مجھے کھا گیا تنک کر بولا
“ماما، بابا کو سکول نہ بھیجئیے گا ، مجھے شرم آتی ہے ”
اور میں سوچنے لگا کہ میں جو کئی بار اسے سکول اپنی گاڑی میں چھوڑنے جا چکا ہوں تو یہ دوستوں سے کیا تعارف کراتا ہو گا کہ مجھے کون چھوڑ کر گیا ہے ؟
اس دن دل میں ایک عجیب درد اٹھا ، جیسے کوئی خنجر کی نوک سے دل کو بار بار چھید رہا ہو ۔
کئی سال گزرے ، علی FSC تو اچھے نمبروں سے پاس کر گیا لیکن CA میں اٹک گیا تھا ۔ بہادر گیارہیں جماعت میں کالج میں تھا جب ساری دنیا کو وبا نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔
اس وقت بھی باہر نکلنا ، وبا کے شکار لوگوں کو ڈھونڈ کران کی رپورٹ بھجوانا اور محکمہ صحت کی ٹیموں کو ان کے گھر بھیج کر ٹیسٹ کرانا میرے فرائض میں شامل تھا جب سب لوگ گھروں میں بند ہو کر بیٹھ گئے تھے ۔ یہ ڈیوٹی ایسی تھی کہ وبا کے شکار لوگوں سے براہ راست سامنا مجبوری تھی ۔ میں نے خود کو گھر میں مکمل طور پر الگ کر لیا ، الگ کمرہ الگ برتن جنہیں استعمال کے بعد میں خود دھوتا تھا ۔ میرے بچے مجھے جان سے زیادہ عزیز تھے اور پروین ان کی ماں تھی میں نہیں چاہتا تھا کہ منحوس وبا جو زندگیاں نگل رہی تھی میرے گھر تک پہنچے ۔ پھر ایک دن میں خود اس وبا کا شکار ہو گیا ۔
ہسپتال میں ٹیسٹ سیمپل دے کر گھر پہنچا اور خود کو اپنے کمرے میں قید کر لیا ۔ روزانہ کے ساتھ کی وجہ سے کئی ڈاکٹر دوست بن چکے تھے اور مجھے بھی اپنی ٹیم کا حصہ سمجھتے تھے ۔ جوں ہی خبر پھیلی سبھی نے فون پر رابطہ کیا اور حوصلہ بھی دیا ، بیماری سے لڑنے کے لیئے ہدایات بھی دیں ۔ لب لباب یہ تھا کہ جتنی بہتر خوراک رکھو گے بچ جانے کے اتنے ہی زیادہ امکانات ہیں ۔وبائی قید کے ان دنوں میں در حقیقت مجھے اپنی وقعت کا اندازہ ہوا ۔ کھانے میں جلی ہوئی روٹی ۔۔۔۔۔صبح سویرے ۔۔۔۔اور پھر رات کو شدید تقاضے پر ،پھر کچھ ایسا ہی جسے کھانے کا صحت مند آدمی کو یارا نہ ہو ۔۔۔ خود مانگنے پر پانچویں دن لسی نما ملک شیک کا گلاس گھونٹ گھونٹ پیتے ہوے خیال آیا کہ چوتھائی گلاس ملک شیک کو پانی ملا کر بھر دیا گیا ہے ۔ میں ڈھیٹ تھا ، ایسی غذا کے باجود بچ نکلا ۔ ۔۔۔۔لیکن اس دوران دل عجیب سوگ میں رہا ۔ ۔۔۔۔۔۔کسی بہت اپنے سے بچھڑ جانے کاسوگ ۔۔۔۔۔۔۔علی نے ایک بار بھی فون کر کے نہیں پوچھا کہ بابا آپ کو کچھ چاہئیے تو میں لا دوں ؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بہت جی چاہا کہ اسے کال کر کے کہوں “شاہ صاحب ، میرا علی کہیں کھو گیا ہے ، ڈھونڈ کر لا دو یار ، میں اس کے بغیر نہیں رہ سکتا ، میں مر گیا تو بے چارہ یتیم ہو جائے گا ، پھر اسے کون میری طرح پیار کرے گا ؟”لیکن ایک عجیب سی جھجک آڑے آئی اور میں یہ کال بھی نہ کر سکا ۔
لوٹ پوٹ کر ٹھیک ہو گیا ، خود اختیاری قرنطینہ سے باہر نکلا تو دل اچاٹ ہو چکا تھا ۔ پھر بھی مجھے فیصلہ کرنے میں کئی ماہ لگ گئے ۔ دونوں بچے ماشاء اللہ جوان ہو چکے تھے “سر پر پڑی تو سنبھال لیں گے خود کو ” یہ سوچ کر خود کو تسلی دی اور آزادی اختیار کر لی ، تلخ ترین جملوں سے آزادی ، دل دکھا دینے والے رویوں سے آزادی ۔ اب کہاں کے فرائض اور کہاں کے حقوق ؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں صبح سویرے سول ہسپتال چلا جاتا ، روزانہ دو تین نو واردوں سے ملاقات ہو جاتی ، میں انہیں سمجھاتا بجھاتا ، تسلی دیتا ان کی کہانیاں سنتا اور وقت اچھا گزر جاتا ۔ رات بھر مزے سے شہر کی سڑکوں ، گلیوں میں گھوما کرتا ، اپنے بچپن کو یاد کرتا ، رات بھی گزر ہی جاتی تھی ۔ میں نے جان بوجھ کر گھر کا رخ نہیں کیا تھا ۔ پروین کو دیکھنے کو جی نہیں چاہتا تھا اور علی اور بہادر کو ایک بار دیکھ لیتا تو ان سے جدا نہ ہو پاتا ۔۔۔۔۔ بس اسی ڈر سے خود کو روک رکھا تھا ۔
میں سول ہسپتال سے نکل کر شہر کی جانب چلا تو چند ہی قدم کے فاصلے پر سڑک کے دوسری طرف نظر چلی گئی اور میں فٹ پاتھ پر کھڑا سوچ میں گم ہو گیا ۔ اچانک دور سے وہی غبارے والا اپنی جانب آتا دکھائی دیا ، شاید اس کا گھر یہاں سے قریب تھا اور وہ فاروق اعظم کالونی چوک سے واپس سول ہسپتال کی جانب گھوم کر آ گیا تھا ، اب شاید یہ ریسکیو1122 کے دفتر کے سامنے سے دوبارہ سڑک کے اس جانب چلا جائے گا ۔ اسے دیکھ کر مجھے علی کیوں یاد آ رہا ہے ؟ یہ وہ سوال تھا جو مجھے تنگ کر رہا تھا ۔ وہ اور قریب اور قریب آتا گیا ۔ میں نے دونوں ہاتھ پھیلا کر اس کا راستہ روک لیا ۔ میرا دل کٹ رہا تھا ۔ سانس رکنے لگی تھی ۔۔۔۔۔۔۔میرا بچہ ۔۔۔۔۔میں اسے ایسے ہی پکارا کرتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔وہ میرے وجود سے بے خبر پرانی ٹوٹی ہوئی سافٹیاں پہنے میرے وجود سے گزر گیا ۔ شاید میرے بعد مادیت پرست پروین نے بھی اس کے سر سے ہاتھ اٹھا لیا تھا ۔ میری نظر دھندلا گئی ، گالوں پر گرم پانی کے قطرے محسوس ہوے ۔ میں رہائی نہ پا سکا تھا ، اپنے علی کی محبت کے دائروں میں قید تھا ۔

Published inمرد افسانہ نگارمعظم شاہ