Skip to content

مجازی خدا میں خدا کی تلاش

عالمی افسانہ میلہ 2018
افسانہ نمبر 98
مجازی خدا میں خدا کی تلاش

سید انور ظہیر رہبر، برلن جرمنی

شادی کے پانچویں سال جب میں تیسری بار حاملہ ہوئی تو میری ساس اور میری امی کو بہت خوشی ہوئی۔ ان دونوں کا خیال ہے کہ ہم میاں بیوی کے درمیان بہت ہی خوشگوار زندگی گزر رہی ہے۔ اسی لیے ہر سال ایک اولاد آرہی ہے۔ لیکن فواد کبھی تم نے سوچا کہ صرف بچے پہ بچے پیدا کرنا ہی تو شادی کا مقصد نہیں ہوتا۔
آج سے پانچ سال قبل جب رشتہ لگانے والی جمیلہ خاتون نے تمھارے رشتے کی خبر دی تو میرے ابو امی کی خوشی دیدنی تھی۔ امی تو یہی سنکر خوش تھیں کہ لڑکا سعودیہ میں کماتا ہے۔ کسی نے یہ جاننے کی کوشش بھی نہیں کی کہ سعودیہ میں تم کیا کرتے ہو؟ بس یہ خبر ملی کہ تم نے سوائیل ٹیسٹنگ میں ڈپلومہ کیا ہے اور سعودیہ میں اپنی ہی فیلڈ میں نوکری کرتے ہو۔
پھر تمھاری امی اور تمھاری بہنیں اور خالائیں سب آئیں مجھے دیکھنے کے لیے۔ پڑھی لکھی ہونے کے باوجود بھی مجھے گھر کی ہر بات ماننی پڑی، سو مجھے تیار کیا گیا کہ آج لڑکے والے آرہے ہیں جب کہ مجھے سخت نفرت تھی اس طرح سج دھج کے سامنے جانا۔ ایسا لگتا تھاجیسا کہ بقرعید میں بھیڑ بکروں کو سجاکر قربانی کے لیے تیار کیا جاتا ہے اور گاہک آکر ٹھوک بجا کر دیکھتے ہیں۔ پسند آیا تو خریدا ورنہ منڈی میں دوسرے جانور بھی موجود ہیں۔ تمھاری ایک خالہ مجھے اسی انداز میں دیکھ رہی تھیں ٹھوک بجا کر۔ میرے بالوں کو بھی چھو کر دیکھا کہ اصلی ہیں کہ نقلی۔ میری خاموشی بھی ان کو بری لگ رہی تھی۔ سوچ رہی تھیں کہ شاید میں گونگی ہوں اور جب تک میں نے کچھ کہا نہیں انکو چین نہ آیا۔
کچھ دنوں بعد تمھارے گھر سے خبر آئی کہ تم لوگوں کو میں پسند آگئی ہوں۔ میری امی کی خوشی کا تو کوئی ٹھکانہ ہی نہیں تھا۔ سب سے کہتی چل رہی تھیں کہ انکا ہونے والا داماد سعودیہ میں کماتا ہے ان کی بیٹی تو راج کرے گی وہاں۔
شادی کی تیاری میں سب لوگ مصروف تھے ظاہر ہے مجھے بھی سب کا ساتھ دینا تھا اور ایک دن میں بابل کا آنگن جہاں آنکھ کھولی تھی اور جہاں اپنے ماں باپ ، بہن بھائیوں کے ساتھ بہت خوشی کے دن گزار رہی تھی، چھوڑ پیا کے گھر سدھار گئی۔
سہاگ رات کو گھونگھٹ اٹھا اور جب پہلی بار تم کو دیکھا تو خوشی ہوئی کہ تم نہ صرف اچھی شکل صورت کے تھے بلکہ تم بہت اچھے طریقے سے میرے ساتھ پیش آئے۔ لیکن تم نے مجھ سے ایک وعدہ کیا تھا کہ تم مجھے جلد ہی سعودیہ اپنے پاس بلا لوگے لیکن پانچ سال ہوگئے ایسا نہ ہوسکا۔
شادی کے پندرہ دن بہت اچھے گزرے اور پھر پندرہ دن بعد تم بہت جلد آنے اور مجھے اپنے ساتھ لے جانے کا وعدہ لیکر عازم سعودیہ ہوگئے۔
اب تمھارے گھر میں اپنی ساس اور دو دیوروں کے ساتھ رہنے لگی۔ میری دونوں نندیں شادی شدہ تھیں اور اپنے اپنے گھروں میں رہتی تھیں۔ ظاہر ہے کہ مجھے بہو ہونے کے ناطے گھر سنبھالنا پڑا۔ میرے گھر سنبھا ل لینے سے سب خوش تھے۔ میری ساس بہت زیادہ۔۔۔
تمھارے جانے کے کچھ دن بعد ہی میری طبعیت خراب رہنے لگی۔ متلی ہورہی تھی اور جسم میں کچھ تبدیلی بھی محسوس کررہی تھی۔ ساس بیمار تھیں اور مجبوراً مجھے اپنے ایک دیور کے ساتھ لیڈی ڈاکٹر کے پاس جانا پڑا جانتے ہو مجھے کتنا برا لگ رہا تھا لیکن کیا کرتی تم تو تھے نہیں اسی کے ساتھ جانا پڑا۔ ڈاکٹر نے خوشخبری سنائی کہ میں حاملہ ہوں لیکن یہ خبر بھی سب سے پہلے تم کو نہ دے سکی کیوںکہ تم وہاں موجود نہیں تھے۔ گھر آکر ساس کو بتایا تو وہ خوشی سے باغ باغ ہورہی تھیں ان کو صبر نہ ہوا اور انھوں نے اٹھا کر تم کو فون کردیا اور جو بات مجھے بتانی چاہیے تھی وہ انھوں نے بتادی۔ پھر تم نے مجھ سے بات کی خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ اپنا بہت خیال رکھوں۔ بس اتنا ہی تمھارے لیے کافی تھا۔۔۔۔
جیسے جیسے مہینے گزر رہے تھے میرے جسم میں تبدیلی آرہی تھی۔ کبھی رات میں تو کبھی دن میں مجھے کوئی خاص چیز کھانے کا من کرتا مگر میں کس سے کہتی تم تو تھے ہی نہیں۔ یہ وہ وقت تھا جب مجھے کبھی بہت اچھا لگتا تو کبھی بہت غصہ بھی آتا۔ مگر یہ ساری کیفیت کس کو دکھاتی تم جو نہیں تھے۔ میں سوچتی رہتی کہ بیٹا ہوگا کہ بیٹی پھر سوچتی کہ اس کے لیے کیا کیا تیاری کروں۔ لیکن تم ہوتے تو ساتھ ملکر تیاری کرتی نا۔ میں سب کچھ خود کرتی رہی الٹی سیدھی جو کر سکتی تھی۔
نو مہینے پورے ہونے کو تھے تم نے کہا تھا کہ ڈلیوری کے وقت تم آجاو گے لیکن بعد میں تم نے بتایا کہ تمھیں چھٹی نہیں مل رہی ہے۔ لیبر روم کے حالات دیکھ کر مجھے بہت ڈر لگ رہا تھا میری امی میرے ساتھ تھیں۔ لیکن اس وقت مجھے تمھاری ضرورت تھی لیکن تم یہاں بھی نہیں تھے فواد۔
شاہد کے دنیا میں آجانے سے اور بہت طرح کی مصروفیات ہو گئی تھیں۔ دن بہت مصروف گزرتا لیکن رات کو جب تھگ جاتی اور شاہد سوتا نہیں تو دل چاہتا تھا کہ تم یہاں ہوتے تو کم ازکم اسکو کچھ دیردیکھ لیتے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ جب شاہد تین ماہ کا ہوگیا تو تم پورے ایک سال بعد عید کی چھٹی پر آئے صرف چار ہفتے کے لیے۔ شاہد چھوٹا تھا سارا وقت اسی کے ساتھ گزر جاتا تھا تم بھی اسی کے ساتھ زیادہ وقت گزارتے تھے۔ چار ہفتے پر لگا کر اڑ گئے۔ جاتے جاتے ایک بار پھر تم نے اپنا وعدہ دہرایا کہ بس کچھ مزید کاغذات کی ضرورت ہے اسکے بنتے ہی مجھے اور شاہد کو پاس بلا لوگے۔ لیکن یہ وعدہ بھی وعدہ فردا ہی رہا۔
اب شاہد بھی شاہد تھا میرے ساتھ کہ تم پھر ایک سال بعد عید پر آئے۔ اس بار شاہد چونکہ ایک سال کا ہوچکا تھا تو تم نے میرے ساتھ خوب وقت گزارا۔ مجھے بھی اچھا لگا لیکن تم نے کسی بھی طرح کی احتیاط کو پسند نہیں کیا لگ رہا تھا کہ تم کسی خاص پروگرا م کو لیکر آئے ہو اور یوں تمھارے جانے کے بعد پھر یہ عقدہ کھلا کہ تمھارا مشن تو کامیاب ہوگیا، میں پھر سے حاملہ ہوچکی تھی۔ تمھارے نہ ہونے کے باعث شاہد کے ساتھ اکیلے اس نئی تبدیلی کو میں نے کس طرح کاٹا یہ تو میں ہی جانتی ہوں۔ پھر نازلی بھی دنیا میں آگئی۔
تم پھرہر سال آتے رہے اور میں تمھارے نہ ہونے کی عادی ہوتی گئی۔
اسی دوران بڑے دیور کی شادی بھی ہوگئی اور تم اسکی شادی میں بھی نہ آئے یہ کہکر کہ چھٹی نہیں لے سکتے۔ ایک اور بہو کی آمد سے ساس بہت خوش تھیں لیکن میری تو رات اور اجڑ سی گئی ۔ دیور کا کمرہ برابر میں ہی ہے اور رات کو انکے کمرے سے جب چوڑی کے کھنکنے کی آواز کبھی تیز اور کبھی مدھم ہوتی ، کبھی ہنسی کی آوزیں آتی ہیں اور کبھی چھیڑ چھاڑ کی تو جانتے ہو میرے جسم میں ایک لہر سی دوڑ جاتی ہے۔ ہجر کی راتیں کاٹنا کیا ہوتا ہے یہ صرف میں ہی جانتی ہوں پھر جب میں ان دونوں کو ساتھ ساتھ دیکھتی ہوں تو تم مجھے بہت یاد آتے ہو۔ وہ بھی تو یہیں رہ رہا ہے اپنی بیوی کے ساتھ۔ وہ تو نہیں گیا اپنی بیوی کو چھوڑ کر کہیں۔ پر تم، تم تو جانے کیوں یہ سب کچھ سمجھنا ہی نہیں چاہتے، جانے کیوں؟
اس بار تم آئے تو میں نے سوچ رکھا تھا کہ اب اگر تم احتیاط نہیں کرو گے تومیں تمھارے ساتھ نہیں سوﺅں گی۔ لیکن تم مجازی خدا ہو نا مجھے پھر سے یہ کہکر بہلالیا کہ پتہ ہے ساری کارروائی ہو چکی ہے اب ہم سب کچھ ہی دن میں تمھارے پاس سعودیہ میں ہوں گے۔ میں پھر سے ایک بار تمھاری باتوں میں آگئی۔ اور تم پھر اپنا کام کرکے واپس چلے گئے۔ مجھے ایسا لگنے لگا ہے کہ تم چھٹیاں منانے صرف ایک ہی مقصد کے لیے آتے ہو۔
آج جب میں نے تمھیں فون کرکے پھر سے حاملہ ہونے کی خبر سنائی اور تم سے جب پوچھا کہ کب تک ہمارا ویزا بھیج رہے ہو اور کب تک ہم لوگ تمھارے پاس آئیں گے تو تم نے جواباََ جو کہا اسے سن کر تو مجھے لگا کہ میرے پاوں کے نیچے سے کسی نے زمین کھینچ لی ہے اور میں ہوا میں معلق ہوگئی ہوں۔ آج تم نے مجھے بتایا کہ تم تو مجھے اور بچوں کو سعودیہ بلا ہی نہیں سکتے، کیونکہ تمھاری نوکری کی نوعیت ایسی ہے جس میں تم بیوی بچوں کو وہاں اپنے ساتھ رکھ نہیں سکتے ہو۔
فواد ! کاش تم آج یہ نہ بتاتے اور ہمیشہ کی طرح مجھے تسلی دیتے رہتے کہ تم مجھے اور بچوں کو بلانے کی کوشش کررہے ہو تو آج میرا مان اس طرح تو نہ ٹوٹتا۔ کتنا ظلم کیا ہے تم نے مجھ پر اور اپنے بچوں پر۔ پانچ سال پورے پانچ سال سے تم مجھ سے جھوٹ بولتے رہے بلکہ تم نے تو اس رشتے کا آغاز بھی جھوٹ پر ہی کیا۔۔۔۔۔۔ اور میں پاگل تم کو اپنا مجازی خدا سمجھ کر تم میں خدا کی سی صفات ڈھونڈتی رہی۔۔۔۔۔

Published inسید انور ظہیر رہبرعالمی افسانہ فورم