Skip to content

ماہِ بے سایہ

عالمی افسانہ میلہ 2019

افسانہ نمبر 2

ماہِ بے سایہ

نگہت سلیم

میں نے آ ہنی دروازے پر ہاتھ رکھا تو وہ ایک جھٹکے سے کھل گیا۔ حیرت کے ساتھ مجھے تشویش ہوئی کہ کھلے دروازے سے کوئی بھی اندر آ سکتا تھا۔ گھر کے بیرونی حصّے میں قدم رکھتے ہی مجھے یوں لگا جیسے صدیوں پرانی کسی پراسرار حویلی میں نابینا بھوت منڈلا رہے ہوں آدم نہ آدم زاد۔۔۔ باغ کی سوکھی زرد گھاس میرے پاؤں تلے چرمرانے لگی میں نے دیکھا اطراف ٹنڈ منڈ درخت اپنی شناخت کھو بیٹھے تھے، صرف املتاس تھا جس کے سنہرے پھولوں کی لمبی نازک ڈالیاں لہرا رہی تھیں اور خوشے زمین پر بکھرے ہوئے تھے۔

کیا اِس گھر میں فصلِ گُل اس طرح آتی تھی۔۔۔۔؟ میں نے قدم بڑھائے تو وسیع راہداری سے گزرنے والا ایک انسانی سایہ اونچے ستون کی آڑ میں ہو گیا یکدم میرے عقب سے کسی نے احتجاجی لہجے میں کہا۔۔۔۔ “او۔۔۔۔ جی کون ہے؟”

میں نے مڑ کے دیکھا وہ نصیراں تھی میری ماں کی پُرانی خادمہ۔

“ارے۔۔۔۔۔ چھوٹی بی بی آپ؟

آؤ نا۔۔۔۔ باہر کیوں کھڑی ہو؟؟ کتنے سال لگا دیئے آنے میں “۔۔۔۔! !

“ماں کہاں ہیں۔۔۔۔؟”

“وہ اندر ہوں گی۔۔۔۔ یا پھر۔۔۔۔! “

“یا پھر۔۔۔۔؟؟”

“گلِ مہر کی جھاڑی کے پاس۔۔۔۔ “

میں نے بے اختیار باغ کے مشرقی حصے کو دیکھا جہاں گلِ مہر کے سرخ نارنجی پھول شاخوں کے سرے پر جھولتے تھے لیکن اب تو وہاں آک کی جھاڑیاں تھیں۔

“میں بیگم صاحبہ کے کھانے کے لئے کچھ لینے قریبی بازار تک گئی تھی ویسے تو میں دروازہ بند کر کے ہی جاتی ہوں۔ “۔۔۔ وہ صفائی پیش کرنے لگی۔۔۔۔

اور میں ماں کو ڈھونڈ رہی تھی۔۔۔۔ اچانک میری نگاہ ایک کبِرسن عورت پر پڑی جس کی جلد چمپئی نہیں تھی، زرد اور مرجھائی ہوئی تھی۔ جس کے بال نفیس جوڑے میں بندھے ہوئے نہیں تھے، خزاں زدہ جھاڑی کی طرح بکھرے بے رونق تھے، اس کے جسم پر خوبصورت قیمتی ساڑھی کی بجائے خادمہ کے لباس سے زیادہ میلے اور بوسیدہ کپڑے تھے۔

“ماں۔۔۔۔ یہ کیا حالت بنا رکھی ہے “۔۔۔۔ میں ان کی طرف لپکی۔

انہوں نے سراسیمگی سے مجھے دیکھا۔ پھر نصیراں کے بازوؤں میں چھپنے کی کوشش کرنے لگیں۔

نصیراں انہیں سنبھالتے ہوئے اندر لے گئی، میں اس کے اشارے پر وہیں رُک گئی تھی، کچھ دیر بعد وہ آئی، میں تب بھی ستون کے پاس حیران کھڑی تھی اس نے میرا سامان اٹھایا اور بولی

“چھوٹی بی بی میں آپ کا کمرہ صاف کر دیتی ہوں۔ “

٭٭٭

میں اُس وقت مشی گن کے ایک کتب خانے سے باہر نکل رہی تھی کہ فون کی گھنٹی بجی۔ میں نے عجلت میں کندھے پر پڑے چرمی تھیلے میں ہاتھ ڈالا۔۔۔۔ سڈنی سے میری بہن کا فون تھا۔

“صبا۔۔۔۔ تم نے پاکستان میں ماں سے آخری بات کب کی تھی۔۔۔۔؟”

میں ہڑ بڑا سی گئی۔۔۔۔ “کیوں۔۔۔۔ خیریت؟؟ ماں کو کیا ہوا۔۔۔۔؟”

“رابطہ نہیں ہو رہا ہے “۔۔۔۔ وہ تشویش سے بولی۔۔۔

“فون کی گھنٹی جاتی ہے کوئی اٹھاتا نہیں۔۔۔۔ نامعلوم فون خراب ہے یا۔۔۔۔! “

“شاید وہ خالہ کے ہاں گئی ہوں۔۔۔۔ کچھ دنوں کے لئے “۔۔۔۔ میں نے کہا

“صبا۔۔۔ تمہارے دماغ کا رس تمہارے تحقیقی مقالے نے نچوڑ لیا ہے تمہیں یہ بھی یاد نہیں کہ پچھلے برس خالہ کا انتقال ہو چکا ہے۔۔۔۔ “

“اوہ۔۔۔ ہاں۔۔۔ اچھا تم۔۔۔۔ بھائیوں سے پوچھ کے دیکھ لو۔۔۔۔ شاید کبھی انہیں ماں کی یاد آئی ہو۔۔۔۔ “میں نے تجویز دی۔

“وہ دونوں۔۔۔۔ کینیڈا۔۔۔۔ کبھی یورپ۔۔۔۔ اور نجانے کہاں سفر میں رہتے ہیں انہیں اپنے کاروبار اور غیر ملکی بیویوں سے فرصت ہی نہیں۔۔۔۔ اور میں۔۔۔۔ تم تو جانتی ہو بچے، شوہر، گھر داری، ساس کے احکامات۔۔۔۔ بس تم ہو جو تنہا ہو، آزاد، خود مختار، تم نے بیکار خود کو تین برس کے لئے پڑھائی میں پھنسا لیا۔۔۔۔ میں بھی کئی برس سے وطن نہ جا سکی۔۔۔۔ خیر تم تو جانے کی تیاری کرو۔۔۔۔ کوئی ایسا رشتہ دار بھی نہیں جس سے ماں کی خیریت پوچھی جا سکے۔۔۔۔ “

“ہاں میں “۔۔۔۔ میں نے کشادہ سڑک پر رواں حیاتِ تازہ پر نظریں گھمائیں۔

“جاؤں گی وطن “۔۔۔۔! !

“وطن نہیں۔۔۔۔ ماں کے پاس۔۔۔۔ جاؤ۔۔۔۔ جلدی جاؤ۔۔۔۔ انہیں کچھ ہو نہ گیا ہو۔ وہاں تو ایک پرانی خادمہ کے سوا کوئی نہیں ہے اور وہ بھی نجانے۔۔۔۔۔ “

اُف۔۔۔۔ کیوں نہیں سمجھتی میری بہن۔۔۔۔ میں نے سوچا۔۔۔۔ میری سند کے حصول میں چند ماہ باقی ہیں اتنے اہم مرحلے پر کیسے چلی جاؤں۔۔۔۔؟ اور میرے بھائی۔۔۔۔ ان کی بے حسی دیکھ کے تو لگتا ہی نہیں کہ وہ میری ماں کی اولاد ہیں، ماں نے انہیں ہم سے زیادہ چاہا تھا۔

واپسی کا قصد کرتے کرتے چند ماہ اور لگ گئے، اب تین برس بعد میں نے اس گھر میں قدم رکھا تھا یہ گھر جہاں محبت کے خالص ہونے کی ضمانت کبھی کسی نے نہ دی تھی لیکن ایسا وقت بھی نہیں آیا تھا۔

شاید وہ زوالِ قمر کی رات تھی، نصیراں برآمدے کی سیڑھی پر بیٹھی نپے تُلے انداز سے ماں کے متعلق بتا رہی تھی، اس کی گفتگو سے لگ رہا تھا جیسے اتنے سالوں میں ماں نے اپنا شعور اس کے اندر انڈیل دیا ہو۔۔۔۔ اس کے لہجے میں اداسی، خفگی، سرزنش سب کچھ تھا وہ بولی “چھوٹی بی بی۔۔۔ بیگم صاحبہ۔۔۔۔ سب سے زیادہ فون آپ کے دونوں بھائیوں کو کرتی تھیں اس کے بعد روتی تھیں وہ انہیں فون پر نہیں ملتے تھے۔۔۔۔ آپ کبھی جلدی میں بات کرتیں اور کبھی آپ کا فون بند ہوتا۔۔۔۔ بڑی بی بی کی باتوں میں زیادہ ذکر ان کی اپنی مصروفیات اور گھر گرہستھی کا ہوتا۔۔۔۔۔ بیگم صاحبہ کہتی تھیں کہ بی بی اپنے گھر میں اتنی خوش ہیں کہ لمبی لمبی باتوں کے بعد بس ایک آدھ جملے میں ماں کا حال پوچھ کے فون بند کر دیتی ہیں، پھر ایک دن فون کٹ گیا اور یہ سلسلہ بھی ختم ہوا۔۔۔۔ مالی بہت پہلے گھر چھوڑ کے چلا گیا تھا باغ کا حال آپ نے دیکھ لیا ہے۔۔۔۔۔ میں تو بے گھر، بے در تھی یہاں رہنا میری مجبوری تھی محبت نہیں۔۔۔۔ محبت کا رشتہ تو آپ لوگوں نے نبھانا تھا۔۔۔۔۔! “

پھر نیم روشنی میں وہ خاموشی سے اٹھی اور ماں کے کمرے کے فرش پر سونے کے لئے چلی گئی۔۔۔۔ میں بجھے ٹوٹے قمقموں میں اُس گھرکو تلاش کرنے لگی جو کبھی ہم سب کا تھا۔

٭٭٭

اُس وقت میں بارہویں جماعت کی طالبہ تھی جب بابا نے یہ خوبصورت اور کشادہ گھر لیا تھا، میری ماں کی حسِ لطیف نے انہیں کبھی چین سے بیٹھنے نہ دیا۔ انہوں نے اس گھر میں آتے ہی اس کی بے رنگ چٹیل زمین کو اپنے ہاتھوں سے لگائے پودوں اور درختوں سے سرسبز کر دیا۔۔۔۔۔۔ ہمارے گھر کی راتیں موگرا، رات کی رانی اور چنبیلی سے مہکتی تھیں اور دن ہارسنگھار کے سرخی مائل نارنجی خوشبو دار گچھوں، چمپا کے زرد پھولوں، گڑھل کی سرخ جھاڑی اور سرس کے برگ ریز درخت کے ساتھ اترتا تھا۔

اُن دنوں ہم سب بہت خوش تھے۔۔۔۔۔۔

پھر اچانک معلوم ہوا ہمارے ماں باپ میں ذہنی رفاقت تو کبھی تھی ہی نہیں۔۔۔۔۔ بس ایک ناٹک تھا جسے ہم دیکھتے تھے ایک تیسرے فریق نے بھانڈا پھوڑ دیا تھا۔۔۔۔۔

اس انکشاف کو سب سے پہلے ماں نے حقیقت کے طور پر تسلیم کیا۔ نجانے کب سے ان کی حسّیات بابا کے تعاقب میں ہراساں افتاں و خیزاں تھیں۔ ہماری لا علمی کی وجوہات میں ماں کا حد سے بڑھا ہوا نظم و ضبط شامل تھا۔ پھر یوں ہوا کہ بابا نے اپنی نئی شادی کا اعلان اور ہم سب سے علیحدگی کا فیصلہ اکٹھا ہی سنا دیا ہمیں پہلی دفعہ پتہ چلا کہ کوئی تعلق کس طرح دل میں زخموں کی کھیتی اُگا سکتا ہے۔ رگِ جاں سے خون کھینچ کھینچ کے پروان چڑھتی یہ کھیتی کب اندھیرے جنگل کی طرح تناور ہوئی ہمیں پتہ ہی نہ چلا لیکن ماں کے ظاہری نظم و ضبط میں کوئی فرق نہ آیا یہی توقع انہوں نے ہم سب سے بھی کی تاکہ جگ ہنسائی ہمارے سر نہ جھکا سکے۔ ماں خود کو مضبوط ثابت کرنے کے لیے لوگوں کے سامنے اپنے خاندانی جاہ و حشم کے قصّے سنانے لگیں، پھر انہوں نے قابل رشک حافظے کا سہارا لیتے ہوئے اپنے مطالعے کے بیان کو شخصیت کے اظہار کا ذریعہ بنا لیا، ملنے جلنے والے لوگ ان کی اعلیٰ تعلیم اور مطالعے کا چرچا کرنے لگے۔ ماں، ادیانِ عالم، تاریخ، فلسفہ، سائنس، سیاست غرض کہ تمام بڑے اور بنیادی علوم پر یوں سیر حاصل گفتگو کرتیں کہ سننے والے حیران رہ جاتے۔ ہم مطمئن تھے کہ ماں کا دل لگا ہوا ہے۔ ان کے چاروں بچوں میں صرف میں تھی جو ان کے ہاتھ آ جاتی تھی وہ مجھے اسلام کی نشاۃ الثانیہ، مغلوں کی تاریخ، قدیم تہذیبوں کی کہانیاں اور دنیا کے عظیم ناولوں کی بابت بتاتیں۔ کبھی راہداری سے گزرتے دیکھ کے مجھے بلاتیں اور باغ میں نئی کھلی کونپلیں دکھاتیں۔ پودوں کی افزائش، بیجوں کی ساخت اور موسموں کی فصل کے بارے میں بتاتیں۔۔۔۔ آج بھی لگتا ہے جیسے میں نے خود کچھ نہیں پڑھا، صرف ان سے سنا ہی سنا ہے، مجھے احساس تھا کہ میں ان کی چہیتی اولاد کبھی نہیں رہی، انہیں ہمیشہ شبہ رہا کہ میں ان کی شخصیت سے متاثر نہیں ہوں۔ وہ اپنی تینوں بڑی اولادوں کو اپنا وفادار سمجھتی تھیں۔

وقت کروٹ بدلنے لگا۔ میری بڑی بہن شادی کے بعد سڈنی چلی گئی۔ ماں کے لیے اس کی جدائی سہنا آسان نہ تھا، پھر دونوں بھائی ماں کو سنہرے خواب دکھا کے اور اپنے حسین مستقبل کے واسطے دے کے ایسے گئے کہ پلٹ کے نہیں آئے۔۔۔۔۔

جب مجھے مشی گن یونیورسٹی میں داخلہ ملا اور میں نے ماں کو یہ خبر سنائی تو ان کے چہرے پر ایک سایہ سا لہرایا، انہوں نے جن نگاہوں سے مجھے دیکھا انہیں میں کبھی بھلا نہ سکی۔۔۔۔۔۔

علم کی جستجو مجھے ورثے میں ملی تھی اور محبت۔۔۔۔۔! ہماری وراثت میں محبت کہیں نہیں تھی۔ ہم جدید دنیا سے باخبر تھے اور ایک دوسرے سے بے خبر۔۔۔۔۔ اب مجھے یاد آتا ہے کہ ماں کے کچھ خط ملے تھے جن کے مختصر جواب میں نے کبھی فون پر دیئے اور کبھی نہیں۔۔۔۔۔ پھر یہ سلسلہ یوں منقطع ہوا کہ مجھے اپنے تحقیقی مقالے کے لیے سفر کرنا پڑا۔۔۔۔۔۔

٭٭٭

اگلے دن کی صبح میں نے ماں کو غسل کے بعد عمدہ لباس زیب تن کروایا پھر ان کے قریب بیٹھ کے خوش کن یادیں تازہ کرنے کی کوشش کی۔ لیکن مجھے محسوس ہوا جیسے میں ایسے ڈوبتے شخص کو زیرِ گرداب پکار رہی ہوں جس نے ڈوبنے سے پہلے بہت آوازیں دی ہوں اور اب ایسی ہار مانی ہو کہ کنارے اور بھنور کا امتیاز مٹ گیا ہو۔

بچپن میں میرے پاس سوال ہی سوال تھے اور ان کے پاس مدلّل و مفصّل جواب۔۔۔۔ سو میں نے ایک کھسیاہٹ زدہ شخص کی طرح ان کے حافظے پر دستک دینے کی خاطر ان کے پسندیدہ موضوعات پر بے سر و پا گفتگو شروع کر دی۔ تاریخ کا وہ حسین و منّور دور جسے ہم نشاۃ الثانیہ کہتے ہیں، ماں اسے سرمدی اور یگانہ کہتی تھیں اس پر گفتگو کرنے بیٹھتیں تو اوراقِ پارینہ خود بخود کھلتے چلے جاتے تھے لیکن اب اس موضوع پر انہیں لاتے ہوئے مجھے محسوس ہو رہا تھا کہ میں تاریخ کے کسی تاریک و قبیح دور میں حیران و سرگرداں پھر رہی ہوں۔

میں جانتی تھی وہ مثالیت پسند رہی ہیں، یہ رویّہ انسان کو مشقت اور کبھی کبھی یاسیت کی طرف لے جاتا ہے۔ کیا وہ یاسیت کے جالے میں پھنس کے سب کچھ بھول چکی ہیں۔۔۔۔۔ کاش وہ ایک عام سی عورت ہوتیں۔

٭٭٭

دماغی امراض کے ماہر کے سامنے ماں کے طبّی معائنے کی تفصیل تھی اور میں اک جاں گسل مرحلے سے گزر رہی تھی،

بالآخر وہ بولا۔۔۔۔۔ ” ان کے دماغ کے اندر اعصابی ریشوں کی گرہیں بن گئی ہیں۔۔۔۔۔ “

“وجہ۔۔۔۔۔؟” حسبِ عادت میں نے سوال کیا۔

“بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں۔۔۔۔۔ خون کی رگوں کی صلابت، کوئی چوٹ، کبَر سنی کے نقائص کا جینیات پر اثر انداز ہونا۔۔۔۔۔ ایک توانا ذہن مختلف حالات سے نبرد آزما ہوتا ہے اس پر قابو بھی پا لیتا ہے لیکن کوئی نہیں کہہ سکتا کہ کل اس کے ساتھ کیا ہو جائے۔۔۔۔۔ اس کی ذہانت و فطانت اور حافظے میں محفوظ عمر بھر کا خزانہ تاراج و برباد ہو جاتا ہے۔ انسان کے مقدر میں بہت سی ایسی چیزیں لکھی گئی ہیں جو اس پر کھل نہیں پاتیں۔ کھل سکتی نہیں۔۔۔ لیکن خیر۔۔۔۔ الزہائمر مرض پر مسلسل تحقیق ہو رہی ہے۔۔۔۔۔ “

“الزہائمر “۔۔۔۔۔ میں بڑبڑائی۔۔۔ دماغی امراض کے ماہر کا تمام فلسفہ لمحے بھر میں تحلیل ہو گیا جو در حقیقت وہ ہمدردی کے طور پر مجھے اس جھٹکے سے بچانے کے لیے سنا رہا تھا۔ اس نے میرے زرد ہوتے چہرے کو دیکھا اور موضوع تبدیل کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔ “اچھا تو آپ مشی گن یونیورسٹی میں سماجیات کی طالبہ تھیں۔۔۔۔۔ آپ کی تحقیق کا موضوع کیا تھا۔۔۔۔؟”

میں اسے بتانے لگی یکدم میری زبان میں ہکلاہٹ آ گئی۔۔۔ نہیں معلوم میں اس اچانک ہکلاہٹ سے شرمندہ ہوئی یا مجھے یہ بتانے میں جھجھک محسوس ہوئی کہ میں ترقی یافتہ دنیا میں خاندانی اور سماجی ڈھانچے کی شکست و ریخت کے موضوع پر کام کر رہی تھی۔ اُس پل پوری قوت سے مجھے محسوس ہوا کہ میرا مقالہ غیر اہم ہو گیا ہے۔

“کیا۔۔۔۔۔ ماں۔۔۔ ٹھیک ہو جائیں گی؟؟” میں نے جواب دیئے بنا سوال کیا۔

وہ ہنسا۔۔۔۔۔ عجیب سی ہنسی تھی۔ ” یہ تو آپ جانتی ہیں کہ امریکہ میں الزہائمر عام ہے۔ “

“میں یہاں کی بات کر رہی ہوں۔۔۔۔۔ “

“ہاں۔۔۔۔۔ یہ مرض تقریباً پوری دنیا میں پایا جاتا ہے۔ میں واضح طور پر مریضہ کی صحت کے بارے میں کچھ کہہ نہیں سکتا۔۔۔۔۔ در اصل یہ پیچیدہ اور غارت گر مرض ہے۔۔۔۔۔ آپ کو اور آپ کے رشتہ داروں کو چاہیے کہ مریضہ کو زیادہ سے زیادہ اپنی قربت اور محبت کا احساس دلائیں۔۔۔۔۔ اس مرض میں چونکہ حافظے اور خیالات کا ادراک قائم رکھنے والے اعصابی تعلقات ٹوٹ جاتے ہیں اس لیے قوت فیصلہ، محویت اور الفاظ کے استعمال کی قابلیت کم ہو جاتی ہے۔ یہ بیماری ابھی اسرارِ سربستہ ہے مریضہ کو قدم قدم پر سہارے کی ضرورت ہے۔۔۔۔۔۔۔۔! “

٭٭٭

آک کی جھاڑیوں کے پاس آرام دہ کرسی پر ماں بیٹھی تھیں گم صم سی۔ نصیراں نے بتایا ماں کی پسندیدہ جگہ یہی ہے وہ سمجھتی ہیں کہ گلِ مہر کی جھاڑیاں اب بھی تر و تازہ ہیں۔۔۔۔۔ میں انہیں وہیں چھوڑ کے گھر کا چکر لگانے لگی جگہ جگہ چوہوں کے بل، گلہریوں، پرندوں کے ٹھکانے اور مکڑیوں کے جالے تھے۔ جیسے کوئی مقام آسیب کی زد میں آیا ہوا ہو۔

کئی کمرے قفل زدہ تھے کھلے کمروں کا سامان گرد و غبار سے اَٹا ہوا تھا۔۔۔ ماں کے کمرے سے ملحق ان کا ذاتی کتب خانہ تھا جو کشادہ تھا اور اس کی کھڑکیاں باغ میں کھلتی تھیں۔ کتب خانے کا دروازہ کھول کے میں اندر داخل ہوئی تو روشندانوں میں بنے گھونسلوں سے پرندے نکل کر پھڑپھڑائے۔ اچانک کمرہ روشن ہو گیا میں چونکی، نصیراں میرے عقب میں تھی۔۔۔۔۔۔

“بتّی جلا دی ہے بی بی۔۔۔۔ شام ہونے والی ہے۔۔۔۔۔۔ “

“یہ کمرہ کب سے نہیں کھلا؟” میں نے قیمتی کتابوں کو گرد میں گم پایا۔

“جب سے بیگم صاحبہ کی طبیعت خراب ہونا شروع ہوئی ہے۔”

“اچھا تم جاؤ۔۔۔۔۔ ” میں نے کہا اور کتابیں دیکھنے لگی۔ بڑی بڑی الماریوں میں تاریخ و ادب، مذہب و فلسفہ پر کتب بھری پڑی تھیں جنہیں پڑھ پڑھ کے وہ مجھے بتاتی تھیں کہ دنیا کی بڑی جنگوں نے کس طرح اقوامِ عالم کے مقدر کو تبدیل کیا، آج میری ماں ان کتابوں سے رابطہ توڑ چکی تھیں اور اس مقدر سے وابستہ ہو گئی تھیں جو در اصل ان کا نہیں تھا ہم سب نے انہیں یہاں تک پہنچایا تھا۔ میں کتابوں کی گرد جھاڑنے لگی اچانک مجھے خیال آیا کیا ماں نے خود پر علم و فضل کی چادر ڈال رکھی تھی۔۔۔۔؟؟جس کی اوٹ میں چھپ کر وہ دنیا سے اپنی محرومیاں چھپانا اور خود کو مضبوط ظاہر کرنا چاہتی تھیں۔۔۔۔۔۔ کیا وہ اندر سے بہت کمزور تھیں۔۔۔۔۔ شاید نہیں۔۔۔۔۔ شاید ہاں۔۔۔۔۔

ایک عام انسان کی طرح انہیں بھی فطری اور حقیقی رشتوں کی ضرورت تھی ہم نے انہیں اپنی خود غرضی کے سبب مضبوط تصّور کر لیا تھا۔ اب وہ ہڈیوں، پٹھوں اور مردہ ہوتے رگ و ریشوں سے ڈھکی ایک ہستی رہ گئی تھیں۔ انہیں درد کے بغیر دردِ لا دوا لاحق ہو گیا تھا۔ ان کی نزاع میں مبتلا محبت کو جگانا مجھ اکیلی کے بس میں نہ تھا، سو میں نے یہ جانتے ہوئے کہ کوئی نہیں آئے گا پھر بھی بہن بھائیوں کو ماں کی کیفیت بتا دی تھی۔

مجھے اقرار ہے کہ میری محبت میں قوت نہیں تھی میں جو شعورِ ذات کی خاطر ترقی یافتہ ملکوں میں رہی تھی میں کہ جس کے نزدیک توسیعِ ذات ہی حاصلِ حیات تھا میں خود پر جدید افق کے دروازے کھلے دیکھنا چاہتی تھی لیکن مواصلات کا پہلا دروازہ جس سے پہلی بار میں نے جھانکنا سیکھا تھا اسے بھلا دیا تھا۔۔۔۔۔ بس یہی کتب خانہ تھا جو ماں تک پہنچنے کا روحانی سہارا بن سکتا تھا۔ اچانک میری نگاہ ایک سرخ مخملیں ڈبے پر پڑی جو خاصا بڑا تھا جس کا سنہری قفل کھلا ہوا تھا۔ میں اس کا ڈھکنا اٹھانے کو تھی کہ عقب سے نصیراں حسبِ معمول دیومالائی کہانیوں کے پراسرار کردار کی طرح نمودار ہوئی۔

“بی بی۔۔۔۔۔ آپ کب سے یہاں کھڑی ہیں میرا مطلب ہے بہت گرد و غبار ہے۔۔۔۔۔ “

“یہ کیا ہے۔۔۔۔ ” میں نے سرخ ڈبے کی طرف اشارہ کیا

“یہ بیگم صاحبہ کے مردہ خطوں کا ڈّبہ ہے۔۔۔۔! “

“مردہ خط”۔۔۔۔؟میں حیران رہ گئی۔

“جب وہ ٹھیک تھیں تو کہتی تھیں کہ ڈاکخانے میں ایک جگہ ایسی ہوتی ہے جہاں وہ خط جمع کر لیے جاتے ہیں جن کا کوئی پتہ نہیں ہوتا جن کا جواب نہیں آنا ہوتا۔۔۔۔۔۔۔ “

” اوہ۔۔۔۔ تو کیا؟”۔۔۔۔۔۔ میں بڑبڑائی۔

“بی بی۔۔۔۔۔ آپ لوگ بہت مصروف تھے آپ کے پتے بھی تبدیل ہوتے رہتے تھے بیگم صاحبہ فون کرتیں تو سب جلدی میں جواب دیتے خط لکھتیں تو جواب نہیں آتا تھا۔ اس لیے انہوں نے سب کے نام خط لکھ لکھ کے اس “مردہ خطوں کے ڈّبے ” میں بند کر دیئے، اِسے دیکھ کے وہ ہنستی تھیں، کبھی روتی تھیں، اب تو مدت ہوئی خاموش ہو گئی ہیں اس طرف آتی ہی نہیں۔ “

رات کے کھانے کے بعد جب ماں سو گئیں۔ نصیراں بھی سو گئی تب میں نے کتب خانے کی روشنیاں جلائیں اور “مردہ خطوں کی دنیا ” میں داخل ہو گئی۔ یہ ایک الگ جہان تھا جسے ہم میں سے کسی نے دریافت کرنے کی کوشش نہ کی تھی۔ بند لفافوں میں خط تھے جن پر ٹکٹ چسپاں تھے پتے درج تھے بس انہیں ڈاکخانے نہیں بھیجا گیا تھا۔ ہم چاروں بہن بھائیوں کے نام لکھے گئے خط، الگ الگ خانوں میں سلیقے سے تاریخ وار رکھے ہوئے تھے۔ میں نے صرف اپنے نام کے خط اٹھا لیے انہیں ابتدائی تاریخوں سے پڑھنا شروع کیا۔۔۔۔۔۔ تمام عمر میں بدگماں رہی کہ ماں مجھے کم چاہتی ہیں لیکن ان خطوط میں محبت کا جو دریا بہہ رہا تھا اس کا میٹھا پانی میری زندگی کے ہر بنجر راستے کو سیراب کرنے کو بہت تھا میں ہی دریا کی مخالف سمت بھاگتی رہی۔

آخری خطوں میں لکھے گئے ایک جملے کے سیاق و سباق سے واضح ہوتا تھا غالباً یہ جملہ اور خطوں میں بھی ہے جو یہ تھا۔

“میرے اور موت کے درمیان حائل زندگی معدوم ہو رہی ہے میں چاہتی ہوں ایک بار تم سے مل لوں۔۔۔۔۔۔ “

جانے کیا سوچ کے میں نے اپنے لیے لکھے گئے خطوں کے جواب تحریر کرنا شروع کر دئیے۔ رات کب گزری مجھے اندازہ نہ ہوا کتب خانے کی گھڑی لمحۂ پارینہ میں ٹھہری ہوئی تھی، جب سارے جواب مکمل ہو گئے تو ہر جواب کے ساتھ میں نے اَس کا خط نتھی کر دیا۔

٭٭٭

صبح میں اٹھی تو کمرہ دھوپ سے بھر چکا تھا، ماں ناشتہ کر چکی تھیں، میں نے ناشتے سے فارغ ہو کے انہیں تلاش کیا وہ باغ میں اپنی پسندیدہ جگہ پر مل گئیں۔ آک کی نرم اور کاگ دار چھال سفید روئیں سے ڈھکی ہوئی تھی اور ہلکے جامنی سفید پھول کھلے تھے۔ میرے ہاتھ میں ان کے خطوط کے ساتھ وہ جواب تھے جو رات بھر میں نے آنسوؤں کی بوچھاڑ میں لکھے تھے۔

زمین پر املتاس کے پیلے پھولوں کی چادر بچھی تھی زرد رو گھاس نے فضا کو مزید بوجھل کر دیا تھا اور اطراف سوکھے پتوں میں ہوا سنسناتی پھر رہی تھی ماں کے کپڑے پہلے کی طرح ملگجے اور بال بے ترتیب تھے، ان کی گود میں خزاں رسیدہ پتے رکھے ہوئے تھے نصیراں نے بتایا تھا کہ اب ان کی دن بھر کی مصروفیت یہی ہے کہ وہ زرد پتوں کو چن چن کر گود میں رکھتی ہیں۔

میں ان کے قریب جا کے بیٹھ گئی اور آہستگی سے خطوط کے جواب ان کی گود میں رکھ دیئے، پھر بولی۔۔۔۔ “ماں۔۔۔۔ میں جانتی ہوں۔۔۔۔ وقت گزر جائے تو بات کی اہمیت نہیں رہتی۔۔۔۔ میں نے بہت دیر کر دی ہے۔۔۔ تلافی ممکن نہیں۔۔۔ لیکن میری خواہش ہے میرے جواب آپ صرف دیکھ لیں اور اگر مجھ سے یہ جواب سن لیں تو میرے دل کا بوجھ ہلکا ہو جائے گا۔۔۔۔۔ “

انہوں نے خالی خالی نظروں سے مجھے دیکھا لیکن خطوط کی جانب متوجہ نہ ہوئیں۔ کچھ دیر ایسی گزری جو میرے ارادے سے باہر، ان کی لاتعلقی سے ماورا تھی۔۔۔۔ بس مجھے محسوس ہوا کہ میری آرزو مندانہ نگاہوں میں کچھ ایسا ہے جس سے ان کے برف جیسے وجود میں حرارت کی رمق پیدا ہوئی، پھر بیٹھے بیٹھے ان کا جسم انجانی تھرتھراہٹ کی زد میں آیا ان کی آنکھوں میں شناسائی کی خفیف سی چمک بہت دور سے آتی ہوئی معلوم ہوئی میری خوش گمانی نے دیکھا کہ ان کی واپسی کے قدم لرزتے کانپتے اٹھ رہے ہیں۔

میں نے بڑھ کے انہیں سہارا دینا چاہا، اچانک اطراف سنسناتی ہوا کی شوریدگی نے کسی آسیبی سازش سے سب کچھ اپنی لپیٹ میں لینا شروع کر دیا۔۔۔۔ کیا میں چند لمحوں کے لئے کسی فریب خیال میں آ گئی تھی کیونکہ اب ان کا چہرہ پہلے کی طرح سپاٹ تھا اور نگاہوں میں اجنبیت تھی اچانک وہ اپنی آرام دہ کرسی سے بے حد آہستگی سے کھڑی ہو گئیں ان کی گود میں رکھے زرد پتے، خط اور ان کے جواب زمین پر گر گئے پھر زمین پر پڑے زرد پتوں کے ساتھ مل کے اڑنے لگے میں انہیں آک کی جھاڑیوں میں اٹکتا اور کانٹے دار گھاس سے لپٹتا دیکھتی رہی بے بسی سے میں نے ان کی طرف دیکھا۔ میری ماں خود بھی ایک زرد پتہ لگ رہی تھیں۔۔۔۔۔۔

Published inعالمی افسانہ فورمنگہت سلیم