Skip to content

ماضی کے دریچے سے

افسانہ نمبر 102

ماضی کے دریچے سے

نصرت اعوان، کراچی، پاکستان

آج میں اپنے ٹی وی لاونج کی چار دیواری کے اندر بیٹھی گرم گرم چائے کا مزہ لے رہی تهی کہ ایک دم سے ذہن کے تمام دریچے ماضی میں کهلنے لگے۔ وقت کا دریا جیسے الٹا بہنے لگا ہو۔ تمام واقعات ایک فلم کی طرح ذہن کے پردے میں چلنا شروع ہو گئے۔۔۔۔۔ میرا بچپن اور اسکول کا ابتدائی دور مشرقی پاکستان کے شہر ڈهاکہ میں گزرا۔۔۔۔۔ پانچویں جماعت کے امتحان کے فوراً بعد ہمیں مشرقی پاکستان سے کراچی ہجرت کرنی پڑی کیونکہ سیاسی بحران نے شدت اختیار کر لی تھی۔ کراچی پہنچ کر والد صاحب کو فوراً ایک پرائیوٹ دفتر میں نوکری مل گئی جس سے بمشکل گزر بسر ہوتا تها۔ ہماری والدہ لوگوں کے کپڑے سلائی کرکے آمدنی میں اضافہ کرتی تھیں تاکہ ہم سب بهائی بہنوں کو اچهے انگریزی سکول میں داخل کروایا جا سکے۔ ان ہی مشکل حالات میں، میں نے میٹرک پاس کیا اور پهر چار سال کالج مکمل کرنے کے بعد نوکری کی تلاش شروع ہوئی۔ گو کہ والد صاحب راضی نہیں تھے لیکن گهر کے حالات کو دیکهتے ہوئے مجهے اجازت دینے پر مجبور ہو گئے۔

نوکری کے لئے مختلف اداروں میں درخواست بھیجنے کا عمل شروع ہو گیا۔ آخر کار ایک جگہ سے انٹرویو کا بلاوا آیا۔ مجهے اگلے دن ہی جانا تھا۔ اس رات میں خوشی اور ایک انجانے خوف کی وجہ سے ٹهیک طرح سو بھی نہیں پائی۔ اللہ اللہ کر کے صبح ہوئی۔ اچهی طرح سے تیار ہو کر سارے ضروری دستاویز کے ساتھ اپنی منزل کی تلاش میں چل پڑی۔ مارے جوش کے ایک گھنٹہ پہلے ہی وہاں پہنچ گئ۔ پوسٹ ایک تهی لیکن امیدوار بہت۔ اتنے لوگوں کو دیکھ کر میری ہمت جواب دینے لگی کیونکہ مجھ سے عمر میں زیادہ اور تجربہ کار لوگ آئے ہوئے تهے۔ میں سوچتی ہی رہی کہ کیا کروں کہ اتنے میرا نام پکارا گیا۔ ہڑبڑا کر اٹهی اور پوچهتی ہوئی ایک بڑے سے کمرے میں داخل ہو گئی۔ وہاں کا منظر بهی خاصا دہلا دینے والا تها۔ تین عدد مرد حضرات ادهیڑ عمر کے اور ایک خاتون ایک بڑی سی میز کے سامنے بیٹهے تهے۔ ان سب کے هاتهوں میں میرے دستاویز موجود تھے۔ اشارے سے مجھے سامنے والی کرسی میں بیٹھنے کو کہا گیا۔ ہوائیاں تو ویسے ہی اڑی ہوئی تھیں، ان چاروں کو دیکھ کر اور خوف زدہ ہو گئی لیکن جلد ہی اپنے حواسوں پر قابو پاتے ہوئے بیٹھ گئی۔

ایک مختصر تعارف کے بعد سوالوں کا سلسلہ شروع ہوا۔

“آپ نے گرئجویشن کے بعد مزید پڑھائی کا نہیں سوچا؟” پہلا سوال.

” جی ارادہ تو تها لیکن کچھ نجی وجوہات کے باعث ارادہ ملتوی کر دیا ہے۔” میں نے دھیمے لہجے میں جواب دیا۔

“لیکن میں انشاءاللہ ماسٹرز ضرور کرون گی۔” اگلے لمحے ہی میں نے کہا۔ پهر معلومات عامہ اور حالت حاضرہ پر کچھ سوالات کئے گئے۔ میں ہر ایک کا بلا جھجک جواب دیتی چلی گئی۔ آخر میں خاتون نے مجھے اپنے خاندانی پس منظر کے بارے میں مختصراً بیان کرنے کو کہا۔

“میں ایک اوسط درجے کے خاندان سے تعلق رکھتی ہوں۔ ہم چار بہنیں ہیں اور ایک بھائی جو سب سے چهوٹا ہے۔ مجھ سے بڑی ایک بہن ہیں۔ وہ بهی آج کل نوکری کی تلاش میں ہیں۔ والد ایک پرائیوٹ ادارہ میں کام کرتے ہیں۔۔۔۔۔” میں بولتی چلی گئی اور وہ چاروں کی نظریں مجھ پر جمی رہیں۔ جب میں نے ساری بات بتا دی تو مرد حضرات اپنی اپنی نشستوں سے کهڑے ہو گئے اور میرا شکریہ ادا کرتے ہوئے مجهے رخصت کیا۔ میں کچھ دل برداشتہ سی گھر کے لئے نکل پڑی۔ زیادہ امید نہیں تھی۔ مقابلہ سخت تها۔ ایک ماہ گزر گیا اور وہاں سے کوئی خبر نہیں آئی۔ میں بالکل مایوس ہو چکی تهی کہ ایک دن وہاں سے فائنل انٹرویو کے لئے بلاوا آیا۔ جب میں مقرر کردہ دن وہاں پہنچی تو پهر وہی لوگوں کا ہجوم تها۔ ایک ایک کرکے سب کو بلایا گیا اور چار/پانچ منٹوں میں فارغ بهی کر دیئے گئے سب سے آخر میں مجهے بلایا گیا۔ جب میں کمرے میں پہنچی تو علاوہ اس خاتون کے سب نئے چہرے تهے۔

“تشریف رکھیئے۔” ایک صاحب نے کہا۔ میرے بیٹھتے ہی سوال آیا، “کتنی تنخواہ کی امید رکهتی ہیں؟” میں چونکی کیونکہ میں اس سوال کے لئے بالکل تیار نہیں تهی۔

” جی، جو آپ مناسب سمجھیں۔” میں نے دھیمے لہجے میں جواب دیا۔

” دیکھئے بی بی، یہ پوسٹ در اصل چار سے پانچ سال کے تجربہ کار انسان کے لئے ہے لیکن آپ کا انگریزی زبان پہ عبور اور ذہانت کو مدنظر رکھتے ہوئے انتظامیہ نے فیصلہ کیا ہے کہ آپ کو موقع دیا جائے۔” میں نے اپنے جذبات کو چهپاتے ہوئے شکریہ ادا کیا۔

” 15000روپے آپ کی ابتدائی تنخواہ ہو گی لیکن آپ کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے اس میں اضافہ بهی ہو سکتا ہے۔” میں تو جیسے سکتے میں آ گئی کیونکہ کبهی خواب میں بهی اتنی بڑی رقم کا نہیں سوچا تها۔ بمشکل اپنے جذبات پر قابو پاتے ہوئے میں نے گهر والوں کی ہدایت کے مطابق چند دنوں کی مہلت مانگی اور گهر کے لئے روانہ ہو گئی۔ ایک ہفتے کے بعد میں نے اپنی منظوری دے دی اور میری بهرتی ہو گئی۔

پہلے دن کمپنی کے اصول و قوانین مجهے سمجهائے گئے، دیگر سہولتیں مثلاً سالانہ چهٹیاں، گریجویٹی، پینشن، مفت طبی علاج وغیرہ وغیرہ اور یہ ک چھ ماہ کا پروبیشنری پیریڈ ہو گاجس کے دوران ادارے کو اختیار ہو گا کہ بغیر کسی وجہ کے مجهے نوکری سے برطرف کر دیں اور مجهے بهی اختیار دیا گیا ک جب چاہوں چوبیس گھنٹے کا نوٹس دے کر نوکری چهوڑ سکتی ہوں۔ پہلا دن اسی طرح گزر گیا۔ پهر ایک ہفتے تک مجهے مختلف شعبوں کی کار کردگی کے بارے میں بتایا گیا۔ یہ میرا اورئنٹیشن تها۔ ان سب مرحلوں سے گزرنے کے بعد میں نے اپنی پوسٹ سنبھالی۔ میرا شعبہ ہیومن ریسورس کا تها۔ یہاں ادارے کی پالیسیوں کو دیکھنا میری سب سے اہم زمہ داری تهی۔ وقتاً فوقتاً قوانین میں ترمیم آتی رہتی تھیں جس کی اطلاع نوٹیفکیشنس کے زریعہ سٹاف تک پہنچانا میری ہی ذمہ داری تهی۔ ‘ سفری اخراجات/روزانہ الاوٗنس ‘ کی رقم میں اضافہ ہوا تھا اور مجھے نوٹیفیکیشن نکالنا تھا جو ہر شعبے کے سربراہ، منیجنگ ڈائریکٹر ، تختہ اطلاعات اور پاکستان کے ان شہروں میں جہاں ہمارے دفتر کی شاخیں تهیں بھیجنا تها۔ میں نے نوٹیفکیشن کا مسودہ تیار کیا، منیجر، ڈپٹی جنرل مینجر اور آخر میں جنرل مینجر سے سے مسودے کی منظوری لی اور فائنل نوٹیفکیشن تیار کرکے منیجنگ ڈائریکٹر کو دستخط کے لئے روانہ کردیا۔ وہاں سے بھی آ گیا اور میں نے ایک اچهے احساس کے ساتھ سب جگہ بهجوا دیا یہ سوچ کر کہ آفس بند ہونے سے پہلے یہ خوش خبری سٹاف تک پہنچ جانی چاہئے لیکن وقت کی کمی کے باعث بیرون کراچی نہیں بهیج پائی۔ وہ شام میں بہت خوش تهی۔ اگلے دن جیسے ہی آفس پہنچی تو منیجر صاحب نے بلوا لیا۔ میں خوشی خوشی ان کی شاباشی وصول کرنے اٹهی لیکن ان کے کمرے میں پہنچی تو کچھ عجیب سا محسوس ہوا۔

” بیٹهئے” خاصہ سخت لہجہ تها۔ ” یہ کیا ہے؟” میری طرف غصے سے نوٹیفیکیشن پٹخا گیا۔ میں حیران و پریشان کبهی ان کو دیکھوں کبهی نوٹیفکیشن کو۔ بظاہر تو سب صحیح تها۔ میں نے سوالیہ نظروں سے ان کی طرف دیکها۔

“جائیں منظور شدہ دستاویز لے کر آئیں جس کی بنیاد پر آپنے مسودہ تیار کیا تها، مسودہ بهی لے کر آئیں۔ ” وہی خوفناک لہجہ۔۔۔۔ میں گھبرائی ہوئی اپنے کمرے کے دراز سے سارے کاغذات نکالے اور واپس مینیجر کے کمرے کی طرف چل پڑی۔ اپنی غلطی کا احساس فوراً ہو گیا تها۔ مسودہ میں ٹی اے/ڈی اے کی رقم میں ایک صفر کا اضافہ ہونے کی وجہ سے معاملہ کہاں سے کہاں چلا گیا تها۔ یہ ایک بہت برا بلنڈر تها لیکن مسودہ تو سب ہی نے دیکها تها..!! خیر میں نے معذرت کی اور یہ کہہ کر “میں درست کئے دیتی ہوں” واپس اپنے کمرے کا رخ کیا۔ سب سے پہلے سارے تختہ اطلاعات سے اتر وائے پهر ہر شعبے کے مینیجرز سے واپس منگوائے لیکن نقصان تو ہو چکا تها۔ میں نے تازہ نوٹیفکیشن تیار کیا اور دوبارہ سے ایم ڈی کے پاس بھیجوا دیا ان کے دستخط کے لیے۔ ایم ڈی نے نوٹیفکیشن دیکهتے ہی مینجر صاحب کو بلوایا اور پوچھ گچھ کے بعد ایک میٹنگ بلوائی جس میں مینجر، ڈپٹی جنرل مینجر اور جنرل مینجر موجود تهے۔ مجهے بهی بلایا گیا۔ جیسے ہی سب اپنی اپنی نشستوں پر بیٹھے، ایم ڈی نے قدرے غصے میں سوال کیا، “آخر یہ اتنی بڑی غلطی کیسے ہوئی؟” سب سر جھکائے خاموش بیٹھے رہے۔ عجیب سا ماحول تها کمرے کا۔ ایک گہری خاموشی چھائی ہوئی تھی۔۔۔۔ ایم ڈی نے ایک بار پهر تیز لہجے میں اپنا سوال دہرایا۔ “یہ کوئی معمولی غلطی نہیں ہے۔۔۔۔ ایک نہایت ہی اہم نوٹیفیکیشن میری دستخط سے نکلا جو کہ غلط تها۔۔۔۔ یہ کس کی ذمہ داری تهی؟” وہ بولتے گئے لیکن کسی کی اتنی ہمت نہیں تهی کہ اپنی غلطی کا اعتراف کرتا۔

“اس کی ذمہ داری کسی نہ کسی کو تو لینی ہے۔” ایم ڈی بولے۔ مجھ سے اور رہا نہیں گیا۔ میں فوراً آٹھ کھڑی ہوئی اور شرمسار لہجے میں ساری ذمہ داری اپنے اوپر لے لی۔ ایم ڈی نے پہلی دفعہ میری جانب دیکھا۔ غصہ برقرار ریا۔ جیسے ہی میرا معذرتی فقرہ ختم ہوا، وہ اٹهے اور غصے سے چلے گئے۔ میں نے بهی اجازت چاہی اور کمرے سے نکل گئی۔ سر درد سے پهٹا جا رہا تها کیونکہ ڈر کے ساتھ ساتھ غصہ بهی تها کہ کسی میں اتنی ہمت نہیں تهی اپنی غلطی تسلیم کرتا۔ اپنے کمرے میں پہنچ کر میں نے سوچا کہ بہتر ہے نوکری سے استعفیٰ دے دیا جائے۔۔۔۔۔ ایسے لوگوں کے درمیان کیا کام کرنا۔۔۔۔ ویسے بهی یقین تها ک اتنی بڑی غلطی کے بعد اب تو مجھے نکال ہی دیں گے۔ گهر پہنچی، طبیعت کی خرابی کا بہانہ کرکے کهانا کهائے بغیر سونے چلی گئی۔ اپنا مستقبل کا خواب نظروں کے سامنے چور چور ہوتا نظر آرہا تها۔ رات بهر نیند نہیں آئی۔۔۔۔کروٹیں بدلتے رات گزر گئی۔ صبح تک میں اس نتیجے پر پہنچ چکی تهی کہ مجهے استعفیٰ دے دینا چاہئے۔ کم سے کم نکالے جانے کی بےعزتی سے تو بچ جاوٗں گی۔ اس ارادے کے ساتھ دفتر پہنچی۔ اپنا استعفیٰ تیار کیا۔ مینجر کے پاس جانے کا ارادہ کر ہی رہی تھی کہ ایم ڈی کے آفس سے بلاوا آ گیا۔ میں نے اپنا استعفیٰ اٹهایا اور سوچا مینجر کو دیتے ہوئے جاؤں لیکن جب ان کے کمرے تک پہنچی تو پتہ لگا کہ وہ پہلے ہی سے ایم ڈی کے پاس پہنچے ہوئے تهے۔ دهڑکتے دل سے میں نے ایم ڈی کے آفس کا رخ کیا۔ دروازے پر دستک دی۔ ” کم ان” کی آواز سن کر میں اندر داخل ہو گئی۔ بیٹھنے کو کہا گیا۔ بیٹهتے ہی میری نظر ایک بند لفافہ پر پڑی جس کے اوپر میرا نام ٹائپ کیا ہوا تها۔

میری تقدیر کا فیصلہ ہو چکا تها۔ میں دل ہی دل میں اپنے آپ کو کوستی رہی کہ میں نے کل شام ہی کو استعفیٰ کیوں نہیں دے دیا لیکن شاید یہ بے عزتی میرے نصیب میں تهی۔ امی اور بابا کو کیا کہوں گی.. ؟ وہ کتنے مطمئین تهے۔ گهر کے حالات پچهلے پانچ ماہ میں کتنے جوشگوار ہو گئے تهے۔ یا اللہ ایسا کیوں ہوا؟ انہیں سوچوں میں گم تهی کہ ایم ڈی بے وہ بند لفافہ میری طرف بڑهایا۔ میں نے کانپتے ہاتھوں سے لفافہ لے کر رخصت ہونے کی معذرت چاہی اور آٹھ کھڑی ہوئی۔

“بیٹھ جائیں” ایم ڈی نے نرم لہجے میں کہا۔ میں بیٹھ گئی۔ “آپ دیکھیں گی نہیں اس میں کیا لکھا ہے؟” اسی دهیمے نرم لہجے میں پوچها۔ اب ترس کهانے سے کیا فائدہ.. !! میں نے لفافہ کھولا اور جسے ہی میری نظر اس پر پڑی میں دم بخود رہ گئی۔ حیران کن نظریں اٹھائیں تو وہ دونوں مسکرا رہے تھے۔۔۔۔ میری آنکھیں نم تھیں جب ایم ڈی نے مصافحہ کے لئے ہاتھ بڑهایا اور فخریہ انداز میں کہا، “آپ ہمارے لئے قابلِ فخر ہیں۔”

خط میں لکها تها؛ محترمہ! آپ گزشتہ پانچ ماہ سے ادارہ سے وابستہ ہیں۔ آپ کی محنت اور کارکردگی قابل تحسین ہیں۔ آپ محنتی اور اچھی شخصیت کی مالک ہیں۔ آپ نے اپنی نادانستہ غلطی کو تسلیم کرکے اپنی ایمانداری اور دیانت داری کا جو ثبوت دیا ہے وہ بے مثال ہے۔ آپ جیسے ورکر پہ ہمیں فخر ہے۔ آپ کی اسی ایمانداری اور خلوص کو مدنظر رکھتے ہوئے انتظامیہ نے فیصلہ کیا ہے ک چھ ماہ کی مدت ختم ہوتے ہی آپ کو ترقی کے اگلے درجے پر فائز کیا جائے گا۔ امید ہے آپ آئندہ بھی ادارے کی بہتری کے لیے کوشاں اور خیر خواہ رہیں گی۔

نیک خواہشات کے ساتھ

سربراہ”۔۔۔۔۔۔ “

کن سوچوں میں گم ہیں امی؟ کب سے چائے ٹهنڈی ہو رہی ہے!” میری بیٹی نے ہلکے سے میرا شانہ ہلایا تو میں چونک گئی اور ماضی کے دریچوں سے حال میں لوٹ آئی۔

Published inعالمی افسانہ فورمنصرت اعوان