Skip to content

مابعد جدید کہانی

عالمی افسانہ میلہ 2019
افسانہ نمبر 54
مابعد جدید کہانی
سید تحسین گیلانی ۔۔۔ساہیوال۔۔۔پاکستان

اس کے خواب دیکھنے کی عمر تو کب کی ڈھل چکی تھی، چھ بھائی اور دو بہنیں ۔ یتیمی نے جوانی کی نہ کوئی دوپہرجھولی میں ڈالی تھی اور نہ ہی دسمبر کی کوئی رات مقدر میں لکھی تھی۔ غربت نے ادھیڑ عمری کی دہلیز پر لا کھڑا کیا۔ سگھڑ پن کی کوئی کمی نہ تھی عزیز رشتے داروں میں اس کے پکوان پسندیدہ تھے بلکہ جب بھی ان کے لاہور والے ماموں کے بیٹے سہیل بھائی گاؤں میلاد کی محفل پر آتے تو شہانہ کے پکوانوں کی تعریفیں کرتے اور اسے چوری چوری نظروں سے دیکھتے نہ تھکتے تھے، اسے سب معلوم تھا کہ کون کیا چاہتا ہے لیکن بوڑھی غریب ماں کی کون سنتا ہے خاص کر جب بھائی بھی نالائق ہوں، بڑا کسی فیکڑی میں کام کرتا تھا پچپن کا ہو گیا تھا لیکن ابھی بھی کنوارا پھر رہا تھا اس سے چھوٹا ماموں کی بیٹی سے اس لیے بیاہا گیا کہ کالے رنگ ، معمولی شکل و صورت اور ڈھلتی عمر والی لڑکی کو کوئی اور رشتہ ملنا مشکل تھا شادی تو ہوگئی پر اب تک وہ اولاد کے لیے ترس رہے تھے۔ کبھی اس درگاہ پر تو کبھی اس دربار پر ۔تیسرے نمبر والا لائق اور ذہین تو تھا مگر انگریزی میں ایم اے کرنے کے باوجود اسے نوکری نہ ملی تھی اس کی عمر بھی پنتالیس کی ہو چکی تھی خالہ کی بیٹی اس میں دلچسپی بھی رکھتی تھی لیکن جاب کا نہ ہونا رشتے کو روکے ہوئے تھا۔ اُس سے چھوٹی شہانہ تھی جو اب چالیس کے پیٹے میں تھی باقی تین بھائی بھی میڑک کے بعد سکول چھوڑ کر لکڑی کا کام اور مزدوری کر کے گھر کا بوجھ اٹھا رہے تھے ۔ہاں سب سے بڑی آپا سلمی تھی وہ بھی پچاس کی ہو کر بیاہی گئیں ایک ماسٹر جی کے ساتھ جن کا ایک ہاتھ پولیو زدہ تھا اب وہ دن رات ان کا چولہا گرم کر نے میں مصروف ، ہنسی خوشی زندگی گزارنے کا ناٹک کرتی رہتی تھیں خدا نے ان کو اولاد کی نعمت سے محروم ہی رکھا تھا۔

شہانہ جو کڑھائی سلائی اور کھانے پکانے میں ماہر تھی ان سب کو سنبھالتی بھابھی زیادہ تر بیمار اور بے اولادی کے غم سے نڈھال رہتی تھی اس کا درزی میاں زیادہ تر نکما ہی پھرتا تھا ایک بار ہمسایوں کی لڑکی کو لے کر گھر سے فرار ہو گیا تو سال بھر بے چارہ ایم اے انگریزی بھائی اس کے جرم کی سزا جیل میں کاٹتا رہا لڑکی والوں نے جب لڑکے اور لڑکی کی تلاش میں ہاتھ کھڑے کر دئیے تو انہوں نے پولیس کو پیسے دے کر ایک بھائی کو پکڑوا دیا کہ لڑکی برآمد کروا دو تو اسے چھڑوا لو سال بعد کہیں جب ان دونوں کا دل بھر گیا اور فاقوں نے ادھ موا کر دیا تو لڑکی خود ہی گھر آ گئی اور یوں اس بیچارے کو رہائی ملی اس ساری صورتِ حال کو دیکھ شہانہ نے چپ سادھ کراپنی بڑھتی ہوئی عمر سے گویا سمجھوتہ کر لیا تھا۔ خود کو سینے پِرونے میں مشغول تو کر لیا لیکن اندر کی خانہ جنگی کا کیا کرتی ۔مصروفیت کے سلسلے کو قائم رکھنے کی خاطر اوپن یونی ورسٹی کے ذریعے پڑھائی کا سلسلہ بھی جاری رکھا اور اردو میں ماسٹر ڈگری بھی لے لی ۔انہی دنوں نثار بھائی جیل سے رہا ہو کر آئے تو انہوں نے مل کر اکیڈمی بنا لی سب جانتے تھے قصوروار کون تھا۔ گاؤں والے وقار کی حرکتوں سے واقف تھے جو لڑکی لے کر بھاگا تھا۔مشکل گھڑی میں وہ نثار کی کوئی مدد تو نہ کر سکے لیکن اس کے باوجود نثار کے ساتھ ان لوگوں کی ہمدردیاں بڑھ گئیں ۔وہ ذاتی طور پر انتہائی شریف النفس آدمی تھا اور ہر کلاس میں ٹاپ کرتا رہا تھا ماں اور شہانہ کو اس سے امید تھی کہ وہ گھر کا سہارا بنے گا اور ان کی غربت کے دن دور ہوں گے، خیر اکیڈمی کا تجربہ کامیاب رہا اور یوں نثار نے ایک پرائیویٹ اسکول کی بنیاد بھی رکھ دی شہانہ اور نثار نے مل کر خوب محنت کی اور اسکول کو بھی کامیابی سے ہمکنار کیا لیکن شہانہ کی بڑھتی عمر کی وجہ سے رشتوں کے مسائل بھی بڑھتے گئے۔

شام کو بیٹھک میں گاؤں کے دو تین پڑھے لکھے لڑکے جو نثار کے دوست تھے نثار سے گیان لینے ضرور آتے ۔نثار انھیں سبق دیتا اور شہانہ ان کے لیے چائے بناتی اور کبھی کسٹرڈ کبھی فروٹ چاٹ اور کبھی کبھار کھیر سے بھی ان سب کی تواضع کرتی نثار کے گھر والے پردے دار نہیں تھے اماں بوڑھی تھیں بھابھی مریضہ اور شہانہ بھی بڑوں میں ہی شمار ہوتی تھی اس لیے نثار کے دوست اکثر گھر آتے جاتے رہتے تھے۔ نثار نہ بھی ہوتا تو اماں سے سلام کی غرض سے آتے جاتے چکر لگا جاتے ،جیسا کہ دیہات کا ماحول ہوتا ہے ۔ نثار کا سعید سے گہرا تعلق تھا وہ پیروں کا لڑکا تھا اور نثار سے بی اے کی انگریزی پڑھنے آتا تھا اور دیر تک بیٹھا رہتا کبھی وہیں سو جاتا نثار کی ماں کو سب بی جی کہتے تھے وہ بھی ہر آئے گئے سے اپنا دکھ کہتی رہتی تھی۔ ایک دن شعبان (پیروں کا لڑکا )گھر آیا تو صحن میں ٹونی آگ کی دھونی لگائے بیٹھا تھا وہ کرسچن تھا اور علاقے بھر میں کالے جادو کا ماہر سمجھا جاتا تھا ۔ شعبان نے نثار سے سرگوشی کی

” بھائی آپ اتنے پڑھے لکھے ہو کر یہ کن چکروں میں پڑے ہیں کیا ہو گیا ہے “

تو پتا چلا کہ کئی دنوں سے ان کے گھر خون کے چھینٹے دکھائی دے رہے ہیں کبھی صندوق اور ٹرنک میں پڑے کپڑے خود بخود کٹ جاتے ہیں اور کبھی لوتھڑے اِدھر اُدھر چیزوں سے چپکے ہوئے ملتے ہیں ، شاید کالے جادو کا وار ہوا ہے۔ یہ سب سن کر شعبان بھی پریشان ہو گیا اس کے والد صاحب بھی علاقے کے نامی پیر تھے اس نے کہا “نثار بھائی میں آپ کو تعویذ لا کر دوں گا سب ٹھیک ہو جائے گا یہ کالا جادو کفر کی جانب لے جاتا ہے اور گناہِ کبیرہ ہے آپ تو جانتے ہی ہیں کوشش کریں اس سے دور رہیں ۔۔۔”

شعبان نے تعویذ لا کر دئیے اور بی جی سے اصل مدعا پوچھا ،ماں نے کلیجے کا سارا دکھ بتا دیا ایک ماں کی پریشانی بیٹی کے دکھ کے سوا کیا ہو سکتی تھی۔ شہانہ کو بھی اب کبھی کبھار دورے پڑنے لگ گئے تھے نثار کے وسائل اب پہلے سے بہتر تھے اب انہوں نے بیٹھک بھی پکی کروا لی تھی رشتے کی تلاش جاری تھی لیکن دور دور تک کوئی معقول رشتہ نظر نہ آیا شہانہ کی عمر کے سب لڑکے تقریباً بیاہے جا چکےتھے۔

شعبان نے نثار سے کہا کہ جیسےاور جتنی جلدی ممکن ہو آپ آپی کا رشتہ کہیں کر دیں تو بہتر ہو گا ۔ نثار پریشان تھا وہ ڈاکٹری علاج کے ساتھ ساتھ دم درود بھی کروا رہا تھا لیکن کوئی دوا اثر نہیں کر رہی تھی ۔ شہانہ کمزور ہو رہی تھی گو کہ وہ خوش شکل اور گوری رنگت والی عورت تھی لیکن نقاہت اور کمزوری کی وجہ سے جسم اب لاغر لگنے لگا تھا ۔ایک دن سلیم جو کسی کے توسط سے نثار کا دوست بنا تھا وہ گھر آیا اماں سے ملا شہانہ سے بھی سلام دعا ہوئی شہانہ کو اس کی عادت بہت اچھی لگی بینک میں ملازم تھا ، غالباً ایک آنکھ خراب تھی پر گورا چٹا تھا اور اچھے گھر کا کماؤ لڑکا تھا ۔اس دن شہانہ بہت خوش تھی ، اُس کی آنکھوں میں امیدوں کی شہنائیاں بجیں ، اس نے بریانی کے ساتھ کسٹرڈ بنایا پہلے چائے انڈوں اور بیکری بسکٹ سے تواضع کی گئی۔لذیذ کھانوں نے سلیم کا دل موہ لیا وہ قریبی شہر میں رہتا تھا اب اکثر اس کا آنا جانا ہونے لگا خاص کر ویک اینڈ پر جب وہ آتا تو اس کی خصوصی تواضع کی جاتی شہانہ بھی ایک امید پر خاص مہمان کی خدمت میں پیش پیش رہتی مہنیوں یہ سلسلہ چلتا رہا پھر سلیم کا ٹراسفر کسی اور شہر میں ہو گیا اور سلسلہ رک گیا ۔۔۔شہانہ پھر بیمار رہنے لگی اب کی بار وہ زیادہ بیمار رہنے لگی تو نثار کو فکر ہوئی اس نے ساتھ والے گاؤں میں ایک اپنے جیسے گھرانے میں رشتے کی بات چلائی لڑکا الیکٹریشن تھا چھوٹی سی دکان تھی ایک بوڑھی ماں تھی اپنا مکان تھا عمر کا پکا تھا لیکن اکیلا تھا اس لیے نثار نے سوچا یہاں بات بن جائے تو بہتر ہے ۔ لڑکے کا عمر میں پکا ہونا شہانہ کو راس آیا اور یوں کسی نہ کسی طرح یہ رشتہ کامیاب ہو گیا ۔شہانہ اپنے گھر کی ہوئی وقت تیزی سے گزر گیا ہے ۔۔۔آج اس کے چار بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔۔۔ اور جب سے شادی ہوئی ہے اس کے تمام کے تمام ٹرنک اور صندوق کپڑوں سے بھرے پڑے ہیں۔۔۔۔۔نہ ہی کبھی خون کا کوئی دھبہ لگا اور نہ ہی کبھی کپڑے کٹے ۔۔۔۔۔اور نہ ہی اسے اب دورے پڑتے ہیں ۔۔۔۔۔

ہاں ایک بات ہے۔۔۔ ٹونی اور پیر صاحب کے مریدوں کی تعداد تھی کہ بڑھتی ہی جا رہی تھی

Published inسید تحسین گیلانیعالمی افسانہ فورم