Skip to content

مائی کِیسو

عالمی افسانہ میلہ 2019

افسانہ نمبر 5

مائی کِیسو۔۔

تحریر۔۔۔ وقاراحمد ملک ۔میا نوالی ۔پاکستان

گاڑی سڑک پر پارک کر کے ہم ٹین سے بنے دو چھوٹے چھوٹے کمروں کی طرف چل پڑے۔ یہ کمرے درحقیقت ایک گھر تھا جس کی چاردیواری موجود نہیں تھی۔ مائی کِیسو لوہے کے فریم والی سفید نواڑ سے بنی چارپائی پر اخروٹ کے گھنے درخت کے سائے میں لیٹی ہوئی تھی۔ایسی ہی ایک چارپائی اس کے سامنے بچھی ہوئی تھی۔ قدموں کی چاپ سن کر مائی کِیسو کے بوڑھے اور کمزور جسم میں حرکت ہوئی۔ سنہری فریم والی عینک کے موٹے موٹے شیشوں پر دائیں ہاتھ سے اوٹ بنا کر وہ نیچے سڑک کی طر ف دیکھنے لگی۔ ہمیں دیکھتے ہی آہستہ آہستہ اپنے بوڑھے جسم کو حرکت دے کر وہ اُٹھ بیٹھی اور پاؤں لٹکا کر چارپائی پر بیٹھے بیٹھے ہمیں غور سے تکنے لگی۔ میں اور شہلا قریب پہنچ کر اس کے سامنے والی چارپائی پر بیٹھ گئے۔ مائی کِیسو نے کچھ تگ و دو کے بعد ہم کو پہچان لیا اور ہمارے ہاتھوں کو اپنے جھریوں بھرے ہاتھوں کی کمزور گرفت میں لے کر چومنے لگی۔ اس کے لعاب اور ہونٹوں کی نمی نے پہلے کی طرح میرے جسم میں ایک سنسنی خیز مسرت اور طمانیت کا احساس پیدا کر دیا لیکن شہلا کو مائی کِیسو کی یہ حرکت پسند نہ آئی اور وہ دیر تک اپنے چمڑے کے پرس سے نکالے گئے ٹشو سے اپنا گیلا ہاتھ پونچھتی رہی۔ مائی نے ہماری خاطر تواضع کے لیے اُٹھنا چاہا لیکن میں نے اس کے کمزور کندھوں کو زور سے بھینچ کر اسے بٹھا دیا۔ بابا کرم دین آج نظر نہیں آ رہا تھا۔ میں نے اِدھر اُدھر نگاہیں گھما کر بابے کو ڈھونڈنے کی کوشش کی۔ جہاں ہم بیٹھے تھے اس سے تھوڑا پیچھے مکئی کے بڑے بڑے پودے تیز پہاڑی ہوا میں جھوم رہے تھے۔ سامنے ایک پہاڑی چشمہ شور مچاتا ہوا پہاڑوں سے نیچے وادی کی طرف گر رہا تھا۔ چشمے کے پار اور دائیں طرف پہاڑ کے اوپر اخروٹ کے درختوں کا گھنا جنگل دم سادھے آرام کر رہا تھا۔ بائیں طرف تھوڑی سی اتران پر مانسہرہ اور بالاکوٹ سے کاغان، ناران اور گلگت کی طرف جانے والی شاہراہ اور اس سے آگے گہری کھائیاں مقدس اور پرسکون منظر کو اچانک خوفناک بنا رہی تھیں۔ یہ جگہ پارس سے کوئی ایک ڈیڑھ میل کے فاصلے پر تھی۔

بابا کرم دین کافی دیر تک نہ آیا تومیں نے مائی کِیسو سے بابے کے بارے استفسار کیا۔ وہ اوپر اپنے درختوں سے پھل اُتارنے گیا ہے، مائی نے جواب دیا۔ مجھے قدرے حیرت ہوئی، کیونکہ پارس کے اخروٹ ستمبر اکتوبر میں تیار ہوتے ہیں اور اب جولائی کا مہینہ چل رہا تھا۔ میں نے مائی کِیسو سے بحث مناسب نہ سمجھی اور خاموش ہو گیا۔ ہم اُٹھنے ہی والے تھے کہ ایک کمرے سے سبز اور سرخ لباس میں ملبوس ایک خوبصورت سی لڑکی نمودار ہوئی۔ اس نے ہاتھوں میں ایک ٹرے اُٹھا رکھی تھی۔ وہ ہمارے پاس آئی اور سلام کر کے چائے ہمارے حوالے کر دی۔ چینی کی زرد پیالیوں میں خوشبو کی لپٹیں اُڑاتی گرم چائے کی واقعی ہم کو ضرورت محسوس ہو رہی تھی۔ میں ڈرائیونگ کرتے ہوئے ہر گھنٹے دو گھنٹے بعد چائے کا ایک کپ پینا لازمی سمجھتا ہوں۔ ایک کپ مجھے دیتے ہوئے شہلا نے دوسرا کپ اپنی انگلیوں میں پھنسا لیا۔ چائے کے ذائقے سے محسوس ہو رہا تھا جیسے یہ چینی کی بجائے گُڑ سے بنائی گئی ہے۔ سچ پوچھیں تو ایک ساعت کے لیے میں چائے کی پیالی کی بجائے کہیں اور متوجہ تھا۔ میری سوچوں، نگاہوں اور حواس کا مرکز وہ چائے لانے والی خوبصورت لڑکی تھی۔ سرخ رنگ کی قمیص، سبز رنگ کی شلوار اور انہی دو رنگوں کے خوبصورت امتزاج سے رنگا ہوا سر، کندھوں اور گردن کو چھپائے جارجٹ کا دوپٹہ اس لڑکی کے باذوق ہونے کی دلالت

کر رہا تھا۔ کنہار کے پانیوں جیسی گہری اور شفاف آنکھیں، اخروٹ کے جنگلوں جیسی گھنی زلفوں کے پیچدار کنڈل، موتیے اور چنبیلی سے کشید کیے گئے رنگ سے سجا سفید چہرہ، لامبا قد اور نشیلی چال والا سراپا میرے حواس پر طاری ہو گیا۔چائے دینے سے پہلے اس نے نگاہیں جھکا کر ہم کو سلام کیا تھا اور چائے ہمارے ہاتھوں میں دینے کے بعد وہ لڑکی مائی کِیسو کی چارپائی پر ادوائن کے اوپر بیٹھ گئی۔ شہلا نے اس کو پہچان لیا تھا۔ یہ لڑکی جینی تھی جو یہاں سے تھوڑی دور پہاڑی ڈھلوان پر اپنے ماں باپ کے پاس رہتی تھی۔ جینی اپنی نانی نانے کے پاس دن گزارتی اور شام کو اپنے گھر چلی جایا کرتی۔ آخری مرتبہ پانچ برس قبل ہم ادھر آئے تھے تو وہ آٹھویں جماعت کی طالبہ تھی۔ اس پہاڑی دیہی علاقے میں تعلیمی سہولیات نہ ہونے کے باعث وہ آٹھویں سے آگے نہ پڑھ سکی اور اب مکئی کے کھیتوں میں اپنے بابا کا ہاتھ بٹایا کرتی۔ جب اخروٹ کی فصل پک جاتی تو وہ نانا کا ہاتھ بٹانے آ جاتی۔ جینی سے میں نے نانا کے بارے پوچھا۔ وہ پریشان ہو گئی اور کچھ کہنا چاہ رہی تھی جب کِیسو درمیان میں بولتے ہوئے گویا ہوئی کہ میں نے ابھی تو بتایا ہے کہ وہ اوپر اخروٹ کے باغوں میں گئے ہیں۔ نانی کی بات سن کر ایک شرارت آمیز مسکراہٹ جِینی کی ہلکی سبز آنکھوں میں رقص کرنے لگی۔ ہم اجازت لے کر اُٹھے اور نیچے کھڑی گاڑی کی طرف روانہ ہو گئے۔

ہم اس سڑک پر سوائے پچھلے پانچ سالوں کے بیس برسوں سے سفر کر رہے تھے۔ پچھلے چند سال شہلا اور میں کچھ گھریلو اور کچھ کاروباری مسائل کی بنا پر گرمیوں کی سیاحت پر شمالی علاقوں میں نہ جا سکے تھے۔ شادی کے بعد ہمارا پہلا سفر بھی اسی علاقے کا تھا۔ ہم بے مقصد اور بے منزل گھومتے گھماتے بالاکوٹ، کاغان، ناران، بٹہ کنڈی اور بابوسر ٹاپ تک جا پہنچے تھے۔ دو دہائیاں پہلے سڑک بھی بوسیدہ اور انتہائی خطرناک ہوا کرتی تھی۔ ایک طرف آسمان کو چھوتے بلند پہاڑ تو دوسری جانب زمین کے پیٹ میں گم ہوتی گہری گھاٹیاں اور کھائیاں۔ دریائے کنہار کے کنارے کے ساتھ ساتھ ہم دھیرے دھیرے شمال کی طرف گامزن تھے۔ ہماری شادی کو ایک ہفتہ گزرا تھا۔ ہم نئے نئے پیار کی وادی میں اترے تھے۔ ہمارے چاروں طرف دلفریب مناظر پھیلے ہوئے تھے لیکن ہم اپنی دنیا میں کھوئے ہوئے تھے۔گزری ہوئی زندگیوں کی داستانیں ایک دوسرے کو سناتے ہوئے یوں محسوس ہوتا تھا جیسے الف لیلہ کی داستانیں سنائی جا رہی ہیں۔ کبھی کبھی وادی کاغان کے پہاڑ ہمیں کوہ قاف معلوم ہوتے۔ شہلا کمسٹری میں ماسٹرز کر کے ابھی ابھی یونیورسٹی سے فارغ ہوئی تھی۔ جبکہ میں انگریزی ادب کا سٹوڈنٹ رہ چکا تھا۔ محبت کے حصار میں بیٹھ کر طبیعت، رجحان اور فطرت میں تضادات بھی بے معنی ہوجاتے ہیں۔ انگریزی ادب کیمیا کے سانچے میں ڈھلتا جا رہا تھا۔ کیمسٹری اور انگریزی ازدواجی تعلقات اختیار کر چکے تھے۔ہماری جان پہچان شادی سے کافی پہلے کی تھی۔تعلقات دھیرے دھیرے دوستی، محبت اور عشق کی پوڑیاں چڑھ کر ہمیں یہاں تک لے آئے تھے۔ ہفتے قبل مولوی صاحب کی ادا کی گئی چند آیتوں اور ایجاب و قبول کے چند کلمات نے ماضی کے خفیہ تعلقات اور روابط کو قانونی اور مذہبی چولا پہنا دیا تھا۔ روحانی ملاپ تو پانچ سال قبل کا ہو چکا تھا اب طبعی امتزاج نے مٹی سے بنی دو مورتوں کو یکجا کر کے ایک نئے بت کی شکل دے دی تھی۔ جب پارس سے تھوڑا آگے نکلے تو ہماری گاڑی کا ٹائر پنکچر ہو گیا۔ اس وقت تھوڑی دور ایک چھوٹی سی مسجد میں شام کی اذان ہو رہی تھی۔ میں نے ڈگی کھول کر سٹپنی نکالی تو وہ بھی پنکچر تھی۔ حالات کی سنگینی کو سامنے رکھ کر میں دائیں بائیں دیکھنے لگا۔دائیں طرف پہاڑی ڈھلوان پر تھوڑی دور ایک چھوٹا سا گھر دکھائی دیا۔ برآمدے میں دو مطمئن چہروں کے حامل میاں بیوی بیٹھے ہوئے تھے۔ میں اور شہلا آہستہ آہستہ چلتے ہوئےوہاں پہنچے تو بابا کرم دین اور مائی کِیسو نے بڑی محبت سے ہمیں خوش آمدید کہا۔ اُن کے چہرے کی مسرت ہماری پریشانی کی کمی کا باعث بن رہی تھی۔ بابا کرم دین کو اپنی پریشانی بتائی تو انہوں نے پیچھے درختوں کی طرف زور سے کسی کو آواز دی۔ چند منٹوں میں ایک نوجوان چادر لپیٹ کر پہاڑ کے درختوں سے نمودار ہوا اور ہمارے سامنے آ کھڑا ہوا۔ سلام دعا کے بعد بابا کے کہنے پروہ نیچے سڑک تک میرے ساتھ آیا۔ ہم دونوں نے گاڑی وہاں سے چالیس پچاس قدم پیچھے ایک احاطے میں کھڑی کی۔ تارے روشنی دینے لگے تھے۔ میرے مددگار کا نام سعید تھا۔ وہ بابا کا داماد تھا۔ سعید کے مطابق پارس کی مارکیٹ میں واحد ٹائر شاپ شام سے پہلے ہی بند ہو جاتی ہے۔ اب دکان صبح کھلے گی۔ ہم دونوں گاڑی کو بحفاظت پارک کرنے کے بعد بابا کرم دین کے گھر واپس آ گئے۔ رات ہم نے وہیں بسر کی۔ پہاڑی جنگل میں گزاری ہوئی وہ رات ہمیں کبھی نہیں بھولے گی۔ ان کا گھر دو کمروں اور کمروں کے سامنے ٹین کی عمودی چھت پر مشتمل تھا۔ ہم لوگ میدانی علاقوں کی جھلسا دینے والی گرمی جھیل کر آ رہے تھے اس لیے یہاں کا سرد موسم ہمیں خوشگوار محسوس ہو رہا تھا۔ یہی موسم ان بزرگوں کے لیے ہمارے دسمبر جنوری کی سردیوں کی مانند سخت تھا۔ وہ دونو ں موٹے موٹے کمبل اوڑھے آتش دان کے سامنے بیٹھے تھے۔ میری خواہش تھی کہ ہم برآمدے میں بیٹھیں اور رات بسر کریں۔ میں سوچ رہا تھا کہ ان بزرگوں کا جولائی کے مہینے میں یہ حال ہے تو سردیاں کیسے گزارتے ہوں گے۔ کِیسو نے دو چارپائیاں ساتھ والے کمرے میں بچھا دیں۔ مائی کِیسو نے آتش دان میں دہکتے انگاروں پر کیتلی رکھ دی۔ چینی کی بجائے مائی نے گُڑ کی دو ڈلیاں اور سبز الائچیاں چینک میں ڈالیں اور دم دینے کے لیے ڈھکن بند کر دیا۔ دہکتے ہوئے کوئلوں پر کافی دیر تک چائے کو دم آتا رہا۔بابا کرم دین کارنس پر سجے برتنوں میں سے چار چینی کی پیالیاں اُٹھا لایا۔ پیالیوں پر سبز رنگ کے پتے بنے ہوئے تھے۔ چائے پی تو مزہ آ گیا۔ چوبیس گھنٹے قبل ہم اسی وقت اپنے گھر کے صحن میں کھانا کھا رہے تھے کہ اچانک لائٹ غائب ہو گئی۔ شدید گرمی میں ایک نوالے کا بھی حلق سے نیچے اترنا محال ہو گیا۔پسینے سے کپڑے تر ہو گئے تو میں نے قمیص اتار دی۔ گھر کے باہر شاہراہ پر گاڑیوں کا شور، دھواں اورگردو غبارگرمی میں مزید اضافہ کر رہا تھا۔ ایک لمحے کے لیے محسوس ہوا کہ ہم روٹی کے ساتھ مٹی پھانک رہے ہیں۔ پنکھوں کے بند ہونے سے سڑک پر چلنے والی غلیظ ٹریفک کا بے ہنگم شور اور بھی بڑھ گیا تھا۔ رات دیر گئے لائٹ بحال ہوئی اور پھر جا کر چند گھنٹے آرام نصیب ہوا۔ لمحہ موجود پچھلی شب سے کتنا مختلف تھا۔ چاروں طرف خاموشی اونگھ رہی تھی۔ پہاڑی ڈھلوانوں پر جنگل دم سادھے سو رہا تھا۔ کبھی کبھی کسی گرسل کی ہلکی سی سیٹی خاموشی کے طلسم کو توڑ دیتی۔ واحد آواز جو مسلسل ہمارے کانوں میں رس گھول رہی تھی وہ شمال کی طرف بہتے چشمے کی تھی جو جانے کتنی منازل طے کرتا ہوا پہاڑی جنگل سے گزر کر نیچے دریائے کنہار میں اپنا وجود غائب کیے جاتا۔ یہاں ابھی بجلی نہیں پہنچی تھی۔ مٹی کے دیے اور لالٹینیں روشن تھیں۔ موسم ایسا تھا جیسے ہمارے ہاں اکتوبر کے آخر یا نومبر کے شروع میں ہوتا ہے۔ میری خواہش تھی کہ برآمدے میں رات گزاری جائے لیکن بابا کرم دین نے جب جنگلی تیندووں، چیتوں، سانپوں اور دوسرے جنگلی جانوروں کی داستانیں سنائیں تو میری رومانوی حس آنکھیں بند کر کے سو گئی۔ رات کی گفتگو سے پتہ چلا کہ اس مختصر گھرانے کے گزر بسر کا ذریعہ اخروٹ کے جنگل میں چند درخت ہیں۔ اخروٹوں سے جو آمدن ہوتی ہے دونوں میاں بیوی اس پر سال بھر پُر قناعت اور مطمئن انداز میں گزار دیتے ہیں۔ ان کی ایک ہی بیٹی تھی جس کی شادی کچھ عرصہ قبل اسی پہاڑ پر تھوڑا فاصلے پر سعید نامی نوجوان سے کر دی گئی۔ تھوڑی دیر پہلے جو نوجوان کار پارک کرانےہماری مدد کو آیا تھا وہ ان کا داماد تھا۔

صبح قریبی مارکیٹ سے گاڑی کے ٹائروں کے پنکچر لگوا کر ہم ناران کاغان کی مشکل شاہراہ پر آگے بڑھ گئے۔ ایک ہفتہ گزارنے کے بعد ہم نے واپسی کا سفر اختیار کیا۔ اس ایک ہفتے کی سیر میں بہترین لمحات وہ تھے جو ہم نے پارس میں بابا کرم دین کے گھر گزارے تھے۔ اس ایک پرسکون رات کی یادیں ہمارے شعور کے راستے سے ہوتی ہوئی تحت الشعور کے اندر ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو گئی تھیں۔ ناران کے مہنگے بازار سے ہم نے بابا کرم دین اور مائی کِیسو کے لیے کچھ تحفے خریدے جو ایک گھنٹے کے واپسی قیام کے دوران ہم نے اس مطمئن، شکر گزار اور قناعت پسند جوڑے کو دیے۔ معمولی چیزوں کے بدلے میں ہمیں ڈھیروں بیش قیمت دعاؤں کا خزانہ عطا ہوا جن میں ایک دعا مائی کِیسو کی طرف سے شہلا کی گود کا جلد ہری ہونا تھا۔ اور دعائیں تو شاید کچھ قبول ہوئیں کچھ نہ ہوئیں لیکن مائی کِیسو کی اس مخصوص دعا کی قبولیت کا آج تک ہم کو انتظار تھا۔ دو دہائیوں کی رفاقت میں ہم کو مالک نے کسی خاص حکمت کے پیش نظر اولاد کی نعمت اور رحمت سے محروم رکھا ہوا تھا۔

پانچ برس کے وقفے کے بعد بیس سالہ معمول کی تکمیل کے لیے اب کے ہم کاغان، ناران سے بھی آگے نکل گئے۔ چونکہ اس مرتبہ سڑک کافی اچھی بن چکی تھی اس لیے گاڑی چلاتے ہوئے پہلے کی طرح مشقت نہ کرنا پڑی۔ ناران دو راتیں ٹھہرنے کے بعد میں اور شہلا مزید شمالی علاقے کھوجنے نکل کھڑے ہوئے۔ چار گھنٹوں کی مسافت کے بعد بابوسرٹاپ پر پہنچے تو چند منٹوں میں اپنی زندگی کے بیسیوں نئے تجر بات کا سامنا ہوا۔ آکسیجن کی کمی اور شدید ٹھنڈ نے وہاں ہمارا ٹھہرنا دوبھر کر دیا تھا۔ ہم سے میلوں نیچے وادیوں میں بادلوں کے غول اُڑ رہے تھے۔ کہیں چھما چھم بارش برس رہی تھی تو کہیں دھوپ چمک ری تھی۔ کہیں تیز ہوائیں درختوں کو جھولا جھلا رہی تھیں تو کہیں کالے کالے بادل اپنے من میں چھپی بجلیوں کے ساتھ اپنے غیظ و غضب کا اظہار کر رہے تھے۔ ہم بمشکل بیس منٹ اس خوبصورت جگہ پر ٹھہر سکے۔ چلاس سے ہوتے ہوئے گلگت تک پہنچ کر میری ڈرائیونگ کی ہمت جواب دے گئی۔دو راتیں قیام کرکے واپس لوٹے۔ ناران میں مزید دو راتیں قیام کرنے کے بعد حسبِ ثابق اس خوبصورت علاقے کے اونچے نیچے قدیم بازار سے کچھ خریداری کی۔ اس مرتبہ ہم نے بابا کرم دین اور مائی کِیسو کے لیے دو کمبل خریدے۔ میری خواہش تھی کہ جِینی کے لیے بھی کچھ خریدا جائے لیکن شہلا نے اس خیال کو کچھ غصے اور کچھ ناراضگی کے ساتھ رد کر دیا۔

سہ پہر کے وقت پارس کے اس نواحی علاقے میں پہنچے تو بادلوں نے آسمان کو گھیر لیا تھا۔ مائی کِیسو یا بابا کرم دین سڑک پر سے نظر نہ آئے۔ میں اور شہلا ایک ایک کمبل اُٹھائے پارس کے مخملی پہاڑ کے پتھریلے راستے پر مائی کِیسو کے گھر کی طرف روانہ ہو گئے۔ گھنے بادلوں نے شام کا سماں پیدا کر رکھا تھا۔ مائی کِیسو شاید کمرے کے اندر تھی۔ ایک کمرہ جہاں جاتے ہوئے ہم نے بیس برس قبل رات بتائی تھی بند تھا جبکہ ساتھ والے کمرے کا ایک پٹ کھلا اور دوسرا بند تھا۔ ہم ہلکی سی دستک دے کر اندر داخل ہو گئے۔ مائی کِیسو پرانے سے کمبل میں لپٹی آتش دان کے سامنے ایک چٹائی پر گٹھڑی بنی سو رہی تھی۔ آتش دان کی آگ بجھ چکی تھی۔ کہیں کہیں خاک میں چھپی چنگاریاں جھانک رہی تھیں۔ مائی کے سر کی طرف ایک ایسی ہی چٹائی بچھی ہوئی تھی جس پر ایسا ہی تکیہ اور کمبل پڑا تھا۔ مائی کِیسو آہٹ سن کر اُٹھ بیٹھیں۔ انسان اپنے گھرواپس جا رہا ہو تو بہت جلدی میں ہوتا ہے چاہے وہ جدھر سے بھی آ رہا ہو۔ ہم بھی گھر واپس جا رہے تھے اس لیے جلدی میں تھے۔ دونوں نئے کمبل مائی کِیسو کے قریب رکھ دیے۔ مائی نے جلدی جلدی پرانا کمبل اتارا اور نیا کمبل اوڑھ لیا۔ ان پڑھ لوگوں کے پاس لفظوں کی قلت ہوتی ہے۔ کِیسو نے بھی ہمارا شکریہ تک ادا نہیں کیا لیکن اس کا اظہارِ تشکر اس کی آنکھوں سے عیاں تھا۔ اس نے پرانا کمبل نئے کمبل کے اوپر اوڑھ دیا تاکہ بجھتے ہوئے آتش دان کے ملگجے دھویں سے نیا کمبل آلودہ نہ ہو جائے۔ اچانک مائی کی نظر دوسرے کمبل پر پڑی تو اس کے رخساروں کی ہڈیوں کے ارد گرد نیلی رگیں پھڑکنے لگیں۔ اس کے چہرے پر اچانک سنجیدگی طاری ہو گئی۔ یہ کیفیت تھوڑی دیر رہی اور چند ساعتوں کے بعد مائی کِیسو نارمل ہو گئی۔ واپسی سے کچھ پہلے میں نے دوبارہ بابا کرم دین کے بارے پوچھا تو مائی نے ایک ہفتہ قبل ادا کیے گئے الفاظ جوں کے توں دہرا دیے۔ مائی کے مطابق بابا اخروٹ کے باغ میں گیا ہوا ہے اور تھوڑی دیر میں واپس آ جائے گا۔ آتش دان کے پاس دوسری چٹائی اور اس پر بچھا بستر اس کا انتظار کر رہا ہے۔ برتنوں کی ٹوکری کے قریب رکھی چھوٹی سی ٹرے میں دو پیالیاں پڑی ہوئی تھیں۔ شاید بابا کے آنے کے بعد دونوں میاں بیوی نے شام کی چائے ایک ساتھ پینی تھی۔ مجھے ان کی محبت پر رشک محسوس ہونے لگا۔

اچانک دروازہ کھلا اور جِینی اندر داخل ہوئی۔ اس نے سفید لباس اور کالی چادر اوڑھ رکھی تھی۔ دروازے کے کھلنے سے باہر کی ٹھنڈی ہواؤں کا ایک تیز جھونکا کمرے میں داخل ہو گیا۔ جِینی کی آمد سے یوں لگا جیسے آسمانوں پر دوڑتے سفید اور سیاہ بادل کمرے کے اندر آ گئے ہوں۔افسوس کہ ہم جِینی کے لیے ناران سے کچھ نہیں لائے تھے۔ جِینی نے نانی کے الفاظ سن لیے تھے جو نانا کے اخروٹ کے باغ میں جانے کے بارے تھے۔ جِینی اچانک اُٹھی اور مجھے باہر چلنے کا اشارہ کیا۔ میں اس کے ساتھ باہر گیا تو وہ مجھے پانی کے چشمے کی طرف لے گئی۔چشمے کے پار جِینی کے والد کے مکئی کے پودے تیز ہوا میں زمین بوس ہو رہے تھے۔ جِینی نے مجھے بتایا کہ میرا نانا کرم دین دو سال پہلے اکتوبر کے مہینے میں اخروٹوں کی فصل سنبھالنے اوپر پہاڑ پر گیا تھا اور آج تک واپس نہیں آیا۔ نانا غلطی سے سہ پہر کے بعد باغ میں نکل گیا اور واپس ہوتے ہوتے شام ہو گئی۔ اچانک مکڑے پہاڑ اور سری پائے کے سبزہ زاروں اور جنگلوں کے مکین چیتوں کا ایک گروہ ہمارے باغ میں نکل آیااور نانا پر حملہ کر دیا۔ میرا بابا نیچے ایندھن کے لیے لکڑیاں کاٹ رہا تھا جب اچانک اس نے ایک بوڑھے کی چیخوں کی آواز سنی۔ ساتھ ہی چیتوں کی آوازیں بھی آنا شروع ہو گئیں۔ بابا کو حالات کی سنجیدگی کا احساس ہو گیا تھا لیکن وہ پھر بھی لکڑیاں کاٹنے والی کلہاڑی کے ہمراہ اوپر بھاگا۔ شام کے دھندلکے میں بابا کو نانا کے پلاسٹک کے چپل خون میں لت پت ملے۔ سرخ رنگ کی خونی دھاری دور تک چلی گئی تھی۔ ہمارے علاقے کے چیتے اپنا شکار اپنی قیام گاہ پر لے جا کر کھاتے ہیں۔ پوری رات ارد گرد کے دیہاتوں کے لوگ نانا کو ڈھونڈتے رہے۔ صبح کے وقت ان کی ہڈیاں دو میل دور جنگلی جھاڑیوں میں چھپی ہوئی ملیں۔ نانی کِیسو کو نانا کی موت کا یقین نہ آیا۔ وہ آج بھی اس کا انتظار کر رہی ہیں۔ وہ ہمیں نہ اپنے پاس سونے دیتی ہیں نہ نانا کی باتیں کرنے دیتی ہیں۔ شاید انہوں نے اپنے آپ کو جھوٹ موٹ کے فریب میں مبتلا رکھا ہوا ہے کہ اس کا شوہر ابھی زندہ ہوگا۔اسی دلفریب دھوکے میں وہ نیم شعوری انداز میں زندگی کی آخری منزلیں گزار رہی ہیں۔

چشمے کے قریب پہنچ کر جِینی نے پہلی مرتبہ مجھے دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں ایک نامعلوم جذبہ مجھے الوداع کہہ رہا تھا۔ وہ مجھ سے تھوڑادور پہاڑوں سے بہتے ہوئے برق رفتار چشمے کے بیچوں بیچ جمے سیاہ رنگ کے بیضوی اور تکونی پتھروں کے اوپر کھڑی تھی۔ میں نے اس کو کہا کہ میں تمہارے لیے ناران سے ایک گرم کمبل لایا ہوں۔ ہمارے جانے کے بعد نانی کِیسو کے پاس پڑا ہوا کمبل تم گھر لے جانا۔

بادل نیچے آ گیا تھا۔ ٹھنڈی ہواؤں کے ساتھ ہلکی ہلکی بارش برسنا شروع ہو گئی تھی۔ پہاڑ کی چوٹیوں پر کالے بادلوں نے اخروٹ کے درختوں کو اپنے حصار میں لے لیا تھا۔ چشمے کے پانی کی رفتار بڑھتی جا رہی تھی۔ شاید اوپر تیز بارش برس رہی تھی۔

Published inعالمی افسانہ فورموقار احمد ملک