Skip to content

لاک ڈاؤن

عالمی افسانہ میلہ2020

افسانہ نمبر13

لاک ڈاؤن

ڈاکٹر عظیم اللہ ہاشمی

کولکاتا،(انڈیا)

باہر زہریلی ہوا چل رہی ہے۔ سنسان سڑک پر رہ رہ کر ایمبولینس کے ہوٹر کی آوازرونگٹھے کھڑے کردیتی ہے۔ سب اپنے اپنے گھروں میں قید ہیں ۔ ہر آدمی ایک دوسرے کی قربت سے خوف کھارہا ہے اِس لیے درمیانی فاصلے بڑھ گئے ہیں۔سب کے منہ پر ماسک ہے۔ ٹرین، بس ، لاری،اسکول،کالج ،دفاتر سب کے سب سرکاری حکم سے بند ہیں۔لاک ڈاؤن کے نفاذ پر سختی سے عمل درآمد جاری ہے۔ ایک مہینے سے نکڑپرڈاب والا بھی نہیں آرہا ہے ۔ اخبار والے کی آواز’’اخبار لے لو۔!‘‘سنائی نہیں دے رہی ہے۔ نہ دودھ والا اورنہ ہی ماسی ماں آتی ہے ۔ اُس کے اکلوتے بیٹے کی طبیعت بہت خراب چل رہی ہے۔اُس دن جاتے وقت اُس نے ڈبدبائی آنکھوں سے اتناہی کہا تھا۔

’’ بابوبیٹے کی زندگی کے لیے دعا کرتے رہنا ۔ بھگوان نے مجھے ایک ہی اولاد دی وہ بھی اِس وبائی مرض کی چپیٹ میں ہے۔!‘‘اتنا کہہ کر وہ جانے لگی ۔پھر پلٹ کر بولی ۔

’’زندگی باقی رہی تو پھر ملیں گے۔!‘‘

دودھ والا ،ماسی ماں،اخبار والا،ڈاب والا سب کی زندگی پر لاک ڈاؤن ہے۔زندگی کے اِس بدلاو میں سب کو احساس ہوگیا ہے کہ وہ اِس دنیا میں تنہا ہے۔!کھیت اور کھلیانوں میں فصلیں آئی ہیں لیکن زندگی ہسپتالوں اور گھر کے کمروں میں بقاکی جنگ لڑرہی ہے۔ ہر لمحے مرنے والوں کی تعداد کا اسکور بورڈ بڑی تیزی سے بدل رہا ہے۔ بدلتے اسکور بورڈ کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے جیسے چند مہینے کے اندر دنیا انسانوں سے خالی ہوجائے گی۔ کل بیٹا کہہ رہا تھا۔

’’پپا پپا جب اِس وبائی مرض میں پوری دنیا ختم ہوجائے گی تب پھر کوئی نئی مخلوق سامنے آئے گی جو ہم لوگوں سے زیادہ ترقی کے زینے جب طے کرلے گی اُس وقت اُن کے بچے اوربچیاں اپنی ڈیجیٹل کتابوں میں پڑھیں گے۔

’’آ ج سے سیکڑوں برس پہلے اِس روئے زمیں پر انسان نام کی ایک مخلوق آباد تھی جس کو اشرف المخلوقات کا تمغہ حاصل تھا۔ اچانک ایک دن فضا زہر آلود ہوگئی۔ ایک وائرس اُن کے کمپوٹر میں نہیں پھیپھڑے میں داخل ہونے لگا۔مریخ پر کمندیں ڈالنے کا منصوبہ رکھنے والی یہ مخلوق اپنے ہی نیلے سیارے پر بے بسی سے ایک دوسرے کو تکتی رہی اور دم توڑتی رہی اوردیکھتے ہی دیکھتے چھ ملین کی آبادی ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر گئی کہ اُن کے پاس اِس کا کوئی علاج نہیں تھا۔!!‘‘

کل چودھویں کی رات تھی۔سب کے سب عبادت میں مشغول تھے۔رات کے ٹھیک بارہ بجے لوگوں نے شمال مغرب کی جانب کی پہاڑیوں پر سفید سفید لباس میں سرپر عمامہ باندھے لمبے لمبے قد کی مخلوق کو آسمان سے اُترتے دیکھا جوآہستہ آہستہ اِن پہاڑیوں کے دامن میں چاروں طرف پھیل گئی۔اُن کے ہاتھوں میں تابوت تھی۔ بڑے بزرگوں نے کہا۔

’’یہ اللہ کے فرشتے ہیں جو اُس کے بندوں کی لاوارث لاش کو ٹھکانے لگانے اُترے ہیں کہ اِس آفت کی گھڑی میں انسان نے یہ کام کرنا چھوڑدیا ہے۔!‘‘

اِن سب غیبی باتوں کو سن سن کر اندر کے صحرا میں خوف کا بسیرا اور خاموشیوں کے پہرے ہیں۔ زہریلی فضامیں مایوسیوں اور اُداسیوں کے کرب سے گذرتی زندگی محسوس کرتی ہے جیسے کل کی تمام سرگرمیاں صرف ایک خواب تھیں۔ ماسی ماں نے بڑی محنت ومشقت سے تعمیر ِمکان کے بعد سکون کا سانس لی تھی کہ اب زندگی سکون سے گذرے گی لیکن بہار کے جھونکے ابھی آئے نہیں کہ خزاں نے ڈیرا ڈال دیا۔بھوک کی عفریت گلی اور سڑکوں پر دوڑ رہی ہے۔ بڑی کشمکش کی زندگی ہے۔ ناک پر رومال یاماسک کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے جیسے دنیا سڑ گئی ہو جس کی سرانڈ اب برداشت نہیں ہورہی ہے۔!نہ کوئی آہٹ ،نہ کوئی ہلچل۔جو جہاں ہے وہیں سانس روکے کھڑا ہے کہ اِس کی ہر آہٹ موت کی دستک کے مترادف ہے۔اپنوں کے درمیان فاصلے اتنے بڑھ گئے کہ زندگی اجیرن بن گئی ہے۔ہر جانب مایوسیوں کا پہرہ ہے۔خوف کے خیمے میں زندگی کا ایک ایک لمحہ کٹ رہا ہے کہ کب درِ خیمہ عزرائیل کے سفیر کی دستک ہوجائے ۔!زندگی کی اُفق پر سیاہی غالب ہوتی جارہی ہے۔پڑوسیوں کے خیمے میں ایک ایک کرکے چراغ بجھتے جارہے ہیں۔کل ماسی ماں کے اکلوتے بیٹے کو جب ڈاکٹروں نے صاف صاف جواب دے دیا کہ اب اِس بچے کی بیماری کا علاج دوا نہیں دعا ہے تو اُس وقت مایوس ممتا کی روح تک چھلنی ہوگئی ۔بیٹے کی زندہ لاش لاکرآبادی سے بہت دورایک محفوظ کمرے کے بیچ و بیچ فرش پر سیدھے لٹا کربے چین ممتا کچھ دیر تک تڑپتی رہی ،مچلتی رہی اور بے بسی پر آنسو بہاتی رہی ۔دوپہر کاوقت تھا۔ ایک جوگی سامنے والے جنگل سے نمودارہوا اُس کی سارنگی سے آواز آرہی تھی۔

آدم روئے،حوّا روئے۔۔۔!

روئے زینب و حیدر

اکبر اصغر سب روئے

روئے یہ قلندر!!

پھردروازے پرصدا لگائی۔

’’دے بیٹا دان دے۔!‘‘ ماں کی ممتا تڑپ کر بولی:

’’ باباابھی میں دان دینے نہیں لینے کی حالت میں ہوں۔!!‘‘سارنگی کو روکتے ہوئے اُس نے سوال کیا۔

’’بول کیا مانگتی ہے۔!!‘‘ماسی ما ںاِس ویران علاقے میںگھٹنوں کے بل بیٹھ گئی اور دونوں ہاتھ جوڑ کر کہا۔

’’بابا۔!جیون دان ۔!میرا بیٹا اب اِس دنیا سے جارہا ہے بابا۔ڈاکٹروں نے جواب دے دیا ہے۔‘‘جوگی نے سارنگی کی تان کو پیچھے کی طرف کھینچا۔ایک مدھم آواز آئی۔پھر اُس نے کہا۔

’’ دیکھو مارنے اور جلانے والا اوپر بیٹھا ہے۔اگر جوگی کی بات پر تم کو یقین ہے تو جا ایک کورے مٹی کا دیا خرید کر بادام کے تیل میں کپاس کی باتی جلاکر اُس کے سرہانے رکھ دیے اور دروازے کو بند کردے ۔اگر دیا صبح چار بجے تک جلتا رہا تو یقین رکھ تیرا بیٹا بچ جائے گااور یہ بھی سن لے صرف بچے گاہی نہیں بلکہ اِس سنسار میں بہت نام روشن کرے گا۔‘‘

اور جوگی دان لیے بغیراسی جنگل کی طرف واپس چلاگیا۔ ماسی ماں میلوں پیدل چل کر بازار سے پائو بھر بادام کاتیل،ایک مٹی کا دیا اور کپاس کی باتی خرید کر لائی۔اُس نے دیئے میں تیل ڈالا،کپاس کی باتی لگائی اور ٹھیک اسی وقت جب سورج گھنے جنگل کی اوٹ میں غروب ہورہا تھادیئے کو نیم مردہ بیٹے کے سرہانے جلا کربوجھل قدموں سے کمرے کے باہر آئی اور دروازے کو بند کرتی ہوئی ایک اُچٹتی نگاہ آسمان کی طرف ڈالی۔ شاید وہ بھگوان سے کہہ رہی ہے ۔

’’بھگوان ایک بار پھر یہ در کھلے۔!‘‘

اِس کے بعد مت پوچھواُس بیابان جنگل میں رات بھرتین تین دیئے، ایک کمرے کے اندراور دوکمرے کے سائبان میں جلتے رہے اور رہ رہ کر ماں کی تڑپتی ممتا کھڑکی سے جھانکتی رہی ۔دیئے کی لو جب مدھم ہوتی اُس کا دل بیٹھنے لگتااور جب لپکتا اُس وقت اُس کے چہرے پر اُمید کے دیئے روشن ہوجاتے۔اسی کشمکش میں رات بھگتی رہی۔۔۔بھیگتی رہی۔۔۔بھیگتی رہی کہ صبح کا ستارہ دیکھائی دیا۔بوجھل پلکیں اوپر اُٹھیں۔اُس وقت فضا میں آم کے موجر کی میٹھی میٹھی خوشبوپھیل رہی تھی۔شفق کی لالی ختم ہورہی تھی۔ستارے رفتہ رفتہ آنکھوں سے اوجھل ہوتے جارہے تھے ۔ چاند کی روشنی ماند پڑتی جارہی تھی۔رات بھر ٹمٹماتے سیاروں کی روشنی اُگتے سورج کے اُجالوں میں اپنے وجود کو کھوتی جارہی تھی۔نگاہ سامنے دیوارپرآویزاں گھڑی پر گئی۔

صبح کا چار۔۔۔!نہ کانٹا اِدھرنہ اُدھر اور چارسوموت کا سناٹا۔۔۔!

سرمئی دھندلے دھندلے اُجالے میں ممتا کی اُمڈتی لہر نے زورسے دھکا دے کردروازہ کھولا ۔

اندرمایوسیت کے تاریک ِحریم میں پہلی نگاہ دیئے پر ٹھہری ۔۔!

ابنِ آدم سرمدی تھا سرمدی ہے۔!!

Published inڈاکٹر عظیم اللہ ہاشمیعالمی افسانہ فورم