Skip to content

لافنگ بدھا

عالمی افسانہ میلہ 2020

افسانہ نمبر 45

لافنگ بدھا

تبسم فاطمہ۔ نئی دہلی ۔انڈیا ۔

اس نے پلٹ کر لافنگ بدھا کی طرف دیکھا۔ ایک معصوم سا کھلونا۔ لیکن اس گول مٹول سے کھلونے کے چہرے کی ہنسی، مونالزا کی مسکراہٹ سے کم نہیں تھی۔ اس نے ایک بار پھر خوفزدہ نگاہوں سے لافنگ بدھا کی طرف دیکھا۔ وہ اب بھی ہنس رہاتھا۔ وہ اس ہنسی میں الجھتی ہوئی بہت دور نکل گئی تھی۔

یہ کھلا کھلا گھر تھا۔ لیکن یہاں گھٹن، اس کے گھر سے کہیں زیادہ تھی۔ یہاں روزن اور کھڑکیاں بھی تھیں۔ لیکن کھڑکی کے باہر سو کھے درختوں کے سوا کچھ نہیں تھا۔ ہریالی نام کو نہیں۔ ایک قطار سے مکانات بنے ہوئے تھے۔ یہ ایک مڈل کلاس فیملی تھی۔ اوروہ کون سا ٹاٹا، امبانی کے گھرسے آئی تھی۔ نیرج سیدھے سادے تھے۔ ایک چارٹر اکاﺅنٹٹ کے اسٹنٹ کے طورپر کام کرتے تھے۔ ڈھنگ کا کما لیتے تھے۔ بولتے کم تھے۔ ان کی آنکھیں زیادہ بولتی تھیں۔ نیرج کی دو بہنیں تھیں۔ بڑی بہن ڈیورس کے بعد ماں باپ کے ساتھ ہی رہتی تھی۔ چھوٹی بہن گرجا کے چال چلن اچھے نہیں تھے۔ یہ بات اسے یہاں آنے کے بعد معلوم ہوئی۔ گھر والے گرجا سے بہت پریشان رہتے تھے۔ لیکن اس کی دلچسپی گرجا میں تھی۔ گرجا اکیلی ہوتی تو اس کی بہت کچھ پوچھنے کی خواہش ہوتی۔ ایک بار گرجا نے دو تین لڑکوں کی تصویریں دکھائیں۔ یہ سب گرجا کے دوست تھے۔ اس نے مرد دوستوں سے اپنے تعلقات کے بارے میں تو کچھ نہیں بتایا، لیکن اس کے لیے یہ سمجھنا مشکل نہیں تھا کہ ان لڑکوں سے گرجا کے تعلقات بھی رہے ہوں گے۔ وہ پڑھ رہی تھی۔ کبھی کبھی دیر سے گھر لوٹتی تو نیرج بگڑ جاتا— گرجا نیرج کو کوئی جواب نہیں دیتی۔ وہ تھا اوراس کا موبائل— ایک دفعہ نیرج نے ماں سے شکایت بھی کی۔

’گرجا غلط راستہ پر جارہی ہے۔‘

ماں پہلے ہی بڑی بیٹی وسودھا سے پریشان تھی۔ وہ یہ جانتی تھی کہ وسوددھا بھی اپنے لیے راستہ بنا رہی ہے۔ جب آپ کے لیے راستے بند ہوجاتے ہیں، تو آپ کو ایک نیا راستہ کھولنا ہوتا ہے۔ وسودھا یہی کررہی تھی، اور اس چکر میں محلے کے رنجیت ماسٹرسے اس کی دوستی ہوگئی تھی۔ رنجیت عاشق مزاج تھے۔ محلے کے کئی گھروں میں جانا ہوتا تھا۔ بیوی سے بنتی نہیں تھی۔ دو ایک بار وسودھا نے باتیں کیا کیں، خیر خیریت پوچھنے چلا آتا۔ یہ بات نیرج کو پسند نہیں تھی۔ گرجا کے چہرے پر رنجیت کو دیکھ کر ایک پر اسرار مسکراہٹ پیدا ہوجاتی۔ وہ وسودھا کی چھٹپٹاہٹ کا لطف لیتی۔ ماں اس معاملے میں چپ رہتی تھی۔ وہ اس بات کو سمجھتی تھی۔ ماں چاہتی تھی کہ وسودھا پھر سے گھر بسا لے۔ گھر میں سب سے دلچسپ اور انوکھا کردار بابوجی کا تھا۔ وہ پتھر کی مورت واقع ہوئے تھے۔ بلڈ پریشر اورشوگر کے مریض تھے۔ وہکچھ بولتے نہیں تھے — ایسے موقع پر کمرے سے ان کے چیخنے اورکراہنے کی آوازیں آتی تھیں۔ ارے مرگیا…. کوئی ہے…. کوئی پوچھتا ہی نہیں۔ ‘وہ جانتی تھی کہ رنجیت کی موجودگی نے سب کو الگ الگ اپنے حصار میں جکڑ لیا ہے۔ وسودھا، جو ملنا چاہتے ہوئے بھی مجبور ہے۔ گرجا، جو وسودھا کی بے بسی کا مزا لیتی ہے۔ بابوجی، جنہیں اچانک درد شروع ہوجاتا ہے اور ماں، جس کی نگاہیں تب تک گدھ کی طرح وسودھا اور رنجیت کے آس پاس بھٹکتی ہیں، جب تک رنجیت چلا نہیں جاتا۔ ایک دن کپڑے پسارتے ہوئے اس نے نیرج کو طعنہ مارا۔

’تمہاری بہنوں کے تو مزے ہیں۔‘

’کیا۔‘ نیرج چونک گیا۔

’ایک کے لیے رنجیت آتا ہے۔ اوردوسری بوا ئے فرینڈ کے ساتھ سارا دن غائب رہتی ہے۔‘

نیرج نے غصے سے کہا۔ ’کیوں سنارہی ہو یہ سب۔‘

’سنا نہیں رہی ہوں۔ بتا رہی ہوں۔‘

’لیکن کیوں؟‘

’تمہاری بھی زندگی ہے —تم بھی مزے کرو۔‘

’مطلب۔؟‘ رنجیت ایکدم سے چونک گیا

وہ ہنستی ہوئی اپنے کمرے میں واپس آگئی۔ لیکن وہ جانتی تھی کہ نیرج پر یہ تیراپنا کام کرگیا ہے۔ ایک بار نیرج کا ایک دوست گھر آیا تھا۔ اس نے بھی ہنستے ہوئے کہا تھا۔ ’بھابھی، اسے باندھ کے رکھو، ورنہ کسی دن اڑ جائے گا۔‘

اس نے دل میں سوچا۔ وہ یہی تو چاہتی ہے۔ پنچھی اڑ جائے۔ تبھی تو اسے بھی اڑنے کا موقع ملے گا۔

حقیقت تو یہ ہے کہ یہ زندگی اسے عجیب سی لگتی تھی۔ وسودھا اور گرجا میں کوئی بھی اسے غلط نہیں نظر آتا تھا۔ ایک زندگی تو ملتی ہے جینے کے لیے پھر یہ زندگی آزادی کے ساتھ کیوں نہیں جی جائے۔؟ یہ کیا، کہ بس ایک کھونٹ سے بندھ کے رہ جاﺅ۔ وہ اپنی سہیلیوں کو جانتی تھی، جن کے کالج کے دنوں میں کئی کئی بوائے فرینڈ ہوا کرتے تھے۔ ہر دن موج و مستی کے ساتھ گزرتا۔ اب شادی ہوگئی تو پتی ورتا ہونے کا ناٹک چل رہا ہے۔ وہ مکھوٹا لگا کر نہیں جی سکتی۔ اس لیے اسے ایسے ناٹک پسند نہیں تھے۔ وہ چاہتی تھی، کہ ایک دنیا نیرج کی بھی ہو، جس میں اس کے علاوہ بھی کوئی ہو۔ ایسی ایک دنیا آزادی کے ساتھ اس کی بھی ہو۔ گرجا کی رومانی دنیا سے اسے جلن ہوتی تھی۔ وسودھا کے آگے بڑھنے کی آزادی اسے خوش کرتی تھی۔ لیکن ایک دن ایک ایسا واقعہ ہوا کہ وسودھا کی آزادی کے آگے بریک لگ گیا۔

دس بجے کا وقت ہوگا۔ اچانک دھڑ دھڑاتے ہوئے گھر میں کئی لوگ داخل ہوگئے۔ ان میں ایک رنجیت ماسٹر کیبیوی تھی۔ اس کے ساتھ اس کے دو پہلوان بھائی بھی تھے۔ رنجیت کی بیوی زور زور سے چلاتی ہوئی وسودھا پر برس رہی تھی۔ پہلوان بھائیوں کی حالت یہ تھی کہ ذرا سا موقع ملے تو گدھ کی طرح وسودھا کو نوچ کھائیں۔ نیرج نے کسی طرح وسودھا کا بچاﺅ کیا۔ گرجا آدھے بند کمرے سے یہ سارا منظر دیکھ رہی تھی۔ بابوجی اپنے کمرے میں بندہو کر چیخ رہے تھے۔ ماں کا چہرہ کسی لاش کی طرح سرد ہورہا تھا۔

نیرج نے بچاﺅ کا انداز اپنایا—’ آپ لوگوں سے کوئی غلطی ہوئی ہے۔ ؟‘

’کوئی غلطی نہیں جی۔ عشق مٹکا کرنے کے لیے روز اسکول پہنچ جاتی ہے۔ جھوٹ ہو تو اسکول جاکر پوچھ لو۔ اور رنجیت بھی تو آئے دن تمہارے گھر کا چکر لگاتا ہے۔ کیوں چکر لگاتا ہے؟ گھر جمائی ہے جو روز آنے دیتے ہو۔؟‘

نیرج نے معافی مانگ لی۔ ہاتھ جوڑ دیا۔ ’اگرایسا ہے تو اب نہیں ہوگا۔ آج سے نہیں ہوگا۔ نہ یہ اسکول جائے گی اور نہ کوئی یہاں آئے گا۔‘

رنجیت کی بیوی پھر چڑھ دوڑی۔ ’ارے مجھے مت پڑھاﺅ یہ سب۔ تم تو سارا دن آفس رہتے ہو۔ تمہیں کیا پتہ لگے گا۔ ایک کو پتی نے چھوڑا۔ گھر بیٹھ تم تو یہی چاہوگے کہ کسی طرح کوئی جگاڑ لگ گائے….‘

’جگاڑ‘— نیرج نے بے بسی سے پہلوان بھائیوں کی طرف دیکھا۔ آپ انہیں لے جائیے۔ اب ایسا نہیں ہوگا۔ میں ہاتھ جوڑ کر معافی مانگتا ہوں۔

’ٹھیک ہے۔ ہم جاتے ہیں۔ لیکن آگے ایسا ہوا تو خیریت نہیں۔ ‘

پہلوان بھائی اپنی بہن کے ساتھ لوٹ گئے۔ اس دن پہلی بارنیرج نے وسودھا پر ہاتھ اٹھایا۔ نرلج ۔ اسی لیے پتی نے ڈیورس دیا ہوگا۔ اب یہاں بھی نین مٹکا شروع ہوگیا۔ آس پاس کیا عزت رہی ہماری۔‘

اس دن وہ دیر تک گھر کی دیوار پر کائی کی طرح جم گئے دھبوں کو دیکھتی رہی۔ یہ دھبے کہاں سے پیدا ہوجاتے ہیں—؟ مرد کچھ بھی کرلے اس کی عزت کو کوئی خطرنہیں رہتا۔ عورت ذرا سا چوکھٹ پار کرلے تو مرد کی ناک کٹ جاتی ہے۔ وہ جانتی تھی، نیرج کا کچھ نہیں بگڑے گا۔

طلاق کے بعد وسودھا کے نچے ہوئے پر ایک بار پھر کاٹ دیئے گئے۔ اس دن روتی ہوئی وسودھا کو اس نے تسلی دی تو اس کے اندر کا باندھ ٹوٹ گیا۔

’مانگ صرف مردوں کے اندر ہوتی ہے کیا—؟ ہم عورتوں کے اندر جسمانی مانگ نہیں ہوتی؟ ہم میں سے ہر عورت اس مانگ کو ختم کرنے کے لیے شرافت کا ایک پل بنا دیتی ہے۔ یہ پل صرف ایک مرد تک جاتاہے۔ جو اس کا اپنا مرد ہوتا ہے۔ اور اگر یہ مرد ٹھکرا دے تو؟ وہ کتنے دنوں تک سیلاب کو روک سکتی ہے….؟ پانی کا زور آئے گا تو پل توٹوٹے گا ہی….‘

وسودھا نے نم آنکھوں کوخشک کیا۔ اس دن اس نے گرجا کو بھی پریشان دیکھا۔ پہلی بار اس نے سیلاب کی آہٹ کو محسوس کیا۔ جیسے تیز تیز سمندر کی لہریں ہوں جو تیزی سے اس کے گھر کی طرف بڑھ رہی ہوں۔ وسودھا کا جملہ بستر پر لیٹنے کے بعد بھی دیر تک اس کے کانوں سے ٹکراتا رہا…. ’یہ پل صرف ایک مرد تک جاتا ہے۔‘ وہ سوچ میں ڈوب گئی تھی۔ اگر اس پوری کائنات کے نظم میں ایک مرد، عورت کو سمجھنے والا نہ ہوتو—؟ عورت اس پل سے ہوکر الگ الگ دشاﺅں میں کیوں نہیں جاسکتی—؟ اگر ایک چھوٹی سی دنیا میں، زندہ رہنے کے لیے ضروری رومانیت کے تصور کو، کوئی مرد نہ سمجھنا چاہے تو—؟ پل کو کیوں نہیں توڑا جاسکتا؟ لیٹے لیٹے اس نے نیرج کو آواز دی۔

’سو گئے کیا؟‘

’نہیں ۔ کیوں؟‘

’مجھے بتاﺅگے، وسودھا کی غلطی کیاتھی؟‘

نیرج ایکدم سے چونک پڑا۔’مطلب؟‘

’مطلب یہ ہے کہ وسودھا کی کوئی غلطی نہیں تھی۔ کچھ سیلاب ایسے بھی ہوتے ہیں جو بہت کچھ بہا کر لے جاتے ہیں۔‘

اس نے سچ کہا تھا۔ آنے والے کچھ مہینوں میں چپکے سے آیا ہوا سیلاب بہت کچھ بہا کر لے گیا۔ کتنی خاموشی سے کچھ کہانیاں بند ہوجاتی ہےں۔ کتنی خاموشی سے زندگی کے بڑھتے سفر میں اچانک بریک لگ جاتاہے۔کچھ چہرے گم ہوجاتے ہیں تو لگتا ہی نہیں کہ وہ کبھی ہمارے آس پاس بھی تھے۔ ایک دن وسودھا گم ہوگئی۔ بغیر کسی کو کچھ بتائے۔ اس دن بابوجی نہیں چیخے۔ وہ دیر تک گھر نہیں آئی۔ لیکن کسی نے اف آئی، آر لکھوانے کے بارے میں نہیں سوچا۔ وہ دوسرے دن بھی نہیں آئی۔ پریشانی صرف گرجا کو تھی لیکن تیسرے دن گر جابھی مطمئن تھی۔ بابوجی کھا پی کر اپنے کمرے میں ہی رہے۔ ماں پتھر کے مجسمے کی طرح دیوار پر جمے دھبوں کو دیکھتی رہتی مگر اس کے منہ پر کبھی وسودھا کا نام نہیں آیا۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے ایک مہینہ گزر گیا۔نیرج اور گھر والوں کے لیے امید سے بھرا مہینہ، اس ایک مہینے میں ایک طوفان خاموشی سے گزر گیا تھا۔ وہ گہرے صدمے میں تھی— کیا وسودھا پہلے اس گھر میں تھی—؟ کیا وسودھا اس گھر کے لوگوں کو پہلے بھی کوئی لگاﺅ تھا—؟ کیا وسودھا کی زندگی یا گم ہونے سے کسی کو کوئی مطلب نہیں ہے؟ پھر ایک دن گرجا گم ہوجائے گی۔ پھر ایک دن وہ بھی گم ہوسکتی ہے۔ کیا کسی کو فرق پڑے گا؟ اسے لگا وسودھا نے اس رات کی گفتگو کے بعد وہ پل توڑ دیا ہو۔ وہ سیلاب کے پانی میں بہتی ہوئی دور چلی گئی ہو۔ ہم صرف اپنے لیے جیتے ہیں۔ اور اس زندگی میں، اپنے لیے، پل سے الگ الگ جاتے ہوئے راستوں کے بارے میں غور کرتے رہتےہیں۔ کچھ مہینے اور گزرے۔ گرجا کو ایک لڑکا پسند آگیا تھا۔ دونوں نے کورٹ میرج کرلی۔ نیرج پر کوئی ذمہ داری نہیں تھی۔ ایک دن وہ اپنے پتی کے ساتھ گھر آئی۔ وہ ایک دبلا پتلا سیلس مین تھا۔ گرجا نے صاف کہا کہ جب تک ماں باپ زندہ ہےں، وہ کبھی کبھی آجایا کرے گی۔ کسی کو بھی اس کے لیے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ کوئی برا وقت آیا تو وہ وسودھا کی طرح گھر نہیں لوٹے گی۔ وہ اپنا اچھا برا سمجھتی ہے۔‘

ایک ساتھ کتنے پٹاخے چھوٹتے چلے گئے۔وہ بچپن کے جھولے پر سوارتھی جہاں وہ کسی بات کی پرواہ نہیں کرتی تھی۔ لیکن وہ، بھول گئی تھی کہ اگر وہ لڑکی پیدا ہوئی ہے تو کوئی بھی اس کی پرواہ نہیں کرتا۔ اس کا زندہ رہنا ایسا ہی ہے جیسے اس کا گم ہوجانا۔ اسے وسودھا کی بات یاد آرہی تھی…. ’پانی کا زور آئے گا تو پل ٹوٹے گا ہی۔‘ پہلی بار اسے لگا، کیا اس گھر کو اس کی ضرورت ہے؟ نیرج کو؟ نیرج کے ماں باپ کو؟ یا کیا اس کے ماں باپ کو اس کی ضرورت تھی—؟ ایک ہولناک سناٹا اس کے ذہن میں آباد ہورہا تھا۔ اس نے انٹریر ڈیکوریشن کا کورس کیا تھا۔ یہ اس کا ذاتی فیصلہ تھا کہ اب وہ جاب کرے گی۔ نیرج کے اچھا برا ماننے کی اسے پرواہ نہیں تھی۔ تھوڑی بہت تلاش کے بعد اس نے ایک اچھی کمپنی جوائن کرلی۔ اور اچانک ایک دن دفتر میں کمپیوٹر پر کام کرنے کے دوران اسے احساس ہوا کہ کچھ تیز لہریں ہیں، جو اچانک اس کے جسم میں داخل ہورہی ہےں۔ نیرج کی موجودگی میں بھی اس نے ان لہروں کو کبھی اس طرح جاگتے ہوئے محسوس نہیں کیا تھا۔

وہ یہ بتانے میں ناکام ہے کہ نیرج اور اس کے درمیان دراصل رشتہ کیا تھا—؟ ایک ایسا رشتہ جہاں جسم کھلنے کے باوجود محبت کا کوئی افق روشن نہیں ہوتا۔ محبت کا کوئی دروازہ نہیں کھلتا…. اس وقت کچھ لہریں تھیں جو اس کے اندر گنگنا رہی تھیں…. مچل رہی تھیں۔ اس نے نظر اٹھائی تو سامنے ماتھر کھڑے تھے۔ کمپنی کے مالک۔ پینتالیس سال کا ایک خوبصورت نوجوان۔ مسٹر ماتھر نے اسے اپنے کیبن میں آنے کے لیے کہا…. پہلی بار اس نے ماتھر سے بہت کچھ سیکھا۔ جیسے یہ، کہ یہ زندگی تمہاری ہے رجنی۔ تمہیں اپنے حساب سے اپنی شرطوں پر جینا چاہیے۔ مدت کے بعد اس نے کسی اور کے منہ سے اپنا نام سنا تھا۔ اسے لگا کوئی ہے جو اسے جانتا ہے یا جاننا چاہتا ہے۔ پھر کچھ ملاقاتوں میں ماتھر سے اس نے اپنے اور نیرج کے تعلقات کا ذکر کیا۔ ماتھر نے قہقہہ لگایا۔ ہم اکیلے آتے ہیں اور اکیلے ہی چلے جاتے ہیں رجنی— رشتہ ناطے، سب یہی رہ جاتے ہیں۔

اس رات وہ گھر آئی تو کافی خوش تھی۔ اس رات نیرج نے بھوک مٹانے کی کوشش کی، تواس نے منع کردیا۔

’نہیں۔‘

’کیوں؟‘

’موڈ نہیں ہے۔‘

’لیکن میرا موڈ ہے۔‘

’میں تمہارے موڈ کی پرواہ نہیں کرتی۔‘ اس نے ٹکا سا جواب دیا اور کروٹ لے کر سوگئی۔

دوسرے دن ماتھر نے پھر اپنے کیبن میں بلایا۔ کافی پیش کی۔ کچھ دیر مسکراتے ہوئے اس کی طرف دیکھا۔ پھر آہستہ سے کہا۔

’جانتی ہو رجنی۔ چھل کیا ہے؟ دھوکہ کیا ہے؟ دراصل ہم ساری زندگی خود کو دھوکہ دیتے ہیں— دھوکہ صرف خود کو دیا جاتا ہے۔‘

’وہ کیسے سر۔؟‘

’محبت خود سے ہونی چاہیے۔ ہم خود سے محبت کرتے ہیں تو ہمیں خود سے سوال کرنا چاہے کہ ہم چاہتے کیا ہیں۔؟ لیکن ہوتا اس کا الٹا ہے رجنی۔ ہم دوسروں کی چاہتوں کے نام زندگی کردیتے ہیں۔ سماج نے رشتے، ناطے، رسم، رواج، کے بڑے بڑے مجسمے لگا رکھے ہیں۔ ہم ان میں کھو کر اپنی حقیقت کو بھول جاتے ہیں۔ یہ دھوکہ ہے۔ خود کے ساتھ۔‘

اس دن پہلی بار ماتھر نے گھر آنے کی دعوت دی۔ وہ خود سے اب کوئی چھل نہیں کرنا چاہتی تھی۔ اس لیے اس دعوت کو اس نے خوشی سے قبول کرلیا۔

چھٹی کا دن تھا۔ اسے تیار ہوتا دیکھ کر نیرج چونک پڑا۔ اس نے بتایا کہ باس نے بلایا ہے۔ گھر کے ڈیکوریشن کا کام ہے۔ نیرج نے پھرپوچھا۔ پھر تو ایکسڑا پیسے ملنے چاہئیں۔ اس نے پلٹ کر نیرج کو دیکھا۔ نیرج نے اپنی بات جاری رکھی۔ کام کرتے ہوئے تھک گیا ہوں۔ سوچتا ہوں کہ کچھ پیسے مل جائیں تو اپنا کام شروع کروںگا۔ اس نے ایک فاتح کی نظروں سے نیرج کو دیکھا— وہ وسودھا نہیں تھی— اس وقت وہ گرجا بھی نہیں تھی— اس وقت نیرج بھی نیرج نہیں تھا۔ وہ اسے ایک کمزور انسان نظر آیا، ایک ایسا انسان جو خود سے چھل کر رہا تھا۔

لوہے کا ایک بڑا آہنی دروازہ۔ دروازے کے پاس سیکوریٹی گارڈ کے ساتھ ایک پہریدار تھا۔ نام بتانے کے ساتھ ہی دروازہ کھل گیا۔ ماتھر نے شاید اس کے آنے کی اطلاع دے دی تھی۔ گیٹ کے باہر ایک بڑا سا لان۔ کئی گاڑیاں کھڑی تھیں۔ سیکوریٹی گارڈ نے راستہ بتایا۔ اس نے بنگلہ کی خوبصورتی کا جائزہ لیا۔ پھولوں کے درمیان پتھروں کے کئی نایاب مجسمے رکھے تھے۔ اس نے اندر جانے والے دروازے کے پاس قدم رکھا۔ شیشے کا دروازہ تھا جو اس کے قدم رکھتے ہی ذرا سا کھل گیا۔ اندر بڑا سال ہال تھا۔ چاروں طرف اونچی، پتھروں کی خوبصورت دیواروں پر، بڑی بڑی پینٹنگس جھول رہی تھیں۔ اسے ایک عورت نظرآئی۔ خوبصورت، لانبا قد۔ جینس اور ٹی شرٹ پہنے لیکنچہرے پر کسی ملکہ کی طرح غرور— سیکوریٹی گارڈ نے اسے مہمانوں کے کمرے میںپہنچایا۔ دو منٹ بعد ہی ماتھر مسکراتا ہوا سامنے تھا۔ ادھر ادھر کی رسمی گفتگو کے بعد اس نے اس عورت کے بارے میں دریافت کیا جو باہر اسے ملی تھی۔ ماتھر مسکرایا۔

’میری بیوی ہے۔‘

’وہ تو بہت خوبصورت ہے۔‘

ماتھر پھر زور سے ہنسا— ’تم جس دروازے سے آئی ہو، وہاں تمہیں بہت سے مجسمے نظر آئے ہوں گے۔ یہاں بھی دیکھو۔ یہاں چاروں طرف مجسمے لگے ہیں۔ میری بیوی بھی ایک خوبصورت مجسمہ ہے۔ قیمتی پتھر۔‘

’وہ میری موجودگی کا براتو مانیں گی۔؟‘

’کیوں؟‘ ماتھر ہنسا— ’ہم ایلیٹ کلاس والے ہیں۔ یہاں بڑی سے بڑی باتوں کا برا نہیں مانا جاتا۔ بلکہ سب کچھ پہلے سے پتہ ہوتا ہے۔ یہاں سب کو آگے جانے کا راستہ پتہ ہے۔ اور پیچھے جانے کا بھی۔ ہم میں سے کوئی بھی ایک دوسرے کی زندگی میں دخل نہیں دیتا۔‘

پھر ماتھر نے اپنا گھر دکھایا۔ اسے بار بار احساس ہوتا رہا کہ ہرمجسمے کے اندر ایک زندگی ہے— دیواروں میں بڑی بڑی آنکھیں ہیں۔ پتھروں میں چیخیں ہیں۔ ماتھر کی بیوی اسے دوبارہ نظر آئی۔ مگر نہ ماتھر کی بیوی کو اس سے کچھ جاننا تھا نہ اسے کچھ ماتھر کی بیوی سے۔ ماتھر نے بتایا کہ گھر کے ڈیکوریشن کا کچھ کام باقی ہے۔ وہ کچھ دن آفس کی جگہ یہیں کام کرے۔ اس نے منظور کرلیا۔ لیکن ایک حقیقت اور بھی تھی۔ وہ یہاں کے مجسموں سے ڈر گئی تھی۔ اسے اس بات کا بھی احساس تھا کہ کہیں اسے بھی اس گھرمیں مجسمہ بن کر نہ رہنا پڑے۔ وہ اپنے اندر تیز لہروں کی آہٹ سن رہی تھی۔ وہ گھر سے بہت کچھ سوچ کر چلی تھی۔ اس لیے زندگی میں پہلی بار ایسا ہوا جب اپنی مرضی سے اس نے خود کو ان آوارہ لہروں کے حوالے کردیا— کوئی کام مرضی سے کیا جائے تو غم نہیں ہوتا۔ اسے بھی اپنے کیے پر کوئی پچھتاوا نہیں تھا۔

اس رات نیرج نے پوچھا کہ نئے کام میں اسے کتنے پیسے ملیں گے—؟ اس نے جواب دیا۔ پریشان مت ہو۔ تم اپنا بزنس شروع کرسکو گے…. اس کے بعد نیرج نے کچھ نہیں پوچھا تھا۔ وہ کروٹ بدل کر سو گیا۔

اسے وسودھا یاد آرہی تھی۔ وہ ایک ایسے پل پر کھڑی تھی، جہاں سے کوئی بھی راستہ کسی کی طرف نہیں جاتا تھا— ہر راستہ لوٹ کر اس کی طرف ہی آتا تھا۔ یہی تو ماتھر نے کہا تھا۔ دراصل ہم خود سے دھوکہ کرتے ہیں— مجسموں کے درمیان کئی دن گزر چکے تھے۔ اس درمیان اس نے یہ بھی جانا کہ بے زبانی کی بھی زبان ہوتی ہے۔ پتھر کے مجسمے بھلے کچھ نہ کہتے ہوں مگر ان کے اندر سے نکلنے والی آوازوں کو سنا جاسکتا ہے۔ ماتھر کی بیوی اسے ایک ایسی عورت معلوم ہوئیجو زندہ ہوتے بھی زندہ نہیں تھی۔ نیرج اورماتھر کی بیوی میں فرق تھا۔ نیرج بھی سب کچھ جانتا تھا مگراس کے سامنے ایک ٹارگیٹ تھا۔ بزنس— وہ اپنا بزنس شروع کرنا چاہتا تھا۔ اسے یہ بھی معلوم تھا کہ ماتھر کیا چاہتا ہے—؟ ایلیٹ کلاس کے یہ شریف لوگ ہزاروں میں ایک کا انتخاب کرتے ہیں— وہ اس بات سے ڈرتے ہیں کہ کہیں کوئی اسٹنگ آپریشن ان کی شرافت کو بے نقاب نہ کردے۔ یہاں سب مجسمے ہیں۔ وسودھا اور گرجا کے لیے اس کی محبت جاگ رہی تھی۔ وسودھا بھی مجسمہ نہیں تھی۔ ایک رد عمل تھا اس کے اندر۔ گرجا بھی مجسمہ نہیں تھی— اسے ان لوگوں سے بھی ہمدردی تھی، جنہوں نے غصہ میں آکر اپنی بیوی یا شوہر کو صرف اس لیے ہلاک کردیا کہ ان کے تعلقات دوسری عورت یا دوسرے مرد سے تھے۔ کچھ لوگ ابھی بھی بازار کا حصہ نہیں بنے ہیں۔ اسے بھی نہیں بننا ہے۔

اس دن وہ ماتھر کے کمرے میں تھی۔ برسات شروع ہوگئی تھی۔ پھر بارش تھم گئی۔ وہ کپڑے پہن کر باہر آئی تو ایک مجسمہ کے ساتھ لگ کر کھڑی ہوگئی۔ اس نے آنکھیں بند کرلیں۔ اتنے دنوں میں پہلی بار ماتھر کے جسم سے آنے والی بدبو کا احساس ہوا تھا۔ وہ اس بدبو کا ساتھ بہت دنوں تک گوارہ نہیں کرسکتی تھی۔ اسے یقین تھا، ایک دن ماتھر اس کے ساتھ یہی کرنے والا ہے۔ وہ ماتھر سے ہاﺅس ڈیکوریشن کے نام پر ایڈوانس چیک لے چکی تھی۔چیک لیتے ہوئے اس کے ہونٹوں پر ایک عجیب سی مسکراہٹ تھی۔ ماتھر کے لیے اس مسکراہٹ کو سمجھنا آسان نہیں تھا۔ اس دن پہلی بار اس نے خود کوہلکا اور ترو تازہ محسوس کیا۔ ماتھر نے مسکرا کر کہا تھا۔ ڈیکوریشن کا کام ابھی کچھ دن اور چلے گا— چیک رکھ لو۔ کچھ پیسوں کی اور ضرورت ہوئی تو….‘ اس نے محسوس کیا، ماتھر کی آنکھیں اس کے جسم پر چبھ رہی ہیں۔ ماتھر نے آہستہ سے اس کا ہاتھ تھاما۔ ’میں چاہتا ہوں۔ اب یہیں تمہارے لیے ایک کمرہ بنا دوں۔ آفس کا کام یہیں سے سنبھال لو۔‘

وہ مسکرائی تھی۔ کیوں نہیں سر۔ جیسا آپ کہیں۔‘

لیکن اس درمیان وہ بہت کچھ فیصلہ اندر ہی اندر لے چکی تھی۔ آخر وہ انٹریر ڈیکوریٹر تھی۔ اس کے جسم پر کچھ پرائی انگلیوں کے داغ تھے تو یہاں کی دیواروں پر بھی اس کے ڈیکوریشن کی نشانیاں بھی موجود تھیں۔ اس نے نظر بھر کر آس پاس کے مجسموں پر طائرانہ نگاہ ڈالی اور باہر آگئی۔ باہر آنے کے بعد اس نے دیکھا۔ ماتھر کی بیوی آہستہ آہستہ سیڑھیاں اترنے کے بعد پور ٹیکو کی طرف بڑھ رہی ہے— اسے نفرت محسوس ہوئی۔ ایک زندہ لاش، جسے اس کے شوہر نے جیتے جی زندہ مجسمے میں تبدیل کردیاتھا۔ وہ بہت تیزی سے فیصلہ لے رہی تھی۔

اس بار اس سے کوئی لاپرواہی نہیں ہوئی تھی۔ اس نے ماتھر کی کمپنی چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا تھا۔ اسے مجسمہ نہیں بننا تھا۔ اسے اب اپنے لیے بھی جینا تھا۔ ایک مدت سے وہ اپنی زندگی بھول چکی تھی۔ اب اس کو ایک نیا سفر شروع کرناتھا۔ ابھی اس نئے سفر کے تمام اتار چڑھاﺅ کے بارے میں غور کرنا تھا۔ گھر آنے کے بعد ایک خاص بات ہوئی۔ نیرج لافنگ بدھا کا ایک چھوٹا سا مجسمہ لے کر آیا تھا۔ مجسمہ اس کی طرف بڑھاتے ہوئے نیرج نے کہا۔

’اچھا ہے نا؟ اس گھر کو مسکراہٹ کی ضرورت ہے۔‘

اس نے مجسمہ کو بے دردی سے زمین پر پنج دیا۔ مجسموں کی نہیں۔ مجھے زندگی کی ضرورت ہے۔‘

زمین پر بے رحمی سے پٹخنے کے باوجود بھی لافنگ بدھا پر کوئی اثر نہیں ہوا تھا۔ وہ اچھل کر دیوار سے لگ گیا۔ اچانک اسے احساس ہوا، گول مٹول سا لافنگ بدھا اس کی طرف ہی دیکھ رہا ہو۔ اور صرف دیکھ ہی نہیں رہا ہو، بلکہ اس کے چہرے کی مسکراہٹ میں بھی اضافہ ہوگیا ہو۔

Published inتبسم فاطمہخواتین افسانہ نگارعالمی افسانہ فورم