Skip to content

قرض جاں

عالمی افسانہ میلہ 2015

افسانہ نمبر 59

قرضِ جاں

علی مرزا، سمندری، پاکستان

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس کے پورے وجود پر اضطراب سا طاری تھا ایسا اضطراب جو بنا آب کے مچھلی پر ہوتا ہے ۔اور غالبا” یہی اضطراب تھا جو اسے سارا دن شہر بھر میں بھگائے رکھتا تھا۔گلی کوچوں بازاروں سے لے کر ۔۔۔ مسجد ۔۔ مندر ۔۔ گرجا گھروں ۔۔ درگاہوں تک ۔۔۔ جہاں جہاں لوگوں کی بھیڑ ہوتی وہاں جا گھستا ۔ایک اک چہرے کو دیوانگی سے تکتا رہتا ۔۔ اردگرد کے سب راستوں پر اس کی نظریں دوڑتی رہتیں ۔۔ جیسے وہ کسی کا متلاشی ہو اور ہر جگہ ڈھونڈنے کے باوجود کہیں نظر نہ آ رہا ہو۔

گھر سے نکلے ہوئے اسے آج چھٹا روز تھا اور جوں جوں وقت گزرتا چلا جا رہا تھا اس کی بے چینی میں اضافہ در اضافہ ہوتا چلا جا رہا تھا ۔

آج بھی وہ شہر کے پر رونق بازار میں ہر آتے جاتے شخص کو بڑی حسرت سے دیکھ رہا تھا۔اور اسے آج بھی اپنی امید بر آتی ہوئی نظر نہیں آ رہی تھی ۔

ایک ہی جگہ پر کھڑے کھڑے جب کچھ وقت بیت گیا تو وہ تیز قدموں سے کسی دوسری جانب نکلنے لگا جہاں اس سے زیادہ لوگوں کی بھیڑ ہو۔اس کے اٹھتے ہوئے قدموں سے ارتعاش واضع محسوس ہو رہا تھا۔

مایوسی کے خیال سے ہی اس کے چلنے کی رفتار میں تیزی آ گئی۔اس کا دل اس خیال سے ہی لرزنے لگ گیا تھا کہ اگر وہ اپنے اس مقصد میں بھی کامیاب نہ ہو سکا تو ۔۔ اس کے گھر والے ۔۔۔

ناکامی کا تصور بھی اس کے لیے سوہان_ روح تھا۔اب وہ چلتے چلتے باقاعدہ بھاگنے لگ گیا تھااور بھاگتے ہوئے اپنی قمیض کی جیب کو ایک ہاتھ سے یوں سختی سےپکڑا ہوا تھا جیسے اس کی جیب میں متاع_ عزیز ہو اور اس کے گرنے کا خطرہ لاحق ہو ۔

گلی کوچوں سے ہوتا ہوا وہ شہر کی ایک بڑی سڑک پر آ گیا شام کے پانچ بجنے والے تھے مگر سڑک پر اس قدر شور تھا کہ کان پڑتی ہوئی آواز بھی سنائی نہ دیتی تھی۔

اپنی جیب کے خیال کے ساتھ ساتھ وہ سڑک کنارے بھاگتے ہوئے اس بات کا بھی خیال رکھ رہا تھا کہ کوئی گاڑی اسے ٹکر نہ مار دے ۔

بھاگتے بھاگتے اچانک اس کی نظر ایک دوسری سڑک پر پڑی جہاں سے ایک جنازہ گزر رہا تھا ۔جنازے کے ساتھ لوگوں کی کثیر تعداد دیکھ کر اس کی بے روح آنکھوں میں ایک چمک سی دوڑ گئی ۔اس کے تیز قدم خود بخود آہستہ ہونے لگے ۔سڑک پار کر کے دوسرے راستے پر ۔۔۔ اپنی سانسیں ہموار کرتے ہوئے وہ بھی جنازے میں شریک لوگوں میں شامل ہو گیا ۔ان کے ساتھ ساتھ چلنے لگا ۔

دور کسی مسجد سے عصر کی ازان ہو رہی تھی ازان کی آواز کانوں میں پڑھتے ہی اس کی نظریں آسمان کی طرف اٹھ گئیں ۔اس کی نظروں میں جانے کیا کچھ تھا اور جانے کیا کیا کہہ رہی تھیں کہ آسمان سے لوٹ کر جنازگاہ تک پھر اس کی نظریں زمین پر ہی گڑھی رہیں ۔

پہلے اسے خیال آیا کہ اسے جنازگاہ کے دروازے پر ہی رکنا چاہیے پھر جانے کیا سوچ کر دوسرے لوگوں کے ہمراہ وضو کرنے لگا ۔چہرے پر جیسے ہی پانی لگا اسے لگا اس کی پلکوں پر سینکڑوں کانٹے اگ آئے ہیں ۔۔کچھ دیر بعد نماز_ جنازہ کے لیے بنائی گئی قطاروں میں وہ سب سے آخری قطار میں ہاتھ باندھے کھڑا تھا ۔

دل ہی دل میں اپنی آرزو پر جہاں بہت چپ سا تھا وہاں ساتھ پورا ہونے کا بھی شدید خواہش مند تھا ۔

ابھی امام صاحب پہلی رکعت میں ہی تھے کہ اچانک ایک کان پھاڑنے والے دھماکے کی آواز فضا کا سینہ چاک کرنے لگ گئی ۔۔جیسے کوئی زمین الٹنے والا زلزلہ ۔۔ آگ کا ۔۔ ہر چیز کو خاکستر کرنے والا طوفان آ گیا ہو ۔ ایک لمحے میں ہی ہر طرف کٹی پھٹی لاشیں ہی لاشیں پھیل گئیں ۔ آہ و بکا ۔۔۔ چیخیں بلند سے بلند تر ہونے لگئیں ۔

اسے بھی اپنا وجود کسی آگ کے سمندر میں اترتا ہوا محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔ ساتھ جیسے کوئی تیز دھار آری کاٹتی بھی چلی جا رہی ہو ۔چند پل میں وہ بھی ہوش و خرد سے بیگانہ ہوتا چلا گیا ۔

اگلی بار جب اس نے اپنے آپ کو محسوس کرنے کی کوشش کی تو اسے احساس ہوا کہ اس کا وجود جیسے ابھی تک آگ میں جل رہا ہے اک ایسی آگ جو اس کی روح تک کو جھلسا رہی ہو ۔۔ جسم کا ایک اک حصہ یوں درد سے چٹخ رہا تھا جیسے بھاری نوکیلے پتھروں سے کچلا گیا ہو ۔

کچھ ڈاکٹرز تھے شاید ۔۔ جو اس کے ارد گرد گھیرا ڈالے ہوئے کھڑے تھےاسے اپنی سانسیں اکھڑتی ہوئی محسوس ہو رہی تھیں ۔اسے لگا کوئی شخص اس کے جسم پر بچ جانے والے لباس کی تلاشی بھی لے رہا ہےاور اسے لباس کی جیبوں سے کچھ ملا بھی ہےاس کا قومی شناختی کارڈ ۔۔ ساتھ آٹھ دس کے قریب شناختی کارڈ کی فوٹو کاپیاں ۔کسی کاغذ پر فون نمبرز ۔ادھ جلی تعلیمی اسناد ۔اور ساتھ کچھ دیگر چیزیں ۔

آس پاس بیٹھا ہوا کوئی شخص صبح کے اخبار کی خبریں اونچی آواز میں پڑھ رہا تھا ۔دوران _ جنازہ خود کش حملا !!سو کے قریب اموات ۔۔ دو سو کے قریب شدید زخمی ۔۔ حکومت کی طرف سے حملے کی پرزور مذمت ۔۔ساتھ ساتھ مرنے والے افراد کے لواحقین کے لیے بیس لاکھ روپے اور زخمیوں کے لیے پانچ پانچ لاکھ روپے کی امداد کا اعلان ۔

خبر سنتے ہی اس کی آنکھیں جیسے پانیوں سے بھر گئیں ۔اور ایک زخمی سی مسکراہٹ نے اس کے لبوں کو چھو لیا۔۔ اسی وقت اس کی روح ۔۔۔ اس کے کرچی کرچی بدن کا ساتھ چھوڑ گئی

Published inافسانچہعالمی افسانہ فورمعلی مرزا