Skip to content

قابل مذمت

عالمی افسانہ میلہ
افسانہ نمبر 125
قابل مذمت
نورمحمد برکاتی ۔ مالیگاؤں ، انڈیا
رمضان کے مبارک مہینے کے باعث مرکزی حکومت نے کشمیر میں سیزفائر کا اعلان کیا تھا حالانکہ یہ یک طرفہ اعلان تھا لیکن اس کا بھی فائدہ ہوا اور پہلا عشرہ بنا کوئی کشیدگی کے گزرگیا آج دوسرے عشرے کا پہلا جمعہ تھا اور جمعہ ہونے کے باعث مسلمانوں کی بڑی تعداد کشمیر کے دارالحکومت سری نگر کی تاریخی جامع مسجد میں نماز ادا کررہی تھی ۔تاریخی جامع مسجد کا علاقہ عام طور پر حساس علاقوںمیں شمار کیا جاتا تھاجہاں سے تشدد آسانی سے بھڑک جایا کرتا تھا چناں چہ نمازکے اوقات میں یہاں بہت سی فوجی تکڑیوں کو پیٹرولنگ کرنا پڑتی تھی ہر تکڑی کا وقت طئے تھا جس کے مطابق وہ تکڑی پیٹرولنگ کرتی تھی میری تکڑی کی پیٹرولنگ جمعہ کی نماز کے بعد ہوا کرتی تھی چناں چہ میں نے تیاری کی اور اپنی تکڑی کی جیپ میں جاکر بیٹھ گیاڈرائیور سکھبیر ،ہرک چند،لال سنگھ،بیریندر اور دوسرے فوجی پہلے ہی سےگاڑی میں موجود تھے میجر چندر کانت کاانتظار ہورہا تھا جوکہ تیزی سے جیپ کی جانب آرہا تھا وہ جلد ہی جیپ تک آگیا اوراس کے جیپ میں بیٹھتے ہی سکھبیر نے گاڑی اسٹارٹ کی اور جامع مسجد کی راہوں پر جیپ کو دوڑا دیا۔جلد ہی ہم جامع مسجد کے قریب پہنچ گئے لیکن ہم نے دیکھا کہ جامع مسجد کے اہم دروازے کے پاس عوام کا جم غفیر جمع ہے اور وہ ہاتھ اٹھا اٹھا کر اور چیخ چیخ کر حکومت کے خلاف احتجاج کررہے تھے۔کچھ مظاہرین کے ہاتھوں میں اینٹیں اور پتھر بھی تھے۔سکھبیر نے گاڑی کی رفتار انتہائی سست کردی بلکہ یوں کہیں تو بے جا نہ ہوگا کہ اس نے جیپ صرف اسٹارٹ ہی رکھی تھی۔ ہم سبھی جانتے تھے کہ اس نے گاڑی کی رفتار کیوں اتنی سست کی ہے ۔ماضی میں بارہا تلخ تجربات ہوئے تھے جب ہماری جیپ پر مظاہرین نے پتھراور اینٹ کی برسات کی تھی۔چناں چہ سکھبیر کے گاڑی کی رفتار انتہائی کم کرنے پر ہرک چند نے میجر چندر کانت سےکہا۔ ۔ ۔
‘‘میجر۔۔۔۔میری مانیں تو دوسرے راستے سے واپس چلتے ہیں۔۔۔۔مظاہرین کی تعداد بہت زیادہ ہے۔۔۔’’
‘‘اگر ان کی تعداد زیادہ ہے تو کیا ہم اپنی ڈیوٹی سے منہ موڑ لیں گے ہرک چند۔۔۔۔۔۔’’میجرچندر کانت نے تلخ لہجے میں کہا۔
‘‘بالکل نہیں سر۔۔۔۔۔بالکل نہیں ۔۔۔میں تو صرف اس لیے کہہ رہا تھا کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔’’
‘‘کہ تمہیں کوئی بھی جسمانی نقصان نہ ہو اور تم محفوظ رہتے ہوئےاپنے ٹھکانےپر پہنچ جاؤ ۔۔۔۔۔ہیں نا۔۔۔۔’’
‘‘بالکل نہیں سر۔۔۔۔۔۔ میں تو بس یہ چاہ رہا تھا کہ ٹکراؤ کی نوبت نہ آئے کیونکہ ٹکراؤ میں نقصان دونوں جانبین کا ہوتا ہے۔۔۔’’
‘‘ہرک چند اب ٹکراؤ ہو یا نا ہو ہمیں تو اپنی ڈیوٹی نبھانی ہے۔۔۔۔۔’’
‘‘سر ۔۔۔۔۔کیوں نہ انھیں مظاہرین میں سے کسی کو پکڑ کر جیپ کے آگے باندھ دیا جائے ۔۔۔۔۔اس کے بندھے ہونے سے مظاہرین جیپ پر پتھراؤ نہیں کریں گے۔۔۔۔۔’’بیریندر نے پہلی بار گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے کہا۔
‘‘یہ بزدلی ہوگی کہ ہم اپنے تحفظ کے لیے کسی کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کریں۔۔۔۔’’میجر نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا۔
‘‘لیکن میجر سریندرنے تو یہی حکمت عملی اختیار کی تھی۔۔۔’’ ہرک چند نے کہا۔
‘‘دیکھو میجر سریندر نے جو کیا وہ خود اس کا ذمہ دار ہے اور ہماری حکومت خود جانتی ہے کہ اس قسم کی حرکت بزدلی تو ہوسکتی ہےمگر حکمت عملی نہیں ہوسکتی لیکن حکومت اس کا اظہار سرکاری طور پر نہیں کرسکتی کچھ مسائل کی وجہ سے ۔۔۔۔۔سمجھے تم ۔۔۔۔’’
‘‘جی ۔۔۔تو پھر کیا کیا جائے۔۔۔۔۔’’ہرک چند نے کہا اور ہم سبھی سوالیہ نظروں سے میجر کی جانب دیکھنے لگے ۔
‘‘ہم اپنی ذمہ داری پوری کریں گے ۔۔۔۔۔سکھبیر تم جیپ کی رفتار کو تیز کرو۔۔۔۔۔مسجد کے دروازے کے پاس جیپ کی رفتار مزید تیز کردینا تاکہ ہم ٹکراو سے بچ سکیں’’۔
‘‘اوکے سر۔۔۔’’سکبھیر نے کہا اور جیپ کی رفتار بڑھا دی ۔جیپ جیسے ہی جامع مسجد کے دروازے کے پاس پہنچی ہماری جیپ پر پتھر اور اینٹ آنے شروع ہوگئے ہم سبھی کو ایک دو پتھر اور اینٹ لگ چکے تھےکہ اچانک پتھراو سے بچنے کے لیے سکھبیر نے جیپ کی رفتار بہت زیادہ بڑھادی لیکن جیپ کے آگے بھیڑ اتنی تیزی سے ہٹ نہ سکی جس کے نتیجے میں دو نوجوان جیپ کے نیچے آگئے۔ہم جیپ سے فورا کودے اور اپنی جان بچانے کے لیے بھاگے ۔وہ تو خیر ہو کہ ہمیں زیادہ دوڑنا نہیں پڑا کہ فوج کی ایک دوسری گاڑی ہمیں مل گئی جس کی مدد سے ہم اپنے ٹھکانے واپس لوٹ گئے۔

دوسرے دن میجر چندر کانت و سکھبیر کے خلاف کورٹ آف انکوائری کا حکم صادر ہوا ۔جس میں تحقیقات کے بعد ان دونوں کو کلین چٹ دی گئی میں حیرت زدہ سا میجر چندرکانت کے پاس گیا اور ان سے اس معاملے میں بات کی۔۔۔۔۔
‘‘بہت مبارک ہو سر۔۔۔۔۔۔آپ کو اور سکھبیر کو کلین چٹ مل گئی ۔۔۔۔۔۔لیکن سر ایسا کیسے ممکن ہوگیا ۔۔۔۔۔جیپ کے نیچے آنے والے دونوں ہی شہری مرگئے تھے پھر کیوں کورٹ آف مارشل کی سفارش نہیں کی گئی؟؟؟؟’’
‘‘کیونکہ وہ نوجوان کشمیری تھے۔۔۔۔۔۔۔’’میجر چندر کانت نے جواب دیا۔۔۔۔۔

Published inافسانچہعالمی افسانہ فورمنور محمد برکاتی