Skip to content

فنکار

عالمی افسانہ میلہ 2015

افسانہ نمبر 53

فنکار

ذاکر فیضی، دہلی، انڈیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سوریہ بار اینڈ ریسٹو رینٹ’ میں وہ تینوں ایک گول میز کے ارد گرد بیٹھے تھے۔ چو تھی کرسی خالی تھی۔ کہانی کار نے پہلو بدلا۔

ابھی تک نہیں آیا۔ بہت وقت لگا دیا۔

ہاں یار یہ وقت کی قدر نہیں کرتا۔” آرٹسٹ نے ایش ٹرے میں سگریٹ مسلی۔

یہ بہت سست ہے یار” فلم ساز نے گھڑی دیکھی۔

وہ چاروں الگ الگ مذہب سے تعلق رکھتے تھے مگر بہت گہرے دوست تھے۔کہانی کار ،آرٹسٹ، فلم ساز اور چوتھا۔۔۔چوتھا کوئی فنکار نہیں تھا۔ ایک عام آدمی تھا۔۔۔۔ اس کا میڈیکل سٹور تھا۔

تیرا کیا خیال ہے،کہیں وہ میڈیکل سٹور پر تو نہیں ؟” کہانی کار نے آرٹسٹ سے کہا۔

ارے وہ سنڈے کو میڈیکل سٹور بند رکھتا ہے بھئی۔” فلم ساز نے سامنے بیٹھی لڑکی کو گھورتے ہوئے کچھ بے خیالی میں کہا۔

یار، ہر بات کی حد ہوتی ہے۔ ہم چاروں کا سات بجے ملنا طے تھا۔۔۔آٹھ بج رہے ہیں۔ بیوقوف ابھی تک نہیں آیا۔” آرٹسٹ سب سے زیادہ جھنجھلا رہا تھا۔

شام ڈھل رہی رہی اور اس کی طلب بھی بڑھتی جا رہی تھی۔ وہ تینوں آج کی مخصوص شام برباد کرنا نہیں چاہتے تھے۔۔۔۔۔ چوتھے کا موبائل بھی کام نہیں کر رہا تھا۔ ہوں تو اکثر میڈیکل سٹور پر محفل جمتی تھی۔ کہانی کار اپنی کہانیاں سناتا اور اپنی ادبی سرگرمیوں کا خوب ذکر کرتا۔ آرٹسٹ اپنی بنائی تصاویر اور پورٹریٹ کے بارے میں باتیں شروع کر دیتا اور گھنٹوں اپنی فنکاری کی کے گن گاتا رہتا تھا۔ فلم ساز و ہدایت کار اپنی فلموں کے بارے میں بتاتا۔۔۔۔۔ ہمیشہ نئی فلم شروع کرنے کی بات کرتا۔۔۔۔۔۔ کبھی اسکرپٹ پر کام چل رہا ہوتا، کبھی لوکیشن کا مسئلہ اور کبھی کاسٹنگ کا مسئلہ درپیش ہوتا لیکن چوتھا کم گو تھا۔ تینوں کی سنتا تھا۔ اسے فنونِ لطیفہ سے بے حد محبت اور دلچسپی تھی۔ وہ ادب کا مطالعہ کرتا۔ فلمیں دیکھتا اور آرٹ گیلریز بھی جاتا تھا۔

ابے کیوں گھورے جا رہا ہے اسے، کیا کچاّ کھائے گا۔” کہانی کار نے فلم ساز سے کہا جو سامنے بیٹھی لڑکی کو برابر گھورے جا رہا تھا۔

نہیں یار میں دیکھ رہا ہوں، اس لڑکی کا سکرین لُک ہے۔” فلم ساز نے بات بنائی۔

ہاں ہاں ہمیں معلوم ہے تو کون سے کیمرے کی آنکھ سے اس کا اسکرین ٹیسٹ لے رہا ہے۔” تینوں نے ایک زوردار قہقہہ لگایا۔ کچھ دیر کے لئے تینوں کا ذہن چوتھے کی طرف سے ہٹ گیا۔ دراصل یہ پارٹی تینوں نے اپنے اپنے میدان میں کامیابی ملنے پر چوتھے کو دی تھی اور چوتھا ہی غائب تھا۔ سال بھر قبل شہر میں ایک حادثہ ہوا تھا۔ ایک لڑکی کے والدین کو قتل کرکے لڑکی کے ساتھ زنا کیا گیا تھا اور زنا کرنے کے بعد اس کے چہرے ہر تیزاب پھینکا گیا۔ لڑکی بے حد حسین تھی۔ جس کالج میں وہ پڑھتی تھی، اسی کالج میں ایک صوبائی وزیر کا بیٹا بھی پڑھتا تھا۔ وہ اس لڑکی پر فریفتہ تھا لیکن لڑکی اسے پسند نہیں کرتی تھی، وہ اس کی فطرت سے واقف تھی۔کالج کی لڑکیوں کے ساتھ اس کے قصّے سننے میں آئے تھے۔ وزیر کا بیٹا لڑکی کو حاصل کرنا چاہتا تھا۔ سچیّ محبت کا دم بھی بھرتا تھا لیکن لڑکی اس سے نفرت کرتی تھی۔ ایک دن تنہا دیکھ کر لڑکے نے کالج کی ایک گیلری میں لڑکی کا راستہ روک لیا۔

پلیز ، میری بات سمجھو۔۔۔۔میں۔۔۔۔میں۔۔۔ واقعی تم سے محبت کرتا ہوں

تم نے پھر بد تمیزی کی۔۔۔۔۔۔ ابھی پرنسپل کے پاس جاتی ہوں۔” لڑکی بھڑکی۔

اے رانی ! اتنی شریف نہ بن، مان جا ورنہ۔۔۔۔۔۔۔” لڑکے نے تیور بدل لئے۔

تڑاخ!” لڑکی نے اسے تھپڑّ مارا۔ وہ غصّے میں بری طرح کانپ رہی تھی۔ لڑکا سکتے میں آ گیا۔ لڑکی کے جانے کے بعد وہ چیخا۔ ”اب میں تجھے نہیں چھوڑوں گا۔” اور ہھر اس نے ایک خطرناک منصوبہ بنایا۔ اس بات کے چند روز بعد صوبائی وزیر کا بیٹا اپنے دو ہم خیال لڑکوں کے ساتھ لڑکی کے گھر پہنچا۔ سب سے ہپلے انہوں نے لڑکی کے والدین کا قتل کیا۔ پھر لڑکے اور اس کے ساتھیوں نے لڑکی کے ساتھ زنا کیا اور واپس جاتے جاتے لڑکی کے چہرے پر تیزاب پھینک دیا۔ کئی ہفتے تک مقامی اخباروں نے خوب چٹخارےدار خبریں بنایئں۔ چند مہینے مقدمہ چلا لیکن وزیر کا بیٹا مقدمہ جیت گیا۔

اس حادثے سے متاثر ہو کر کہانی کار نے کہانی لکھی اور نیشنل لیول کے کہانی مقابلے میں پہلا انعام حاصل کیا۔ کہانی کار کی کہانی کو لے کر فلم ساز نے ایک فلم بنائی۔ فلم نے نیشنل ایوارڈ حاصل کیا۔ آرٹسٹ بھی اس حادثے سے متاثر ہوا تھا۔ اس نے بھی الگ الگ زاویوں سے اس حادثے کی تصویریں بنائیں اور آرٹ گیلری کا اہتمام کرکے شہرت اور دولت پائی۔ تینوں ہی فنکار آج بہت خوش تھے۔ چوتھے کا انتظار تھا۔ ویٹر کئی بار آ چکا تھا لیکن وہ ہر بار ‘ کچھ دیر رک کر’ کہہ کر ٹال رہے تھے۔

یار اس کے بغیر جشن کا مزہ نہیں آئے گا۔” کہانی کار نے پانی پی کر گلاس میز پر رکھتے ہوئے کہا۔

شام بیکار کر دی اس نے۔” آرٹسٹ بہت بے چینی محسوس کر رہاتھا۔

ایسا کرتے ہیں، جشن کا سامان لے کر اس کے گھر چلتے ہیں، شاید وہ گھر پر ہو۔” فلم ساز نے تجویز رکھی۔

لیکن یار، یہ بار والے کیا سوچیں گے۔نہ کھایا نہ پیا۔ گلاس توڑا بارہ آنہ” کہانی کار نے اپنی عادت کے مطابق قہقہہ لگایا۔

کچھ نہیں یار ،اس بار کا منیجر میرا بہت بڑا فین ہے۔ مجھ سے فلموں میں چانس مانگتا ہے سالا۔۔۔۔” فلم ساز نے اپنی بائیں آنکھ دبائی۔

تو ٹھیک ہے۔۔۔۔گھر چلتے ہیں۔” تینوں اٹھ کر بار سے باہر آ گئے۔ وہ تینوں چوتھے کے گھر پہنچے۔ گھنٹی بجانے پر چوتھے نے دروازہ کھولا۔ آرٹسٹ دہاڑا۔

ابے سالے ہہاں مر رہا ہے ہماری شام سڑا کر۔

یار وہ۔۔۔۔” چوتھا ہکلایا۔ ”بیوی کو اسپتال لے گیا تھا۔

بیوی؟” تینوں کی زبان سے ایک ساتھ نکلا۔

ابے ایک ہی رات میں بیوی کہاں سے ٹپک گئی۔

وہ۔۔۔۔ میں نے۔۔۔۔ چند مہینے پہلے کورٹ میرج کر لی۔۔۔۔ سوری تم لوگوں کو نہیں بتا سکا۔

پھر وہ چاروں کمرے میں آ کر بیٹھ گئے۔

ویسے وہ ہے کیسی؟۔۔۔۔۔۔۔۔تیری بیوی۔” فلم ساز نے ہاتھ مسلتے ہوئے کہا۔

بہت اچھی ہے۔” چوتھے نے مسکراتے ہوئے کہا۔ ”میں پانی لے کر آتا ہوں”یہ کہ کر وہ اٹھا ہی تھا کہ اس کی بیوی پانی لے کر کمرے میں داخل ہوئی۔ تینوں اس کی بیوی کو دیکھ کر اچھل پڑے۔۔۔۔ وہ بے حد بدصورت اور ڈراونی تھی۔ چوتھے نے کہا۔۔۔۔۔ یہ وہی ہیں جس پر آپ تینوں نے اپنے اپنے فن کا مظاہرہ کیا ہے۔۔۔۔۔ میں بھلا ان کے لئے کیا کر سکتا تھا۔

تینوں فنکاروں نے سوالیہ انداز میں ایک دوسرے کی شکلیں دیکھیں، جیسے ایک دوسرے سے سوال پوچھ رہے ہوں۔ “فنکار کون ہے؟۔۔۔۔پم؟ یا۔۔۔۔۔۔

Published inذاکر فیضیعالمی افسانہ فورم