Skip to content

فردوس اور اس کا شہر

عالمی افسانہ میلہ 2020

افسانہ نمبر53

فردوس اور اس کا شہر

مدثر حسین ملک

کوئٹہ ۔ پاکستان

یہ خبر وبائی مرض کی مانند شہر کے کسی گلی کوچے سے اٹھی اور پھر آوازوں سرگوشیوں کے دوش پر پورے شہر کا طواف کر گئی۔۔ سٹیج کی مشہور رقاصہ یکایک منظر نامے سے یوں غائب ہوئی جیسے کسی بھی سٹیج ڈرامے کے آغاز میں آنے والے ایکسٹرا آتے ہیں اور چند جگتوں کے بعد اچانک کسی بڑے اداکار کی آمد پر یوں غائب ہو جاتے ہیں جیسے کبھی وہاں موجود تھے ہی نہیں۔۔

یہ خبر تھیٹر کے باہر لگنے والے ٹھیلوں سے ہوتی ہوئی رکشہ ڈرائیوروں کے ہاتھ چڑھی اور پھر ان تماش بین سواریوں کی آپس کی گفتگو سے اخذ نتیجوں کے مرچ مسالوں کے بعد یونی ورسٹی کالج اور پھر گلی کوچوں تک پہنچ گئی۔۔

ہر کسی کو اس خبر کی ٹوہ تھی کہ اپنے اوج پر ناچتی اس رقاصہ نے سنجوگ کا رستہ کیوں چنا۔۔بعض شوقین مزاج ڈیفینس میں شرفاء کی بستی کے بیچوں بیچ موجود اس کی کوٹھی کے باہر پہنچ گئے جہاں ایک پرسرار سی خاموشی چھائی ہوئی تھی۔۔خاموشی کے اس ان دیکھے حصار کو کبھی کوئی کالے شیشے والی گاڑی پار کرتی اور گیٹ کے اندر داخل ہو جاتی یا باہر کا رستہ ناپ لیتی۔۔

فردوس کا سٹیج کے منظر نامے سے غائب ہونا یقینا ایک بڑی خبر تھی مگر اتنی بھی نہیں کہ اس بڑے شہر کی نبض پر ہاتھ دھر لیتی۔۔اس شہر نے بہتری رقاصاؤں کے گھنگروؤں سے آراستہ قدموں اور دولت کے ہاتھوں نوچے ہوئے جسموں کو اپنی آغوش میں پناہ دی تھی چنا چہ تھیٹر کی دنیا یوں ہی آباد رہی اور بہت سی فربہ جسم رقاصائیں اپنے وجود کو رنگوں سے مزین اور نہ دکھے نہ چھپے انداز کے کپڑے پہنے تماش بینوں کی لذت کا سامان پیدا کرنے میں مصروف ہو گئیں۔ ان رقاصاؤں نے جو تھیٹر سے باہر باقائدہ جسم فروش تھیں، لباس کی یہ جدت شرفاء کی بوتیکوں اور فیشن شوز سے سیکھی تھی۔۔ان کے لباسوں کی چستی۔۔ چاکوں کی لمبائی اور گلے کی گہرائی کسی طور مارکیٹوں میں گھومنے والی اور اونچے ہوٹلوں میں اپنے زن مرید شوہروں کے ساتھ ڈنر کرنے والو عورتوں سے کم نہ ہوتی۔۔بس فرق اتنا تھا کہ چند بھڑکیلے رنگوں اور ناچ کے نام پر سٹیج پر بھاگتے اور کودتے ہوئے ذو معنی گانوں پر فحش حرکات کر کے یہ تماش بینوں کے دلوں کی دھڑکن بن جاتی تھیں۔۔لباس کی اس مماثلت نے اس احساس ذلت کو بھی بہت کم کر دیا تھا کہ یہ جسم فروش عورتیں معاشرے کی دھتکاری ہوئی نفرت زدہ عوام ہے۔۔اور اسی وجہ سے تماش بین اب تھیٹر اور شاپنگ مال میں بولایا بولایا پھرتا تھا کہ آخر لذت کا بہترا انتظام شرفاء کے پاس ہے یا کنجریوں کے پاس۔۔

ؓبحر طور۔۔ فردوس کی خوش گلو شکل اب بڑے بڑے اشتہاری بورڈوں پر ماند پڑھ رہی تھی اور یہی کوئی دن تھا کہ پینٹر سفید پینٹ پھیر کر فردوس کے ماضی کو بھی شہر کے دامن سے مٹا دے، اور فردوس کا مر مریں جسم اور خوش گلو شکل کسی نئی رقاصہ کے پیراہن سے بدل دے اور تماش بین نئے سرے سے تالیاں پیٹنے اور ہلڑ بازی میں مصروف ہو جاتے۔ مگرپھر ایک نئی افواہ نے شہر بھر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔۔

سنا تم نے۔۔فردوس پیٹ سے ہے۔۔اسی لئے تو سٹیج چھوڑ دیا۔۔ فردوس کے حاملہ ہونے کی خبر افواہوں کے اسی نیٹ ورک کے ذریعے گلی محلے کی خاک چھاننے لگی۔۔۔ اب شہر میں ہزاروں لاکھوں خواتین بچے جنتی ہوں گی۔۔ان میں شرفاء کی بہو بیٹیوں سے لے کر اس بازار کی زینت بنی عورتیں جہاں حلال حرام کی تمیز ناممکن ہو سب شامل ہیں مگر فردوس کی خبر کو اہمیت اس لئے ملی کہ ایک تو وہ سٹیج کی سب سے خوبصورت اور طرح دار رقاصہ تھی اور اس کا گھر شرفاء کے علاقے میں موجود تھا۔۔دوسرا فردوس کی ابھی تک شادی نہیں ہوئی تھی۔۔بقول اس کی نائکہ کے فردوس کی نتھ اتروائی کی رسم اب تک ادا نہیں ہوئی تھی۔

مگر اس شہر کو اس بات کی پروا نہیں تھی کہ ایک غیر شادی شدہ لڑکی حاملہ ہو گئی ہے۔۔ اس شہر کے بہترے کلینک روز مرہ کی بنیاد پر ایسے کیس دیکھا کرتے تھے جہاں روپے کی اوٹ میں حرمت کے ننگے پینڈے پر عزت کا نیا پیراہن چڑھایا جاتا اورکسی ننھی سی جان کا گلہ گھونٹ کر خاندان سکھ کا سانس لیتا۔ کچھ ایسی کم ظرف لڑکیاں بھی ہوتیں جو سستی محبت کے چکر میں اس روگ کو پال لیتی مگر وہ عزت کی ڈرائیکلینگ کا خرچہ نا اٹھا سکنے کے بائث گھریلوں ٹوٹکوں پر اکتفاء کرتیں اور اکثر کسی نامکمل نومولود کی آنول کا سرا کچرے کے ڈھیر میں کسی کتے کے منہ میں پایا جاتا۔

خیر پورے شہر کے تماش بین اب اس کھوج میں تھے کہ آخر وہ انجان شکاری کون ہے جس نے اس پنچھی پر اتنا کاری وار کیا کہ زندہ بھی رکھا اور سارے پر بھی کاٹ ڈالے۔ عورتوں کے بیچ ایسی خبروں کو لے کر زیادہ سنسنی نہیں پھیل سکتی تھی کیوں کہ وہ ایسے کئی حرامی بچوں کی رازدار ہوا کرتی ہیں جن پر نکاح کا تازہ تازہ حلال پینٹ ہوا کرتا تھا۔۔ مگر یہ خبر تو اب کالج جانے والی شریف زادیوں تک بھی پہنچ گئی تھی جنھیں ان کے باپ کبھی تھیٹر والی سڑک سے لانا گوارا نہیں کرتے تھے۔۔

شہر کے قاضی کو اس بات کی فکر نہیں تھی کہ قانون ایک غیر شادی شدہ طوائف کے حاملہ ہونے پر کیا حد لگاسکتا ہے۔۔اسے اس بات کی فکر تھی کہ طوائفوں کی کوٹھیوں کے باہر سرکاری نمبر پلیٹ والی کوئی گاڑی عوام کی نظر میں نہ آجائے۔۔ویسے تو ہر محکمے نے ایسے کاموں کے لئے محکمانہ فنڈ سے پرائیویٹ گاڑیاں لی ہوئی تھی مگربرائی کا کسے پتہ کہاں سے آجائے۔

کوتوال نے شہر کے رکھوالوں کو بلا بھیجا اور تحقیق شروع ہوئی کہ کہیں کوئی رکھوالا ہی اس ناجائز بچے کا باپ نہ ہو۔ رکھوالے بھلے عوام اور معاشرتی علوم کی کتابوں کی نظر میں فرشتے ہوں مگر وہ بحر حال مرد تھے اور صاحب اختیار مرد تھے اور جہاں مرد ہو اور صاحب اختیار ہوں وہاں طوائف۔۔۔جسم فروش اور پان سگریٹ نکڑ کے کھوکے سے دستیاب ہو سکتے ہیں۔۔

تماش بینوں کو اس بات سے کوئی سروکار نہیں تھا کہ چند ماہ قبل ان کے سامنے ناچنے والی فردوس اس وقت اپنے گھر کے کسی گوشے میں خاموش بیٹھی ہو گی۔۔اس کا جی متلا رہا ہو گا اور وہ بھی باقی شہر کی طرح سوچ رہی ہو گی کہ اس بچے کا باپ کون ہے۔۔یا شائد وہ اس راز سے واقف ہو اور شہر بھر کی بے چینی سے یوں ہی لطف اندوز ہو رہی ہو جیسی بے چینی اس کے سٹیج پر آنے سے فرنٹ رو میں بیٹھے ہوئے بوڑھوں میں پھیل جاتی تھی۔۔

کوتوال کی طرح سارے شہر کو دو سوالوں کی کھوج تھی۔۔ اس ناجائز بچے کا باپ کون ہے۔۔ اور آخر فردوس نے اس مصیبت کو گلے سے اتار کیوں نہیں دیا۔۔آج کل تو شادی شدہ لڑکیاں کریئر بنانے کے لئے پانچ پانچ سال بچہ لانے کے بارے میں نہیں سوچتی تو پھر آخر فردوس نے بھری جوانی میں جب پورا ہال اس کے ایک ٹھمکے سے الٹ الٹ جاتا تھا۔۔اس مصیبت کو پالنے کا فیصلہ کیوں کر لیا۔

اس سوال کا جواب سوائے فردوس کے اور کوئی نہیں دے سکتا تھا اور افواہوں کے مطابق وہ اپنے گھر میں چپ سادھے بیٹھی تھی۔ غلام بی بی جو خود کو فردوس کی ماں کہلواتی تھی (خدا جانے یہ سچ تھا یا جھوٹ) نے نا صرف فردوس کو بری طرح زدوکوب کیا تھا بلکہ بچہ ضائع کروانے کے ان گنت ٹوٹکے بھی آزمائے تھے مگر یہ بچہ کسی ڈھیٹ باپ کی اولاد تھا اور کسی نہ کسی طرح پروان چڑھ رہا تھا۔۔

غلام بی بی کو شائد بچے سے بیر نہ ہو مگر چلتی دکان بند ہو جانے کا مطلب وہ بخوبی جانتی تھی۔۔فردوس ابھی بیس کے پیٹے میں تھی اور اپنے کیریر کے عروج پر تھی۔۔یہ کمائی کے دن تھے۔۔وہ کمائی جو جوانی ڈھل جانے کے بعد دو وقت کی روٹی کا سامان کرتی ہے۔ طوائفیں ساری جوانی قطرہ قطرہ خون کے بدلے ڈھیلے پیسے وصولتی اور سینت سنبھال کر رکھتی ہیں مگر پھر بھی ان کا بڑھاپا سکون سے نہیں گزر پاتا اور غلام بیگم تو اپنی جوانی میں بھی واجبی سی شکل و صورت کی مالک تھی چنا چہ اس کے پاس بڑھاپا کاٹنے کے لئے نہ اچھی یادیں تھیں نہ زیادہ پیسہ۔۔لے دے کر ایک فردوس کا آسرا تھا اور وہ اب سر پر دوپٹہ باندھے اوندھے منہ پڑی تھی۔

غلام بیگم نے اپنی سی کر لی کہ اگر فردوس بچہ ضائع نہیں کرنا چاہتی تو پھر بچے کے باپ کا اتا پتہ بتائے تاکہ اس سے مال اینٹھا جا سکے۔۔غلام بیگم کو یقین تھا کہ کوئی نامی گرامی شخص ہی اس کا باپ ہو گا کیوں کہ عام عوام کو غلام بیگم کی کوٹھی تک آنا ہی نصیب نہیں ہوتا کجا وہ فردوس کی خواب گاہ تک پہنچ سکیں۔۔

مگر یہ راز اب تک راز ہی تھا کہ آخر اس ہونے والے بچے کا شجرہ کس اعلی خاندان کے دامن پر لگا داغ ہے۔۔اور فردوس کیوں کر اس بچے کو دنیا میں لانے پر مصر ہے۔۔

افواہوں کی عمر بڑی کم ہوتی ہے اور بڑے سے بڑے واقعے کی افواہ ایک خاص مدت کے بعد دم توڑ جاتی ہے۔۔چنا چہ اخباروں میں فردوس پر ہونے والی چہ مگویاں اس کے دروازے پر کھڑے تماش بینوں کی مانند گھٹتی چلی گئی اور پھر ایک وقت ایسا آیا کہ لوگ بھول گئے کہ کوئی فردوس کسی اعلی خاندان کے خون کو اپنے پیٹ میں چھپائے بیٹھی ہے۔۔اور یہی کوئی دو یا چار ماہ میں وہ حرامی جنم لے گا جس نے شہر کی سب سے پیاری رقاصہ کو کسی کام کا نہ چھوڑا۔۔

لوگ بتاتے ہیں کہ تھیٹر یوں ہی آباد رہے مگر غلام بیگم کی قسمت کے آگے سے کوئی کالی بلی اتراتے ہوئے گزر گئی اور کچھ ہی سمے بعد اسے اس کوٹھی کو بیچ کر انجان راہوں پر جانا پڑا۔۔ فردوس کے چاہنے والے اس کے ٹھمکے اب دوسری رقاصاؤں میں ڈھونڈا کرتے تھے مگر کوئی یہ نہ دیکھ پایا کہ جاتے سمے غلام بیگم اور فردوس میں سے کسی کی جھولی میں نیلے یا گلابی کمبل میں لپٹی ہوئی کوئی ننھی روح تھی یا نہیں۔۔ غلام بیگم کے ساتھ کی ریٹائرڈ طوائفیں بھلے فردوس کے عروج پر ان ماں بیٹی سے جلتی ہوں مگر پھر بھی ان کی دلی تمنا یہی تھی کہ وہ فردوس کو کسی گلابی کمبل کے ساتھ دیکھیں۔۔اس خطے میں یہ گنے چنے لوگ ہی تو تھے جن کے ہاں بیٹی کی پیدائش پر جشن منایا جاتا تھا۔۔بیٹی بینک کے کریڈٹ کارڈ کی طرح ہوتی تھی جو انھیں ان کی اوقات سے بڑھ کر لائف سٹائل مہیا کر سکتی تھی۔۔

مگر ایسا کچھ نہ ہوا اور وقت کا بیل اپنے کوہلو کے گرد یوں ہی گھومتا رہا اور غریبوں کا تیل نکل نکل کر جھولی پھیلائے امیروں کے چراغ روشن کرتا رہا۔۔یہاں تک کہ بیس سال بیت گئے۔

ان بیس سالوں نے تھیٹروں اور تماش بینوں پر کچھ زیادہ اثر نہیں ڈالا تھا۔۔ہاں چاک مزید بڑے اور گلے مزید گہرے ہوتے چلے گئے تھے مگر شہر کی اخلاقیات نے انھیں ایک حد تک برداشت کیا اور پھر قانون کا فل سٹاپ لگا کر روک دیا۔۔مگر اب تماش بینی تھیٹر سے نکل کر موبائل سکرین تک آن پہنچی تھی اور گزرے دنوں میں جہاں شریف زادیاں فیس بک پر محض اپنے حنا رنگے ہاتھوں کی نمائش کرتی تھیں۔۔اب یہی شریف زادیاں اب موبائل کی مختلف اپلیکیشنوں پر اپنے جسم کے ایسے ایسے زاویے ایسے ایسے انداز سے دکھاتیں کہ گزری وقتوں کی طوائیفیں اپنی انگلیاں داب کھاتیں اور خود کو کوستیں کہ آخرانھیں یہ زاویے اپنی جوانی میں کیوں کر نہیں سوجے۔۔

معاشرہ بیس سالوں میں کروٹ بدلتے ہوئے اب اوندھے منہ پڑا تھا۔۔طوائفوں کا ایک شریفانہ روزگار شادیوں کی محفلوں میں ناچنا تھا مگر اب وہ بھیس بدل کر مہندی کے فنکشنوں میں جاتیں اور شریف زادیوں کے رقص کو دیکھ کر عش عش کر اٹھتیں۔۔اماں۔۔محرموں نے سامنے ناچنے سے ثواب ملتا ہے کیا؟ بازار حسن کی ایک نو آ موز رقاصہ نے اپنی ماں سے یہ سوال کیا تواسے طویل خاموشی کے سوا کچھ نہیں ملا۔۔

ایسی ہی ایک اور طویل خاموشی فردوس کے حالات پر چھائی ہوئی تھی اور نانیوں دادیوں کی عمر کو پہنچ جانے والی طوائیفیں اکثر گفتگو میں اس آتش پری کا ذکر لے ہی آتیں۔۔جانے کہاں ہو گی؟ غلام بی بی نے اسے جان سے مار دیا ہو گا اور اب کسی جیل میں سڑ رہی ہو گی۔۔

انھیں دنوں موبائل پر ایک نئے چہرے نے قیامت مچا دی اور اس کی پہلی وڈیو کے ویوز محض چند گھنٹوں میں لاکھوں تک پہنچ گئے۔۔باپوں کی حلال کمائی اس کی وڈیو ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے انٹرنیٹ پیکیجز پر لگ گئی اور ہوتے سوتے یہ وڈیوں حرام زادوں نے اپنے گھر یعنی اس بازارتک بھی پہنچا دی۔۔

لڑکی بے باک تھی اور بے باکی کو سراہنے والوں میں جوانوں سے زیادہ بوڑھے شامل ہوتے ہیں۔۔اس کا رقص بے ہنگم نہیں تھا۔۔ معلوم ہوتا تھا سیکھی ہوئی ہے۔۔اس کے جسم میں ایک لوچ تھا۔۔ادا تھی جو شریف زادیوں کے جسم میں تب تک پیدا نہیں ہو سکتی جب تک انھیں غیر محرم ہاتھ نہ چھو لیں۔۔مگر سب سے بڑھ کر اس کا چہرہ تھا۔ جسے دیکھتے ہی الیکشن کے دن یاد آجاتے۔۔جی ہاں الیکشن کے دن۔۔

اس کی شکل ایک معروف سیاست دان جیسی تھی اور چہرے کے خدوخال اس قدر ملتے تھے کہ مانو ایک ہی خون ہو۔ مگر ایسا کیوں کر ممکن ہے۔۔سیاست دانوں کی اولاد دن رات اپنی مرضی کرو۔۔کسی کی نہ سنو۔۔اپنے دل کی مانو کا پرچار کرتے نہیں تھکتی تھی مگر وہ ٹک ٹاک جیسے بے ہودہ پلیٹ فارم پر رقص تو پیش نہیں کر سکتی تھی۔۔اس بات کی انھیں ہرگز اجازت نہیں تھی۔ چاہے وہ کتنی بار میرا جسم میری مرضی کا الاپ پڑھ لیں۔

اب کی بار افواہوں کو پھیلنے کے لئے دنوں کی نہیں بلکہ منٹوں سیکنڈوں کی ضرورت تھی اور وڈیو کے پھیلتے ہی شہر بھر میں ایک بھونچال آگیا۔۔بازار کی عورتوں نے شکل دیکھ کر نہیں مگر رقص دیکھ کر اندازہ لگا یا کہ برسوں پہلے فردوس نیلے نہیں بلکہ گلابی کمبل کو ہاتھ میں لئے اس کوٹھی سے باہر نکلی ہو گی۔۔

ٹی وی رپورٹر چیخ رہے تھے اور سیاست دان کے گھر میں اس کی بیوی کا ایک ہاتھ اس کے گریبان پر تھا اور دوسرا پستول پر۔۔اسے دکھ یہ نہیں تھا کہ یہ انجان لڑکی ہو بہو اس کے شوہر کی شکل کی ہے۔۔اسے دکھ اس

بات کا تھا کہ اس کے شوہر نے کسی طوائف کے ساتھ منہ کالا کرتے ہوئے احتیاط نہیں کی اور اس کے بدن میں اپنا نسب چھوڑنے کے علاوہ اس طوائف کی ساری بیماریاں اپنے ساتھ لے آیا اور اس بیچاری کو لگا دیں۔۔بے اولادی۔۔ رحم میں ٹیومر اور نا جانے کیسے کیسے امراض کو اس نے خدا کی آزمائش جان کر قبول کیا تھا مگر آج اسے معلوم ہوا کہ ایک ناپاک بدن نے اس کی ساری زندگی برباد کر دی۔۔

سیاست دان کو بیوی کی فکر نہیں تھی کیوں کہ وہ اولاد کے لئے پہلے ہی دوسری شادی کر چکا تھا۔۔اسے ماضی بھی یاد نہیں آیا کہ کیسے اس نے بہلا پھسلا کر بیس برس پہلے فردوس کو آبرو باختہ کیا۔۔اسے تو فردوس کی شکل بھی یاد نہیں تھی۔ جانے کتنی ہی فردوسیں اس کے بستر کی جنت میں آکر بے آبرو ہوئی ہوں۔۔مگر اس نے کبھی احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا تھا۔۔

مگر اب شہر کا شہر اس کا ٹھٹا اڑا رہا تھا۔۔ مگر سیاست دانوں کو شہر کی پروا کب ہوا کرتی ہے۔۔الیکشن ابھی دور تھے۔۔اسی دوران اس پری وش کی ایک اور وڈیو سامنے آگئی جس میں وہ اسی سیاست دان کی طرح کا حلیہ بنائے دھیما مگر اثر دار ناچ۔۔ناچ رہی تھی۔۔ اس وڈیو کو پہلی وڈیو سے بھی زیادہ مقبولیت ملی۔۔

اب سیاست دان اپنے دالان میں اپنے محاصبوں پر دھاڑ رہا تھا۔۔اسے اس لڑکی کی لاش چاہئے تھی جو اس کے خاندان کی عزت بیچ چوراہے کے بیچ رہی تھی۔۔مگر کسی کو اس لڑکی کا پتہ ٹھکانہ معلوم نہیں تھا۔ مگر کارندے اس کے حکم کے مطابق بازار حسن سمیت مختلف جگہوں پر اس لڑکی کی تلاش میں نکل چکے تھے۔۔

ان کے نکلتے ہی سیاست دان کی دوسری بیوی کے اکلوتے بیٹے نے بھی شہر کی سڑکیں ناپنا شروع کیں۔۔اسے لگا وہ اپنے باپ کی شبیہ کو اس وڈیو کے علاوہ بھی کہیں دیکھ چکا ہے۔۔اس نے نمبر گھمائے اور چند قابل اعتماد دوستوں سے با ت کی تو اس کے جسم میں آگ لگ گئی۔۔ دو سال پہلے وہ شہر کے ایک نواہی علاقے میں ایک ایسی ہی لڑکی کے ساتھ رات گزارنے گیا تھا۔۔ اس لڑکی کے حصول کے بھاری قیمت چکائی گئی تھی اور اس بات کو یقینی بنایا گیا تھا کہ اس سے پہلے اس لڑکی کو کسی نے نہیں چھوا تھا۔۔ سیاست دان کے بیٹے کی نگاہوں کے سامنے وہ پوری رات ایک منظر کی طرح گھومی اور پھر غصے ندامت اور ناجانے کن کن جزبوں کی آگ میں جلتا ہوا سیاست دان کا بیٹا اس گھر پہنچا اور دستک دیے بغیر ہی اندر داخل ہو گیا۔۔

وہ لڑکی اس وقت انسٹاگرام پر براہ راست اپنے تماش بینوں سے مخاطب تھی اور سر شام ہی ایک آنلائن مجرہ سجائے بیٹھی تھی اور پھر دنیا نے دیکھا کہ کمرے کا دروازہ کھلا اور سیاست دان کے بیٹے نے اندر آتے ہی تین گولیاں اس لڑکی کے بھیجے میں اتاریں اور پھر پستول اپنی کنپٹی پر رکھ کر چلا دی۔۔

اگلی صبح سیاست دان نڈھال سا جنازہ گاہ کی جانب بڑھا جہاں اس کے بیٹے کی میت پہلے سے پہنچا دی گئی تھی اور جوں ہی مولوی نے سلام پھیر کر اپنا رخ حاضرین کی طرف موڑا۔۔سیاست دان کی اشک بار آنکھیں یکایک خشک ہو گئیں اور اس کے ہاتھوں کا رعشہ بھی رک گیا۔۔اسے اچانک یہاں اپنے بیٹے کے جنازے پر موجود مولوی کی شکل دیکھ کر فردوس یاد آگئی۔۔وہی چہرہ۔۔وہی نین نقش۔۔بس چہرے پر ہلکی سی داڑھی۔۔ بہت مشہور مولوی ہیں یہ۔۔بڑے لوگ ان کا خطاب انٹر نیٹ پر سنتے ہیں۔۔سیکریٹری نے سیاست دان کو مولوی صاحب کو یوں حیرانی سے دیکھتے ہوئے پایا تو جھٹ سے سیاست دان کے کان میں کہہ دیا۔۔

کوئی نہیں جانتا تھا کہ اس روز فردوس کے ہاتھ میں ایک نہیں دو کمبل تھے ایک نیلا اور ایک گلابی کمبل۔۔ وہی گلابی کمبل جسے سوتے میں اس کی ماں غلام بیگم اس سے چرا کر اپنا مستقبل سنوارنے چلی تھی۔۔۔

Published inعالمی افسانہ فورممدثر حسین ملکمرد افسانہ نگار