Skip to content

فرحین جمال

فرحین جمال

فرحین جمال 31 دسبر کو لاہور، پاکستان میں پیدا ہوئیں انہوں نے ابتدائی تعلیم راولپنڈی سے حاصل کی بی ایس سی اور بی ایڈ کرنے کے بعد ماسٹرز انگریزی ادب میں کیا۔ درس و تدریس کے مقدس پیشے سے وابستہ رہیں ان دنوں ایک گھریلو خاتون کے طور پر روز و شب گزار رہی ہیں۔
اپنے بچپن کی ایک یاد فرحین نے کچھ یوں بتائی ” پہلی کہانی بچوں کے ایک رسالے “نونہال” میں چھپی تھی جو شہزادی اور ظالم دیو کی کہانی تھی” فرحین اسکول کے زمانے میں مضامین اور نثری تحاریر لکھتی رہی ہیں اسی طرح یہ سلسلہ کالج میگزین میں شاعری اور نثر کی صورت میں چلتا رہا، فرحین کا پہلا افسانہ “کھیل” کے عنوان سے ثالث مونگیر انڈیا سے چھپا سال 2013 تھا۔
کتابیں پڑھنا ،افسانے ،مضامین ، مزاحیہ تحاریر لکھنا اور باغ بانی ان کے مشاغل ہیں ان سے جب سوال کیا گیا کہ شادی کب ہوئی اور کتنے بچے ہیں تو ان کا جواب بہت دلچسپ تھا کہنے لگیں ” دو بچے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن آپ شادی شدہ نہیں گم شدہ کہیں”
اس طرح جب ان سے سوال کیا گیا کہ اب تک کتنی کتابیں آ چکی ہیں تو فرمایا ” میرے حرف اتنے معتبر نہیں”
فرحین جمال کے افسانے اپنے معیار اور بلندی فن کی وجہ سے خود بولتے ہیں کہ ان کے حرف کتنے معتبر ہیں، رجو جیسے افسانے کی خالق کی یہ عاجزی کی انتہا ہے اور ادیب برادری کے ایک مشترکہ مسئلے کا کرب بھی اس ایک جملے میں نمایاں ہو جاتا ہے۔
فرحین جمال کے بارے میں وحید احمد قمر “جو خود نہ صرف یہ کہ کمال کے افسانہ نگار ہیں بلکہ عالمی افسانہ فورم کے نام سے ایک ایسا پلیٹ فارم ادیب برادری کو دے چکے ہیں جہاں سے ہر سال بہت سے نئے ادیب سامنے آتے ہیں اور اردو ادب میں نیا خون شامل ہو رہا ہے” نے ایک بار فیس بک کے گروپ عالمی افسانہ فورم پر لکھا تھا۔
“فرحین جمال ( بلجیئم )
افسانہ نویس ، نثر نگار ، شاعرہ
فرحین جمال سے پہلا تعارف آج سے چند سال قبل ایک فورم ” اردو ہے جس کا نام ” پر ہوا ۔ یہ اپنا شاعری اور نثر کا انتخاب پیش کیا کرتی تھیں ۔ جس سے ان کے اعلیٰ ذوق کا پتہ چلتا تھا ، انہی دنوں انہوں نے لطافت سے پر اپنا تحریر کردہ ایک مضمون پیش کیا ، جس سے اندازہ ہوا کہ یہ بہت اچھی نثرنگار بھی ہیں ۔ افسانہ میلہ 2011 میں انہوں نے اپنا پہلا افسانہ پیش کیا ۔ اور بطور افسانہ نگار فیس بک کے حلقوں میں معروف ہوئیں ۔ افسانہ میلہ 2013 میں انہوں نے جو افسانہ پیش کیا وہ ڈاکٹر اقبال حسن آذاد نے اپنے رسالے ” ثالث ” میں شائع بھی کیا ۔ اسی طرح جب انکا افسانہ ” کھیل ” پیش ہوا تو قارئین و ناقدین کی ایک بڑی تعداد میں یہ ایک اچھی افسانہ نگار کے طور پر تسلیم کی گئیں ۔ ہر عالمی نشست اور میلہ میں یہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی رہی ہیں ، بلکہ ان چند قارئین میں سے ایک ہیں جو عالمی نشستوں کے تمام افسانے نہ صرف پڑھتے ہیں بلکہ ان پر بھرپور رائے بھی دیتے ہیں ۔
ان کے متعدد افسانے اور نثری و شعری تخلیقات مختلف ادبی رسالوں کی زینت بنتی رہتی ہیں
عالمی افسانہ فورم ، انہیں اس فورم میں خوش آمدید کہتا ہے”
فرحین جمال کے نمائندہ افسانوں میں “رجو “۔ “بے غیرت ” ۔ “دیوی” ۔ “رقاصہ” ۔ “آنگن” ۔ “وقت سے مسابقت” ۔ “کھڑکی کے اس پار” ۔ “سرد موسموں کے گلاب”۔ “آخری ہچکی” ۔ “نقاب” ۔ “پلاسٹک کے ببوے” اور “پچیس سال کی لیز شامل ہیں

اب تک ان کے افسانے ” کھیل ” ثالث ٢٠١٣ ، “رجو ” ٢٠١٥ شمع دہلی، ”رجو ”٢٠١٥ دبستان ادب ، “آنگن “٢٠١٥ ثالث ، “وقت سے مسابقت ” سنگت ٢٠١٦، “سرد موسموں کے گلاب ” ثالث فکشن نمبر ٢٠١٦، “”سرخ بالوں والی لڑکی ” سنگت ٢٠١٦ ، “دیوی ” ٢٠١٦ ، افسانے جو مشہور ہوے ” دیدبان لپ اسٹک ” ،اردو افسانہ عہد حاضر (کتاب ) میں افسانہ ” دیوی ” ٢٠١٧ ، “ورق ورق کہانی کائنات (کتاب ) میں “رقاصہ ” ٢١٠٧ ،، انہماک انٹر نیشنل جریدہ ” عفریت ” ٢٠١٧ ، قلم کی روشنی میں “نقاب”، ” آخری ہچکی ” ٢٠١٧ چھپ چکے ہیں
فرحین کے افسانوں کے اولین مسودے پر کام جاری ہے

فرحین جمال کے افسانے

Published inتعارف خواتین افسانہ نگارفرحین جمال