Skip to content

فاضل جھلا

عالمی افسانہ میلہ 2015
افسانہ نمبر 120
نادیہ خان

فاضل جھلا

‘ فاضل جھلا مر گیا’ دیہات کی پر سکوت فضاؤں نے ہزاروں مرتبہ ان الفاظ کی بازگشت سنی تو نوحہ کناں رہی. منظر اداس تھے اور آنکھیں اشکبار تھیں. مگر فا ضل جھلا کے گھر کی چوکھٹ پر اس کی راہ تکتی ماں عائشہ بی بی مہر بہ لب تھی، اس کی پتھرائ ہوئ آنکھیں خاموشی سے اس سمت گڑی تھیں جہاں سے روز وہ وقت کے بے رحم تھپیڑے کھا کر لوٹ آیا کرتا تھا. وہ جانتی تھی کہ فاضل مر نہیں سکتا. کیا انسان واقعی بدن کی موت سے مر جاتا ہےـ؟ موت اپنے ساتھ معصومیت، دیوانگی، جنون، صداقت، اور انسانیت کو کیسے لے جا سکتی ہےـ اس کی بے رحم دھار سے خوشبو کیسے کٹ سکتی ہے؟. ‘چھری کی دھار سے کٹتی نہیں چراغ کی لو” کے مصداق وہ جانتی تھی کہ موت صرف اس کے بدن کے آر پار ہوئ ہے. اور فاضل زندہ ہے. سو کاہے کا ماتم؟ کس بات کا غم؟ کون سا شکوہ اور کیسی شکایت؟ اور پھر فاضل نے کسی کا کیا بگاڑا تھا. اسے یقین تھا کہ وڈیرے کی جو گولی فاضل کے بدن میں پیوست ہوئ ہے، اس کا نشانہ کوئ اور رہا ہو گا. وڈیرا فاضل کو کیوں مارے گا؟ وہ تو دیوانہ تھا، ہوش و خرد سے مکمل بیگانہ. اگر وہ ایسا ہی باعث خطر ہوتا تو دن بھر اپنے بدن پر پتھروں کی یورش کیوں سہا کرتا؟ دھتکار، قہقہے، نفرت، غلاظت اور حقارت اس کے جیون کا حصہ کیوں رہتے؟ آدھی آدھی رات تک گلیوں میں بھٹکنے والا پینتالیس سالہ فاضل تو اپنے گھر کا پتہ بھی نہیں جانتا تھا. وہ ہمیشہ ایک ایسے دردمند انسان کا محتاج رہتا جو اس کا ہاتھ کاتھام کر اسے عائشہ بی بی تک پہنچا دے، وہ اپنے لخت جگر کو سینے سے لگا کر پہروں روتی ، اس کے منہ میں روٹی کے لقمے ڈالتی اور اس کی ہوش و خرد سے بیگانہ باتوں پر مسکراتی جاتی.

مگر آج دس دن ہوئے ، فاضل لوٹ کر نہیں آیا تھا. سنا تھا کہ وہ مر گیا ہے. لیکن اگر مر گیا ہو تا تو اس کے لہو سے روشنی کیوں پھوٹ رہی ہوتی؟ وڈیرے کی عظیم الشان حویلی کے سامنے فاضل کی قبر سے اٹھتی بھینی بھینی خوشبو اس بات کا ثبوت تھی کہ موت کے بعد بھی اس کی ذات کا کوئ جزو تھا جو زندہ رہ گیا تھا. اور جس کی مہکار نے فضاؤں کو معطر کر رکھا تھا. تا عمر غلا ظت کے میں لتھڑے رہنے والا فاضل خوشبووں کے دیس جا نکلا تھا.

دیہاتی خوفزدہ تھے اور اس واقعہ کے بارے میں تبصرہ کرنے سے گریزاں بھی. ویسے بھی اس واقعہ کا چشم دید گواہ ایک ہی تھا وڈیرے کا مالی اللہ دتہ. وہ ایک خدا ترس انسان تھا. فاضل کی موت کے حوالے سے اس نے ایس ایچ او کو جو بیان ریکارڈ کروایا تھا اس کا لب لباب یہی تھا کہ وڈیرے کے منجھلے دو بیٹوں میں نشانہ بازی کے حوالے سے طنز و مزاح چل رہی تھی. وہ اپنی پستول کی نال صاف کر رہے تھےجب حسب معمول فاضل وہاں بھٹکتا ہوا آن نکلا. جنون، رعونت، تکبر اور سفاکی کے فرعون نے اپنے بھائ کے طنز کا جواب کچھ یوں دیا کہ آن کی آن میں بے رحم گولی فاضل کے سینے کے آرپار ہو گئ، ادھر فاضل پورے قد سے زمیں پر آ رہا اور ادھر وڈیرے کے بیٹے نے زمین پر تھوک کر فاتحانہ نظروں سے بھائ کو دیکھ کر کہا ‘میرا نشانہ نہی خطا ہوتا پا جی’ اس سے آگے اللہ دتہ کچھ نہ کہہ سکا اور پھوٹ پھوٹ کر رو دیا.

ایس ایچ او نے بیان سنا، وڈیرے سے آدھی آدھی رات تک بیٹھک ہوئ، معاملات طے پائے گئے، اللہ دتہ کا ذہنی توازن خراب دے دیا گیا، اور یہ قصہ تمام ہوا. کہانی یہ گڑھی گئی کہ فاضل ڈیرے پر آنکلا . اس وقت ہاشم کا پستول میز پر پڑا تھا، اور ہاشم فون سننے کی غرض سے بیٹھک کے اندر گیا تھا جب کہ صفدر اصطبل میں تھا. گولی چلنے کی آواز پر وہ دونوں ہی باہر آئے تو فاضل خون میں میں لت پت پڑا تھا اور پستول اس کے ہاتھ میں تھی. گاؤں والوں کے پاس اس من گھڑت کہانی پر یقین کر لینے کے سوا کوئ چارہ نہ تھا.خصوصاً اللہ دتہ کی جواں سالہ پوتی کے اچانک لاپتہ ہونے کے بعد تو فاضل کی موت کے اٹھنے والی دبی دبی سرگوشیاں بھی دم توڑ گئیں. ٹھیک تین ماہ میں حالات پرانی ڈگر کو لوٹ آے. عائشہ بی بی کا بھانجا آیا اور اسے اپنے ساتھ فیصل آباد لے گیا. نصیبوں کی ماری ماں نے بیٹے کا قتل معاف کیا یا نہیں مگر لب سی لیے، چپ سادھ لی.

چپ….!!! جو طوفانوں کا پیش خیمہ ہے.

چپ…!!! جو پتھر دلوں کے واسطے تیشہ ہے.

چپ..!!! جو للکار ہے، جو پکار ہے.

اور یہ خاموش فریاد رب رحیم و کریم کے ایوانوں سے ٹکرائ تو مکافات عمل کا آغاز ہوا، لہو بول اٹھا اور اپنے قاتل کی گردن سے مانند ناگ جا لپٹا. وڈیرے کی حویلی کو تالے گئےـ موت،درد، محرومی، تڑپ اور کسک کسی عفریت کی مانند حویلی کے درودیوار سے لپٹ گئی ـ

وڈیرے کا منجھلا بیٹا زمین کے تنازعے پر اپنے چچا زاد سے دست و گریبان ہوا اور اگلے ہی لمحے اس کی گولی کا نشانہ بن کر لقمہ اجل ہوا، حویلی میں ماتم برپا ہوا، چوڑیاں ٹوٹی اور سکوت چھا گیاـ اس واقعہ کے دو ماہ بعد وڈیرے کے چھوٹے بیٹے کا پاوں اس وقت رکاب میں اٹکا جب گھوڑا سرپٹ دوڑ رہا تھا. دو کلو میٹر تک شہزاد زمیں پر گھسٹتا رہا اور اب وہ ہسپتال میں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا پڑا تھا. وڈیرے کے بڑے بیٹے نے یہ سب دیکھا تو آن کی آن میں اپنا سامان لیا اور ملک سے فرار ہو گیا ، یوں جیسے موت اس کے تعاقب میں نہ آے گی.

دیہات کی فضاؤں پر خوف مسلط ہو گیا، ضعیف العتقاد لوگ سرپٹ فاضل کی قبر پر حاضری دینے لگے، عقیدت مندوں کا تانتا بندھ گیا. فاضل پر پتھر برسانے والے، گالیاں بکنے والے، اور غلاظت پھینکنے والے اس کی قبر پر ماتھا ٹیکنے لگے. بدبو کے بھبھوکوں میں مگن رہنے والے فاضل کا آخری مسکن خوشبو سے مہک رہا تھاـ سبز چادریں، مہکتے ہوے سرخ گلاب، جلتے ہوے دیے، مفت لنگر کی تقسیمـ…جس حویلی کے سامنے پرندہ پر نہ مار سکتا تھا، وہ فاضل کی بدولت آباگئی تھیـ سڑک کے اس پار ظلمت تھی، سیاہی تھی، تاریکی تھی اور اس پار روشنی اور رنگ و بو کا جہاں آباد تھاـ

وہ مر کر امر ہو گیا تھا…..!!!!

فرعون کے محل کے عین سامنے اس کی کچی قبر للکار تھی …اور ستم ڈھانے والوں سے ببانگ دہل یہ کہہ رہی تھی کہ وقت کے ہر فرعون کو زوال پذیر ہونا ہے، جلد یا بدیر لہو بولتا ہےـ

اور لہو بولتا ہے تو فرعونوں کے محلوں میں صف ماتم بچھا دیتا ہے.. !!!

Published inعالمی افسانہ فورمنادیہ خان