Skip to content

عید کے رنگ

عید کے رنگ
تحریر………. صفیہ انور صفی
کوٹ ادو ۔ پنجاب۔ پاکستان

“ماما! سکول میں سب بچے اپنی دادو ….اور دادا ابو کی باتیں کرتے ہیں….مگر آپ تو….”
“علی !کتنی بار منع کیا ہے آپ کو …کہ میرے سامنے اایسی باتیں مت کیا کرو .”
ماں کی باتیں اسے سوچنے پر مجبور کر دیتیں…آخر کیوں؟
“کیا بات ہے یار !دوست سے جھگڑا ہوا کیا؟ منہ کیوں لٹکا ہواہے؟”
“بابا….بابا…”بیٹے کی آنکھوں میں عجیب سی بے چینی دیکھ کر اسے تشویش ہوئی.
” کیا ہوا جگر…بولو….”
“بابا….میں تو آپ کے ساتھ رہتا ہوں مگر….”
“مگر…..کیا؟”باپ نے سوال کیا.
” بابا! آپ اپنے بابا …ماما کے ساتھ کیوں نہیں رہتے؟”
باپ نے چونک کر بیٹے کو دیکھا.
“آج …تمھارے دماغ میں یہ خیال کیسے آیا؟”
” سکول میں سب بچے اپنے دادا ابو اور دادو کی باتیں کرتے ہیں .اور کچھ بچوں کو تو دادا ابو ہی لینے آتے ہیں.”
“ہوں….”
آفس کے راستے گاڑی دوڑاتے ہوئے اس کے کانوں میں بیٹے کی باتیں گونج رہی تھیں.
آفس میں بھی وہ بہت گم سم سا دکھائی دے رہا تھا.
“صاب جی! مجھے دو دن کی چھٹی چاہیے”
“ہوں….ہاں….” اچانک سامنے آفس بوائے پر نظر پڑی تو چونکا.
“کیو ں خیریت……؟
“گاؤں سے ابا کو یہاں شہر لے کر آنا ہے جی….
انکی آنکھ کا آپریشن ہے….کل”
” ہوں…..”
“ایک بات تو بتاؤ رحیم!”
“جی صاب ….حکم کریں.”
“کیا شادی کے بعد بھی تم اپنے والدین کا یونہی خیال رکھو گے؟”
“کیا بات کرتے ہیں صاب …..ماں باپ تو چھپر چھاں ہوتے ہیں ….مرتے وقت تک…..
یہ تو مرد پر ہوتا ہے کہ وہ اپنی گھر والی سے اپنے والدین کی عزت کیسے کراتا ہے…”
“ہوں…..”
“رب پاک آپ کے والدین کا سایہ آپ پر اور آپ کے بچوں پر ہمیشہ قائم رکھے جی…..”
ایک اچٹتی نگاہ اس غریب پر پڑی جو اپنی سادگی میں اپنے پیارے رشتوں کو سمیٹ رہا تھا.سارا دن عجیب سی کیفیت میں گزر گیا.
آج آپ بہت گم سم سے ہیں ….کیا بات ہے؟”
شام کوچائے کا کپ سامنے میز پر رکھتے ہی بیوی نے سوال کیا.
“کرن!…..تمھیں اپنے بابا سے کتنا پیار ہے….”
” یہ بھی کوئی پوچھنے والی بات ہے بھلا……میری جان ہیں وہ…..”
“تمھیں نہیں لگتا کہ ہمارا بیٹا ڈسٹرب ہے؟”
” کیوں….کس چیز کی کمی ہے اسے….ڈیڈی کا پیار…بینک بیلنس…. سب اسی کا ہی تو ہے.”
“اسے سب رشتوں کی ضرورت ہے.”
“اوہ…..تو ….تم اسے پٹیاں پڑھا رہے ہو….رشتوں کی…”
” وہ بچہ ہے….”شوہر کی بات پوری سنے بنا وہ بھڑک اٹھی.
“تو …..کیا کروں ….اسے اس بیک ورڈ ایریا میں چھوڑ آؤں…..حد ہے …..وہ میرا بیٹا ہے….میرے بابا کی کرڑوڑوں کی جائیداد کا وارث ہے وہ…”
“نہیں چاہیے مجھے تمھارے باپ کی دولت….
کیسی ماں ہو..؟…اپنی انا کی خاطر اس بچے کے معصوم زہن سے کھیل رہی ہو…..”
“تم خود دودھ پیتے بچے ہو…..اپنے والدین کو اپنی مرضی سے چھوڑ کر مجھ سے شادی کی……اور بچے کا الزام مجھ پر ڈال رہے ہو…”
الفاظ تھے کہ سیسہ…….کان سائیں سائیں کرنے لگے.دماغ ماؤف ہونے لگا.
“اوہ میرے خدایا!”
رات آنکھوں میں ہی کٹ گئی.
صبح ہوتے ہی گاڑی میں روانہ ہوگیا.پرانی
یادوں میں کھوئے کھوئے اسےوقت کا احساس تک نہ ہوا.
کچے پکے سے مکان کے باہر گاڑی روکی.
“اوئے. …پتر. یو….سف!”
چاچے کریم بخش کی آواز کانوں میں گونجی….تو دل زور زور سے دھڑکنے لگا.
“کدھر تھا تو ……آنکھیں ترس گئی تھیں تجھے دیکھنے کو….”
“چا….چا…..و…..و…وہ….”
” قادر بخشا…اوئے دیکھ تو ….کون آیا ہے “
جیسے ہی بیٹے پر نظر پڑی باپ ساکت رہ گیا…
“یو……سف…”
کانپتے ہونٹوں سے یہ الفاظ بیٹے کی روح تک کو جگا گئے.
” با…….با…”وہ لڑکھڑاتے قدموں سے آگے بڑھا.
کافی عرصے بعد اپنے جگر کو سامنے پا کر بوڑھے باپ کی حالت دیدنی تھی.
دونوں گلے لگے دل کی بھڑاس نکال رہے تھے.
آنکھیں بھی خوب ساتھ نبھا رہی تھیں.
“ابا…! تو مجھ سے ناراض تو نہیں ہے نا؟”
“جھلے….ماں …پیو….اپنے بچوں سے کبھی ناراض نہیں ہوتے…..”
“بہو کو ساتھ نہیں لایا …..؟”
باپ کے سوال پر وہ چونکا…اور نظریں جھکالیں.
“ہا…..آ….ہا……”
“خوش رہ تو بس …..”
باپ سےباتیں کرتے کرتے وقت کا پتہ ہی نہ چلا.واپسی پر بوڑھے باپ کی آنکھوں میں نمی اور لبوں کی لرزش کو وہ بخوبی محسوس کر رہا تھا.
گاڑی میں بیٹھتے ہی اسے موبائل کا خیال آیا.
“اوہ…. کرن کے مسیجز….! اچانک اسے خیال آیا کہ آتے ہوئے وہ اپنا موبائل silent mode
پر لگا چکا تھا. میسجز پڑھتے ہی اس کے چہرے کا رنگ اڑ گیا.
“یوسف!….ڈے …ڈی..”
“کیا ہوا؟”
“ڈیڈی ….کی ڈیتھ….. ہو گئی ہے””
“میں صبح سے تمھیں کال کر رہی تھی…کہاں ہو تم………”
“میں پہنچتا ہوں …..”وہ بمشکل بات مکمل کر پایا…اور گاڑی کی رفتار تیز کر دی.
واپسی کا راستہ کیسے کٹا وہ نہیں جانتا تھا شریک حیات نےسامنے جو مونس کو پایا تو گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی.
وقت گزرتا چلا گیا.جب سے وہ باپ سے مل کر آیا تھا .بس گم سم سا رہنے لگا تھا.
“ماما…اب تو نانو …بھی نہیں ہیں ….عید کس کے ساتھ منائیں گے”ننھے سے بچے کے سوال نے اسے چونکا دیا.
چاند رات کو شوہر کو گاڑی نکالتے دیکھ کر
وہ تھوڑی دیر رکی…بیٹےکو ساتھ لےکر شوہر کی گاڑی کے پیچھے اس نے اپنی گاڑی دوڑا دی.
“ما..ما….ہم کہاں جا رہے ہیں…؟”
وہ تو کہیں اور ہی گم تھی.
گاڑی کافی فاصلے پر تھی.کافی لمبا سفر تھا.
علی کو بیٹھے بیٹھے نیند آگئی تھی.
گاڑی شوہر کی گاڑی کے پیچھے روک دی.
کچے گھر میں داخل ہوتے ہی جیسے ہی شوہر کی نظر اپنی بیوی اور بیٹے پر پڑی تو چونکا.
“تم لوگ….یہاں…..؟”
” کیا ہوا …اگر علی کے نانو نہیں رہے ….
دادا ابو تو ہیں نا….ہم عید مل کے منائیں گے.”
ہر طرف خوشیاں بکھر گئی تھیں جو عید کے رنگ میں مزید اضافہ کر رہی تھیں.

Published inافسانچہصفیہ انور صفیعالمی افسانہ فورم