Skip to content

عکس غیب

عالمی افسانہ میلہ2015
افسانہ نمبر 17
عکسِ غیب
ڈاکٹر ریاض توحیدی، وڈی پورہ، ہندوارہ، کشمیر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حصارِ وقت کے چکرویو میں پھنس کر زخمی روح کا سفر اب اُس جھیل کے کنارے پر آن پہنچا تھا جس کے متعلق یہ مشہور تھا کہ وہاں پر بے چین روحوں کو تسکین ملتی ہے۔ برفیلی پہاڑیوں سے آ رہی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں فضا کو خوشگوار بنا رہی تھیں۔ جھیل کے نیلگوں پانی پر نظر پڑتے ہی طبیعت پرخوشگوار احساس چھا گیا اور شیریں پانی کے ٹھنڈے گھونٹ حلق سے اترتے ہی دہکتی بھٹی برف خانہ بن گئی۔ ۔شیریں پانی سے پریشان وجود میں راحت کی مٹھاس پھیلتے ہی وہ پاؤں پسار کر سبزے پر دراز ہوا۔ سوچ کے پَروں کو چوہے نے کترنا چھوڑ دیا۔ یہ چوہا لمبے عرصے سے ان پَروں کو کترتا آیا تھا۔ مدت سے وہ بے خوابی کا شکار ہوچکا تھا کیونکہ آنکھیں بند کرتے ہی چوہا سکون کے بل میں گُھس کرسوچ کے پَروں کو کترنا شروع کردیتا تھا۔ پَروں کی کتر بیونت سے دماغ تو پریشانی کا جنگل بن گیا تھا۔ اس پریشانی کے جنگل میں تنگ آ کر وہ اکثر سوچتا رہتا کہ نہ جانے یہ چوہا اس کے وجود پر کیسے مسلط ہوا۔ اس نے تو کتر کتر کر اُس کے دماغ کو ویرانی کاکھنڈر بنا دیا ہے۔ شیریں پانی کی مٹھاس سے راحت پانے کے ساتھ ساتھ خوشیوں کی شہنائی بج اٹھی۔
“کتنے ٹرک آئے ہیں؟”
“سر! پانچ سو ٹرک چاول کے اور ایک سو آٹے کے۔”
کلرک کی بات سنتے ہی اُس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
“انچارج افسر سے کہو کہ وہ راشن گھاٹوں کی لسٹ بناکر چاول روانہ کرے اور ایک حصہ چوہوں کے کھاتے میں ڈالے۔”
“ٹھیک ہے سر۔” کہتے ہوئے کلرک انچارچ افسر کے چیمبر کی طرف چلا گیا۔
ڈائریکٹر صاحب کا حکم سنتے ہی انچارج افسر ہنستے ہوئے بول پڑا: “ہاں بھئی لسٹ تو بنانا ہی پڑے گا آخر ہم سرکاری خدمت گار جو ٹھہرے، پر اس بات کا کیا کریں، ہمارے گھروں میں بھی تو چوہے پڑے ہیں۔ ان کے کھانے پینے کا بھی تو انتظام کرنا پڑتا ہے۔”
“جی جناب۔” کلرک نے فائل میز پر رکھتے ہوئے کہا۔”افسر لوگوں کا حساب کتاب بھی افسری طرز کا ہوتا ہے۔ لیکن ہم جیسے چھوٹے لوگوں کے پیٹ میں بھی تو چوہے دوڑتے رہتے ہیں، ان کی دوڑ دھوپ کا بھی خیال رکھیے گا۔”
“ارے بھئی! سرکاری راشن آتا ہی ہے پیٹ بھرنے کے لئے۔ چلو اب لسٹ بنانے کی تیاری کریں۔”
“آپ ہمیشہ میری بات کو ٹالتے رہتے ہو۔” بیوی گاڑی سے نئی کالونی کی طرف دیکھتے ہوئے بول پڑی۔
“آج تک تو صرف آپ کے حکم پر ہی چلتا آیا ہوں اب ٹالنے والی کون سی بات بیچ میں آدھمکی؟”
“ہمارے سارے رشتہ دار شہر کی اس نئی کالونی میں شفٹ ہو گئے ہیں اور آپ کہتے ہیں کہ کون سی بات؟”
“وہ مجھے بھی معلوم ہے، میری وزیرِخزانہ۔”
“توپھر آپ کچھ کیوں نہیں کرتے ہیں۔اپنے سب لوگ پوچھتے رہتے ہیں کہ ڈائریکٹر صاحب کب کالونی میں بنگلہ خریدیں گے؟”
“جی، پہلے تو پیسوں کا کچھ انتظام ہونے دو۔ کالونی میں تو بنگلہ پچاس لاکھ سے کم نہیں ملتا ہے۔حال ہی میں تو مُنے کی ڈاکٹری سیٹ کے لئے تیس لاکھ ڈونیشن دینے پڑے، اب پیسہ کمانا چھو منتر کا کام تو نہیں ہے۔”
“اچھا، اچھا ٹھیک ہے، اب گاڑی کو پارک کرو اُدھر مارکیٹ میں تازہ سبزی خریدنی ہے۔”

گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ زندگی بھی خوشحال ہوتی گئی۔ اب کالونی میں عالی شان گھر بھی تھا اور صحن میں کئی شاندار گاڑیاں بھی موجود تھیں۔ اس کی خوشحالی کا جب بھی کہیں پر ذکر ہوتا تو وہ سن کر آسمان کی طرف نظر اٹھا کر کہتا رہتا کہ سب مالک کا کرم ہے۔ سرکاری ملازمت سے سبکدوش ہونے کے ساتھ ہی وہ سوچتا رہتا تھا کہ اب تو زندگی کی ہر آسائش موجود ہے اس لئے عمر کا باقی حصہ بڑے سکون سے گزرے گا۔ دن میں کھبی وہ صوفے پر بیٹھ کر ٹی وی دیکھتا رہتا اور کھبی گارڈن میں جا کر اخبار اور کتابیں پڑھتا رہتا۔ لیکن دن ختم ہوتے ہی سکون بھرے وجود پر بے قراری کی کیفیت طاری ہو جاتی۔ رفتہ رفتہ نہ تو ٹی وی دیکھنے کا شوق باقی رہا اور نہ ہی کوئی کتاب پڑھنے میں لطف آتا تھا۔ وہ جب نیند کے لئے بستر پر لیٹ جاتا تو نیند آتے ہی پریشانی کے جنگل میں چوہے کی دوڑ شروع ہوجاتی اور ساری رات کروٹیں بدل بدل کر بیقراری کے عالم میں کٹ جاتی۔ جب کافی عرصے تک یہی حالت رہی تو اس کے مزاج میں چِڑچَڑا پن آنے لگا۔ وقت بے وقت کی یہ چڑچڑاہٹ سبھی گھر والوں کو پریشان کر رہی تھی۔ ایک دن جب اس نے دبے لفظوں میں اپنی بے خوابی کے بارے میں ڈاکٹر بیٹے کو بتا دیا تو اس نے سوتے وقت گولیاں کھانے کا مشورہ دے دیا۔ گولیاں تو وہ کھانے لگا لیکن ان کا الٹا اثر یہ ہوا کہ اب وہ دن کا چین بھی کھو بیٹھا اور پریشانی کا بُت بن کے دن بھر گارڈن میں گم سُم بیٹھارہتا۔ گھر والے بھی اس کی بد مزاجی کو بڑھتی عمر کا تقاضا سمجھ کر نظر اندز کرنے میں ہی عافیت سمجھتے رہتے۔
ایک رات وہ اچانک بستر سے اٹھ کر بُک شلف کو کھنگالنے لگا۔ وہ بڑی بے قراری سے کسی کتاب کو ڈھونڈ رہا تھا۔ کافی دیر تک کتابوں کو اُلٹ پُلٹ کرکے جب اُس کی نظر طلسماتی جھیل پر پڑی تو اُس کا چہرہ خوشی سے کھِل اُٹھا۔ اس کتاب میں طلسماتی جھیل کی وہ داستان موجود تھی جو اُس نے بچپن میں اپنے بزرگوں سے سنی تھی۔ وہ دیر تک داستان پڑھتا رہا۔ داستانی ماحول کے طلسم کا اسیر ہو کر وہ نیند کی آغوش میں چلا گیا۔ اُس نے خواب میں خود کو جھیل کے کنارے پر پایا۔ وہاں پر بہت سارے لوگ موجود تھے۔ وہ لوگوں کے چہروں کو بڑے غور سے دیکھتا رہا۔ اُسے کچھ چہرے جانے پہچانے سے نظر آئے۔ لوگوں کے قدم جھیل کی طرف بڑھ رہے تھے۔ ایک آدمی نے جب جھیل میں دو تین ڈبکیاں ماریں تو وہ کنارے پر بیٹھ کر بڑی بے تابی سے پانی میں اُس آدمی کا عکس دیکھنے لگا۔ پانی میں خوبصورت عکس دیکھ کر وہ اُس شناسا چہرے کو دوبارہ تکنے لگا۔ وہ چہرہ پُرسکون لگ رہا تھا۔ وہ سوچنے لگا کہ خوبصورت عکس خیر کی نشانی ہے۔ اس کے بعد بہت سارے لوگ جھیل میں نہاتے رہے لیکن کوئی بھی اپنے پانی والے عکس سے مطمئن نظر نہیں آرہا تھا۔ پانی کے اندر کہیں پر سانپ ہی سانپ رینگ رہے تھے تو کہیں پر گدھے بلیاں دوڑ رہے تھے ۔ایک اور جان پہچان والے نے جب پانی میں ڈبکی ماری تو وہ اُس کا عکس دیکھ کرلرز اٹھا۔ پانی کے اوپر انسان کھڑا تھا لیکن پانی کے اندر کتے کا عکس دکھائی دے رہا تھا۔ اپنے عکس کو پانی میں دیکھ کر اُس آدمی کے چہرے پر وحشت سی چھا گئی۔ اُس آدمی کے چہرے کو دوبارہ دیکھتے ہی اُسے یاد آیا کہ یہ آدمی عمر بھر دوسروں کے حق پرڈاکہ ڈالتا رہتا تھا۔ لوگوں کی نظروں میں بھی اُس کی سماجی حیثیت لالچی کتّے سے کچھ زیادہ نہ تھی۔ خواب کے بھیانک مناظر سے اُس کی نیند اُچٹ گئی اور صبح ہونے کے انتظار میں وہ بستر پرکروٹیں بدلتا رہا۔
جھیل کے شیریں پانی کی مٹھاس جب ختم ہو گئی تو چوہے کی کتر کتر سے وہ سبزے سے اُٹھ بیٹھا۔ عبادت گاہ سے مالک کائینات کی تعریفیں بلند ہورہی تھیں۔ وہ عبادت گاہ میں داخل ہوگیا۔ ہر طرف مسحور کُن صدائیں گونج رہی تھیں۔آنکھوں سے نَدامت کے آبشار برس رہے تھے۔ ہر کوئی اپنے گناہوں کی معافی مانگ رہا تھا۔ اس مسحور کن منظر سے اُسکا دل پسیج گیا۔ آنکھوں سے نَدامت کے آنسو ٹپکنے لگے۔ چوہے کی کتر کتر بند ہوگئی۔ محراب پر ایک بزرگ کی خوش کُن آواز گونج اٹھی:
“مالک کائینات غفور ورحیم اور رب الکریم ہے۔ وہی کائینات کا اصلی بادشاہ ہے۔ وہی گناہوں کا معاف کرنے والا ہے۔ یہ
جھیل کرموں کی جھیل ہے۔ اس میں چھوٹے چھوٹے گناہ دُھل جاتے ہیں اور بڑے بڑے گناہوں کا عکس پانی میں دکھائی دیتا ہے۔ اس لئے انسان کو اپنے اصلی مالک کی ہدایت پر چل کر اپنے کرموں کا خیال پہلے سے ہی رکھنا چاہئے۔ آپ لوگ جھیل میں ڈبکیاں مار کر تھوڑی دیر کے لئے آنکھیں بند کر دینا۔ پھر آنکھ کھولتے ہی جس کا جو عکس پانی میں دکھائی دے گا وہی اُس کے کرموں کا پھل ہوگا۔”
لوگ عبادت گاہ سے نکل کر جھیل کی طرف بڑھنے لگے۔ ہر آنکھ ندامت کے آنسوؤں سے تر تھی۔ وہ بھی آہستہ آہستہ قدم بڑھاتے ہوئے جھیل میں اتر گیا۔ لوگ ڈبکیاں مارتے چلے گئے اور جھیل کے اندر مختلف عکس ابھرتے رہے۔ جھیل کا ماحول بھیانک منظر پیش کررہا تھا۔ اس بھیانک منظر سے اُس کی روح کانپ اُٹھی۔ خوف کی وجہ سے وہ ڈبکی مارنے سے ڈر رہا تھا۔ کافی دیر تک پانی میں کھڑا ہو کر وہ پریشانی کے عالم میں سوچتا رہا کہ کیا معلوم اُس کے کرموں کا عکس کیا آئے گا۔ پھر یہ سوچ کر اُس نے پانی کے اندر ڈبکیاں ماریں کہ شاید اُسے اندر کے روحانی کرب سے نجات مل سکے۔ ڈبکیاں مار کر جونہی اُس کی نظر پانی میں اپنے عکس پر پڑی تو اُس کے منہ سے وحشت ناک چیخ نکل پڑی۔۔۔’’چوہا‘‘۔

Published inڈاکٹڑ ریاض توحیدی