Skip to content

عکسِ نہاں

عالمی افسانہ میلہ 2018
افسانہ نمبر۔99
عکسِ نہاں
ڈاکٹرخورشید نسرین (امواج الساحل)    دوحہ —- قطر

کتنی خوشگوار صبح ہے آج، اس نے سوچا، موسم بہار کی ایک غیر معمولی خوبصورتی کی حامل ہے، نہ جانے یہ بھینی بھینی خوشبو کیسی ہے اور کہاں سے آ رہی ہے، پہلے تو ایسی خوشبو سے کبھی واسطہ نہیں پڑا، نہ کسی عطار کے پاس سے آئی، نہ پھولوں سے اور یہ ٹھنڈی ٹھنڈی بادِ صبا کے دلفریب جھونکے کتنے اچھے لگ رہے ہیں۔ خلاف معمول اس نے خود کو تر وتازہ محسوس کیا، انتہائی خوشی کی کیفیت میں ناشتہ وغیرہ سے فارغ ہوا، اور دفتر جانے کے لئے تیار ہوگیا۔ آج تو آسمان کا رنگ بھی کھِلا ہوا تھا، سورج کی چمک بھی ایک الگ ہی الوہی رنگت لئے ہوئے تھی۔ باغیچے کے پودے بھی لگا کہ آج کسی انجانی خوشی سے جھوم رہے ہیں۔ پرندوں کے چہکنے کی لےَ بھی انتہائی دل فریب تھی۔
ابھی گھر سے نکلا ہی تھا کہ ایک عجیب وغریب منظر نے اس کے پاؤں جیسے جکڑ لئے، وہ گلی کے شروع میں ہی کھڑا رہ گیا، یہ کیا، سڑک پر ہمسایہ جارہا تھا، اس نے دیکھا کہ اس کے اندر ایک ہیولا سا نظر آ رہا ہے، جو گدھے کی شکل جیسا ہے، اب اپنے ارد گرد دیکھا تو دوسرے اجنبی لوگوں کا بھی یہی حال تھا، ایک کی شکل میں شاہیں نظر آ رہا تھا تو دوسرے میں گیدڑ، یا الہی یہ کیا ماجرا ہے؟ ایک عورت کو غور سے دیکھا تو چیل کی شکل دکھائی دی تو دوسری میں بندریا اور تیسری میں بکری۔ وہ خود کو ایک عالم حیرانی میں محسوس کرنے لگا، اسے لگا وہ کسی اور ہی جہان میں آ گیا ہے، جہاں اس کے سوا کوئی انسان بستا ہی نہیں۔ اسے کچھ لوگوں کے اندر ہدہد ، کوے اور مرغیاں بھی نظر آئیں، کچھ بچوں میں چڑیاں نظر آ رہی تھیں۔ یونہی دیکھتے دیکھتے وہ چلتا گیا یہاں تک کہ دفتر پہنچ گیا، اپنی سوچوں میں غلطاں اندر داخل ہو گیا، اس کی نظر اپنے سیکریٹری پر پڑی تو وہ کھڑے کا کھڑا رہ گیا، آواز آئی:
– صبح بخیر جناب، مگر اسے تو جواب بھی نہیں سوجھ رہا تھا، اس کے سامنے کرسی پر جو شخص بیٹھا ہوا تھا، وہ اسے آنکھیں مل مل کر دیکھتا رہا، اس میں اس کو لومڑ نظر آرہا تھا۔ غور سے دیکھا تو وہی سیکریڑی تھا، آخر کار وہ بولا:
– جناب آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے؟
– ہاں، میں بالکل ٹھیک ہوں، لاؤ آج کا لائحہ عمل دیکھیں۔
وہ کام کرتا رہا سیکریٹری کےاندر سے کبھی کبھی لومڑ کا سایہ جھانکتا، کبھی وہ اصلی شکل میں نظر آتا۔ اسی ادھیڑ بُن میں چائے کی طلب محسوس ہوئی تو اندرونی فون پر چائے منگوائی، اور ایک بار پھر اسے چکر آ گیا، ایک چوہا چائے اٹھائے آ رہا تھا۔ وہ پھر خلفشار کا شکار ہو گیا۔ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا یہ ماجرا کیا ہے۔ کس سے پوچھے؟ کسی سے پوچھنے پر ہو سکتا ہے وہ اسے پاگل سمجھے اور اسی لقب سے اس کی شہرت ہوجائے۔ پھر تو وہ نوکری سے بھی جاتا رہے گا، بھلا کون ایک پاگل کو کام دیتا ہے؟ اس کی تو زندگی تباہ ہو کر رہ جائے گی۔ معلوم نہیں سب کو ایسے ہی نظر آ رہا ہے جیسے اسے، یا اس کے ساتھ کوئی الگ معاملہ ہے؟ وہ اپنی حالت پر اس قدر پریشان ہوا کہ کسی کی طرف نظر اٹھا کر دیکھنے سے اسے وحشت ہونے لگی؛ جب بھی کسی کی طرف نظر اٹھاتا، کوئی نہ کوئی جانور اس کے اندر سے جھانکتا نظر آجاتا۔ سارا دن اسی بد حواسی میں گزرا، مختلف سوچوں نے اس کے دماغ کا احاطہ کئے رکھا۔ وہ سوچتا رہا اور پریشان ہوتا رہا، یہاں تک کہ شام نزدیک آ گئی، چھٹی کا وقت ہو گیا، اب اسے گھر جانا تھا۔
اس کا دفتر قریب ہی تھا، وہ پیدل ہی آتا جاتا تھا، باہر نکلا تو سڑک کا نظارہ وہی صبح والا تھا، گویا وہ چڑیا گھر میں آ گیا ہو، ایک اور عجیب بات مشاہدے میں آئی کہ کچھ انسانوں کے اندر سے دو دو جانور جھانک رہے تھے، وہ گردن گھما کر چاروں طرف گویا حیرانی سے اک نئی دنیا کو دیکھ رہے تھے۔ اب تو وہ بہت پریشان ہوا، یا الہی اسے کیا ہو گیا ہے؟ یہ کون سی بیماری لگ گئی ہے؟ کہیں وہ سچ مچ تو پاگل نہیں ہو گیا؟ ایسے ہی پریشانی کے عالم میں چلتے چلتے گھر پہنچ گیا، جب اندر داخل ہوا تو منظر اور بھی زیادہ حیران کُن تھا، بیوی کو دیکھا تو اس میں سے ایک طوطا جھانک رہا تھا، اس کا تو دماغ ہی گھوم گیا، یہ سب کیا ہے؟ کس دنیا میں آ گیا ہے وہ؟ اب اپنے بچوں پر نظر ڈالی، تو کیا دیکھتا ہے ایک میں شیر اور دوسرے میں کتا ہے، بیٹی کے اندر مورنی محو رقص ہے۔ نوکرانی کے اندر سے گائے دنیا کو دیکھ رہی ہے۔ کھانا لگایا گیا، صد شکر کہ اس میں کوئی گڑبڑ نہیں تھی۔ کھانا کھا کر کمرے میں گیا، ذرا بستر پر لیٹا تو نیند آ گئی۔ مگر جلد ہی آنکھ کھل گئی، وہ اپنی کیفیت کے بارے میں سوچنے لگا، کل کیا خاص بات ہوئی تھی؟ ذہن کچھ کام نہیں کر رہا تھا، پھر کچھ کچھ خواب کی طرح یاد آیا کہ میں مسجد میں نماز پڑھ کر واپس گھر آ کر سو گیا تھا، دیر سے اٹھا تو جلدی جلدی تیار ہو کر ناشتہ کر کے دفتر روانہ ہوا تو یہ مشاہدات سامنے آنے لگ گئے، جن کی وجہ سے سارا دن پریشانی وحیرانی مین گزرا۔ لیکن ان جانوروں میں اور ان لوگوں میں تعلق کیا تھا؟
وہ سر پکڑ کر بیٹھ گیا اور اپنے اس معمے کو حل کرنے کی کوشش کرنے لگا، ہمسائے میں اسے گدھا نظر آیا تھا، اب اس کی عادات یاد کرنے لگا، تو یاد آیا کہ وہ ہمیشہ ہر بات میں اپنی ضد منواتا ہے، کسی کی نہیں سنتا، کہیں اسی وجہ سے ہی تو اس میں گدھا نظر نہیں آ رہا؟ سیکریٹری چالاک بہت تھا، اس نے بارہا چرب زبانی سے اپنے مقاصد حاصل کئے تھے، شاید اس لئے لومڑ کی شکل اس کے اندر نظر آ رہی تھی۔ چائے والا بہت چغل خور اور فتنہ پرور تھا، شاید اسی لیے اس میں چوہا نظر آ رہا تھا۔ بیوی بہت باتونی ہونے کہ وجہ سے پورے محلے میں مشہور تھی، ہر بات کو بار بار دہرانے کی اسے عادت تھی؛ شاید اسی لیے اس میں طوطا نظر آ رہا تھا۔ جس بیٹے میں شیر جھانک رہا تھا وہ بہت بہادر اور نڈر ہے، اس نے ایک دفعہ ایک سانپ کو اکیلے ہی جھاڑو سے مار دیا تھا، جس میں کتے کی شکل جھانک رہی تھی وہ بہت خیال رکھنے والا ہے، جب کہ بیٹی اپنی خوبصورتی پر بہت مغرور تھی، شاید اسی لیے اس میں مورنی نظر آ رہی تھی۔ نوکرانی کے بارے میں سوچا تو سمجھ آئی کہ وہ کافی بے وقوف ہے اور بار بار وہی غلطی دہراتی ہے، شاید اسی لیے اس میں گائے نظر آئی تھی۔ آخر کار سوچ بچار کے بعد اس کے دماغ نے یہی کام کیا کہ ہر بندے کے اندر سے وہ جانور جھانکتا نظر آتا تھا جس کی صفات اس میں پائی جاتی تھیں۔ اور وہ جانور صرف اسے نظر آتا تھا کسی اور کو نہیں، اب اسے لوگوں کو پہچاننے میں بہت آسانی ہو سکتی تھی۔ وہ اجنبی جس میں شاہین نظر آیا وہ نڈر اور شکاری طبع کا انسان ہو سکتا ہے۔ جس میں گیدڑ نظر آیا وہ چھپ کے وار کرنے کا عادی ہوگا۔ جس میں چیل نظر آئی وہ لوگوں کے بقایا جات پہ گزارا کرنے والا ہوگا۔ جس میں بندریا تھی وہ شاید لوگوں کی نقل کرنے اور اپنے دماغ کو کم ہلانے کی قائل تھی۔ جس میں بکری نظر آئی وہ کہیں احسان کر کے جتلانے کی عادی تو نہیں تھی؟ ایسے تو پھر جس میں ہدہد نظر آیا وہ دور کی خبریں نکال لانے کا ماہر ہوگا۔ اور جن میں کوے نظر آئے وہ بے مقصد گفتگو کرتے رہنے کے عادی ہونگے۔ جن میں مرغیاں نظر آئیں وہ بزدل ہونگے۔ اور جن بچوں میں چڑیاں نظر آئیں وہ یقیناً بہت معصوم اور سیدھے سادھے ہونگے۔
یہی سوچتے سوچتے اٹھا، تو اچانک سامنے آئینے پہ نظر پڑی تو اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی وہ جیسے زمین میں گڑ ہی گیا ہو، جب اپنے اندر اسے ایک سرخاب جھانکتا نظر آیا، تو کچھ دیر کے لیے اس کی سوچ مفلوج ہو کر رہ گئی، پھر اسے خیال آیا کہ اس کے اندر جو سرخاب کا پرندا جھانک رہا ہے اس کا بھی اس کی عادات واطوار سے کوئی تعلق ہوگا، اسے سمجھ آئی کہ وہ جہاں جاتا ہے اپنے عمدہ اخلاق اور ذہانت کے باعث چھا جاتا ہے، اور جس کام میں ہاتھ ڈالتا ہے کامیابی اس کے قدم چومتی ہے، شاید اسی وجہ سے اسے خود میں سرخاب نظر آ رہا ہے۔
مگر یہ سب یکایک کیسے ہو گیا؟ بہت سوچا لیکن کوئی سرا ہاتھ نہیں آ رہا تھا، آخر بجلی کی طرح ایک خیال دماغ میں کوندا، کیا یہی تو وجہ نہیں؟ اس دن جب وہ مسجد میں داخل ہونے لگا تو ایک نورانی چہرے والے اجنبی بزرگ سیڑھیوں پر بیٹھے تھے، اسے ان کی نورانی شکل بہت اچھی لگی، اس نے وضو کرنے میں ان کی مدد کر دی۔ وہ بہت خوش ہوئے، اس کی طرف مسرت اور تشکر کی اک نظر سے مسکراتے ہوئے دیکھا، اور مسجد میں داخل ہو گئے، پھر نہیں نظر آئے۔

Published inڈاکٹر خورشید نسرینعالمی افسانہ فورم