Skip to content

عجوبے کا عجائب گھر

عالمی افسانہ میلہ 2018
افسانہ نمبر 114
عجوبے کا عجائب گھر
ڈاکٹر ذاکرفیضی ، نئی دہلی انڈیا
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
عجوبہ دو قدم پیچھے ہٹا ، سر اٹھاکر نہایت فخر کے ساتھ اپنی عالیشان حویلی کے ماتھے پر لگا بڑا سا بورڈ دیکھا ۔ اس پر تحریر چمک رہی تھی ، ْعجوبے کا عجائب گھر ‘ سورج کی تیز روشنی میں اس کی آنکھیں چندھیا گئیں۔ آنکھوں کو مچمچاتے ہوئے اس نے سوچا ۔۔۔۔۔۔ اب جلدی سے وہ چیزیں بھی مل جائیں تو اس کا عجائب گھر مکمـل ہو جائے۔آج وہ اس بیش قیمتی چیز کی تلاش میں نکل رہا تھا، جو اس کے عجائب گھر کو چار چاند لگادیں گی اور اس کا عجائب گھر دنیا کا سب سے اعلی، سب سے نرالا،سب سے عجیب عجائب گھر ہوگا۔
اس چیز کو حاصل کرنے کے لئے ، پہلے اس نے ٹی وی ،اخبارت، میگزئین،ریڈیو اور انٹر نیٹ ، ہر جگہ اس کے اشتہارات دئے، مگر کچھ حاصل نہیں ہوا۔ اس نے دنیا کی تمام اشتہاراتی ایجنسیوں سے رابطہ قائم کیا ، مگر کچھ نہیں ملا۔ پھر اس نے اپنے بہت سے ایجنٹ کو دنیا کے مختلف ممالک میں بھیجا۔ جنھوں نے ہزاروں ملازمیں رکھ کر اس چیز کی تلاش کی ، مگریہاں بھی ناکامی ملی۔
وہ اس عجیب چیز کی تلاش میں اپنی بے شمار دولت لٹا چکا تھا۔ یہ دولت اسے ورثےمیں حاصل ہوئی تھی۔ یہی نہیں اس نے خود کی محنت سے جو پیسہ کمایا تھا ، وہ بھی لگا دیا تھا۔ اب اس کے پاس محض یہ حویلی تھی ، جس میں عجائب گھر باقی رہ گیا تھا۔ معمولی سی رقم بینک میں تھی۔ عجوبے نے اپنے ملک کی حکومت سے اس چیز کی تلاش کے لئے امداد چاہی تو ۔۔۔۔۔۔۔ عوام کی طرح حاکمِ وقت بھی ہنس پڑا۔ اس ہنسی سے اسے شدید تکلیف ہوئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مگر اس کا جنون کم نہیں ہوا۔اس کا جنون کہہ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ ْ وہ چیز ملے گی ،ضرور ملے گی،یقیناۤۤ ملے گی۔تب اس نے طے کیا کہ وہ شہر شہر ،محلے محلے ، گلی گلی جائے گا اور کباڑیوں کی طرح آواز لگا کر اس چیز کو خریدے گا، بالکل ایسے ہی جیسے گلی محلوں میں پھیری والے پرانا سامان ،اخبار کی ردٓی اور ٹوٹا ، خراب لوہے ، پلاسٹک کا سامان خریدتے ہیں ۔ وہ چیز کہیں تو ملے گی ، کبھی تو ملے گی۔
عجوبہ ایک زمیندار گھرانے سے تعلق رکھتا تھا۔ اس کے والد اس کے دادا کی اکلوتی اولاد تھے اور وہ خود اپنے باپ کا اکیلا بیٹا تھا۔اس کے پاس بے شمار خاندانی دولت تھی۔مگر اسے بچپن سے ہی پرانی سے پرانی ، نایاب و نادر چیزیں جمع کرنے کا شوق ہو گیا تھا۔ ہزاروں سال پرانے سکـے ،پرانی انسانی ہڈـیاں ،مٹـی کے برتن ، زمانہء قدیم کی مورتیاں ،اوزار ، ہتھیار ، زیور،کپڑے اور پرانی کتابیں،ڈاک ٹکٹ،فوجیوں کی وردیاں جیسی چیزوں کے لئے اس نے اپنی دولت خرچ کر دی تھی اور اپنی پشتیینی حویلی کے بڑے حصـے کو عجائب گھر میں تبدیل کر دیا تھا۔
اس کی بیوی اس کے اس پاگل پن سے عاجز آکراپنے دونوں بیٹوں کے ساتھ میکے چلی گئی اور نوکری کر کے بچـوں کی پرورش کرنے لگی۔جبکہ وہ اپنے عجائب گھر کو عجیب سے عجیب تر بنانے میں تن من اور دھن سے لگا رہا۔ لوگ اس کا اصل نام تک بھول گئے تھے ، سب اس کو عجیب کہہ کر ہی بلانے لگے تھے۔
اب وہ سالوں
سے اس آخری چیز کی تلاش مین بھٹک رہا تھا جو اس کے مطابق اس کے عجائب گھر کے لئے بے حد ضروری تھی۔ان بیس سالوں میں اس نے بہت سے شہروں کا سفر کیا ۔ ہر شہر کے ہر ایک محلے میں گلی گلی جاکر اس نے آوازیں لگا کر اس چیز کو خریدنا چاہا مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ برسوں سے اپنے گھر بھی نہیں گیا تھا۔اسے اس بات کا بھی علم نہ تھا کہ ان دنوں اس کے عجائب گھر کا کیا حال ہے؟ چلتے وقت وہ عجائب گھر کو چند ملازمین کے بھروسے چھوڑ آیا تھا۔
اس کے بالوں میں سفیدی آ چکی تھی ۔ نظر کمزور ہونے لگی تھی۔ مگر اس کا جنون اسے تھکنے نہیں دے رہا تھا۔کبھی کبھی وہ مایوس ہوکر دھپ سے زمین پر بیٹھ جاتا ، دھوپ کی تپش ، موسلا دھار بارش اور جان لیوا سردیوں سے وہ ٹوٹنے لگتا ۔ اور اچانک ہی اسے اپنے مقصد کی یاد آتی تو اس کا جنون اس کو تقویت دیتا اور وہ مایوسی تھکان اور ساری الجھنوں کو بھول کر نئے حوصلے ، نئے عزم سے کھڑا ہو جاتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔تلاش جاری رہتی تھی۔
جب وہ گلی گلی ، سڑکوں پر آوازیں لگاتا تو وہاں موجود لوگ حیرت زدہ رہ جاتے ۔ وہ سوچتے یہ کونسی شے ہے؟ یہ کیا بلا ہے؟ بزرگوں سے اس کے بارے میں دریافت کرتے۔
بزرگ ہنسستے اور کہتے ۔۔۔۔۔۔۔ ْْْ اب بھلا یہ چیز کہاں نلے گی، پاگل ہو گیا ہے یہ شخص ٌٌٗ
آج پھر وہ ایک نئے شہر کی گلیوں میں گھوم رہا تھا ۔ اس کی آنکھوں میں ابھی بھی دھندھلی سی امید باقی تھی۔ یہ شہر قدیم اور روایتی قسم کا لگ رہا تھا ۔ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے یہ شہر جتنا پرانا ہے اس اعتبار سے اس نے ترقی نہیں کی ہے۔ عجوبہ حسبِ معمول گلی ، کوچوں میں آوازیں لگانے لگا۔ یہاں کے لوگ بھی اسے عجیب نگاہوں سے دیکھے جا رہے تھے۔
وہ آواز لگاتا ہوا ایک پرانے سے نظر آ رہے محلے میں داخل ہوا۔ ایک پتلی سی گلی میں آواز لگا کر لوٹ ہی رہا تھا کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک خستہ حال دروازے کے کھلنے کی آہٹ ہوئی ۔۔۔۔۔۔ اس نے پلٹ کر دیکھا ۔ دروازہ جگہ جگہ سے گل چکا تھا ۔ دروازے کے آس پاس کیچڑ اور گندگی تھی ۔ دروازے کی اوٹ سے نسوانی آواز سنائی دی۔۔۔۔۔۔۔۔ ّّ سنو بھیٓا۔ ٗٗ
وہ تیزی سے دروازے کے قریب پہنچا ۔ اس کے دل کی دھڑکن بڑھ گئی۔اسے لگا آج اس کی مراد پوری ہوجائے گی۔
ْْ جی ۔۔۔۔آپ۔۔۔۔آپ۔۔۔۔مجھ سے کچھ کہا؟ ۔۔۔۔۔ٌٌ عجوبے نے بے یقینی کے اانداز میں پوچھا۔
ْْ ْْ جی میں آپ ہی سے مخاطب ہوں۔کیا آپ واقعی یہ چیزیں خریدنا چاہتے ہیں؟ جن کی اب کوئی وقعت ، کوئی پہچان نہیں ہے ۔ٌٌ لڑکی کشمکش کا شکار تھی۔
ْْ جی جی ۔۔۔۔ضرور خریدوں گا۔ آپ جو دام کہیں گی، وہ دونگا۔ٌٌ عجوبے کو خدشہ تھا کہ پھٹے ، گندے کپڑوں میں ملبوس ، یہ مریل اور بیمار سی دکھنے والی لڑکی، جس نے بوسیدہ سے دوپٹٓے سے اپنا سر ڈھانپ رکھا تھا، اس کے پاس یہ چیزیں ہونگی؟
ّ ّ میرے دادا محترم کے پرانے صندوق میں یہ چیزیں پڑی ہوئی ہیں۔۔۔۔۔۔۔میں لے کر آتی ہوں۔ٗٗ ٗ یہ کہہ کر لڑکی تیزی کے ساتھ پلٹی ، ایک اینٹ سے ٹھوکر کھاتی،لڑکھڑاتی ہوئی اندر چلی گئی۔
جب وہ واپس آئی تو اس کے ہاتھ میں چھوٹا سا لکڑی کا پرانا صندوق تھا۔ اس نے صندوق عجوبے کے قریب رکھ دیا۔
۔پڑوسی دروازوں اور کھڑکیوں میں سے جھانکنے لگے،آج ان کے لئے یہ نیا تماشہ تھا۔
لڑکی نے صندوق کھولا۔۔۔۔۔پھر اس نے اچانک اسے بند کر دیا ۔ اور بھرّائی ہوئی آواز میں گویا ہوئی۔
’’بھیّا، پہلے آپ یہ بتائیں ، آپ ان کا کیا کریں گے؟‘‘
عجوبے کو احساس ہوا کہ لڑکی کو ان چیزوں کی بے حد فکر ہے۔ وہ گھبرا گیا کہ کہیں وہ دینے سے انکار نہ کر دے۔ عجوبے نے تمام بات بتا دی اور کہا۔
’’میری بچّی تو فکر نہ کر ۔۔۔۔یہ تمام چیزیں نہایت احتیاط اور حفاظت کے ساتھ میرے میوزیم کی شان بنیں گی۔‘‘
یہ سن کر وہ بے اختیار گھٹ گھٹ کر رونے لگی۔وہ روئے جاتی تھی اور کہتی جاتی تھی۔۔۔۔۔۔’’معاف کرنا دادا جی،آپ کی دوائی کی فکر نہ ہوتی تو میں آپ کی یہ ہر دل عزیز چیزیں ، جنھیں آپ نے اپنی دولت ،شہرت،صحت ہی نہیں زندگی سے زیادہ اہمیت دی اور تمام عمر ان کی حفاظت کی ، ان کو ہر گز ہر گز فروخت نہ کرتی۔۔۔۔۔مگر دادا جی۔۔۔۔‘‘لڑکی دوپٹّے کو منھ پر رکھ کر رونے لگی۔عجوبہ پریشان تھا کہ لڑکی کو دلاسہ دے یا جتنی جلدی ممکن ہو سب چیزیں اپنے قبضے میں کر لے۔
’’رو مت میری بچّی ۔۔۔۔۔۔۔سب اچھا ہو جائے گا۔‘‘ عجوبے کے ان الفاظ سے وہ مزید رونے لگی اور بولی۔۔۔۔۔’’ بھیّا ! میں یہ چیزیں ہر گز نہ دیتی ، مگر کیا کروں ۔۔۔دادا محترم بے حد بیمار ہیں، ان کی دوائی آنی ہے ۔گھر میں کھانے کو بھی کچھ نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔میں کیا کروں ، امّی ابّو۔۔۔۔۔‘‘ پھر وہ خود ہی بتانے لگی۔۔۔۔’’ امّی ، ابّو کےانتقال کو عرصہ ہو گیا ، بھائی صاحب بھی فساد میں مارے گئے ۔۔۔۔۔ اور۔۔۔۔۔اور۔۔۔ سر سے دوپٹـہ اوڑنے کی وجہ سے مجھے بھی کوئی نوکری نہیں دیتا۔۔۔۔۔۔۔حویلی میں جو جو کرائے دار ہیں وہ خالی کرنا تو دور اب کرایا بھی نہیں دیتے۔۔۔۔۔آخر کیا کروں دادا جی۔۔۔۔۔ٌٌ ٗ پھر وہ دادا جی کو مخاطب کر کے رونے لگی۔۔۔۔۔۔۔ْْ ْ مجھے معاف کر دیجئے گا دادا جی ، مجھے یہ سامان بیچنا ہی ہوگا۔ ٗٗ ٗ
پھر وہ ایک ایک چیز نکالتی رہی اور بڑبڑاتی رہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔” بھیۤا ! ان کی حفاظت کرنا ۔۔۔۔۔۔ بھلے ہی میوزم مین رکھنا مگر دیکھ بھال کرتے رہنا بھیۤا ! یہ لیجئے خاندانی شرافت ،دیکھو آج بھی اس میں پرانی چمک باقی ہے۔ ۔۔۔ اور یہ بے لوث محبت ۔۔۔۔۔۔ یہ انسانیت۔۔۔۔خود داری ، وضع داری ۔۔۔۔۔۔اعلی کردار۔۔۔۔اور ۔۔۔۔۔ اور۔۔۔۔یہ ایمانداری۔۔۔۔تھوڑی زنک لگ گئی ہے اس میں ، مگر ہے یہ ایکدم اصلی ۔۔۔۔۔ہاں سب لے جاؤ ۔۔۔۔۔۔۔بس کچھ پیسے دیدو تاکہ میں دوا اور روٹی کا انتظام کر لوں۔۔۔۔۔ہاں بھیـا لے جاؤ ، میں تو دادا جی سے بولی بھی تھی کہ کب تک سنبھال کر رکھیں گے ہم ان چیزوں کو۔۔۔۔۔۔۔۔ ٌٌٌ ٌ پھر وہ زاروقطار رونے لگی۔
اس درمیاں اس کو اس بات کا بھی احساس نہیں ہوا کہ چند منٹ قبل اس کے بیمار دادا جی آواز دیتے ، لڑ کھڑاتے ہوئے دروازے کے قریب چلے آئے تھے اور اب دیوار سے ٹیک لگائے ، اپنے بے قابو ، لرزتے دل کو قابو میں کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔اچانک لڑکی کی نگاہ دادا جی پر پڑی۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ بوکھلا کر کھڑی ہوگئی اور دادا جی کو سنبھالنے کے لئے آگے بڑھی۔ پر دادا جی اتنی دیر میں گر پڑے۔ ان کا ایک پیر نالی میں تھا اور دایاں ہاتھ زمین پر ٹکا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔ دادا جی بہت تیزی سے ہچکیاں لے رہے تھے ، لڑکی انھیں سنبھالنے کی کوشش میں زمین پر بیٹھ گئی اور ان کے سر کو اپنی گود میں رکھ لیا ۔
عجوبہ اور پڑوسی تماشائی بنے ہوئے تھے۔
” بیٹی ۔۔۔۔۔۔می ری ۔۔۔۔۔۔بچی۔۔۔۔۔اوں ں ں۔۔۔۔” دادا جی نے اپنی تمام تر طاقت کے ساتھ بولنے کی کوشش کی۔
لڑکی روتے ہوئے معافی مانگنے لگی۔۔۔۔۔۔۔ ” دادا جی ، مجھے معاف کر دو دادا جی۔۔۔۔۔۔م۔۔۔ا۔ف۔۔۔۔۔”
” اونہہ۔۔۔۔۔اوں ں ں ۔۔۔۔۔۔بیٹی ۔۔۔۔۔” دادا جی نے آخری ہچکی لی۔ان کا سر لڑکی کی گود میں ایک طرف کو سرک گیا۔
لڑکی نے ایک دلخراش چیخ ماری اور دادا جی کو اپنی باہوں میں سمیٹ لیا ۔
عجوبے نے موقع غنیمت جانا اور ساری بیش قیمتی چیزیں سمیٹ کر اپنے تھیلے میں ڈال لیں اور کچھ رقم دادا جی کے قدموں میں رکھ کر وہاں سے روانہ ہو گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تقریباََ بیس سال کی شہر شہر آوارگی کے بعد عجوبہ جب اپنی سب سے اہم چیز لے کر اپنے عجائب گھر پہنچا تو ۔۔۔۔۔۔۔
اس نے دیکھا آٹھ دس بلڈوزر اس کے گھر کو مسمار کر رہے تھے، آخری دیواریں گرائی جا رہی تھیں۔وہ تمام عجوبے جو اس نے بہت محنت، محبت اور بے شمار دولت دے کر حاصل کئے تھے حویلی کے ملبے کے ساتھ مزدور ٹرکوں میں لاد رہے تھے۔
عجوبے کے محلے کے لوگ اب اس کو پہچان بھی نہیں پا رہے تھے۔وہ ان بیس برسوں میں اس قدر بدل چکا تھا کہ اس کو پہچاننا مشکل تھا۔ وہ بوڑھا ہی نہیں ،بد حال بھی ہو چکا تھا۔۔۔۔۔لوگ اس کو بھکاری سمجھ کر نظر انداز کرتے جا رہے تھے۔
پڑوسیوں کی گفتگو سے اسے پتہ چلا کہ اس کی بیوی اور بیٹے گھر واپس آ گئے ہیں۔اتنے سال سے اس کی کوئی خیر وخبر نہیں ملنے کی صورت میں اس کو دنیا سے رخصت مان لیا گیا تھا۔ ۔بیٹوں کو عجیب و غریب چیزوں میں کوئی دلچسپی نہیں تھی، اس لئے انھوں نے عجائب گھر کی جگہ فائیو اسٹار ہوٹل بنانے کا ارادہ کر لیا تھا۔
یہ سن کر عجوبے کی دھندلی آنکھوں میں اندھیرا چھا گیا۔وہ دھپ سے زمین پر بیٹھ گیا ۔ اس کا سر تیزی سے گھومنے لگا۔ اچانک اس کے دل میں پہلے ہلکا ہلکا اور پھر شدید درد اٹھا۔اس نے جلدی سے اپنا وہ تھیلا جس میں اس کی سب سے قیمتی چیزیں تھیں ، سینے کے اس مقام پر پوری شدّت سے بھینچ لیا ، جیسے وہ اپنے دل کے درد کی ناقابلِ برداشت تکلیف کو تھیلے کی چیزوں سے روکنا چاہتا ہو۔۔۔۔۔۔مگر جانداردل ان بے جان چیزوں سے کہاں قابو میں آنے والا تھا ۔اس نے بہت آہستہ آہستہ اپنا کام کرنا بند کر دیااور ان بے جان چیزوں کی طرح خود بھی بے جان ہو گیا۔
میونسپلٹی کے کارندے عجوبے کی لاش کو لاوارث جان کر اپنے’ استعمال ‘ کے لئے اٹھا کر لے گئے۔ اور عجوبے کا وہ تھیلا جس میں اس کی بیش قیمتی اشیاء تھیں ، لوگوں کی ٹھوکریں کھاتے کھاتے کوڑے کے اس ڈھیر پر پہنچ گیا ، جس میں تعفن پیدہ ہو۔

Published inذاکر فیضیعالمی افسانہ فورم