Skip to content

طلسم سامری

عالمی افسانہ میلہ 2018
افسانہ نمبر 59
طلسم سامری
ایم اے فاروقی۔بنا رس ۔انڈیا

جب سے الیکٹرانک ٹرانزیکشن کا زمانہ آیا ارشد کا کاروبار کافی مندا ہوگیا، پچھلے سال نوٹ بندی کے اثرات نے اسے ایسی مار لگائی کہ وہ کہیں کا نہ رہا، صبح کا نکلا رات کو آتا، دسیوں لوکل ٹرین کا دورہ کرتا، بیسیوں ویلیٹ ہاتھ لگتے ،مگر ان میں ملتا کیا؟ دوچار کارڈ، پچاس اور سو کے کچھ نوٹ، وہ پریشان ہوگیا، جو کچھ ملتا اس میں سے ستر فیصد یونین کے سکریٹری کے حوالہ کر دیتا، دن بھر محنت کی اجرت چند کاغذ کے ٹکڑے، سمجھ میں نہیں آتا کہ ننگا دھوئے کیا نچوڑےکیا؟
یہ صرف اکیلے ارشد کی پریشانی نہیں تھی، بلکہ اس کے پیشے سے منسلک تمام افراد پریشان تھے،کئی لوگوں نےتو اپنا پیشہ ہی بدل دیا اور اس کی باقاعدہ اطلاع علاقہ کے سکریٹری کو دے دی ۔
پریشانیوں نے جب بحران کی صورت اختیار کر لی تو یونین کے ارکان نے ایک عوامی میٹنگ طلب کی، ہر شخص متجسس تھا کہ دیکھیں صدر اور سکریٹری اس مسئلے کا کیا حل نکالتے ہیں؟ مٹینگ منعقد ہوئی، چار آدمیوں نے سکریٹری صاحب کی پہیہ دار چوکی کو کسی جنازے کی طرح کاندھوں پر لے لیا، کوڑھ سے معذور سکریٹری صاحب عام لوگوں کے لئے محض ایک بھکاری تھے، جو بوریولی کے اسٹیشن کے باہر مدتوں سے جھولی لئے بھیک مانگتے تھے ، میلی کچیلی پٹیاں لپیٹے دوفقیر ان کی گاڑی گھسیٹتے اور درد انگیز لہجے میں اللہ کے نام پہ دے دے بابا گاتے، یہ صرف یونین کے ممبران کو معلوم تھا کہ یہ گور بہ لب بابا ہی ان کا پیشوا ہےاور ہزاروں گھروں کی دال روٹی کا انتظام کرتا ہے۔
سکریٹری نے بڑی رقت آمیز تقریر کی ،اس نے دلوں میں اٹھنے والے اندیشوں، وسوسوں اور سوالوں کے جواب کھل کر دئے ، اس نے بتلایا کہ بھائی لوگو! ہم وہ قوم ہیں جو عوام کے بھی معتوب ہیں اور سرکار کے بھی مغضوب، حکومت ہمیں پا جائے تو کچا چبا جائے، عوام رنگے ہاتھ پکڑ لیں تو قیمہ بنادیں، ہم تو کھلے عام احتجاج بھی نہیں کر سکتے ہیں، اپنے سنگین مسائل سے کسی کو واقف بھی نہیں کراسکتے، ہم دن بھر محنت کرتے ہیں، لیکن ہماری روزی حرام کی کہلاتی ہے، بے روزگاری اس قدر بڑھ گئی ہے کہ دوسرا کوئی پیشہ اختیار بھی نہیں کر سکتے، ہم اپنا دوش کس کو دیں؟ سب کچھ تو ہمیشہ یکساں نہیں رہتا ہے؟۰۰۰۰۰۰۰ دراصل غلطی ہماری ہے، دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی، مگر ہم وہی لکیر کے فقیر ہیں ، ہم نے کبھی اپنے پیشے کو ترقی دینے کے بارے میں سوچا ہی نہیں۔
آپ ہمیں آدھی سے زیادہ کمائی کمیشن دے دیتے ہیں ، سوچتے ہوں گےکہ بڈھے نے محل کھڑا کر لیا ہوگا، تمھیں نہیں معلوم کہ ایک بڑا سسٹم ہے جو تمھیں تحفظ دیتا ہے، یہ سسٹم سمندر ہے، سب کچھ نگل لیتا ہے، یہی سسٹم تم کو قانون سے بچاتا ہے، نہ ہمیں ان سے محبت ہے نہ ان کو ہم سے کوئی لگاؤ ہے، بس یہ دو نمبری کام ہے ،جس میں بے ایمانی نہیں ہے ، تم لوگوں سے جو کچھ ملتا ہے وہ ان کے نمائندے کے حوالہ کردیتا ہوں ،جو نیچے سے اوپر تک سب کو ایمان داری سے پہنچا دیتا ہے، کبھی کبھی تو میرے پاس دس روپئے بھی نہیں بچتے ہیں اور مجھے کوئی ضرورت بھی نہیں ہے، بھیک سے مجھے اتنا مل جاتا ہے کہ میری ساری حاجتیں پوری ہوجاتی ہیں ، اب رہا یہ مسئلہ کہ اس مندی سے کیسے نپٹا جائے تو یہ جلدی ختم ہونے والی نہیں، اب لوگوں کی جیبوں میں صرف پلاسٹک کے کچھ کارڈ اور ایک موبائل ہوتا ہے، کارڈ سے میں جانتا ہوں تم کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتے ،ہاں موبائل کے لئے سوچنا پڑے گا، مگر اس کو ٹھکانے لگانے کے لئے کچھ دوسرے پیشہ والوں کو بھی یونین میں شامل کرنا پڑے گا، ایک نیا ڈھانچہ بنا نا پڑے گا،
تو میرے بچو! تم میں سے کچھ لوگ یہ تجربہ کریں اگر کامیابی ملی تو کام کو آگے بڑھایا جائے گا، تم میں سے جو لوگ اس کام کے لئے تیار ہیں وہ ہاتھ اٹھادیں، سب سے پہلے راشد نے ہاتھ اٹھایا اس کی دیکھا دیکھی کئی لڑکوں نے ہاتھ اٹھادیا، سکریٹری نے انھیں دعاؤں کے ساتھ رخصت کیا۔
اس نے پاکٹ ماری کے بجائے موبائل ماری کی دنیا میں داخل ہونے کا پکا ارادہ کر لیا اگر کوئی اچھا سا موبائل ہاتھ لگ گیا تو ایک ہی چکر میں ہزاروں کے وارے نیارے ہوجائیں گے، موبائل کے بارے میں اسے زیادہ معلومات نہیں تھی، اس کے پاس ایک چھوٹا سا موبائل تھا، جس کے ذریعے وہ اپنے سینیر ، جونیئر اور باس سے رابطے میں رھتا تھا، یہ پیشہ بھی بڑا پیچیدہ تھا، اس کا گروپ بھی موبائل سسٹم تھا، کوئی بھی کارکن اکیلے مہم جوئی کا رسک نہیں لے سکتا ، بٹوہ نکالنے کا کام سینیر کرتا، منٹوں میں وہ بٹوہ کہیں سے کہیں پہنچ جاتا، لیکن کیا موبائل کے لئے اسی ٹریک پر چلے یا تنہا مہم سر کرنے کا خطرہ مول لے؟ وہ شش و پنج میں پڑ گیا، کچھ سمجھ میں نہیں آیا تو وہ بابا نیولے شاہ کی مزار پر چلا آیا، اسے یقین تھا کہ بابا صحیح راستہ دکھائیں گے، آنکھ بند کرکے اس نے من ہی من میں بابا تک اپنی خواہش پہنچادی ، دل نے کہا بیٹے اکیلے کام کرلے، کامیابی ملے گی، آگے کی نہ سوچ، یہ شائد بابا کی آواز تھی ، یقیناً بابا نے سن لی، ورنہ یہ دھڑکتا ہوا دل پر سکون کیوں ہوگیا۔
اس نے پہلے ہی سوچ لیاتھا کہ کسی اچھے اور قیمتی فون پر ہاتھ مارے گا ، وہ ریلوے اسٹیشن پہنچا اور ایک لوکل ٹرین کے کوچ میں گھس گیا، ایک سوٹڈ بوٹڈ شخص کان میں گلیکسی آٹھ کا نیا ماڈل لگائے ہوئے تھا، اس کی نگاہیں جم گئیں، شکار اس نے تاڑ لیا، اگلااسٹیشن نزدیک آیا تو اس نے فون کو جینس کے پاکٹ میں ڈال لیا، اترنے اور چڑھنے والوں کی بھیڑ میں راشد نے ہاتھ کی صفائی دکھائی ، منجھے ہوئے ہاتھوں اور پھرتیلی انگلیوں کا کمال تھا کہ موبائل والےکو جیب ہلکی ہونے کا پتہ ہی نہ چل سکا اور وہ بھیڑ میں کھو گیا،
اسٹیشن سے باہر نکل کر راشد ایک سنسان پارک میں بیٹھ گیا، اس سے کسی طرح صبر نہیں ہو سکا، فورا جیب سے موبائل باہر نکالا، یہ سیمسنگ گلیکسی آٹھ تھا، بالکل نیا چمچماتا ہوا کالا، وہ موبائل کو دیکھ ہی رہا تھا کہ اچانک گھنٹی بجی، وہ اتنا جاہل بھی نہیں تھا کہ فون کے فنکشن کو نہ سمجھ سکے، اس کے کئی دوستوں کے پاس اسمارٹ فون تھے، اس نے پہلے سوچا کہ سوئچ آف کردے،لیکن موبائل کسی لڑکی کا نام شو کر رہا تھا، اس نے یہ دیکھ کر فون اسکرین ٹچ کردیا، ایک میٹھی سی آواز آئی:
” ڈارلنگ یاد ہے نا میں ٹھیک سات بجے پرکاش ہوٹل میں تمھارا انتظار کروں گی ، فکر مت کرنا کمرہ میں نے بک کرالیا ہے، ہاں ٹھیک سات بجے پہنچ جانا، اچھا بائے بائے،”
وہ جواب دینے کی مصیبت سے بچ گیااور ٹھنڈا سانس لے کر فون دیکھنے لگا، اتنا قیمتی موبائل اس نے زندگی میں کبھی نہیں دیکھا تھا، موبائل کی مدھر میوزک اور لڑکی کی دل کش آواز نے اس کے جسم میں گدگدی پیدا کردی ، ابھی وہ فون کی اسکرین کو گھور ہی رہا تھا کہ دوبارہ خوب صورت سی موسیقی کی آواز ابھری ، اس نے فورا کال رسیو کی، یہ بھی ایک عورت کی آواز تھی ، لیکن ذرا مختلف ، لب و لہجہ سے زہر ہلاہل ٹپک رہا تھا، باتیں نان اسٹاپ تھیں:
” اب تمھیں بات کرنے کی فرصت ملی، آفس بند ہوئے ایک گھنٹہ گزر گیا، تم ابھی تک گھر نہیں پہنچے، اسی چھنال کے یہاں تو نہیں مر گئے، رات کا کھانا پارسل کروالینا، میرے سر میں درد ہے، میں پکا نہیں سکتی اور سنو منے کا فیڈر مت بھولنا،”
فون کٹ گیا، اس نے جلدی سے موبائل کو پاکٹ میں رکھنا چاہا کہ پھر گھنٹی بجی، اس نے فورا رسیو کرلیا:
” سر میں آپ کی سکریٹری بول رہی ہوں، پلیز دو ماہ کی پیشگی تنخواہ دے دیں، میرا چھوٹا بھائی سخت بیمار ہے، میں آپ کی ہر بات ماننے کے لئے تیار ہوں،”
راشد نے خود ہی فون کاٹ دیا اور طوفانی رفتار سے گھر کی طرف دوڑ لگادی، گھر پہنچتے ہی سب سے پہلے سم نکال کر رکھ دیا، اپنے فون کا سم لگانا چاہا، لیکن کامیابی نہیں ملی ، اسی وقت وہ اپنی جان پہچان کے ایک موبائل والے کے پاس گیا، اس نے بتلایا کہ تمھارا ٹو جی ہے، کہو تو اس میں جیو سم لگادوں، پیسے بھی کم لگیں گے مفت میں نٹ چلانااور آنکھ مار کر مسکرانے لگا، دکاندار کو حیرت تھی کہ اتنا مہنگا موبائل اس کے پاس کیسے آیا؟
اس کے کچھ پوچھنے سے پہلے ہی راشد نے صفائی دی کہ اس کے سالے نے اپنی بہن کے لئے بھیجا ہے۔
راشد نے اس میں نیا سم ڈلوایا، نٹ چلانے کی ترکیب پوچھی، گیمز اور کچھ مسالے دار موویز ڈاؤن لوڈ کرائی، وہ بہت خوش تھا، جیسے اسے نئی دنیا مل گئی ہو، گھر آیا تو بیوی کو دکھایا، دونوں طرح طرح کے ویڈیوز دیکھتے رہے اور ایک نئی دنیا کی سیر کرتے رہے، ہر پل بدلتی دنیا، رنگین اور لذت بھری دنیا،
راشد نے کئی سوشل ایپس بھی ڈاؤن لوڈ کر لئے، گھر سے باہر جاتا تو موبائل بیوی کے حوالے کر دیتا، لوٹ کر آتا تو پھر دونوں موبائل میں کھو جاتے، پہلے دونوں ایک دوسرے میں کھوئے رہتے ،اب دونوں موبائل میں کھوئے رہتے،
دو تین مہینوں کے بعد اسے احساس ہوا کہ بیوی اس سے بے نیاز ہوتی جارہی ہے، خود اس نے اپنا احتساب کیا، تو پتہ چلا کہ بیوی سے وہ بھی کافی دور ہوگیا ہے، موبائل تو ان کے دماغی سسٹم پر تصرف جمارہا ہے، وہ چاہتا کہ اس کی بیوی اسی طرح رہے جیسے موبائل چاہتا ہے، اس کی بیوی بھی اس سے یہی چاہتی تھی، وہ روزانہ کئی بار عزم کرتا کہ اب وہ موبائل کی طرف تاکے گا بھی نہیں، لیکن بے اختیار ہوکر موبائل دیکھنے لگتا، اس کے اعضا اس سے غداری کرنے لگے، وہ صرف موبائل کے تابع تھے، دماغ بھی اسی کے کہے پر چلتا، موبائل جیسے اس کے مزاج اور فطرت کو پہچان گیا تھا، جن مناظر کو دیکھنے کے لیے اس کا دل مچلتا، وہ بغیر کلک کیے اس کے سامنے پیش کردیتا، وہ اپنا وجود کھوتا جارہا تھا، اس سے پہلے کہ موبائل انھیں برباد کردے اس سے نجات حاصل کرنا چاھئے۔
دوسرے دن بیوی کو کچھ بتائے بغیر موبائل لیااور نالے میں پھینک آیا، اس کے سر کا بوجھ ہلکا ہو گیا،وہ اسمارٹ موبائل مارنے کے بعد دھندے سے بھی لا پروا ہوگیا تھا، گھر پر جو جمع پونجی تھی اسی سے کام چلا رہا تھا، آج اسے خیال آیا کہ اب روزی روٹی کی فکر کرنی چاھئے، جیب تراشی کے دھندے میں نفع تو تھا، لیکن خطرے کا کام تھا، اسے کوئی ایمانداری کا دھندہ کرنا چاھئے۔۔۔ایمانداری والا کون سا کام ہے؟ یہ سوال وہ حل نہیں کر سکا اور دوسرے دن کے لئے اٹھا کر رکھ دیا،
وہ ایک دوست کے گھر چلا گیا، دوست نے مسکرا کر خیر خیریت پوچھی ،اسے بٹھایا اور اپنے موبائل میں کھو گیا، تھوڑی دیر کے بعد اس کی بیوی بھی آگئی ، مسکراکر ہائے ہیلو کیا اور موبائل میں کھوگئی، وہ بیٹھا بور ہوتا رہا ، آخر کار بھاگ کھڑا ہوا۔
گھر آیا تو پینٹ اتار کر جوں ہی ہینگر پر ٹانگنا چاھا ، اس کی پاکٹ سے موبائل نکل کر زمین پر گر پڑا، اسے سخت حیرانی ہوئی، دل میں خوف سا بیٹھ گیا ، موبائل کو تو اس نے گٹر میں پھینک دیا تھا، وہ واپس اس کے جیب میں کیسے آگیا؟ لیکن زیادہ دیراس سے رہا نہ گیا، پھر وہ موبائل میں کھو گیا، اس دنیا کی سیر نے اس کی ساری دھشت ختم کردی، بیوی بھی آگئی اور موبائل مانگنے لگی، ابھی وہ دینا نہیں چاہتا تھا، لیکن جب وہ روٹھ گئی تو مجبوراً دینا پڑا، تھوڑی دیر کے بعد اس نے موبائل تو واپس کریا لیکن ساتھ میں یہ دھمکی دے دی کہ کل تک میرے لئے اسی کمپنی کا موبائل نہیں آیا تو میں یہ موبائل تمھیں نہیں دوں گی،وہ دوسرا موبائل کہاں سے لاتا؟ اگر یہ موبائل بیوی کو دے دیتا تو اس کی دنیا ہی اندھیر ہوجاتی، وہ پریشان ہوگیا، نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن، اسے موبائل سے ایک لمحہ کے لئے گھن آنے لگی،جس نے میاں بیوی میں تفریق کی بنیاد ڈال دی،
اس نے دوبارہ موبائل سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کی ، اگرچہ اسے یقین تھا کہ موبائل سے چھٹکارہ پانا مشکل ہے، وہ موبائل لے کر باہر نکل گیااور ایک چٹیل اور ویران جگہ پر چلا آیا تاکہ وہ لوگوں کی نظروں سے بچارہے ورنہ اتنے قیمتی موبائل کے ساتھ جو حرکت وہ کرنے جارہا تھا، اسے پاگل قرار دینے کے لیے کافی تھا، اس نے موبائل کو ایک پتھر پر رکھا اور دوسرے وزنی پتھر سے اسے اس وقت تک کوٹتا رہا جب تک کہ وہ ریزہ ریزہ نہ ہوگیا،
گھر لوٹ کر آیا تو اس کا دماغ ہلکا پھلکا تھا، بے اختیار ہونٹوں سے سیٹی بجنے لگی، وہ ایک بہت بڑی مصیبت سے نجات پاگیا، اس نے سوچا کہ بیوی تو بہت ناراض ہوگی،لیکن اسے منا لے گا، اسے دھیرے سے پکارا، اس نے کہا:
” میں بیڈ روم میں ہوں، یہیں چلے آؤ دیکھو کتنا مزے دار ویڈیو ہے ، اس کے قریب پہنچتے اس سے لپٹ گئی اوربے تحاشا چومنے لگی، وہ بالکل بے قابو ہورہی تھی۔
” تم کتنے اچھےہو موبائل میرے لئے چھوڑ گئے، مجھے معلوم تھا تم مجھ سے بہت پیار کرتے ہو،”
اس کا دل دھک دھک کرنے لگا اب تو اسے پکا یقین ہوگیا کہ یہ فون نہیں ہے، کوئی آسیب ہے، ضائع کرنے سے یہ پھر واپس آجاتا ہے، بیوی کو پوری تفصیل بتائی تو اس کے سارے جذبات ٹھنڈے پڑگئے اور وہ ڈر کے مارے کانپنے لگی،
دونوں بڑی دیر تک مشورے کرتے رہے اور آخر میں فیصلہ کر لیا کہ موبائل کو اس کے مالک تک اسے پہنچانا چاھئے،نہیں تو یہ ہمارا گھر بربادکردے گا ، موبائل میں اس کا اصل سم لگایا تو اصل مالک کا فورا پتہ چل گیا۔ اس نے بتایا کہ یہ فون اسے اسٹیشن کے پاس پڑاہوا ملا، موبائل کا مالک خوش ہورہا تھا کہ آج کی دنیا میں بھی ایسے ایماندار لوگ ہوتے ہیں۔
اس نے ناشتہ کر کےموبائل کو جیب میں رکھا اور نکل گیا، وہ نیکی کی طرف جارہا تھا اس لئے چال میں بڑی لاپرواہی تھی، اچانک مخالف سمت سے ایک لوڈیڈٹرک تیز رفتاری سے گزرا اور راشد کو کچلتے ہوئے آگے بڑھ گیا، وہ فورا جاں بحق ہوگیا، تھوڑی دیر میں پولیس بھی آگئی، ہیڈ کانسبل نے دبی کچلی لاش کی جیبوں کی تلاشی لی اور دھیرے سے اسمارٹ موبائل اپنی پولیسیا جیب میں ٹھونس لیا۔

Published inایم اے فاروقیعالمی افسانہ فورم