Skip to content

طائرِ لاہُوتی

عالمی افسانہ میلہ 2018
افسانہ نمبر 45
طائرِ لاہُوتی
غلام حسین غازی (
G. Husain) شیخوپورہ پاکستان

اس دنیا کے پرندوں میں وہ اپنے مزاج میں کوئی علیحدہ ہی طائر تھا۔ وہ کبھی غول میں اُڑتا، نہ ہی چُگتا۔ وہ مختلف ملکوں ،جاگیروں اور پر اسرار اقلیموں میں تن تنہا لمبی اڑانیں بھرتا اور فطری حسن کے جلووں پر مسرت و انبساط کی ان کیفیات سے گزرتا جو ایک مقام پر بسنے والے طیور کو میسر نہ تھیں۔ سالہا سال کی جہان گردی نے اس میں مظاہرِ فطرت کے بغور مطالعہ کی عادت پختہ کر دی تھی۔ وہ اپنے شوقِ تجسس اور معلوم سے نامعلوم مقامات کی جستجو میں اپنی پروازیں لمبی سے لمبی اور دور دراز تک کرتا چلا گیا۔ اس نے اپنی پروازوں کے دوران تبت کے لاموں کو استغراق میں دیکھا ،قونیا میں رومی کے مزار کے احاطوں میں درویشوں کو گھنٹوں مستانہ وار رقص کُناں دیکھا، اس نے ہندوستان کے مندروں میں سنہری پراسرار روشنیوں کے خمار آگیں ماحول میں دیوداسیوں کو محوِ رقص دیکھا، اس نے بلندیوں سے مکہ میں خانہ کعبہ کے گرد حاجیوں کو یوں طواف کرتے دیکھا جیسے کسی بڑے مقناطیس کے گرد لوہے چون کے ذرات کشش کے زیر اثر ہوں، اُس نے یہودی ربیوں کو دیوارِ گریہ سے سر ٹکرا ٹکرا کر اللہ کے حضور دعائیں کرتے سنا، اس نے آسٹریلوی وحشیوں اور امریکی مقامیوں کو فطرت کے رازوں کو سمجھنے میں منہمک دیکھا۔۔۔ اُنہیں اسفار میں وہ افریقیوں کی آہ و بکا کا شاہد بھی بنا تو ٹُنڈرا کی سٹیپیوں پر منگولیائی بھکشوؤں کے حلقوم سے نکلتی دل دہلا دینے والی آواز میں طریقہ عبادت سے بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ اتنی لمبی پروازوں اور بھانت بھانت کے مشاہدات کے بعد اس میں ایک عجیب خواہش نے جنم لیا کہ وہ اس تمام رنگا رنگی کے پیچھے کارفرما راز سے واقفیت حاصل کرے اور جو مظاہرِ فطرت کلام کر سکتے تھے وہ ان تمام سے ہم کلام بھی ہو سکے۔ فطرت ہزار رنگوں سے پیدا ہوئی تو پھر مختلف اقوام کا یک رنگی اختیار کرنے پر زور کیوں ۔۔۔بلکہ پر تشدد کیوں؟ وہ موت کے اسرار کو سمجھنا چاہتا تھا۔۔۔ یہ خیال تو اس کے لئے سوہانِ روح کا درجہ اختیار کر گیا ۔۔۔بلکہ وہ اس خیال کو بسا اوقات دماغ میں پیدا ہو جانے والے روگ سے تعبیر کرنے لگ گیا۔
وہ جہاں بھی جاتا تھا پرندے اس کی خواہش جان کراس کا تمسخر اڑاتے، اور کچھ بوڑھے جہاندیدہ طیور اسے معنی خیز نگاہوں سے تولتے۔۔۔ بعض اپنے سر سینوں میں دبا لیتے اور بعض بغلی پروں میں سر دے کر توقف کرتے۔۔۔ پھر یوں گھمبیر آوازوں میں کہتے ’’تو ضرور کامیاب ہوگا۔ ر یاضت بڑھا، کشٹ زیادہ کردے، دنیا کے انسان تو دانائے کل۔۔۔ مالک کل کے موجد ہیں، ان کے چَرن چُھو۔ ان میں کوئی نہ کوئی تمہیں ایسا ضرور سکھا دے گا۔۔۔ بتا دے گا ،جو تو چاہتا ہے۔‘‘
اس کے ان گنت اسفار کے دوران اسے بڑی دلکش ،موہ لینے والی، بیڑیاں ڈال دینے والی، صرف اپنی ایک اد ا اور مدُھرتا سے نروں کو پتھر کر دینے والی مادائیں ملیں۔۔۔ الٹا وہ ان کے لیئے اجنبی محبوب بن جاتا اور خوب موج مستی کرتا پھر دل توڑتا، جذبات کچلتا، ان دیکھی دنیاؤں کے اسرارات کے عشق میں کوئی نا معلوم منزلوں کی طرف روانہ ہو جاتا۔
یونہی اڑتے ،گھو متے پھرتے وہ ایک ایسے گھنے جنگل میں جا پہنچا جہاں تمام طیور نفسا نفسی کے عالم میں بوکھلائے پھرتے تھے۔ ہر کوئی اپنی اپنی چاہ کا اسیر تھا۔ وہاں سب ایسے رہ رہے تھے جیسے اپنی ہی اقلیم میں باہم پیکار ہوں۔ ان کی خواہشات بے حد سطحی اور مقامی تھیں۔ پہلی بار اسے اپنے آپ میں غرور محسوس ہوا کہ وہ طائر ضرور تھا۔۔۔ لیکن۔۔۔ شاید ۔۔۔ لاہوتی بن چکا تھا۔ وہ تاریکی اور دھند میں بھیگی اس اقلیم میں چند روز گزارنے کے بعد اپنی قدیم چاہت’’ہرجان دار سے ہم کلامی‘‘ کی تکمیل کا منتر بتا دینے والے دانائے کامل کی تلاش میں سر گرداں ہو گیا۔
وہ جنگل تھا کیا؟
جنگل در جنگل دنیا جہاں کے خاردار ، بے ثمر، بلند و بالا اشجار کے لا متناہی سلسلے اور کہیں آتشِ شمس میں جھلسی جھاڑیاں اور کہیں کہیں دور دور تک پھیلے ہوئے خودرو گھاس کے میدان۔ اسے یوں محسوس ہوتا ا یسے بے ہنگا م اور بے ترتیب و خاردار اشجار و جھاڑیاں کسی ہستی نے جان بوجھ کر وہاں کے طیور کو بے سکون و بے قرار رکھنے کو اگائے ہوں۔ بس بے ترتیب جنگل اور حبس زدہ مار دینے والی فضاء۔ وہ آزردہ چہروں اور نچے بال و پر والے قسم قسم کے چھوٹے بڑے طیور دیکھتا۔۔۔ ان سے ملتا لیکن کسی کے پاس وہ حکمت و دانائی یا راز نہ تھا جسے سیکھ کر وہ فطرت میں پائے جانے والی ہر ذی روح سے اس رنگا رنگی کے پیچھے کار فرما حکمت سمجھ سکتا۔
وہ دیکھتا رہا ۔۔۔ وہ سنتا رہا۔۔۔ وہ محسوس کرتا رہا کہ اس اقلیمِ دل شکن کے طیور آج کے جدید زمانے میں بھی سختی سے ذات برادری پر کاربند تھے اور آباء کے چھوڑی لگ بھگ متروک اور تقریباً نا قابل عمل دانش پر دن رات بے معنی موشگافیوں میں مصروف رہتے۔ وہ کُن کی حقیقت کھولنے میں شد و مد سے، پرمغز بلکہ مغز ہلا دینے والے دلائل میں سر جھکائے مشغول رہتے۔۔۔وہ اپنے ماحول میں زندگیوں کو تبدیل کر دینے وا لے’’ کن‘‘ کہہ دینے والی طاقت سے عاری تھے۔
وہ مجہول دماغوں سے اٹھنے والی باسی دلیلوں سے ان تمام عقل مند طیورِ عالم کی تنقیص میں اپنی ناقص عقل و فہم اور متروک دانش کے قلا بے ملاتے نہ تھکتے۔۔۔ وہ طیور جنہوں نے کرہ ارض پر اپنے اپنے جنگلوں کو دلپذیر گلزاروں میں تبدیل کر لیا تھا۔ یہاں طائرِ لاہوتی ان کوڑھ مغزوں کی حالت زار پر کف افسوس ملنے کے سوا کر بھی کیا سکتا تھا۔ پھر یوں ہوا کہ ایک روز وہ اس اقلیمِ بے ہنگا م سے ان دیکھی سمت اڑان بھر گیا۔
اڑتا گیا، اڑتا گیا ۔ کوئی آدھ دن کی مسافت کے بعد اسے اتنا بلند درخت نظر آیا جو قریب ہونے پر بلند سے بلند ہوتا چلا گیا۔ اور پھر وہ اس درختوں کے باپ درخت کی چوٹی پر جا بیٹھا۔ تھوڑے ہوش و حواس بحال ہوئے تو وہ لگا آنکھیں پھاڑ پھاڑ دور نیچے درختوں کو دیکھنے۔ نیچے جنگل کے درخت اپنی قامت میں تھے تو بلند لیکن اپنے اوپر بسیرا کرنے والے بونسائی دماغوں والے طیور کی طرح اُتنی بلندی سے خود بھی بونے ہی نظر آرہے تھے۔ تبھی اسے گھنیری شاخوں ۔۔۔۔ اتنی گھنیری شاخیں کہ ان کے اندر چھپے شاہانہ سنگھاسن نما گھونسلہ تک شا ید ہی کسی کی نظر جا سکتی۔۔۔۔ اسی گپت گھونسلے سے ایک مادہ طائر کی آواز ابھرتی ہوئی سنائی دی۔۔۔ جنسی رغبت سے بھرپور، سریلی سر گوشی۔۔۔ ویسی سرگوشی اس نے ہند، سندھ، بلخ و بد خشاں، ترکستان، عربستان غرض کہ مغرب و مشرق میں کسی اقلیم، نہ ہی شمال و جنوب کے منجمد منطقوں میں کسی مادہ طائر کے گلے سے نکلتی سنی تھی۔ وہ ساکت و جامد ہمہ تن گوش ہو گیا۔ وہ اس سے گویا ہوئی۔
’’اے طائرِ لاہوتی ی ی!‘‘
ایک اجنبی آواز میں اپنا نام سن کر وہ دنگ رہ گیا۔
’’ مجھے ایک مدت سے تیرا انتظار تھا۔ تواگر آشنائے حقیقتِ زماں ہے تو میں بھی دلوں میں بسنے والے رازوں کی نباض ہوں ۔ تو جس جستجوء نایاب میں شب و روز بے قرار رہتا ہے۔۔۔ اس کی تشفی یہیں ہو گی۔‘‘
وہ گنگ اور ساکت سر جھکائے اس آواز کی مالک طائر کے دربار کے باہر ہمہ تن گوش ہو چکا تھا۔ وہ اسے کوئی بلبلِ ہزار داستان لگی۔ لیکن کوئی ایسی طائر جس کے ایک پر کے حسن کے برابر بھی اس نے اپنے طویل اسفار میں کوئی اور مادہ طائر نہ دیکھی ہو گی۔ وہ بہت تیزی سے اپنے پردہِ بصارت و بصیرت پر اس حسنِ نایاب کی تصویر کشی میں پورا چوکنا اور مصروف ہو گیا۔ پھر اس نے زور سے سر جھٹکا اوراپنے زمُردیں پر پھڑ پھڑائے، سینہ پھُلایا اور بولا۔
’’اے ملکہِ طیورِ زماں مجھے اندر آنے کا اِذن دے اور روبرو کلام کی جسارت بخش۔‘‘
وہی سر سراتی ہلکی جلترنگی سر گوشی پردہ اسرار سے بر آمد ہوئی۔
’’ناں ںں، سوچنا بھی ناں!!! تو اگر دیس بدیس، ملکوں ملک، وادیو وادی، گرم و سرد، خشکی و تری میں گھوم پھر کر راز ہائے فطرت و وجہِ ’’ کن‘‘ تلا شتا رہا ہے تو سن میں اس حبس میں نہائے جنگل کے کنٹوپ چڑھے طیور کی دنیا میں ایک تعصب کے مارے رواج کی قید کو قبول کر کے اس بلند و بالا سنگھاسن میں آزاد سو چوں کی زندگی بسرکر رہی ہوں۔ توجیسی جسمانی پروازیں بھر کے زمانے کا شاہد بنا میں اپنے تخیل میں وہ تمام دنیائیں آباد کر کر کے ،مٹا مٹا کے فطرت کے رازوں کو سمجھتی رہی ہوں۔ تیری جسمانی پرواز میرے تخیل کی پرواز کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔‘‘
وہ ادب و محبت میں سرشار منمنایا ۔
’’ تو پھر ۔۔۔ اے موجود میں لا موجود، کیا تو مجھے بھی دیکھ سکتی ہے یا نہیں ؟ کیا میں بھی تیرے تخیل کی پیدائش ہوں؟ ‘‘
اس سنگھاسنِ شاہی سے پروں کے پھڑ پھڑانے کی آواز آئی ۔ اس زنِ عشوہ طراز نے اپنی دائیں ٹانگ پر جھکتے ہوئے بائیں ٹانگ اور بائیں پر ہائے ہزار رنگ کو دور تک پھیلا یا اور بولی۔
’’ میں نے برسوں تجھے اپنے تخیل میں تراشا پھر تیرا انتظار کیا۔ تو میرے پردہِ بصارت پر ہے اور چشمِ تخیل میں مستقل طور پر کندہ ہے۔۔۔پر، تو مجھے نہ دیکھ پائے گا۔ نیچے دیکھا؟ کتنے تجھ سے بھی زیادہ حسین اور شِہہ پروں والے مجھ تک پہنچنے کو بے تاب ہیں لیکن مجھے نفرت ہے ان سے، ان کے کنٹوپ چڑھائے گئے دماغوں میں پلنے والی سوچوں پر۔‘‘
وہ چیں بہ چیں ہوتے ہوئے گویا ہوا۔
’’اے فضاؤں، اقلیموں کے سر بستہ رازوں کی آشناء! میرے مدعا پر آ۔ جلدی کر، مجھے وہ بتا جس کی میں تلا ش میں ہوں۔‘‘ رنگ برنگ پردوں سے مزین گھو نسلے کے اندر سے مشک بار ہوا کے سنگ وہی روح کو سلب کر لینے والی آواز آئی۔
’’ دیکھ اے جری طائرِلاہوتی! جب تو آزاد ہے تو مشاہدہ تو کر سکتا ہے، مباحث تو کر سکتا ہے، اپنے آپ کو ہلکان تو کر سکتا ہے لیکن ’’کُن‘‘ کی حقیقت کو نہیں پہنچ سکتا۔ قیام کر، سکوت اختیار کر، تنہائی کی نعمت کو جذب کر، ہر تصورِ کُہن کو باطل کر، سوالات کو جنم دے، اپنے شب و روز کی ہیئت پر خود وجدان کر، تدبر کر، قیاس کر، اجتہاد کر اور تمام نقشِ کُہن کو مٹا دے۔ پھرجس اقلیم پر تیرا سایہ پڑے گا وہ تیرے تصور پر ڈھلتی چلی جا ئے گی۔ ہاں، اگر تو اس سے بھی آگے ذرّے کے جگر سے ہم کلامی چاہتا ہے تو چشمِ تصور میں براستہ مراقبہ اپنے ہی وجود کو تقسیم در تقسیم کے عمل سے گزار اور ہر جُدا
ہو تے ہوئے ذرّے میں دلِ بینا پیدا کر۔ تب کہیں جا کر تو کائنات کے جس مظہر پر نگاہ کرے گا وہ تجھ سے ہم کلام ہو جائے گا۔‘‘
وہ باہرُ مستغرق بیٹھا سب سن رہا تھا۔ خاصے توقف کے بعد اس نے اپنے پر پھڑ پھڑائے اور شکر گزار لہجے میں ان دیکھے پیکرِجمالی کے سامنے تھوڑا جھکتے ہوئے بولا ۔
’’اے ہستیِ جلال وجمال، اے دہنِ خوش کلام، اے واقفِ اسرارِ ہستی جو تو نے سنایا میں نے سن لیا، جو تو نے سمجھایا میں نے سمجھ لیا۔ اب اجازت دے کہ میں کسی مناسب مقامِ معتدل پر جا کر قیام کروں اور وہ سب کروں جو تو نے بتایا۔‘‘
سات پردوں کے پیچھے سے ایک بے قرار اور قدرے بلند آواز ابھری۔
’’مناسب ہے اب تُو تا عمر یہیں اِن پردوں کے باہر قیام کر اور اپنی بقیہ عمر مجھے دان کر۔ پھر تیرے جیسا شاید میرے دل کے سنگھاسن پر نہ بیٹھ سکے ۔ دیکھ! میں نے تیرا انتظار کیا۔ تو ہر اقلیم کا ہری چُگ رہا۔ کبھی میرے ضبط کے بندھن ٹوٹ گئے تو میں تجھے اندر آنے اوراپنے وجود میں سمانے کی اجازت دے دوں گی۔ ناں جا!‘‘
وہ باہر خاموش رہا۔ بہت دیر گم سم بیٹھا رہا۔ پھر کھنکھار کر گلا صاف کرتے ہوئے بولا۔
’’میں تیری انمول محبت کی قدر کرتا ہوں۔ یقین رکھ اس شعور میں آج تک کا سارا تصّورِ محبت تو نے سلب کر لیا۔ میں تیرے کلام سے راز پا گیا۔ تو نے اپنی تنہائیوں میں تخیل کے وہ جہاں آباد کئے ہوئے ہیں جن کی تو ملکہ ہے۔ حتیٰ کہ میں بھی تیرے تخیل کی مادی صورت میں تیرے حضور آ پہنچا۔ لیکن، اب مجھے کہیں دور تنہائی کے گرداب میں گرنا ہے اور تخیل کے رستے جسم کو تقسیم در تقسیم کے عمل سے گزارنا ہے۔ پھر ہر ذرہِ جسم و روح میں ایک چشمِ بینا پیدا کرنی ہے۔ میرا مقصود، میری منزل کٹھن ہے۔ مجھے یقین ہے تو اپنے تخیل میں دوبارہ کوئی بھی مجھ جیسا پیدا کرلے گی اور کوئی بعید نہیں وہ کسی روز تجھ تک پہنچ بھی جائے۔ اب میں تجھے سپردِ خدا کرتا ہوں۔‘‘
وہ اڑ گیا۔ نیچے جنگل میں کنٹوپ پہنے پرندے سنتے رہے کہ بلند سنگھاسن میں رواجات کی قیدی بلبلِ ہزار داستان کے گھونسلے سے آہ و زاری کی آوازیں کئی روز آتی رہیں۔ پھر مستقل، زندگی کی حرارت سے عاری ٹھنڈی خاموشی چھا گئی۔
ادھر طائرِلاہوتی جن جن اقلیموں میں سالانہ یا ترا پر جاتا تھا، وہاں کے طیور اس کی راہ تکتے تکتے بوڑھے ہوئے پھر مرتے چلے گئے۔ حتیٰ کہ مغرب کے اقلیموں میں وہ آخری پرندہ بھی مر گیا جس کی یاداشت میں اُس طائرِلاہوتی کی برسوں پہلے سالانہ یاترا کی یادیں تھیں۔

Published inعالمی افسانہ فورمغلام حسین غازی