Skip to content

شیر کا احساس

عالمی افسانہ میلہ 2018
افسانہ نمبر .66
شیر کا احساس
اویناش امن ، پٹنہ ، انڈیا ۔

شہر کے چڑیاخانے کی جانب سے ایک اسکیم نکالی گئی کہ کوئی بھی شخص یاادارہ اپنی مرضی سے چڑیاخانہ کے کسی بھی جانور کو گود لے سکتا ہے۔ گود لئے گئے جانور کے باڑے پر اس کے نام کا بورڈ لگے گا۔ گود لینے والے کو یہ حق ہوگا کہ وہ جب چاہے اپنے جانور کو دیکھ سکے، اس کے حالات کا جائزہ لے سکے۔ گود لینے والے کو گود لئے گئے جانور پر سال بھر میں کھلانے پلانے او ر رکھ رکھاؤ میں آنے والا خرچ اٹھانا ہوگا اور گود لینے کی مدت ایک سال کی ہوگی۔
’’مجھے جانور گود لینا ہے۔‘‘
چڑیا خانہ کا منیجر آنکھوں پر چشمہ چڑھائے فائل پر حساب کتاب میں مصروف تھا۔ اس نے بغیر سراٹھائے سردلہجے میں پوچھا:
’’کس جانور کو؟‘‘
’’جی میں شیر کو گود لینا چاہتا ہوں۔‘‘
شیر کا نام سن کر منیجر چونکا۔ اس نے فائل سے سر اٹھایا۔ سامنے کچیل رنگ کی بوسیدہ قمیص پہنے کوئی ۲۸۔۳۰ سال کا دبلا پتلا نوجوان کھڑا تھا۔ اس کے زردی مائل چہرے پر کئی جگہ کڑی دھوپ سے چمڑی جلنے کے نشانات تھے۔ بال تیل سے خالی، بے ترتیب اور پاؤں گرد سے اٹے ہوئے تھے۔ اس کے پتلون کی مہری گھس گئی تھی اور اس سے جگہ جگہ دھاگے نکل آئے تھے۔ آنکھیں یوں دھنسی ہوئی تھیں جیسے کسی نے کٹوری میں انڈا توڑ دیا ہو۔ کل ملا کر وہ بہ مشکل دو وقت کی روٹی کا جگاڑ کرنے والا شخص معلوم ہوتا تھا۔
’’توتم شیر کو گود لینا چاہتے ہو؟‘‘ منیجر نے اپنے سامنے پڑی فائل بند کرکے ایک طرف سرکا دی۔ا سی درمیان ایک اسٹاف چائے کی ایک پیالی لے کر آیا اور نوجوان کے سامنے سے ہوا منیجر کی جانب سرکا دیا۔
شیر کا نام سن کر وہ بھی ٹھٹھک گیا اور نوجوان کو سر سے پاؤں تک دیکھا۔
’’سر، شیر کو تو ابھی تک بینک اور کمپنی والے ہی گود لیتے رہے ہیں اور جب سے ہمارے شیر نے ایک انسان پر حملہ کیا ہے کسی پارٹی نے اسے گود بھی نہیں لیا۔‘‘
’’تم جاؤ دیاشنکر، میں بات کر لیتا ہوں۔‘‘ منیجر کو غالباً اس کی مداخلت پسند نہیں آئی۔
’’بیٹھو‘‘ منیجر نے اپنا چشمہ اوپر سرکاتے ہوئے کہا
نوجوان پاس پڑی کرسی دھیرے سے کھینچ کر بالکل اٹینشن کے پوز میں اس طرح بیٹھا کہ بہ مشکل اس کی آدھی سرین ہی کرسی سے لگ پا رہی تھی۔
’’ہوں۔۔۔ تمہارا خیال تو اچھا ہے۔ جنگلی جانوروں کے لیے تمہارے دل میں جو محبت ہے اچھی بات ہے، تعریف کرنی ہوگی مگر بیٹا، خرچیلہ کام ہے۔ تم کسی اور جانور کو گود کیوں نہیں لے لیتے؟ کسی طوطے یا بندر کو؟ ہمارے یہاں اودبلاؤ ہیں۔ یہ سب بہت کم کھاتے ہیں۔ خرچ کم آئے گا اور تمہاری خواہش بھی پوری ہو جائے گی۔ تھوڑا زیادہ خرچ کرنا ہے تو بہت سے ہرن ہیں ہمارے یہاں‘‘ کہہ کر کچھ دیر کے لیے منیجر خاموش ہوگیا پھر اس کی آنکھوں میں چمک آگئی۔ ’’چیتا بلی۔۔۔ ہاں یہ تمہارے لیے بالکل مناسب رہے گی۔ کھاتی بھی کم ہے اور دکھتی بھی شیر جیسی ہے۔ کہو کیا خیال ہے؟‘‘ منیجر مسکرایا۔
’’نہیں، میں شیر کو ہی گود لینا چاہتا ہوں۔‘‘ نوجوان نے مضبوطی کے ساتھ اپنی بات دہرائی۔
منیجر کی پیشانی پر بل پڑ گئے۔
’’تم کام کیا کرتے ہو؟‘‘منیجر نے پرتجسس لہجے میں پوچھا۔
’’جی ٹریکٹر سے اینٹیں ڈھوتا ہوں۔‘‘ نوجوان نے نہایت سرد لہجے میں جواب دیا۔
نوجوان کا جواب سن کر منیجر کو حیرت نہیں ہوئی کیونکہ اسے اسی طرح کے کسی جواب کی امید تھی۔
’’چائے پیوگے؟‘‘
’’جی۔۔۔‘‘
منیجر نے اپنی پیالی اس کی طرف بڑھا دی۔
’’اور آپ؟‘‘ نوجوان تھوڑا جھینپا۔
’’دوسری آجائے گی‘‘ کہہ کر منیجر نے کال بیل دبا دیا۔
’’کتنا کما لیتے ہو؟‘‘
’’یہی کوئی روز کے تین چار سو روپے۔ کبھی پانچ سو بھی، کبھی کچھ بھی نہیں۔‘‘ نوجوان نے چائے کی پیالی کی طرف ہاتھ بڑھایا پھر کچھ سوچ کر پیچھے کھینچ لیا۔
’’جانتے ہو شیر کو کھلانے کا خرچ کتنا آتا ہے؟ مہینے کا کم از کم بیس سے پچیس ہزار روپے یعنی سالانہ تقریباً ۳ لاکھ روپے۔ یعنی تمہیں ۳ لاکھ روپے یکمشت جمع کرانے ہوں گے یہاں۔ کہو لائے ہو اتنے روپے؟‘‘
نوجوان نے کچھ جواب نہیں دیا بس اپنی نظریں زمین پر گڑائے رہا۔ کچھ دیر خاموشی چھائی رہی پھر منیجر نے ہی سکوت توڑا۔
’’تم شیر کو ہی کیوں گود لینا چاہتے ہو؟‘‘
’’جی، مجھے شیر پسند ہے۔ ۔۔۔‘‘ نوجوان نے سپاٹ سا جواب دیا۔
’’تو یہ کون سا طریقہ ہوا اپنی پسند دکھانے کا؟‘‘اب منیجر تھوڑا جھنجھلا گیا تھا۔‘‘ بہت شوق ہے تو شیر کے باڑے کے پاس بیٹھ جاؤ پانچ روپے کی ٹکٹ کٹا کر جتنا جی چاہے دیکھو۔ اس سے بھی دل نہ بھرے تو جنگل سفاری پر چلے جاؤ۔‘‘
’’میں شیر کو قریب سے محسوس کرنا چاہتا ہوں۔‘‘
’’کیا؟ پاگل ہو گئے ہو؟ شیر بھی کہیں محسوس کرنے کی چیز ہے؟‘‘ ’’دیا شنکر۔۔۔ دیا شنکر!‘‘ منیجر چیخا۔ ’’اس پاگل کو یہاں سے لے جاؤ۔‘‘
دیا شنکر اپنی ٹوپی سنبھالتا ہوا آیا اور منیجر سے مخاطب ہوا۔
’’سر میں تو دیکھتے ہی سمجھ گیا تھا کہ یہ آدمی کھسکا ہوا ہے۔‘‘
’’کیا یہاں کوئی بندش ہے کہ کچھ خاص لوگ ہی جانور گود لے سکتے ہیں یا پھر ہر وہ شخص جانور گود لے سکتا ہے جو اس کے لیے طے شدہ رقم جمع کرنے کو تیار ہو؟‘‘ اب نوجوان کرسی پر مضبوطی کے ساتھ جم گیا تھا۔
منیجر تھوڑا شانت ہوا۔ا س نے نوجوان سے پوچھا:
’’تم نے بتایا کہ تم روزانہ تین چار سو روپے ہی کماپاتے ہو۔ اس بڑے شہر میں ایک آدمی کا خرچ چلانا بھی مشکل ہے تو تم ہی بتاؤ اتنے کم پیسوں میں تم شیر جیسا بڑا اور مہنگا جانور کیسے پالو گے؟ تم جانتے ہو ناکہ شیر کبھی گھاس نہیں کھاتا۔‘‘
’’جی بالکل۔۔۔‘‘ نوجوان ہولے سے مسکرایا۔ ’’یہ مجھ سے بہتر کون جان سکتا ہے؟‘‘ اب منیجر کو لگا کہ اس نوجوان کو ہلکے میں نہیں لیا جا سکتا۔
’’کیا نام ہے تمہارا؟‘‘
’’بھرت۔‘‘
’’اچھا تو تمہارا نام بھرت ہے اور تم سچ مچ کے بھرت بننا چاہتے ہو اسی لیے یہاں شیر کے دانت گننے آئے ہو؟‘‘
’’نہیں۔۔۔ بھرت نے شیر کے دانت گنے، گلگمش اور اس کے ساتھی نے شیروں کو دم پکڑ کر اچھالا۔ کسی نے اس کی کھال میں بھوسے بھرا تو کسی نے اس کی سواری کی۔ میں ایسا کچھ نہیں کرنا چاہتا۔ میں نے پہلے ہی آپ سے کہا، میں شیر کو محسوس کرنا چاہتا ہوں۔ پتہ نہیں ولیم بلیک نے سانگس آف ایکہرینس ٹائیگر کو واقعی محسوس کرکے لکھا بھی یا نہیں۔‘‘
’’انگریزی کا اچھا نالج ہے۔ پڑھے لکھے معلوم ہوتے ہو۔‘‘
’’میں نے پی ایچ ڈی کی ہے انگلش لٹریچر میں۔‘‘ نوجوان کا چہرہ پہلے کی طرح ہی سپاٹ تھا۔
’’تو ٹریکٹر کیوں چلاتے ہو؟‘‘ منیجر کا تجسس بڑھتا جا رہا تھا۔
’’جی! کیونکہ میرے پاس ٹریکٹر ہے اور میں اسے چلانا جانتا ہوں۔‘‘ منیجر نوجوان کے اس جواب سے تھوڑا ہڑبڑا گیا۔ دل ہی دل میں اس نے سوچا کیسا خبطی نوجوان ہے۔
’’میر امطلب ہے کوئی نوکری کیوں نہیں کی؟‘‘
’’جی، نوکری ملی نہیں۔‘‘
’’کیا بات کرتے ہو۔ تمہارے جیسے پڑھے لکھے نوجوان کو نوکری نہیں ملی؟ کیا نام بتایا؟‘‘ منیجر کو نوجوان کا نام یاد تھا پھر بھی اس نے دوبارہ پوچھا۔
’’بھرت۔‘‘ ابھی ابھی تو بتایا تھا۔
’’صرف بھرت؟‘‘
’’جی‘‘
’’آگے پیچھے کچھ نہیں؟‘‘
’’جی نہیں‘‘
’’تمہارے پتا جی کا نام؟‘‘
’’سورگیہ ستیہ نارائن ودروہی۔‘‘
اس بار بھی اپنی امید پوری نہ ہوتی دیکھ اب منیجر کھل کر سامنے آگیا۔
’’یہ نام ہے تمہارے پتا جی کا؟‘‘
’’تو کیا آپ نے سوچا تھا ان کا نام دوشینت ہوگا؟‘‘
’’نہیں میرا مطلب ہے کوئی ٹائٹل وائٹل ۔۔۔‘‘کہتا ہوا منیجر تھوڑا جھینپ گیا۔
’’بھرت کا کوئی ٹائٹل تھا؟ دوشینت کا کوئی ٹائٹل تھا؟‘‘
’’نہیں۔‘‘ منیجر بغلیں جھانکنے لگا۔
’’میرے پتا جی کوی تھے اس لیے نام کے آگے ودروہی لگاتے تھے۔‘‘
منیجر کو اب لگا کہ اس نے غلط بحث چھیڑ دی ہے۔ اس نے بات بدلنے کی نیت سے کہا:
’’تم نے بتایا کہ تمہارے پاس ٹریکٹر ہے۔ ظاہر ہے تمہارے باپ دادا کے پاس اچھے خاصے کھیت ہوں گے۔ تبھی تو انہوں نے ٹریکٹر خریدا۔ کھیتی کیوں نہیں کرتے؟‘‘
’’میرے ٹریکٹر سے اینٹیں ڈھونے سے آپ کو کوئی پریشانی ہے؟‘‘ نوجوان اس لمبے سوال جواب سے اب اوب گیا تھا۔ تھوڑا رک کر بولا:
’’کھیت اچھے خاصے تو نہیں ہاں، تھوڑے بہت کھیت ہیں مگران پہ جھنڈے گاڑ دئے گئے ہیں۔‘‘ یہ کہہ کر وہ خاموش ہوگیا۔
منیجر کو بھی کچھ بولتے نہ بنا۔ آخر اس نے گفتگو ختم کرنے کی نیت سے کہا:
’’پیسے لائے ہو؟‘‘
’’جی یہ رہے۔ کل دس ہزار ہیں‘‘۔ کہتے ہوئے نوجوان نے اپنے پتلون کی دونوں جیبیں منیجر کے سامنے ٹیبل پر الٹ دیں۔ پھر اپنا رومال کھولا جسے وہ پوٹلی کی طرح باندھے ہوئے تھا۔ اس میں سے مزید چند مڑے تڑے نوٹ اور کچھ ریزگاریاں منیجر کی ٹیبل پر کھنکھناتی ہوئی گر پڑیں۔
منیجر نے اپنا سر اٹھا یا اور چشمے کو سیدھا کیا۔

’’اس سے کیا ہوگا؟ یہ تو ایک مہینے کا بھی خرچ نہیں ہے۔ جانور گود لینے کے لیے سال بھر کی رقم ایک مشت جمع کرنی پڑتی ہے، ایک مشت۔ تین لاکھ روپے جمع کروگے تو آگے کی کارروائی کی جائے گی ورنہ سمیٹو اپنے روپے اور نکلو۔‘‘
نوجوان کا چہرہ فق ہو گیا۔ ایک بار تو ایسا لگا کہ اس کے ارادے ڈگمگا رہے ہیں لیکن دوسرے ہی پل اس کے چہرے کی توانائی پھر سے لوٹ آئی۔ا س نے مضبوط لفظوں میں کہا :
’’سر اسے پیشگی کے طور پر رکھ لیں۔ا ب یہ جانور آپ کسی اور کو گود نہیں دیں گے باقی رقم میں تین دنوں کے اندر جمع کردوں گا۔‘‘
منیجر نے ایک نظر اس نوجوان کو دیکھا۔ دوسری نظر ٹیبل پر پڑے روپیوں کو پھر ایک گہری سانس لے کر بولا:
’’ایک بار پھر سوچ لو۔ کیوں اس جھنجھٹ میں پڑتے ہو۔ میں تمہاری بھلائی کے لیے ۔۔۔۔‘‘ اس سے پہلے کہ منیجر کی بات پوری ہو پاتی نوجوان وہاں سے نکل گیا تھا۔
تین دن بعد نوجوان پھر سے آیا اور ہزار ہزار کی گڈیاں منیجر کے سامنے پھیلا دیں۔ اب تو منیجر حیرت میں پڑ گیا۔
’’کہاں سے ملے تمہیں اتنے سارے روپے؟‘‘
’’جی میں نے اپنا ٹریکٹر بیچ دیا ہے۔‘‘
’’کیا؟‘‘ منیجر حیرت میں چیخا۔ ’’کیا کہا تم نے، اپنا ٹریکٹر بیچ دیا ہے۔ وہ تو تمہاری روزی روٹی کا اکیلا سہارا تھا۔ اب کیا کروگے؟‘‘
’’کیا میں اب اپنے جانور کو دیکھ سکتا ہوں؟‘‘ نوجوان نے منیجر کی بات کو ان سنا کر دیا۔
’’آں۔۔۔ہاں۔۔۔ہاں کیوں نہیں۔‘‘ منیجر سنبھلتا ہوا بولا۔ ویسے بھی شیر کو کھلانے کا وقت ہو ہی رہا تھا۔ کھلانے والے اسٹاف کے ساتھ چلے جانا۔ تب تک اس فارم کو بھر کر سائن کردو۔‘‘
جب سے شیر نے چڑیا گھر گھومنے آئے ہوئے ایک شخص پر حملہ کرکے اس کی پنڈلی نوچ ڈالی تھی تب سے اس کے باڑے کی دیواریں اونچی کر دی گئی تھیں۔ دیوار کے بعد ایک کھائی بنا دی گئی تھی جس میں پانی بھرا ہوا تھا۔ کھائی کے بعد کچھ چٹانوں کو جما کر سیڑیو دھوں سے ڈھنک ایک مصنوعی جنگل کی شکل دے دی گئی تھی تاکہ شیر کو قدرتی ماحول جیسا احساس مل سکے۔ چٹانوں کے پیچھے تھوڑی دور پر ایک پنجرہ نما راستہ تھا جس سے شیر کو کھانا پہنچایا جاتا تھا۔
شیر کو کھلانے کے لیے ایک تازہ ذبح کیا ہوا بکرا لایا گیاتھا۔ شیر کو کھانا دینے کے لیے دو اسٹاف آئے۔ ایک نے اپنے ہاتھوں میں ایک بڑا سا ڈنڈا پکڑ رکھا تھا۔ نوجوان دونوں کے ساتھ باڑے کے قریب پہنچا۔ باڑے کی دوسری جانب دیوار کے کنارے شیر کی ایک جھلک پانے کے لیے بے تاب لوگوں کی بھیڑ اکٹھی تھی۔ یہ بھیڑ یوں تو عموماً رہتی تھی مگر شیر کو کھانا دیتے وقت بھیڑ کچھ زیادہ ہی بڑھ جاتی۔سبھی شیر کو کھاتے ہوئے دیکھنا چاہتے تھے۔ شیر کو کھاتا دیکھ جسم میں ا یک عجیب سہرن کا احساس ہوتا تھا۔ جب کھاتے وقت شیر بھیڑ دیکھ کر پریشان ہو کر غراتا تو اس کے خون لگے دانت لوگوں کی رگوں میں خون کا دوران تیز کر دیتے تھے۔
دونوں اسٹاف میں سے ایک نے پنجرے کا تالا کھولا اور نوجوان کو دھیرے سے اندر آنے کا اشارہ کیا۔ پنجرہ نما راستے میں وہ تھوڑی دور آگے بڑھے۔ آگے ایک اور دروازہ تھا۔
’’ہم گوشت یہیں سے گیٹ کے اندر گھسا دیتے ہیں اور پنجرے کی راز پر ڈنڈا مار کر شیر کو ادھر بلاتے ہیں۔ شیر آکر تھوڑا گوشت یہیں کھا لیتا ہے باقی لے کر جھاڑیوں کے پیچھے چلا جاتا ہے۔ یہی شیر کا مزاج ہے۔‘‘ ایک پھسپھسایا۔
نوجوان نے نظریں اٹھائیں۔ شیر ایک چٹان پر پیڑوں کی اوٹ میں لیٹا ہوا تھا۔ ’’تو ہم لوگ اس سے آگے نہیں جائیں گے؟‘‘
’’مرنا ہے کیا؟‘‘ دوسرا پھسپھسایا۔
’’ایسا کہاں ہوتا ہے؟ شیر انسانوں پر حملہ کرتا ہے۔ یہ تو پھر بھی پالتو ہے۔ ذرا اس تالے کو کھولو تو سہی۔‘‘
’’پاگل ہو گئے ہیں ہجور۔ آپ گود لئے ہیں شیر کو اس کا مطلب یہ نہیں کہ من مانی کیجئے گا۔ نکلئے باہر۔‘‘
اس کے بعد دونوں ملازمین کچھ سمجھ پاتے نوجوان نے ایک کے ہاتھوں سے جھٹکے سے چابی کھینچی اور بجلی کی رفتار سے تالا کھول پھر فوراً تالا بند کرلیا۔ اب وہپنجرے کے باہر کھلی جگہ پر آگیا تھا جہاں وہ تھا اور شیر تھا۔ دونوں اسٹاف باہر ہی رہ گئے۔ اچانک اس کی حرکت سے دونوں ملازمین چلانے لگے۔ ’’بچاؤ بچاؤ دوڑو دوڑو۔‘‘ ان کی آوازیں سن کر دیوار کے سہارے کھڑے سبھی ناظرین شور مچانے لگے۔ کچھ ہی دیر میں پورا چڑیاخانہ شیر کے باڑے کے پاس آگیا۔ شور سن کر شیر جو کہ جھاڑیوں کے درمیان لیٹا اونگھ رہا تھا نوجوان کی طرف آیا اور نوجوان سے کچھ دوری پر کھڑا ہو گیا۔
سبھی چلانے لگے۔ ’’کوئی بچا لو اس کو۔۔۔ پاگل ہے۔‘‘ لوگوں میں دہشت بھی تھی اور تجسس بھی کہ دیکھیں آخر شیر کیا کرتا ہے؟
تب تک چڑیا گھر کا منیجر بھی آچکا تھا اور نوجوان کو شیر کے باڑے کے اندر دیکھ کر اپنی ہتھیلیاں بھینچ رہا تھا۔ ’’اف میں نے اسے پہلے ہی دن بھگا کیوں نہیں دیا؟‘‘
’’حضور میں پہلے ہی نہ کہتا تھا کہ یہ آدمی پاگل ہے۔‘‘
ودیاشنکر منیجر کے کانوں میں پھسپھسایا۔
’’اوف۔ ہے بھگوان۔ تم اندر کیوں گھس گئے نکل جاؤ۔ ابھی بھی وقت ہے۔ شیر تم سے ابھی دور ہے۔‘‘ منیجر چلایا۔
نوجوان نے اپنا چہرہ اوپر اٹھایا جس پر خوف کا کوئی بھی نشان دور دور تک نہ تھا اور نہ ہی پشیمانی کی کوئی علامت تھی۔ منیجر نے اپنے پاس کھڑے ودیاشنکر سے کہا:
’’جلدی فارسٹ ڈیپارٹمنٹ فون کرو۔ بے ہوشی کی بندوق کے ساتھ جلد آدمی بھیجے۔‘‘
’’لگا رہے ہیں سر۔ آل چینلس بِزی آرہا ہے۔‘‘ ودیا شنکر کبھی اپنے موبائل کے بٹن دباتا تو کبھی اسے کھینچ میں ٹھوکتا۔ نوجوان کچھ کہہ رہا تھا مگر دوری کی وجہ سے اس کی آواز صاف نہیں آرہی تھی۔ تب تک میڈیا اور ٹی وی چینلس والے وہاں جمع ہوگئے تھے۔ ایک نے اپنی مائیک نوجوان کی طرف اچھال دی۔ نوجوان نے کہنا شروع کیا:
’’کوئی مجھے بچانے کی کوشش نہ کرے۔ آپ سارے لوگ مجھے پاگل سمجھ رہے ہیں۔ میں شیر کو محسوس کر رہا ہوں۔ میں اس موت کو دیکھ رہا ہوں جو میری خریدی ہوئی ہے۔ مرنے سے سبھی کو ڈر لگتا ہے مگر دوسروں کو مرتے دیکھ بڑی خوشی ملتی ہے۔ بچے ہوش سنبھالتے نہیں کہ بندوق خریدنے کی ضد کرنے لگتے ہیں۔ سنیما کے اشتہاروں میں بڑے بڑے حروف میں لکھا جاتا ہے کہ ’’ماڑدھاڑ اور ایکشن سے بھرپور‘‘ شیر کی تصویر لوگ شوق سے اپنے ڈرائنگ روم میں شوق سے لگاتے شیر کی کھال میں بھوسا بھر کر رکھتے ہیں۔ بھرت شیر کے دانت گنتا ہے تو گلگیش اور اس کا ساتھی شیروں کی پونچھ پکڑ کر الٹا لٹکاتا ہے مگر کسی نے موت کی خوبصورتی دیکھی ہے؟ میں نے آج اپنے شیر کو محسوس کیا ہے بہت قریب سے۔‘‘ کہہ کر نوجوان خاموش ہوگیا۔ بھیڑ دھیرے دھیرے چھٹنے لگی۔ یہاں تک کہ پورا چڑیا خانہ خالی ہوگیا۔ اب وہاں کوئی نہیں ہے۔ لیکن ہمارا نوجوان آج بھی وہیں کھڑا ہے۔ صدیوں سے وہ شیر کو محسوس کر رہا ہے اور شیر اسے۔

Published inاویناش امنعالمی افسانہ فورم