Skip to content

شہزادہ

عالمی افسانہ میلہ
افسانہ نمبر 164
شہزادہ
وحید احمد قمر ۔ فرینکفرٹ ، جرمنی

نیلگوں آسمان کی وسعتوں میں سرمئی بادل تیر رہے تھے ۔ اور سورج بھی اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہا تھا ۔ تاہم کبھی کبھی بادل کا کوئی بڑا ٹکڑا سورج کے سامنے آ کر وادی کے کچھ حصے پر چھاوں کر دیتا ۔ لیکن جب کچھ دیر بعد ہوا بادل کے اس ٹکڑے کو دور اڑا لے جاتی تو وادی پھر سورج کی تیز کرنوں میں نہا سی جاتی ۔ تاحد نگاہ سرسبز ٹیلے اور میدان تھے ۔ اطراف میں جنگلی جھاڑیوں اور درختوں کی بہتات تھی ۔ کہیں کہیں کھیت اور باغات بھی تھے ۔ اور ان کے بیچوں بیچ آڑھی ترچھی پگڈنڈیاں دور دور تک جاتی نظر آتیں ۔ ایسی ہی ایک پگڈنڈی پر وہ تیز تیز قدم اٹھاتی بڑھی چلی جا رہی تھی ۔ جس راستے پر وہ چل رہی تھی اس کے دونوں جانب خوش رنگ پھولوں کی باڑھ لگی ہوئی تھی ۔ جن کی خوشبو فضا کو معطر کیے ہوئے تھی ۔ وہ چلتے چلتے رکی اور پگڈنڈی کو چھوڑ کر پھولوں کے بیچ راستہ بناتی گھنے درختوں کے درمیاں اس جگہ جا پہنچی ، جہاں ایک پہاڑی جھرنا بہہ رہا تھا ۔ جس کا پانی پتھروں پر اچھل اچھل کر عجب دلکش آواز پیدا کرتا نیچے وادی میں گر رہا تھا ۔ وہ چند لمحے کھڑی ادھر ادھر دیکھتی رہی پھر اس نے وہ بڑی سی سیاہ چادر اتار کر ایک پتھر پر رکھ دی ۔ جسے اب تک سرتا پا اوڑھے ہوئے تھی ۔ یہاں درختوں کی چھاؤں گھنی تھی ۔ سورج کی روشنی ان درختوں کی شاخوں سے چھن چھن کر اس کے چہرے اور جسم پر پڑ رہی تھی ۔ وہ دلکش خدوخال اور متناسب جسم کی مالک ایک خوبصورت لڑکی تھی ۔ اس نے گہرے نیلے چمکدار رنگ کی قمیض اور ہلکے گلابی رنگ کی شلوار زیب تن کر رکھی تھی ۔ جب کہ گلابی رنگ کا ہی دوپٹہ اس کے گلے میں تھا ۔ اس کے بال بہت لمبے تو نہیں مگر گھنے اور چمکدار تھے جو اس کے دونوں شانوں سے ڈھلکتے ہوئے سینے تک آ گئے تھے ۔ وہ کچھ دیر درختوں کے درمیاں چلتی رہی پھر جھرنے کے قریب ایک بڑے پتھر پر بیٹھ گئی ۔ اس کی نگاہیں مسلسل اپنی کلائی کی گھڑی پر تھیں ۔ جوں جوں وقت گزر رہا تھا اس کے چہرے پر اضطراب کی کیفیت نمایاں ہوتی جا رہی تھی ۔ جب کافی دیر یونہی گزر گئی تو اس کے چہرے پر اضطراب کی جگہ پریشانی نے لے لی ۔ وہ اپنا نچلا ہونٹ دانتوں سے کاٹتی ہوئی اٹھی اور واپسی کے لیے مڑ گئی ۔ اس کے چہرے پر مایوسی تھی ۔ وہ تھکے تھکے اور بوجھل قدم بڑھاتی اوپر کی طرف چلدی ۔ اسی وقت اچانک ایک درخت پر سے ڈھیروں پھولوں کی بارش سی اس کے وجود کو معطر کر گئی ۔ آن کی آن میں ان گنت پھول اس پر گرتے چلے گئے ۔ اس نے گھبرا کر اوپر دیکھا ۔ خرم شہزاد کا مسکراتا چہرہ ٹہنیوں کے بیچ نظر آیا ۔ اس نے خفگی سے اپنا رخ دوسری جانب کر لیا ۔ وہ درخت سے چھلانگ لگاتا ہوا اس کے قریب آیا اور ایک گھٹنا ٹیک کر اس کے سامنے جھک گیا ۔ پھر لڑکی کے ہاتھ کو نزاکت سے اپنی انگلیوں میں تھاما اور اس کی پشت پر ایک طویل بوسہ دیا ۔ وہ مصنوعی خفگی سے اسے دیکھتی رہی ۔ مگر کچھ نہ بولی ۔ کچھ لمحات اسی طرح گزر گئے ۔ آخر خرم نے ہی اس خاموشی کو توڑا ۔
اتنی خفا کیوں ہو فاخرہ ؟
ارے ۔۔ جیسے تم جانتے ہی نہیں ۔ پورا ایک گھنٹہ لیٹ آئے ہو ۔ اور یہ پہلی بار نہیں ہے ۔ تم نے تو عادت ہی بنا لی ہے ۔ ہمیشہ انتظار کرواتے ہو ۔ جان لیوا انتظار ۔ فاخرہ منہ پھلائے ہوئے بولی
تمھارے لیے پھول اکٹھے کرتے کرتے دور تک نکل گیا ۔ اور پھر ایک گھنٹہ کچھ ایسی بھی تاخیر نہیں کہ اتنا ناراض ہوا جائے ۔ خرم شہزاد کی آواز میں کسی قدر لاپروائی تھی
تمھارے لیے نہ ہو گی تاخیر ۔ مرد ہو نا ۔ کسی کو جواب دہ نہیں ہو ۔ میں چھپتے چھپاتے آتی ہوں ۔ محدود وقت ہوتا ہے میرے پاس ۔ جس کا ایک ایک لمحہ میں تمھارے ساتھ گزارنا چاہتی ہوں ۔ مگر آج ۔ ۔ میں ابھی واپس جاؤں گی ۔ اس نے جانے کے لیے قدم بڑھائے
ارے ارے ، اتنا غصہ ۔ رکو ۔ یوں چھوڑ کے نہ جاؤ ۔ اتنے دن بعد تو ملے ہیں ۔ خرم اس کے پیچھے چلتا ہوا بولا
نہیں رکوں گی ۔ آج ملے بغیر واپس جاؤں گی تو آئندہ تم کبھی لیٹ نہ آؤ گے۔ وہ درختوں کے درمیاں تیز تیز چلتی ہوئی بولی ۔
اور اگر میں بڑھ کر تمھیں روک لوں تو ؟
روک سکتے ہو تو روک لو ۔ میں چلی ۔ فاخرہ درختوں کے درمیان بھاگتے ہوئے بولی ۔ کالج میں دوڑ کے مقابلوں میں ہمیشہ آؤل آتی رہی ہوں ۔ تم مجھے نہ پکڑ پاؤ گے ۔
خرم چند لمحے اسے اپنے سے دور جاتے دیکھتا رہا ۔ پھر اس کے پیچھے دوڑا ۔اور جلد ہی اس کے عقب میں جا پہنچا ۔ ہاتھ بڑھا کر اسے پکڑنا چاہا ، اسی لمحے پاؤں الجھے اور وہ نیچے آ رہا ۔
فاخرہ نے پیچھے مڑ کر اس کی طرف دیکھا ۔ رکی اور چڑانے والے انداز میں بولی ۔ میں نے کہا تھا نا کہ تم مجھے نہ پکڑ سکو گے ۔پھر آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی اس کے قریب آئی اور شوخی سے بولی ۔ چوٹ تو نہیں آئی میرے شہزادے کو ۔
خرم نے ایک دم اس کا ہاتھ پکڑا اور اسے یوں گرا یا کہ فاخرہ کے جسم کا سارا بوجھ اس پر آ رہا۔ اس کا چہرہ خرم کے مقابل تھا اور وہ اس کے سینے سے لگی گہری گہری سانسیں لے رہی تھی ۔ وہ چند لمحے ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھتے رہے پھر فاخرہ نے اپنا ایک ہاتھ اس کی آنکھوں پر رکھ دیا ۔
کچھ وقت یونہی گزر گیا پھر خرم نے اسکا ہاتھ اپنی آنکھوں سے ہٹایا اور اس کے دلکش چہرے کو اپنے ہاتھوں کے پیالے میں لے کر وارافتگی سے اسے دیکھتے ہوئے گویا ہوا ۔
تم نہیں تھیں تو دل اک شہر وفا تھا جس میں
تمھارے ہونٹوں کے تصور سے تپش آتی تھی
خرم اس کے سرخ ہونٹوں پہ جھکا ۔ فاخرہ نے ہاتھ اپنے اور اس کے لبوں کے درمیاں رکھ لیا۔ خرم محویت کے عالم میں کہتا رہا۔
تمھارے انکار پہ بھی پھول کھلے رہتے تھا
تمھارے انفاس سے بھی شمع جلی جاتی تھی

دن اس امید پہ کٹتا تھا کہ دن ڈھلتے ہی
تم نے کچھ دیر کو مل لینے کی مہلت دی ہے

وہ شعر پڑھتے پڑھتے رکا اور فاخرہ کے گالوں کو اپنی انگلیوں سے چھوا۔
پھر اگلا شعر پڑھا

انگلیاں برق زدہ رہتی تھیں جیسے تو نے
اپنے رخساروں کو چھونے کی اجازت دی ہے

فاخرہ کھلکھلا کر ہنسی اور دیر تک ہنستی رہی ۔ پھر بولی ۔ مصطفیٰ ذیدی کی روح تڑپ اٹھی ہو گی اپنی نظم کی یوں مرمت ہوتے دیکھ کر ۔ سچ بہت کیوٹ ہو تم ۔
خرم شہزاد کچھ دیرخاموشی سے اس کے چہرے کو محبت پاش نظروں سے دیکھتا رہا ۔ پھر بولا
اگر میں شاعر یا ادیب ہوتا تو خود تم پر نظمیں کہتا ۔ تمھارے عارض و رخسارکو غزل میں برتتا ، تمھارے شیریں لبوں اور سحر انگیز آنکھوں کے افسانے لکھتا ۔ تمھاری گھنی زلفوں اور ۔۔ فاخرہ نے اس کے لبوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا ۔ بس ۔ اور کچھ نہیں ۔ تم بہک رہے ہو ۔ جب کہ میری سلطنت میں بہکنا منع ہے شہزادے ۔
اسی وقت زورسے بادل گرجے اور ہلکی ہلکی بارش شروع ہو گئی ۔ چلو بھاگ کر کسی سائباں تلے پناہ لیتے ہیں ۔ ورنہ بری طرح بھیگ جائیں گے۔
نہیں ، خرم شہزاد نے اپنے بازو اس کی کمر کے گرد حمائل کر لیے ۔ بری طرح بھیگ جائیں ، پرواہ نہیں ۔
تمھیں پرواہ نہ ہو گی ۔ مجھے ہے ۔ شام سے پہلے گھر پہنچنا ہے ۔ چھوڑو مجھے ، جانے دو۔ خرم نے کوئی جواب نہ دیا بلکہ فاخرہ کے گرد اپنے بازوؤں کا حلقہ اور تنگ کر دیا ۔
ارے ۔ بارش تیز ہوتی جا رہی ہے ۔ اور تمھیں اٹھکیلیاں سوجھی ہیں ۔ ہم شرابور ہو جائیں گے ۔ میری کمر چھوڑو پلیز ۔
پہلے میری ایک فرمائش پوری کرو ۔ اپنے بھیگتے لبوں کو چھونے کی اجازت دے دو ۔
ہرگز نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ایسا ویسا کچھ نہ ہو گا ۔ بس اب چھوڑو مجھے ۔ میرے بال بھیگ رہے ہیں ۔ دوپٹہ جانے کہاں گیا ۔ اور چادر تو جھرنے کے قریب رکھ آئی تھی ۔
پھر اس نے ایک جھٹکے سے خود کو الگ کیا اور اٹھ کھڑی ہوئی ۔ میری شامت آ جائے گی آج ، سارے کپڑے بھیگ گئے ۔ اففف ، شہزادے ۔ تم بہت ضدی ہو۔
یہاں سے میری حویلی قریب ہے ۔ پہلے وہاں چلتے ہیں ۔ جب بارش رک جائے گی تو میں تمھیں تمھارے گھر تک چھوڑ آؤں گا۔
نہیں شہزادے ، بہت دیر ہو جائے گی ۔ بس میں اب جاتی ہوں ۔
اگلی ملاقات کا تو بتاتی جاؤ۔
فون کروں گی ۔ اور تم بھی جلد اپنی حویلی پہنچو۔ بارش تیز ہوتی جارہی ہے ۔۔۔ خداحافظ
۔۔۔۔
فاخرہ حویلی کے طویل و عریض صحن سے گزر کر جونہی برآمدے میں داخل ہوئی ۔ اس کی نظر پھوپھی جان پر پڑی ۔ جو تخت پوش پر بیٹھی اسے پرتشویش نظروں سے دیکھ رہیں تھیں ۔
فاخرہ بیٹا ۔ آج بہت دیر کر دی ۔ موسم بھی خراب ہے ۔ میں تمھارے لیے بہت پریشان تھی ۔
پھوپھو جان ۔ کالج کے بعد میں لائیبریری چلی گئی تھی وہاں پرسکون ماحول میں بیٹھ کر اپنے ناول کا ایک باب مکمل کیا ۔ پھر بارش شروع ہو گئی تو وہیں بیٹھی رہی کہ بارش رکے تو گھر جاؤں ۔
فون کر دیا ہوتا بیٹا ۔ شکر ہے تمھارے بابا گھر پر نہیں ہیں ۔ ورنہ اک ہنگامہ کھڑا کر دیتے ۔ وہ پہلے ہی تمھارا گھر سے نکل کر جاب پر جانا کچھ ذیادہ پسند نہیں کرتے ۔
سوری پھوپھو جان ۔ فون چارج نہ تھا ۔ آئندہ خیال رکھونگی ۔ بابا سائیں کہاں گئے ہیں ۔
زمینوں پر ۔ شاید کل ہی واپسی ہو ۔ اچھا تم منہ ہاتھ دھو لو ۔ میں کھانا لگواتی ہوں۔
مجھے بھوک نہیں ہے پھوپھو جان ۔ رقیہ آپا اور ساجدہ نے کھا لیا کھانا ؟۔
کہاں بیٹاجی ۔ رقیہ کو آج پھر دورہ پڑا ہے ۔ بڑی مشکل سے اسے سمبھالا اور دوا پلائی ۔ سو رہی ہے اپنے کمرے میں ۔ اور ساجدہ نے بھی کھانا نہیں کھایا ۔ بس اک سلمیٰ نے میرا ساتھ دیا کھانے پر ۔
تو تم بالکل کچھ نہ کھاؤ گی ؟
نہیں پھوپھو، بالکل دل نہیں چاہ رہا ۔ اچھا میں رقیہ آپا کو دیکھ لوں ۔ فاخرہ اندرونی راہداری کی طرف مڑی
سنو ۔ پھوپھی جان کی آواز نے اس کے بڑھتے قدم روک لیے ۔
وہ مڑی ۔ اور استفہامیہ نظروں سے ان کے چہرے کی طرف دیکھنے لگی ۔
ادھر آؤ ۔ میرے پاس آکر بیٹھو ۔
فاخرہ آہستہ آہستہ چلتے ہوئے ان کے قریب تخت پوش پر آ کر بیٹھ گئی ۔ پھوپھی جان کچھ دیر تک خاموشی سے اسے دیکھتی رہیں ۔ ان کی آنکھوں میں دنیا جہان کا پیار سمٹ آیا تھا ۔
بیٹا ۔ ادا سائیں تمھاری شادی کرنا چاہتے ہیں ؟
فاخرہ نے خالی خالی آنکھوں سے انہیں دیکھا ۔ اور آہستگی سے بولی
پھوپھو جان ۔ پہلے رقیہ آپا اور ساجدہ کی شادی ہونی چاہیے ۔
رقیہ سے اب کون شادی کرے گا ۔ اس کی بیماری کا سارے خاندان کو علم ہے ۔ اور ساجدہ سے میں پوچھ چکی ہوں ۔ وہ وہاں شادی نہیں کرنا چاہتی ۔ جو رشتہ تمھارے بابا نے بتایا ہے ۔
اور بابا سائیں نے اس کا انکار تسلیم کرلیا ہے ؟
ہاں ۔ وہ نہیں چاہتے کہ تم بہنوں کی مرضی کے بغیر رشتے طے کریں ۔
یہ انقلاب کب آیا ان کی سوچ میں ؟ جب یونیورسٹی کے زمانے میں میرے رشتے آتے تھے تو وہ مجھ سے پوچھے بغیر ہی انکار کر دیتے تھے کہ ہم خاندان سے باہر شادی نہیں کریں گے ۔
تم اپنے بابا سے شاکی ہو ؟
نہیں پھوپھو ، میں شاکی نہیں ہوں ۔ لیکن مجھے بہت دکھ ہے ۔ جب وقت تھا اور اچھے رشتوں کی اک قطار لگی ہوئی تھی میرے لیے ۔ تب صرف اس لیے کہ وہ رشتے ہمارے ہم پلہ نہ تھے ۔ ان کو ٹھکرا دیا گیا۔
نادانی کی باتیں نہ کرو ۔ تمھارے بابا تم سے بہت محبت کرتے ہیں۔ انہوں نے جو فیصلے کیے تمھارے بھلے کے لیے کیے۔
جی ۔ جیسے آپ کا بھلا کیا انہوں نے ۔
فاخرہ ۔۔ میں کسی کو قصور وار نہیں ٹھراتی ۔ میرے ہاتھ میں شادی کی لکیر ہی نہ تھی اور شاید یہ اچھا ہی ہوا ۔ تمھاری ماں کی وفات کے بعد تم لوگوں کو سمبھالنے کے لیے بھی تو کسی کی ضرورت تھی نا ۔ خدا نے مجھ سے یہ کام لیا ۔
اچھا پھوپھو جان ۔ میں ایک نظر رقیہ آپا کو دیکھنا چاہتی ہوں ۔ فاخرہ اٹھتے ہوئے بولی ۔
یہ نہ پوچھو گی کہ کس نے رشتے کا پیغام بھیجا ہے؟
نہیں ، مجھے اندازہ ہے کہ کوئی بے جوڑ رشتہ ہی ہو گا۔
بے جوڑ نہیں ہے ۔ ہمارے ہی خاندان کے معزز اور سلجھے ہوئے آدمی ہیں ۔ شہاب الدین خان ۔
وہ شہاب الدین خان ، جنہیں میں آج تک انکل کہتی آئی ہوں ۔ پھوپھو ۔۔ خدا کے لیے ۔ یہ آپ کے نزدیک بے جوڑ رشتہ نہیں ہے ۔
دیکھو ۔ تم تیس سے اوپر ہو چکی ہو ۔اب ایسے رشتوں کا آنا غنیمت جانو ۔
فاخرہ کچھ نہ بولی ۔ اس کی آنکھوں میں آنسو جھلملائے ۔ چند ایک گالوں پر بھی ڈھلک آئے ۔ جنہیں ہتھیلی سے پونچھتے ہوئے وہ اندرونی کمروں کی طرف بڑھتی چلی گئی
۔۔
وہ بستر پر دراز کھڑکی سے نظر آتے چاند کو دیکھ رہی تھی ۔ اس کی آنکھوں میں بلا کی اداسی جب کہ چہرے پر گہری یاسیت طاری تھی ۔ وہ کافی دیر خالی الذہنی کی کیفیت میں چاند کو تکتی رہی ۔ پھر اس نے ایک طویل سرد آہ بھرتے ہوئے کروٹ لی ۔ اور سونے کی کوشش کرنے لگی ۔ کچھ وقت گزر گیا ۔ اچانک اسے ایک کھٹکے کی آواز بہت قریب سے سنائی دی ۔ اس نے گھبرا کر آنکھیں کھول دیں ۔ خرم شہزاد کھڑکی کے قریب کھڑا اسے پرشوق نگاہوں سے دیکھ رہا تھا ۔
اوہ ۔ شہزادے تم ۔ ۔۔ اس وقت یہاں ۔ اوہ ۔۔ اوہ ۔۔۔ کیسے یہاں تک پہنچے ۔ وہ تیزی سے بستر سے اٹھی اور خرم کے قریب پہنچ گئی ۔ چند لمحے اسے دیکھتی رہی ۔ پھر آگے بڑھ کر کھڑکی بند کر دی اور مضطربانہ انداز میں اس کی طرف مڑی ۔ وہ سینے پر ہاتھ باندھے مسکراتے ہوئے اسے دیکھ رہا تھا۔
تم حویلی کے اندر کیسے آئے ۔ اور پھر میرے کمرے تک ۔ ۔۔
بس آ گیا ۔ یہ اہم ہے کہ میں اس وقت تمھارے روبرو ہوں ۔ کیسے آیا ۔۔ کیونکر آیا ۔ اہم نہیں ۔
لیکن شہزادے ، حویلی کی دیواریں بہت اونچی ہیں نا ۔ پھلانگ کر آئے ہو ۔؟؟ تمھیں چوٹ تو نہیں آئی ۔ ۔ ۔ وہ اس کے ہاتھوں اور بازؤں کو چھو کر بولی
چھوڑو یہ سوالات ، یہ بتاؤ ۔ اسقدر اداس کیوں ہو ۔ شام کو تو بالکل ٹھیک تھیں ۔
میں نے توآج سوتے وقت کوئی میسج بھی نہیں کیا تمھیں ؟ پھر تمھیں کیسے پتہ چلا کہ میں بے حد اداس ہوں ۔
میرے دل نے کہا۔۔۔ ۔اور تم سونے سے پہلے ہمیشہ مجھے میسج کرکے سوتی ہو ۔ مگر آج شام سے تم آف لائن ہو ۔ میں نے کال بھی کی تھی مگر شاید تمھارا فون ہی بند ہے ۔ مجھے سخت پریشانی ہوئی ۔ پس میں نے فیصلہ کیا کہ ہرصورت تم تک پہنچا جائے ۔
آہ ۔ تمھیں میرا کتنا خیال ہے ۔ آہ، آہ ۔ میرے دل کی سلطنت کے شہزادے ، میرے محبوب ۔ میرے ہمدم ، میرے دوست ۔ فاخرہ والہانہ انداز سے آگے بڑی اور اس کے سینے پر سر رکھ کر سسکیاں بھرنے لگی ۔
خرم نے دونوں بازو اس کی کمر کے گرد حمائل کیے اور اس کے سر پر اپنی تھوڑی ٹکا دی ۔ وہ کافی دیر اس کے سینے سے لگی روتی رہی ۔ پھر سر اٹھا کر اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگی ۔ خرم نے دیکھا ۔ اس کاچہرہ آنسوؤں سے تر تھا ۔ وہ اپنی انگلیوں سے اسکے گالوں پر ڈھلکے آنسو صاف کرتے ہوئے بولا۔ کون کہہ سکتا ہے کہ یہ روتی بسورتی لڑکی وہی ہے جو شام کو جنگل میں ہرنی کی طرح قلانچیں بھر رہی تھی ۔
وہ کھلکھلا کر ہنس دی ۔ پھر کچھ توقف کے بعد بولی ۔ تم پہلی بار میرے کمرے میں آئے ہو ۔ کیا سوچتے ہوگے کہ میں نے تمھاری کوئی خاطر تواضع کرنے کی بجائے رونا دھونا شروع کر دیا ہے ۔ یہ بتاؤ کیا لاؤں تمھارے لیے ۔ چائے ، جوس یا کچھ کھانے کے لیے ؟
نہ پیئوں گا کچھ اور نہ کھاؤں گا ہی ۔ تمھیں دیکھنے کی پیاس ہے ، تم سے بات کرنے کی بھوک ہے ۔ وہ پھر ہنسی اور اس کا ہاتھ پکڑ کر بولی ، چلو آؤ اس طرف بستر پر چل کر بیٹھتے ہیں۔
نہیں تم اپنے بستر پر بیٹھو ۔ میں رائیٹنگ ٹیبل کے قریب پڑی کرسی اس طرف کھسکا کے بیٹھ جاتا ہوں ۔
ارے نہیں ، وہ کرسی آرام دہ نہیں ہے ۔ تھک جاؤ گے ۔ تم بستر پر ہی بیٹھو گے ۔ یہ کہہ کر فاخرہ نے اسے بستر پر دھکیل دیا ۔ خرم کے لیے اس کی یہ حرکت غیر متوقع تھی ۔ وہ کمر کے بل بستر پر گرا ۔ ابھی سمبھل ہی رہا تھا کہ فاخرہ نے اپنے بدن کا سارا بوجھ اس پر ڈال دیا ۔ دونوں کے چہرے ایک دوسرے کے مقابل تھے ۔ خرم نے دیکھا اس کی آنکھوں میں ایک طوفان بپا تھا ۔ اس نے اپنے بالوں کو ربن کی قید سے آذاد کیا اور گھنیری زلفیں خرم کے چہرے پر بکھیر دیں ۔ پھر خمار آلود لہجے میں بولی ۔ تم میری طرف بڑھنے سے پہلے اجازت لیا کرتے تھے نا ۔ اور میں منع کر دیتی تھی ۔ لو تمھیں اجازت ہے ۔ آج جی بھر کے میری زلفوں سے کھیلو ۔ میری جلتے ہوئے چہرے پہ اپنا چہرہ رکھ دو ۔ اے میرے پیار کے خوابوں کے حسیں شہزادے ۔ مجھ کو اپنے ہونٹوں سے چھو لو ۔ ۔ ۔ ۔۔ میری نس نس میں شرارے بھر دو ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تم خاموش کیوں ہو ۔ کچھ بولتے کیوں نہیں ۔
فاخرہ ۔ تم ہوش میں نہیں ہو ۔
میں اس وقت ہی تو ہوش میں ہوں شہزادے ۔ میں نے جوانی کے بہترین سال اپنی تمناؤں کا گلا گھونٹتے گزارے ۔ خوابوں میں بھی تمھاری پیش قدمی کو روکتی رہی ۔ کیا ملا مجھے ،تنہائی کی طویل سیاہ راتیں ؟۔۔۔۔ اذیت ۔۔۔۔ بے بسی ۔۔۔ بےچارگی ۔
آج کی رات ۔ ۔ ۔ میں اپنے آپ کو نہیں روکوں گی ۔ میرے محبوب ۔ میرے ہمدم ۔ مجھے اپنی بانہوں کے حصار میں لے لو ۔ اپنی گرم سانسوں کو میری سانسوں میں گھل مل جانے دو ۔ میرے سلگتے ہوئے ہونٹوں پہ اپنے لب رکھ دو ۔ میں دل و جان سے تمھاری ہوں ۔ میرے مالک ، میرے ساتھی ۔
تم چپ کیوں ہو ۔ کوئی بات کیوں نہیں کرتے ۔ ۔۔ تمھاری آنکھیں بھی بند ہیں ۔ اور تمھارا جسم سرد ہو رہا ہے ۔ شہزادے آنکھیں کھولو ۔ مجھ سے بات کرو ۔۔۔ شہزادے ۔۔۔۔ شہزادے ۔۔۔
فاخرہ کی آوازیں بلند ہوتی گئیں ۔۔۔ اس کی پھوپھو فجر کی نماز کے لیے اٹھی تھیں ۔ شور سن کر وہ تیز تیز قدموں سے چلتی فاخرہ کے کمرے میں پہنچیں ۔ فاخرہ تکیے کو اپنے سینے سے بھینچے چیخے چلی جا رہی تھی ۔
شہزادے ۔۔۔ شہزادے ۔۔۔ شہزادے

Published inعالمی افسانہ فورموحید احمد قمر