Skip to content

شوقِ وصل و شکوۂ ہجراں

عالمی افسانہ میلہ 2018
افسانہ نمبر 103
شوقِ وصل و شکوۂ ہجراں
امجد علی شاہ ۔۔ کیلیفورینا امریکہ

قریب ہو کر بیٹھو اتنی دور دور کیوں ہو؟ ۔ اشہر موٹر سائیکل پر آگے کو سمٹتےہوئے بولا
۔ میں ٹھیک ہوں اس سے زیادہ قریب نہیں ہونا۔ردا نے مضبوطی سے اسٹینڈ تھام لیا
اچھا ناں پکڑو تو مجھے بائیک سے گر جاؤ گی ۔۔ کیوں کیا ہوا ہے تمہیں ، اتنا عجیب رویہ کیوں ہے ؟
اشہر نے موٹر سائیکل کی رفتار بڑھاتے ہوئے سوال کیا۰
۔ایسے ہی بس ، تمہاری خواہش تھی ناں آخری دفعہ مل لو، لو آگئ
کہاں چلنا ہے اب بتاؤ ؟
دوست کا فلیٹ خالی ہے وہاں چلیں ؟
۔ ہر گز نہیں یہیں اتار دو واپس چلی جاتی ہوں ۔۔ردا غراتے ہوئے بولی
کیا ہے تمہیں اچھا چلو آئس کریم پارلر چلتے ہیں
۔ ہمم اوکے
ردا اور اشہر کی دوستی چار سال پرانی تھی دونوں پہلی بار کالج میں ملے تھے ۔ اشہر ایک خوبرو نوجوان تھا جس کی زندگی میں آنے والی ردا پہلی لڑکی نہیں تھی دوسری طرف ردا بھی خوابوں بھری حسین شہزادی تھی ردا کی زندگی میں آنے والا واحد مرد اشہر تھا اپنے مطلوبہ پارلر پہنچ کر دونوں گوشہ تنہائی کی مخصوص کیبن میں موجود تھے
اپنا ہاتھ دو
۔ کوئی نہیں دینا ایسے ہی بات کرو
کیوں ؟ پکڑاؤ ، پہلے تو تم میری بانہوں میں سمٹنے کو بیتاب رہتی تھی ؟ اشہر کن اکھیوں سے اسے دیکھتے ہوئے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگا
۔ ہاں معصوم تھی ناں اسی کا فائدہ اٹھایا تم نے ، تم نے قدر ہی نہیں کی میری ۔۔ ردا نے سرد آہ بھرتے ہوئے جواب دیا
پہلے نہ کی ہو اب تو صرف تم ہو ، تم جانتی ہو نہیں رہ پا رہا تمہارے بغیر ردا
۔ سب ڈرامہ ہے تمہارا ، جانتی ہوں تمہاری چاہت بلکہ ہر مرد کی ایسی چاہت
مطلب مرد کی ایسی چاہت سے کیامراد ہے ؟
– مرد کی چاہت ایک گھونٹ کی پیاس ہوتی ہے بس ۰ گھونٹ بھرا اور ختم
اچھا اور عورت کی ؟ اشہر نے تیز لہجے میں سوال کیا
۔ عورت سیراب ہو جانا چاہتی ہے پہلی بار میں ہی اسے دوبارہ کی خواہشیں نہیں ہوتیں ۔۔ ردا کی آنکھیں چمکنے لگیں
اچھا بڑی فلسفیانہ گفتگو کرنے لگی ہو واہ بھئی
۔ ہاں وقت کے ساتھ آ جاتی ہے ناں سمجھ بھی ، عورت کو میچور ہونے کیلئے ایک آدھ خوشی ایک آدھ دکھ اک آدھ لمحہ ہی کافی ہے وہ بار بار لڑھکنا نہیں چاہتی یہ تم مرد ہی کر سکتے ہو ۔۔ ردا دلیل دینے لگی
تم بدل گئی ہو ، تم خود بڑھی تھی میری طرف ، مانا اس وقت میں واقعی سنجیدہ نہیں تھا میرے لئے زندگی صرف انجوائمنٹ تھی تمہیں پہلے بھوت چڑھا تھا ناں عشق کا۔۔ اشہر مسکرانے لگا
۔ ہاں میری ہی غلطی تھی مان رہی ہوں کچی عمر میں کسی اجنبی مرد کی بننے والی تم پہلی شبیہ تھے ، سراب کو چہرہ سمجھتی رہی۰۰۰ردا ناخن چبانے لگی ۔۔
۔ اچھا اشہر ۔۔تمہیں یاد ہے جب ہم بلکل یوں ہی پہلی دفعہ تنہائی میں ملے تھے ہماری پہلی بات کیا ہوئی تھی ؟ ردا پر امید لہجے میں مخاطب ہوئی ۔۔
نہیں تو ۔۔ اتنا سب تو کچھ یاد نہیں
ہاں لیکن یہ یاد ہے پہلی ڈیٹ کیلئے موٹر سائیکل کس دوست کی تھی شرٹ کس سے مانگی تھی جیب میں پیسے کس سے ادھار لے کر پورے کئے تھے۔۔ اشہر نے سر کھجاتے ہوئے کھسیانے انداز میں جواب دیا ۰۰
۔ حد ہے کتنے rude ہوتے ہو تم مرد ، تمہاری تو یادداشتیں تک سفاک حد تک اجنبی رہتی ہیں ۔۔ رداکی آواز میں غصہ نمایاں تھا
اچھا تمہیں تو جیسے سب یاد ہے ناں ؟ اشہر نے شرارتا سوال داغا
۔ ہاں مجھے تو ایک ایک بات یاد ہے کب تم نے پہلی دفعہ میری طرف دیکھا، کب ہاتھ تھاما ، کب کیا کہا ، کب خواب دکھائے ، اس وقت میرے دل کی کیا حالت تھی پھر اس کے بعد بھی ایک ایک لمحہ قید ہے میری آنکھوں میں عورتوں کا دل ، دل نہیں ہوتا صرف ، یہ ایک کتاب کی طرح ہوتا ہے جناب ، جس میں ہر خوبصورت احساس ہر دکھ قلم بند ہوتا جاتا ہے کچھ بھی نہیں بھولتیں ہم یاد رکھنا ،، ردا پر یقین لہجے میں بولی
واہ بھئی اور مرد کا ؟ اشہر گھورتے ہوئے بولا
۔ تم لوگوں کا دل بلیک بورڈ جیساہے جس پر کچی چاک سے لکھا جاتا ہے سیکنڈ نہیں لگاتے سب مٹاتے ہوئے اور نہ اس پر انہیں کوئی ملال ہوتا ہے ، فورا سے نئی تحریر لکھ لیتے ہو بے حس ہوتے تم ہو مرد سچی ۔۔ ردا کی آواز کہیں دور سے آتی محسوس ہوئی
اچھا آئیس کریم تو کھاؤ یار ۔۔ ردا تمہیں پتہ ہے شروع میں میرے لئے بھلے یہ صرف تفریح تھی ٹائم پاس تھا لیکن اب تم میرے دل میں جگہ بنا چکی ہو
کیا تم پہلے جیسی نہیں ہو سکتیں پلیز ، اسی طرح نزدیک ، اتنے دل سے کہہ رہا ہوں
۔ نہیں اب ویسا ممکن نہیں اشہر
کتنی کھٹور دل ہو تم میری پیار بھری التجاؤں کا بھی کوئی اثر نہیں ۔۔ اشہر ناراضی ظاہر کرتے ہوئے بولا
۔ عورت صرف التجاؤں سے نہیں پگھلتی اشہر ، اسے جیتا جاتا ہے یا ہار دیا جاتاہے ، اگر مصلحتا پھر سے مان بھی جائے تو دل میں وہ مقام دوبارہ نہیں دیتی کم از کم ، ہم بہت ڈھیٹ ہوتی ہیں اس معاملے میں ، میں تمہاری ترجیحات میں نہیں رہی کبھی ، تم نے خود مجھے دھکیل کر یہ فاصلہ پیدا کیا ہے ،
اب میں صرف عکس ہوں تمہارے لئے جسے یاداشت کے شیشے میں دیکھ تو سکتے ہو چھو نہیں سکتے تم وہ حق کھوچکے
ردا اسے شکایتا گھورنے لگی
کیسی عجیب باتیں کر رہی ہو ردا۔۔ میں وہ شیشہ توڑ دوں گا
۔ وہ شیشہ ٹوٹ ہی تو چکا ہے اشہر ، بال آ گیا آئینے میں
میں آج بھی تمہارا لمس محسوس کرنا چاہتا ہوں ردا۔۔ اشہر سنجیدگی سے بولا
۔ ہنن ۔۔ ہاں دیکھا ، صحیح
کیا صحیح ؟ سچ کہہ رہا ہوں قسم سے ۔۔ اشہر ہاتھ سے اپنی گردن چھوتے ہوئے بولا
۔ نہیں جھوٹ بول رہے ہو ، تم جانتے ہو یہ ، تمہیں بس یہ ملال ہے میرے جانے سے اپناخود ساختہ حق ملکیت کھو دو گے ، جب تمہاری زندگی میں کئی اور تھیں تم تب بھی مجھے چھوڑنا نہیں چاہتے تھے کہ کوئی اور مجھ پر حق جتائے، یہ قبضہ کیوں جمائے رکھنا چاہتے ہو تم لوگ ، جب کوئی فیلینگز نہیں ہوتی تو جانے کیوں نہیں دیتے ؟ ردا دکھ بھرے لہجے میں بولی
پتہ نہیں یہ تو مجھے اب تو میری فیلنگز ہیں پر۔۔ اشہر اس کی آنکھوں میں جھانکنے لگا
-فیلینگز یا محبت؟ ردا اشہر کی آنکھوں میں کچھ تلاش کرنے لگی
محبت کہہ لو اسے بات تو ایک ہی ہے ۔ اشہر نے لاپرواہی سے جواب دیا
-نہیں ایک ہی بات نہیں ہے ناں ،۔ ردا کے لہجے میں افسردگی نمایاں تھی ۔ خیر چھوڑو تم مردوں کو محبت کے معنی ہی نہیں پتہ ہوتے مشرک ہوتے ہو۰
اچھا اور عورت کیا ہوتی ہے ؟ اشہر نے تجسس بھرے لہجے میں سوال کیا
۔ عورت تو توحید کی قائل ہے صدا سے تم مردوں کو کیا پتہ محبت کیاہے ، سر نگوں ہونا کیا ہے ، کیا کبھی کسی عورت نے خدائی کا دعوی کیا ؟ ۔۔ ردا کا انداز فاتحانہ تھا۰
ارے واہ کیسے پتہ نہیں ہوتا مان رہا ہوں تم سے اٹیچڈ ہوں اور کیا معنی ہوں گے ؟ اشہر زچ ہوتے ہوئے بولا
۔ اچھا ،، شادی کر لیں پھر ؟ ردا نے طنزا کہا
بکواس مت کرو شادی کی بات کہاں سے آ گئی ابھی تو لائف میں بہت کچھ کرنا ہے ہم اچھے دوست بھی تو ہیں ۔۔ اشہر جھنجھلاہٹ سے سر ہلانے لگا
۔دوست یا ضرورت، بولو؟
جس میں تم مجھے اپنانہیں سکتے لیکن ضرورت ہوں، کیا صرف تمہارے جسم کی ضرورت؟ ردا دل شکستہ انداز میں بولی
ایسی بھی بات نہیں اب ، لیکن ابھی اس بحث کا وقت نہیں ہے اچھا ناں چھوڑو کیوں بور کر رہی ہو ، سچ میں آئی لو یو ، آئی مس یو ، آؤ پاس
‏ really wanna hug you plzzz yar
تمہیں بہت سا پیار کرنا ہے۔ اشہر نے بانہیں کھولے جواب دیا
۔بکواس مت کرو خبردار جو مجھے چھوا بھی ۔۔ ردا پیچھے ہٹتے ہوئے بولی
چیٹنگ مت کرو اچھا، تم نے وعدہ کیا تھا میری آخری خواہش پوری کرو گی ۔۔
۔ وہی تو کر رہی ہوں اچھا پانی منگواؤ ۔۔ رداپر سکون لہجے میں بولی
پھر آ جاؤں پاس ؟ اشہر کی بے چینی دیدنی تھی
۔ ہر گز نہیں ،چلو اپنا خیال رکھنا ، اب میں چلتی ہوں بہت دیر ہو گئی ردا اپنا سامان سمیٹتے ہوئی کھڑی ہوگئی
دیکھو ایسے مت کرو پلیززز آخری بار مل رہی ہو آ جاؤ پاس ورنہ دل میں خلش رہے گی میں نے دو ہفتے انتظار کیا ہے اس ملاقات کا ، کتنا تڑپا ہوں تمہارے لئے تمہیں کیا پتہ ۔ تم وعدہ خلافی کر رہی ہو ابھی خود تو کہا تھا آخری خواہش پوری کرنے آئی ہو میری ۔۔ اشہر روہانسے لہجے میں بولا
۔ ہاں وہی تو کر رہی ہیں ۔۔ ردا نے سپاٹ لہجے میں جواب دیا
کیسے ، مطلب ؟ اشہر نے حیرانی سے اسے دیکھا
۔ مطلب یہ کہ اپنا وعدہ پورا کر رہی ہوں ۔۔ ابھی کہا تھا ناں کہ مرد کی چاہت ایک گھونٹ کی پیاس ہے بس، تم بھی میری طرح اس پیاس کی شدت کو محسوس کرو گےتو مجھے آسانی سے بھول نہیں پاؤ گے ، میں وہ گھونٹ دے کر تمہارے بقول تمہاری فیلنگز یا محبت نما آخری خواہش کا گلا کیسے گھونٹ دوں اشہر ؟ ۰۰خدا حافظ

Published inامجد علی شاہعالمی افسانہ فورم