Skip to content

شمشیر بے نیام

عالمی افسانہ میلہ 2018
افسانہ نمبر 90
شمشیر بے نیام
عائشہ فرحہ ، کرناٹک انڈیا

آپی !اتنی چلچلاتی ہوئ دھوپ میں ،آپ کہاں جا رہی ہیں ؟
اسے سفید اوورآل پہنے جلدی میں گھر سے باہر نکلتے دیکھ فاطمہ کا سوال کرنا لازمی تھا۔
وہ چند نوجواں اسرائیلی فوج کی بربریت کا شکار ہوگئے ہیں۔انکی مرہم پٹی کرنا ضروری ہے۔۔
وہ یہ کہہ کرآگےبڑھ گئ۔
فاطمہ اپنی بہن کو روزے میں بھوک اور پیاس سے بے پرواہ اپنے ہم وطنوں کی مدد کےلیے جاتا دیکھتی رہ گئ ۔
اسکے اسی جذبہ انسانت اور خدمت خلق کی بدولت وہ لوگوں کے لیے مسیحائ بنی ہوئ تھی۔سب بلا جھجک کسی بھی دن کسی بھی وقت اس سے مدد مانگنے آجاتے اور وہ بھی وقت اور جگہ کا تعین کے بغیر ان کے ہمراہ اپنا فرض ادا کرنے نکل پڑتی اور ہم پیچھے منتظر رہ جاتے۔
اپنا فرض ادا کر کے دیر سویرہی سہی لیکن وہ گھر ضرور لوٹ آتی،
آج بھی یہی ہوا تھا وہ کسی کی آواز پر لبیک کہتی نکل گئ اور ہم اس کی واپسی کے منتظر رہ گئے۔
لیکن آج بہت دیر کے بعد وہ تو نہ لوٹی لیکن ایک خبر ضرور آئی کہ وہ زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہسپتال پہنچ گئ ہے۔
عینی شاہدین نے بتایا تھا کہ وہ جب اپنے جزبہ انسانیت لیے زخمی ہم وطنوں کی مسیحا بنی مرہم پٹی میں ہم تن مصروف تھی۔بے رحم اسرائیلی فوج نے اسے اپنی گولیوں کا نشانہ بنایا،اور دیکھتے ہی دیکھتے اس کا سفید اوورآل، لال رنگ میں بدل گیا۔
تھوڑی دیر پہلے جو دوسروں کے زخموں کو مرہم لگا رہی تھی اب وہ خودہسپتال کے آپریشن تھیٹر میں اپنے زخموں سے نبردآزما تھی۔ڈاکٹرز امید افزا تو نہیں تھے۔لیکن ان کی کوشیش اور ہماری دعائیں جاری تھیں۔
ہماری نظریں امید اور نامیدی لیے آپریشن تھیٹر کے باہرجلتی سرخ بتی پرٹکی تھیں۔
یہ لمحات میرے اور میری امی کے لیے بہت صبر آزما تھے۔
حالانکہ یہ سب تو ایک نہ ایک دن ہونا ہی تھا،اس سب کے لیے ہمیں تو ذہنی طور پرتیار رہنا تھا۔لیکن پھر بھی دل جیسے کسی نے مٹھی میں لے لیا تھا۔
ہم جس ماحول اور جس سرزمین میں پلے بڑھے تھے، وہاں ہر روز یہ سب ہونا معمولی باتیں تھی۔ہر روز کسی نہ کسی گھر سے جنازے نکلتے ،روز کسی ماں سے اس کا لال تو کسی بہن سے اس کا بھائ، کسی بیوی سے اس کا شوہر تو کسی بیٹی سے اس کا باپ چھین جاتاتو کہیں قوم کی بیٹیاں شہادت کے درجے پر فائز ہو جاتیں، لیکن پھر بھی ہمارے حوصلے کبھی پست نہ ہوتے، ہم کبھی اس سب سے خوف نہ کھاتے کہ ایمان اور وطن کی حفاظت ،شہادت کا مرتبہ حاصل کرنا ہماری اولین خواہش تھی۔
پھر بھی دل میں ایک موہوم سے امید تھی کہ یہ سب نہ ہو، اسے زندگی کی نوید مل جائے۔پھر سے میرے آنگن سے ایک اور جنازہ نہ نکلے۔
ابھی تھوڑے ہی ماہ پہلے ہم نے اپنے بھائ اور اس سے تھوڑے ماہ پہلے اپنے ابو کا جنازہ تیار کیا اور اپنی پر نم آنکھوں سے انھیں الوداع کہا تھا۔اب اتنی جلدی ایک بار پھر۔۔۔۔۔۔۔۔
وہی سب۔۔۔۔۔۔۔
میں پھر سے وہی کیفیت کا سامنا کرنے کی ہمت خود میں نہ پاتی ۔
میرے آنکھوں میں،نا امید ی کے ساتھ جو خوف اور لبوں پرجو دعا ئیں تھیں، وہی سب میں نے اپنی امی کی آنکھوں اور لبوں پر محسوس کی۔
ہم دونوں ہی ہسپتال میں ایک دوسرے کے قریب بیٹھے ایک دوسرے سے نظریں چرارہے تھے۔شاید اس کا مقصد آنے والی ایک سفاک حقیقت سے منھ موڑنا تھا۔
میرا ذہن ماضی میں بھٹکنے لگا۔بھائ اور بہن کے ساتھ گذرا بچپن،وہ خوشگوار پل،ساتھ ساتھ پڑھنا لکھنا، کھیلنا امی کی زبانی سبق آموز قصے کہانیاں سننا،ایک دوسرے سے لڑنا پھر
مل جانا،ایسا لگتا ہے جیسے سب کل ہی کی باتیں تھیں ۔
ہم تینوں بہن بھائ سرزمین فلسطین میں ایک ایسے ماحول میں پلے بڑھے تھے جہاں تشدد،گولہ باری،بموں کا پھٹنا،اسرائیلیوں سے جھڑپیں ہر دن کا معمول تھا۔اپنی سرزمین اور ایمان کی حفاظت کے لیے ہر روز مظاہرے ہوتے،ہزاروں فلسطینی اس میں شامل ہوتے اور حفاظتی باڑ کے ساتھ کھڑے ہوکر اسرائیلی فوج پر پتھر پھینکتے، جس کے جواب میں اسرائیلی فوج بدترین اسلحہ سے لیس فائرنگ کردیتی۔ہم فلسطینی تو نہتے ہیں، مجبور پتھروں کی برسات کرنے کی ناکام کوشش کرتے اور درجنوں لاشیں اٹھاکر ان کی تدفین کے لیے واپس آجاتے ،اگلے دن پھر اسی جوش وخروش ساتھ سرحد پر پھر موجود۔۔۔۔۔
سارے عالم اسلام کی نظریں ان ظالموں اور ہم مظلوموں پر ہیں کہ آخردیکھیں جیت کس کی ہو؟
ہم نہیں جانتے کونسے ممالک نے ہماری خیر خواہی کی،کونسے ممالک نے ہماری پیٹھ میں خنجر گھونپا،کس نے اپنی چالیں چلیں،کس نے اپنی سیاست بچائ،کس نے ہمیں یوں بے یار و مددگار چھوڑا۔۔۔۔۔۔۔
لیکن آج بھی عالم اسلام میں وہ درد مند بھی ہیں جو ہمارے حق میں آواز اٹھارہے ہیں، ہمارے لیے امداد پہنچانے کی کوششوں میں ہیں اور جو کچھ نہ کر سکے وہ ہمارے حق میں دعا گو ہیں۔
خالد میرے بھیا ،سمعیہ میری آپی اور میں فاطمہ ہماری تعلیم و تربیت میں خصوصا میری امی کا اہم کردار رہا ہے،ابو تو سرحد پر اپنی مٹی سے محبت کا حق ادا کرنے میں مصروف رہتے۔لیکن میری امی نے ہمیشہ ہمیں عصری تعلیم کے ساتھ دینی تعلیم اور شریعت کی پابند دیکھنے کی خواہش کی۔جس کے لیے انھوں نے ہمارے تعلیم و تربیت میں کوئ کسر نہیں چھوڑی۔ اسکول میں عصری تعلیم حاصل کرتے تو گھر میم امی دینی تعلیم دینے کا کوئ موقعہ نہیں چھوڑتیں۔
بچپن ہی سے امی کی زبانی سیرت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مختلف گوشے یوں گوش گزار ہوتیں کہ ہمارادل حب رسول صلی اللہ علیہ وسلم اورایمان کے جذبہ سے منور ہو جاتا، عشق نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے معمور صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہا کے ایمان افروز قصے ہمارے ذہن و دل پر اس طرح نقش ہوگئے تھے کہ اب ہم اپنی سر زمین اور ایمان کی خاطر جان و مال قربان کرنے تیار تھے۔
قصہ حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت کا ہو یا ابو ذر غفاری رضی اللہ تعالی عنہ یا سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ کے جہاد کے ذوق و شوق کا یا خالد بن ولید رضی اللہ تعالی عنہ کے”سیف اللہ”کہلانے کا۔
یہ وہ واقعات تھے جو امی کی زبانی اتنے پر اثر لفظوں میں بیان ہوتے کہ آپی اور بھیا کا ایمانی جزبہ تروتازہ ہوکر ایک نیا جوش و ولولہ پیدا ہوتا اور وہ اپنے وطن اور ایمان کی حفاظت کے لیے جہاد کرنے تیارہوجاتے۔
وہ بڑے جوش و خروش سے کہتے کہ امی ہم “شمشیر بے نیام ” بنے گے اور میں بس ان کی دیکھا دیکھی کہہ دیتی کہ ہاں! میں بھی “شمشیر بے نیام”بنوں گی۔
لیکن ہر قصے کے بعد میرے بچوں والے ذہن میں بس بچوں جیسے ہی سوالات ہوتے۔۔
میں جب بھی حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالی عنہ کا واقعہ سنتی کہ کیسے ایک معرکہ میں ان کی نو تلواریں ٹوٹ گئیں لیکن پھر بھی وہ پیچھے نہ ہٹے ،جس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں “سیف اللہ”کا لقب عطا کیا۔وہ شمشیر بے نیام تھے جو آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے منتظر رہتے۔۔۔ایک وہی کیا سارے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہا، عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھے ادھر حکم ہوا ادھر وہ میدان کارزار میں جام شہادت نوش فرمانے حاضر۔۔
میرے ذہن میں اکثر یہ سوال ابھرتا کہ اب تو جنگیں تیر و تلوار سے نہیں لڑی جاتیں،پھر بھلا ہم کیسے “شمشیر بے نیام”بن سکیں گے؟
کیا واقعی آج ہم میں بھی وہی ایمانی جذبہ موجود ہے؟
کیا ہم بھی اپنے ایمان کی حفاظت کی خاطر اپنی جان و مال قربان کرسکتے ہیں؟
میری اس نا سمجھی پر بھائ اور بہن مجھے چڑاتے،میرا مزاق اڑاتے لیکن میری امی مسکرادیتیں ۔۔۔۔۔
پیار سے سمجھا تیں کہ ابھی تم چھوٹی ہو، وقت اور عمر کے ساتھ تمہیں سب سمجھ آجائے گا۔
واقعی بدلتے وقت نے مجھے میرے سارے سوالوں کے جواب خود بہ خود دے دیے ۔
پہلے میرے ابو پھر میرے بھیا عسکری لباس پہنے اپنے وطن کی آزادی اور ایمان کی حفاظت کی خاطر دشمنوں کے سامنے شمشیر بے نیام بنے،آخر شہادت کا مرتبہ پا گئے۔
آج شاید میری آپی بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم سب کی خواہش تو یہی تھی ،ہم چاہتے تو یہی تھے کہ شہادت کا اعلی درجہ نصیب ہو جائے لیکن پھر بھی میرے دل میں ایک ہلکی سی امید کی کرن باقی تھی کہ ابھی نہیں؟ یوں نہیں اتنا جلدی ایک اور جنازہ ،ایک اور اپنےبسے جدائ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نہیں
ابھی تو آپی نے اپنے مستقبل کے خواب آنکھوں میں سجائے تھے،ابھی تو ان کی خدمت خلق کی خواہش پوری ہو رہی تھی جس کے لیے انھوں نے پچھلے سال ہی اپنی نرسینگ کی تربیت مکمل کی تھی، چند ہی مہینوں میں وہ اپنی مسیحائ کے لیے مشہور ہوگئ تھیں۔۔۔جنگوں میں زخمی ہم وطنوں کی مرہم پٹی کرنے والی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔م۔۔
خود زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہی تھی۔
آپریشن تھیٹر کے باہر لگی لال بتی کے بند ہوتی روشنی نے مجھے حال میں لوٹا دیا ۔
اندر سے آتے ڈاکٹر کے چہرے کی مایوسی نے مجھے پل بھر میں یہ احساس کرادیا کہ شاید آپی شہید ہو کر جنت کی سیر کو نکل چکی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور ہوا بھی یہی۔۔۔۔۔
زندگی کی دعا مانگتے الفاظ لبوں پر ہی ساکت رہ گئے۔۔۔
میرا گھر آنگن پھر ایک بار لوگو ں کے ہجوم سے بھرا پڑا ہے ہم نے ایک اور جنازہ تیار کیا۔یہ میری آپی کی “شمشیر بے نیامی” ہی تھی جس نے انھیں رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں شہادت کا درجہ عطا کیا۔۔۔۔۔
اب میری باری۔۔۔۔۔۔۔
آج میں نے اپنے بھائ کا یہ عسکری لباس یوں ہی نہیں پہنا،میں سارے عالم اسلام کویہ بتا نا چاہتی ہوں ہم فلسطینی یوں ہی اپنی جانیں ا ور اموال قربان کرتے رہیں گے،ایک خالد یا سمعیہ کی شہادت ہمارے دلوں کو تو غمگین کرسکتی ہے لیکن ہمارے حوصلوں کو پست نہیں کرسکتی۔یہاں روز کئ خالد، کئ سمعیہ شہادت نو ش کریں گے، اور روز نئ فاطمہ نئے حوصلوں کے ساتھ “شمشیر بے نیام “بنی اٹھ کھڑی ہوگی۔۔۔

Published inعائشہ فرحعالمی افسانہ فورم