Skip to content

سگریٹ کا آخری کش

عالمی افسانہ میلہ2020″

پہلی نشست کا “آخری افسانہ “( نمبر 25)

“سگریٹ کا آخری کش”

اختر سعید مدان ۔۔ لاہور ، پاکستان

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دُلا پانڈی ہڈ پیر کا بہت کھلا تھا۔اُس کے ہاتھ بڑے بڑے اور چربیلے تھے۔اُس کی ہتھیلیوں کی جلد بہت کھردری تھی اور پشت پر ڈھیروں بال تھے۔وہ اگر کسی انسان کو بازوسے پکڑتا تو اُس کی جلد جیسے چھل جاتی۔لگتا تھا ہاتھ نہیں کھنگرالی اینٹیں ہیں یا کوئی پتھرروڑ۔اُس کے بازوؤں کے ڈولے بہت مضبوط تھے۔سینہ بھی گوشت سے بھرا بھرا اور سخت تھا۔پنڈلیوں کی مچھلیاں اُبھری ہوئی تھیں۔رانیں کسی دیو کی معلوم ہوتی تھیں۔اُس کے سارے جسم پرگھنے سیاہ بال تھے۔وہ لنگوٹ باندھ کر کام کرتا تو معلوم ہوتا،وہ عریاں نہیں بلکہ اُس نے سیاہ فر کا لباس پہن رکھا ہے۔چہرے پر بھی بہت بال تھے۔صرف آنکھوں اور ماتھے کو چھوڑ کر اس کا پوا چہرہ بالوں سے بھرا ہوا تھا۔وہ دو دن شیو نہ کرواتا تو اُس کی صورت دیکھ کر خوف محسوس ہوتا۔اُس کی داڑھی کے بال کانٹوں کی طرح کھڑے ہو جاتے۔

دُلے کے چہرے کے نقوش بھی موٹے موٹے تھے۔ناک چپٹی اور آنکھیں بڑی بڑی،گدلی تھیں۔ہونٹ موٹے تھے اور اُن پر سکری جمی رہتی۔گالوں پر کیلوں کی وجہ سے گڑھے پڑے ہوئے تھے۔دُلے پانڈی کا قدکوئی چھے فٹ تھا۔لاریوں پر سامان چڑھانے اور اتارنے میں قد کی وجہ سے اُسے بہت سہولت رہتی۔اُسے پسینہ بہت آتا تھا۔سردیاں ہوں یا گرمیاں ذرا سا کام کرتا تو اُس کے سارے کپڑے بھیگ جاتے۔لیکن جیسے جیسے اُسے پسینہ آتا،اُس کے کام میں تیزی آجاتی۔اُس کے جسم کے جوڑ رواں ہوتے جاتے۔وہ پانی پیتا تو یکدم سارا جگ چڑھا جاتا۔ اگر دُلاباکسنگ یا ریسلنگ کرتا تو بہت کامیاب پہلوان ہوتا۔

اُس کا قد کاٹھ اور چہرہ دیکھ کر نا واقف آدمی اُس سے بات کرتے ہوئے جھجکتا تھا۔عام آدمی پریشان ہوتا کہ کہیں وہ ناراض ہی نہ ہوجائے۔ مگر دُلا بباطن نہایت رقیق القلب تھا۔وہ کسی سی اونچی آواز میں بات بھی نہ کرتا۔بس نظریں جھکا کر اپنا کام کرتا رہتا اور مزدوری لے کر چل دیتا۔یہ نہیں کہ وہ ڈرپوک تھا۔بس اللہ نے اُس کو مٹی ہی ایسی لگائی تھی۔لاری اڈے سے دُلے کاگھر چار پانچ کلو میٹر دور تھا مگر وہ اکثر پیدل ہی جاتا۔اُسے سوچنے اور ہر چیز کو بہ غور دیکھنے کی بیماری تھی اور پیدل چلتے ہوئے اُسے سوچیں بہت آتی تھیں۔اُس کی آنکھیں بھی چاروں طرف دیکھتی جاتیں اور دماغ کہاں سے کہاں پہنچ جاتا۔اسی بہانے واپسی پر وہ راستے سے بچوں کے لئے کوئی چیز بھی خرید لیتا۔

دُلے کی عمر تیس،بتیس سال سے زیادہ نہیں تھی۔مگر وہ اپنے قد کاٹھ اور ڈیل ڈول سے چالیس،پینتالیس سے اوپر کا لگتا۔بارہ سال قبل جب اُس کی شادی ہوئی تو بھی وہ ایسا ہی تھا۔اس کاٹھی اور جثے کے انسان کو لڑکا کہتے ہوئے بے ساختہ ہنسی آ جاتی تھی۔

دُلے کی بیوی مریم بھی اُس جیسی تھی۔اُس کا قد پونے چھے فٹ تھا۔پاؤں میں زنانہ نہیں مردانہ جوتا آتا تھا۔اُس کے ہاتھ بڑے بڑے تو تھے مگر دُلے جسیے پتھریلے نہیں تھے۔سرینوں پر گوشت تھا مگر تھلتھلاتا ہو انہیں تھا۔ اُس کا رنگ گندم گوں تھا۔نین نقش جابرانہ تھے۔موٹی موٹی گھنیری بھنویں اور گہری پلکیں، سر کے بال گھنے اور بالکل سیاہ تھے۔گال تنے ہوئے اور ناک کے نیچے مونچھوں کی چھدری روئیں تھیں۔دو بیٹے ہونے کے باوجود پیٹ ایک انچ بھی بڑھا ہوا نہ تھا۔چھاتی بھی ڈھلکی ہوئی نہ تھی۔دونوں کسی شادی بیاہ میں جاتے تو لوگ اُن کی جوڑی کو دیکھ کر مسکرا دیتے۔لگتا تھا دونوں میاں بیوی نہیں،بھائی بہن ہیں۔

مریم کے والدین پریشان تھے کہ اُس کوٹھے جیسی بیٹی کو کون بیاہنے آئے گا۔گبرو جوانوں جیسی اس بیٹی کی شادی وہ کس سے کریں؟وہ اوسط قد کے لڑکوں میں کھڑی بھی اُن سے لمبی لگتی۔ابھی اُس کی عمر سولہ برس ہی تھی کہ ماں بھی اُس سے بات کرتے ہوئے ڈرتی تھی۔ وہ مریم کو دبے لفظوں میں سمجھاتی کہ وہ کم کھایا کرے۔لیکن اُس کے قد کاٹھ میں کھانے پینے کا عمل دخل زیادہ نہیں تھا۔پھر جب کہیں دور پار کے رشتے داروں سے مریم کے لئے بر آیا تو دُلے کو دیکھتے ہی اُس کی ماں کے لبوں پر بے ساختہ مسکراہٹ آ گئی۔اُسے مسکراتے دیکھ کر مریم کا باپ بھی بلا ارادہ ہنس دیا۔دُلے کو دیکھ کرباپ کے سر سے جیسے منوں بوجھ اتر گیا تھا۔

مریم کا مزاج دُلے جیسا دھیما نہ تھا۔وہ اپنی بات پر اڑ جاتی تو اڑ جاتی۔اُسے اپنے ارادے سے باز رکھنا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا۔ایسے موقعوں پر دُلا ہی چپ کر جاتا۔پھر جب مریم کی چڑھی اتر تی تو وہ خود ہی اپنی بات سے رجوع کر لیتی۔وہ الٹا دُلے سے کہتی کہ وہ بندہ ہے تو اپنی منوا لیا کرے۔لیکن حقیقتاً ایسا کبھی ہوتا نہیں تھا۔تاہم مجموعی طور پر اُن کی ازداجی زندگی بہت خوشگوار تھی۔

دُلا پانڈی اور مریم جسے وہ مریاں کہتا تھا،پرانے شہر میں ریلوے لائین کے پاس چھوٹے سے مکان میں رہتے تھے۔اُن کا مکان دو چھوٹے چھوٹے کمروں اور سرکیوں والے برآمدے پر مشتمل تھا۔باتھ روم کی چھت نہیں تھی اور نہ انہوں نے کبھی اس کی ضرورت محسوس کی تھیں۔ اُن کے دو بیٹے تھے جو خود ہی اُس کمرے میں سوتے تھے جس میں مریم کے جہیز کا سامان پڑا ہوا تھا۔ کمرے میں ایک چارپائی کی گنجائش تھی اس لئے سلطان جو کہ بڑا تھا وہ آہنی صندوق کے اوپر سوتا تھا۔اُس نے خود ہی چھوٹے بھائی عثمان کو چارپائی دے رکھی تھی۔شائد وہ اس لئے بھی الگ سوتے تھے کہ انہوں نے رات کو وہ باتیں کرنی ہوتی تھیں جو وہ ماں باپ کے سامنے نہیں کر سکتے تھے۔

دُلا پلیداری سے اتنے پیسے کما لیتا تھا کہ اچھی گزر بسر ہو سکے۔جیسے جیسے اُس کی آمدنی بڑھتی جاتی تھی ویسے ویسے اُن کی ضروریات بھی بڑھ جاتی تھیں۔مریم نے گھر کی ساری چیزیں قسطوں پر خرید کر پوری کی تھیں۔دُلا جو کماتا،رات کو آتے ہی مریم کے ہاتھ پر لا کر رکھ دیتا۔مریم سے کچھ بھی پس انداز نہیں ہوتا تھا۔بلکہ اُس نے گلی محلے سے کچھ ادھار ہی پکڑا ہوتا۔جیسا کہ ذکر ہو چکا کہ دُلے کو پسینہ بہت آتا تھا۔وہ گھر آتے ہی نہاتا تھا۔گرمیاں ہوں یا سردیاں،وہ ہنڈ پمپ کے ساتھ لگی موٹر چلا کر تازہ پانی سے غسل کرتا تھا اور کپڑے بدل کے کھانا کھاتے ہی لیٹ جاتا۔

دُلے کے پسینے سے جو بو آتی تھی،وہ مریم کو بہت پسند تھی۔ایک سگریٹوں کی بُو اور دوسری دُلے کے پسینے کی بُو، جس کو مریم’باس‘ کہتی تھی،اس کے جذبات کو برآنگیختہ کر دیتی تھیں۔خاص طور پر اُس رات جب اُسے دُلے کی ضرورت ہوتی،اُس کا جی چاہتا دُلا نہ نہائے۔اُس نے ایک روز دُلے سے اشارتاً اِس خواہش کاذکر کیا تو دونوں میں ایک خاموش پیمان ہو گیا۔مگر نہ نہانے کا وفقہ دو،تین دن سے طویل نہ ہوتا۔ اُس رات دُلا منہ ہاتھ دھو کر صرف کپڑے بدلتا تھا اور غسل نہیں کرتا تھا۔اسی طرح شادی سے قبل دُلے نے سگریٹ کو ہاتھ نہیں لگایاتھا۔مگر جب مریم نے دُلے کو بتایا۔”دُلے میرا جی چاہتا ہے،میرا بندہ بھی سر گٹ پیا کرے اور دھوئیں کے چھلے میرے منہ پر پھینکے ……!!“

دُلے نے حیرت سے مریم کو دیکھا۔”مریاں تو بھی عجیب عورت ہے!ساری زنانیوں کو سگریٹ کی بُو سے کراہت آتی ہے اور تجھے،سگریٹ کا دھواں پسند ہے؟“

”پتہ نہیں کیوں دُلیا……!مجھے سرگٹ کے دھوئیں سے بھرا ہوا کمرہ بہت اچھا لگتا ہے۔“

”تو میں بھی سگریٹ پیا کروں ……؟“دُلا ہنس دیا۔

”یہ تو مجھے پتہ نہیں ……پر دل کرتا ہے،تو گھر آ کرسوتے وقت ایک دو سر گٹ ضرور پیا کرے۔ہمارا کمرہ باس سے بھر جایا کرے گا۔“مریم نے جیسے منت کی۔

”اچھا مریاں ……!!“پھر اس عجیب سی خواہش پر دُلا دیر تک ہنستا رہا۔

اگلے روز دُلا سگریٹوں کی ڈبیا گھر لیتاآیا۔یہ سگریٹ بہت قیمتی تھے۔کوئی ڈیڑھ سو روپے کی ڈبیا۔دُلے نے سوتے وقت گلہ کیا۔”مریاں بھئی تیرا یہ شوق تو بہت مہنگا ہے!“

اس سگریٹ کی بُو بھی مریم کو پسند نہ آئی۔کہنے لگی۔”دُلیا یہ تو بہت پھیکی سی ہے ……جیسے آدمی کار میں بیٹھا ہو۔ڈرا ڈرا سا آدمی……تو کبھی سیلماں نہیں گیا؟کیسی ’باس‘ ہوتی ہے اس میں ……!!“

”مریاں تو کیا تو سینما جاتی تھی؟“دُلے نے اچھنبے سے پوچھا۔

”ایک بار گئی تھی،جب میں چھوٹی تھی……سیلماں آیا تھا ہمارے شہر میں ……تمبو کناتوں والا!“مریم نے بھلا جھجک بتایا۔

اس کے بعد دُلا ہر روز مختلف برانڈوں کے دو دو سگریٹ لاتا رہا۔یہ سلسلہ اُس وقت تک جاری رہا جب تک کہ ایک سستے سے برانڈ کی خوشبو مریم کو پسند نہیں آ گئی۔وہ سگریٹ مریم نے بھی پیا۔وہ کش لگاتے ہوئے عجیب سی لگتی تھی۔اُس کے سگریٹ پینے کا انداز صاف چغلی کھاتاتھا کہ وہ کوئی انجان سی سگریٹ نوش ہے۔اُس روز دُلے کو کافی مزدوری ہوئی تو وہ مریم کے پسندیدہ سگریٹوں کا پوا ڈبہ گھر لے آیااور مریم کو تھما دیا۔مریم نے ڈبہ اس طرح پکڑا جیسے کوئی بہت بڑی نعمت ہاتھ آ گئی ہو۔لیکن یہ ڈبہ زیادہ دن نہیں چلا۔ہر دوسری یا تیسری رات وہ دونوں مل کر رات کو پوری ڈبیا ختم کر دیتے۔ اس رات دُلے کو پسینہ بھی بہت آتا تھا۔ مخصوص ایام کاوفقہ دونوں سے بہ مشکل کٹتا۔اُن دنوں میں مریم سگریٹ کہیں چھپا دیتی تھی۔کیونکہ سگریٹ کی خوشبو اُس کے جذبات کو برانگیختہ کر دیتی تھی۔ان دنوں اگر دُلا سگریٹ پی لیتا تو مریم کا جی چاہتا وہ دُلے کے کپڑے پھاڑ دے،اُس کو دانتوں سے کاٹ کھائے۔اس کا حل یہی تھا کہ مہمیز کرنے والی اس بلا کو کہیں چھپا دیا جائے۔

پھر جب مریم کو اولاد ہو گئی تو دونوں کی بڑھی ہوئی حِس قدرے مدھم پڑ گئی۔اب مریم خاندانی منصوبہ بندی والوں کے ہتھے بھی چڑھ گئی تھی۔تاہم دونوں بچے بڑے ہوگئے تو اُن کی زندگی پھر اُسی ڈگر پر چل پڑی۔مریم تو اپنے آپ پر قابو پا لیتی مگر دُلا اب بھی نہیں رہ سکتا تھا۔

اولاد بڑی ہوئی تو ضروریات بھی بڑھنے لگی۔ مریم نے محلے میں کئی چھوٹی چھوٹی کمیٹیاں ڈال لیں۔گزر بسر کے لئے گھر میں پیسے کی ضرورت بڑھ گئی۔اس کا حل مریم نے عجیب نکالا۔وہ اُس وقت تک سگریٹ کی ڈبیا دُلے کو نہ دیتی جب تک دُلا دن میں تین ہزار کی مزدوری نہ کر کے لاتا۔اُنہوں نے آپس میں یہ بھی ایک خاموش معاہدہ کر لیا تھا۔جس شام دُلا تین ہزار روپے یا اس سے زیادہ رقم مریم کی ہتھیلی پر رکھتا تو وہ رقم گنتے ہی مسکرا پڑتی۔اُس کی آنکھوں سے شرارے سے پھوٹنے لگتے۔

دُلا بہت ایماندار واقع ہوا تھا۔کبھی رقم زیادہ ہوتی تو دُلا کہیں چھپاتا نہیں تھا۔وہ کپڑے تو گھر آتے ہی بدل لیتا اور نئے کپڑوں کی جیبیں خالی ہوتیں۔نہ اُس کے جی میں آئی کہ وہ بُرے وقت کے لئے رقم اپنے کسی دوست کے پاس پس انداز کر لے۔

جس دن دُلے کا موڈ ہوتا اُس روز اُسے مزدوری کرنے میں بھی لطف آتا۔وہ جان توڑ کوشش کرتااور وہ اُس روز خوب پسینہ بہاتا۔اتنا زیادہ پسینہ کہ خشک ہو ہو کر اُس کے جسم پر نمک کی ایک تہ سی جم جاتی۔اُس کے بازوؤں اور ٹانگوں پر نمک کے ذرات اُبھر آتے۔پورے تین ہزار روپے دیکھتے ہی مریم کے کی باچھیں کھل جاتیں اور وہ اپنے مخصوص انداز میں نچلا ہونٹ کاٹ کر رہ جاتی۔آنکھوں میں ایک بلاوا سا جاگ اُٹھتا۔اُس دن دُلا کوئی مٹھائی بھی ضرور لاتا۔ عموماًوہ رس گلے ہوتے۔بچے کھا لیتے مگر وہ نہ کھانے کے لئے کوئی بہانہ کر دیتا۔لیکن مریم اُس کے لئے حصہ ضرور رکھتی،جو اکیلا اُس کا نہ ہوتا بلکہ اُس میں مریم کی بھی سانجھ ہوتی۔

٭٭٭٭٭

دُلے اور مریم کی زندگی اِسی طور گزر رہی تھی کہ ٹی وی پر عجیب سی خبریں آنے لگیں۔ پہلے پہل خبریں آ ئیں کہ دنیا کے ایک ملک چین میں کوئی وبا پھوٹ پڑی ہے۔یہ وبا ایک دوسرے کو چھونے،ہاتھ ملانے یامتاثرہ چیز کو ناک،منہ یا آنکھوں سے لگانے سے پھیل جاتی ہے۔مزدور ایک دوسرے سے مذاق کرتے۔مگر جب بہت سے بڑے بڑے ملکوں میں لوگ جاں بحق ہونے لگے توحکومت نے پاکستان میں بھی لاک ڈاؤن کر دیا۔ساتھ ہی حکومت نے بسیں بھی بند کر دیں۔پہلے جب دُلے کو کوئی ایسی خبر دیتا تو وہ مذا ق میں اڑا دیتا،مگر اب اُس کے سر پر پڑی تو آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہوا۔اس کی زندگی کا دارو مدار ہی بسوں سے سامان اتارنے اور چڑھانے پر تھا،اس لئے وہ بے کار ہو گیا۔دُلے نے ایک جگہ جہاں عمارت زیر تعمیر تھی،مزدوری کرنے کی کوشش کی مگر وہاں تو پہلے ہی بہت مزدور دھکے کھا رہے تھے۔شاید اُسے مزدوری نہ ملتی،مگر اس کے تن وتوش کو دیکھ کر ٹھیکے دار نے اُسے مزدوری دے دی۔یہاں سے اُسے صرف سات سو روپیہ ملتا تھا۔ لیکن یہ کام بھی زیادہ دن نہیں چلا۔پولیس نے زبردستی یہ کام بند کروا دیا۔حکومت کو خدشہ تھا کہ اس سے وبا پھیل سکتی ہے۔

اس کے باوجود دُلا گھر سے نکل آتا اور مزدوری تلاش کرنے لگتا۔کبھی اُسے دو، چار سو روپے مل جاتے اور کبھی پانچ سو۔اکثر اُسے رات خالی ہاتھ ہی واپس گھر آنا پڑتا۔مریم تو کھلے پیسے خرچ کرنے کی عادی تھی،اُسے کبھی خیال نہ آیا تھا کہ ایسا وقت بھی آ سکتا ہے۔حکومت نے پولیس کو حکم دیا تھا کہ اشد ضرورت کے علاوہ کوئی گھر سے نہ نکلے۔دُلے کے لئے یہ دن بہت کٹھن تھے۔پھر حکومت نے اعلان کیا کہ دیہاڑی دار مزدور وں کو بارہ بارہ ہزار روپیہ ملے گا تاکہ ان کا چولہا چوکا ٹھنڈا نہ ہو۔دُلے کو اپنا شناختی کارڈ دکھا کر امداد کے یہ پیسے لیتے ہوئے بہت ندامت ہوئی۔اُس نے جب یہ رقم مریم کے ہاتھ پر رکھی تو اُس کی نگاہیں جھکی ہوئی تھیں۔وہ یہ روپے دے کر فوراًگھر سے نکل آیا۔

لاری اڈے پر اُس کے بہت سے دوست ادھر ادھر بیٹھے غپیں لڑارہے تھے۔پولیس اُن کو بار بار آ کر منع کر رہی تھی کہ چار آدمیوں سے زیادہ اور قریب ہو کر نہ بیٹھیں۔بلکہ وہ ہدایت دے رہے تھے کہ گھروں میں چلے جائیں۔دُلا تو جیسے گھر سے بھاگ کر آیا تھا۔اس کے لئے گھر جانا سوہان ِروح بنا ہوا تھا۔اُس رات گئے وہ چھپتا چھپاتا گھر میں داخل ہوا تو مریم بگڑ گئی۔”لوگ گھروں میں بیٹھے ہیں اور تم باہر پھر رہے ہو۔ٹی وی نہیں دیکھ رہے؟اوپر سے تمہارا موبائل بھی بند ہے!“

”مریاں وہ میرے موبائل کی بیٹری ختم ہو گئی تھی……اورمیں باہر اس لئے گیا تھا کہ کوئی کام مل جائے گا!“

”عبداللہ……تمہارا دماغ ٹھیک ہے!“ دُلے کو اپنا نام ’عبداللہ‘ سُن کر اوپرا سا لگا۔ اُسے پہلی بار احساس ہوا کہ اُس کا نام عبداللہ ہے۔وہ نہانے کے لئے لنگوٹ کستے ہوئے بلاارادہ ہنس دیا۔”یہ حرامی عبداللہ کون ہے؟“پھر وہ اپنی اس عزت افزائی پر دیر تک ہنستا رہا۔اس رات اس سے کھانا ٹھیک طرح سے کھایا نہیں گیا۔اُسے رہ رہ کر یاد آتا کہ یہ روٹی کسی نے بھیک میں دی ہے۔مریم کو محسوس ہو گیا۔اُس نے حیرت سے سوال کیا۔”یہ تم آج روٹی کیوں نہیں کھا رہے؟“

”مریاں ……روٹی ربڑ کی لگ رہی ہے آج!“

”کیوں ……!!“مریم نے تعجب سے کہا۔”آٹا تو محلے کی دکان سے ہی لایا تھا سلطانا!“

”نن……نہیں یہ بات نہیں ہے۔“دُلے کو اپنا مافی الضمیر سمجھانے کے لئے مناسب الفاظ نہیں مل رہے تھے۔”لگتا ہے آج جیسے میں منگتا ہو گیا ہوں!“

اب ہنسنے کی باری مریم کی تھی۔”دُلیا یہ مصیبت کے دن ہیں۔یہ گزر ہی جانے ہیں۔اچھے دنوں میں ہم یہ روپے کسی غیریب کو دے دیں گے۔سمجھو یہ ادھار ہے۔“

یہ مصیبت دو دن کی نہیں تھی۔اب سارا دن دُلا گھر میں ٹی وی کے سامنے بیٹھا رہتا۔وہ اکتا جاتا تو باہر نکل جاتا۔پیدل چلتا چلتا وہ سارا شہر گھوم آتا مگر کام نہ ملتا۔اُسے سگریٹ پیئے بھی کافی راتیں ہو گئی تھیں۔اُسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ مریم سے سگریٹ کیسے طلب کرے؟آج تک وہ جب بھی تین ہزار روپے مریم کی ہتھیلی پر رکھتا تو اُسے رات کو سگریٹ مانگنے کی ضرورت پیش نہ آتی۔مریم بنی ٹھنی،بھرپور جثے پر پھنسے پھنسے کپڑے پہنے،آنکھوں میں بُلاوا لئے،اپنے بڑے بڑے اعضاء کے ساتھ بستر پر پھسکڑا مارے، سامنے رس گلوں کا ڈبہ لئے بیٹھی ہوتی۔گود میں اُس کے پسندیدہ سگریٹوں کی ڈبی پڑی ہوتی۔

باہر دُلا اپنے دوستوں میں بیٹھا مریم اور سگریٹوں کے بارے میں سوچ رہا تھا کہ آج جیسے بھی ہو اُسے تین ہزارکی،کہیں سے مزدوری ضرور ملنی چاہیئے۔اُس کا دوست نذیر مذاق میں کہنے لگا۔”دُلیا……!ہم لوگ کافی دنوں سے بیکار ہیں۔آج تمہیں عیش کروا دیتے ہیں۔“

دُلے نے استفہامیہ نگاہوں سے نذیر کو دیکھا۔نذیر نے متبسم ہوکراپنے کرتے کی جیب سے نوٹوں کی گڈی نکالی اور بولا۔”لو بھئی دس ہزار تم لو……“پھر اُس نے دوسروں کو بھی نوٹ دیئے۔

دُلے نے متحیر نگاہوں سے اُن نوٹوں کو دیکھا جو نذیر نے دُلے کی ہتھیلی پر ابھی ابھی رکھے تھے۔نوٹ نقلی تھے مگر اُن کا کاغذ بہت بڑھیا تھا۔سبھی ایک دوسرے سے مذاق کرنے لگے اور نوٹوں کو پھاڑنے لگے۔مگردُلے نے کچھ سوچ کر نوٹ جیب میں ڈال لئے۔

واپس آتے ہوئے ایک جگہ پر دُکان کا دروازہ تھوڑا کھول کر کوئی پینٹ بیچ رہا تھا۔دُلا اس اُمید پر کہ شائد مزدور کی ضرورت ہو،رُک گیا۔دُکان دار دُلے کو پہچانتا تھا۔اُس نے دُلے کو صاحب کی گاڑی میں پینٹ کی بالٹیاں رکھنے کا کہہ دیا۔اُس نے پینٹ کت دبے اور بالٹیاں گاڑی میں رکھ دیں۔خریدار نے دُلے کو سو روپیہ مزدوی دی اور گاڑی لے کر چلا گیا۔دُلے نے جاتی ہوئی گاڑی کو دیکھا اور روپے جیب میں ڈال لئے۔راستے میں اُسے ادھ کھلا ہوا پان سگریٹوں کا کھوکھا نظر آیا۔کھوکھے سے اُس نے اپنی پسندیدہ سگریٹوں کی ڈبیا خرید لی۔وہ چلتا رہا۔یہاں تک کہ اُس کا گھر گزر گیا۔وہ بلامقصد ہی چلا جارہا تھا۔پھرمریم کا فون آیا تو بلاارادہ اُس کے منہ نکل گیا۔”مریاں ……ایک کام کی وجہ سے دیر ہوگئی ہے۔بس میں آ ہی رہا ہوں۔“

رات دُلے نے تین ہزار پچاس روپے مریم کی ہتھیلی پر رکھے تو اُس کی باچھیں کھل گئیں۔دُلے نے جلدی جلدی چند لقمے زہر مار کئے اور کمرے میں جا کر لیٹ گیا۔اُس نے سگریٹوں کی ڈبیا نکال کر سینے پر رکھ لی تھی۔مریم سگریٹ کی ڈبیا اچھالتے ہوئے کمرے میں داخل ہوئی تو دُلے کے سینے پر پڑی دوسری سگریٹوں کی ڈبی دیکھ کرکھل کھلا کر ہنس دی۔

اُس رات مریم اور دُلے نے پوری دو ڈبیاں سگریٹوں کی پھونک دیں۔اُس رات دُلے کا پسینہ بہت بہا،کچھ موسم بھی توبدل گیا تھا۔سحرگی کے وقت دوسری ڈبیا کی آخری سگریٹ کے آخری دو کش بچ گئے،مریم نے اپنے حصے کا کش لگایا اور سگریٹ دُلے کو تھما دیا۔یک دم دُلے کا سینہ کسی گہرے راز سے پھٹنے لگا تھا۔وہ مریم سے نظریں چرا کر دھیرے سے بولا۔”مریاں تجھ سے ایک بات کرنی تھی!“

مریم نے دُلے کی آنکھوں میں جھانکا۔”حرامی یہی کہنے والے ہو ناں ……رات تم نے مجھے نقلی نوٹ دیئے تھے۔“

”ہاہا……ہائیں“دُلا ہکلا گیا۔”سور کی بچی ……“

مریم دُلے کے بالوں بھرے سینے سے لگ گئی اور بازوؤں کا ہالا کستے ہوئے سوگوار لہجے میں،جیسے کسی کنوئیں سے بولی۔”دُلیا چل کسی ایسے دیس میں چلتے ہیں،جہاں کوئی وبانہ آتی ہو،جہاں کوئی نقلی نوٹ نہ چلتے ہوں،جہاں کوئی سور کی بچی اپنے بندے کو تین ہزار میں سرگٹوں کی ڈبی نہ بیچتی ہو۔“

دُلے کی آنکھوں میں آنسو لرزنے لگے۔اُس نے اپنے حصّے کا آخری کش اس قدر طویل کھینچا کہ سگریٹ کا فلٹر بھی جل اُٹھا۔

Published inاختر سعید مدانعالمی افسانہ فورممرد افسانہ نگار