Skip to content

سکوت

عالمی افسانہ میلہ 2015

افسانہ نمبر 34

سکوت

ڈاکٹر نیلوفر ناز، سرینگر، کشمیر

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

موسم بہت ہی خوشگوار تھا۔ ہوا میں ذرا سی خنکی محسوس ہو رہی تھی مگر یہ خنکی اچھی لگ رہی تھی کیونکہ دن کی گرمی کے بعد ٹھنڈا موسم اچھا لگنے لگا تھا۔ نبیل او بابرہ ایک دوسرے کی باہوں میں باہیں ڈال کر خراماں خراماں چل رہے تھے ان کو ہواؤں کی دخل اندازی خوب لگ رہی تھی۔ کبھی ہوائیں ان کے بالوں کے ساتھ کھیل رہیں تھیں اور کبھی بابرہ کا دوپٹہ لہرارہا تھا۔ چلتے چلتے وہ ایک بزرگ چنار کے پاس پہونچے۔ چنار کے سائے میں بیٹھنا ان دونوں کو اچھا لگتا تھا۔ چنار سے اس موسم میں سنہرے سنہرے پتے گرنے لگے تھے۔ اور ایک ایک کرکے پتوں کا انبار جمع ہو چکا تھا۔ ان پتوں پر قدم پڑتے ہی ان سے کرپ کرپ کی آواز آنے لگتی تھی۔ جو نبیل کو بہت زیادہ اچھی لگتی تھی۔ اس نے بابرہ سے کہا۔

’’مجھے ان پتوں کی آواز اتنی سہانی لگتی ہے کی کچھ کہنے کی بات نہیں۔‘‘

’’مجھے بھی یہ چنار، یہ پتے بہت خوبصورت لگتے ہیں، آؤ انہی کے پاس بیٹھیں۔‘‘

دونوں چلتے چلتے چنار کے نیچے پہونچ گئے اور دونوں نے ایک جگہ کو چُن لیا اور ان کرارے کرارے پتوں کے اوپر ہی بیٹھ گئے۔ نبیل نے ایک پتے کو اپنے ہاتھ میں اٹھایا اور اس کے ساتھ کھیلنے لگا، بابرہ اُس کی ان حرکات پر مسکرا رہی تھی۔ وہ دونوں ایک دوسرے سے بہت سالوں سے محبت کرتے تھے اور ایک دوسرے سے ملتے رہتے تھے اور گھنٹوں ایک دوسرے سے باتیں کرتے تھے۔ایک دوسرے کا ساتھ ان کو بہت پسند تھا۔وہ ایک دوسرے کے لئے کچھ بھی کر گزرتے تھے۔ چنار سے پتے بھی اِکا دُکا گر رہے تھے۔ بابرہ نے نبیل سے کہا۔

’’نبیل مجھے یہاں بیٹھ کر اتنا اچھا لگا کہ کیا بتاؤں۔ چلو اسکے تنے کے ساتھ بیٹھیں گے۔ دونوں ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑے ہوئے اُٹھے اور چنار کے موٹے تنے کے ساتھ پیچھے سے ٹیک لگائی۔ تنے کا اندرونی حصہ کھوکھلا تھا۔ ان دونوں نے کھوکھلے حصے کی طرف نظر ڈالی جس کے اندر بھی زرد پتوں کے سوا کچھ بھی نہ تھا۔ ایک دوسرے سے نظریں ٹکرائیں اور دونوں مسکرا پڑے۔ پھر بہت ہی اطمینان سے ایک دوسرے کے پاس بیٹھ گئے۔ ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے نبیل نے بابرہ سے پوچھا۔

’’کیا تم نے گھر والوں کو ہماری شادی کے بارے میں بتایا؟‘‘

“نہیں نبیل میں ان کے ساتھ بات نہیں کر سکتی ہوں اور نہ میں تمہارے بغیر رہ سکتی ہوں۔ میری دنیا تم سے ہے۔ تم ہو تو جہاں ہے۔ تم نہیں تو کچھ بھی نہیں۔ شادی کے لئے تمہیں ہی کچھ کرنا ہوگا۔ تم اپنی ممی کو میرے گھر بیھج دو۔ اب ہمیں شادی کر لینی چاہئے۔اب بہت ہو گیا۔‘‘

’’ہاں بالکل، آج میں ممی سے بات کروں گا کہ وہ آپ کے گھر پیغام بھیج دیں۔ بس آپ اب تیار رہیں، دلہن بن کر میرے گھر آنے کے لئے۔۔۔۔۔”

’’نبیل۔۔۔ نبیل۔۔۔۔ اب تم سے دور رہا ہی نہیں جاسکتا ہے۔ میرا دل کرتا ہے کہ زندگی بھر تمہاری بانہوں میں گذار دوں۔۔۔۔۔۔‘‘

’’اب گھبرا کیوں رہی ہو ۔۔۔۔ بس اب چند دنوں کی بات ہے۔اب ہمیں کوئی بھی الگ نہیں کر سکتا ہے۔۔۔اب ہم زندگی بھر ساتھ رہیں گے۔۔۔انشا اللہ۔‘‘

نبیل کے کاندھے پر بابرہ کا سر تھا اور بابرہ کے سر پر نبیل کا سر۔ دنیا اور مافیہا سے بے خبر۔ اپنے شہر کے حالات سے لاپرواہ۔ ایک دوسرے میں کھوئے ہوئے۔ پیار کے دیوانے ۔۔۔ پیار کی مستی میں ۔۔۔ محبت کا سرور ۔۔۔ دلوں کی جلن۔۔۔عشق کی تپش۔۔۔آنکھوں کی حرارت۔۔۔۔جیسے سب ایک ساتھ سمٹ کر آیا تھا۔۔۔دور سے موٹے موٹے جوتوں کی آوازیں آرہی تھیں اور آوازیں ان کے نزدیک آ کر رُک گئیں۔کئی لوگ وردی پہنے ہاتھوں میں گن لئے دوڑے آ رہے تھے۔

’’کہاں گئے سالے۔۔۔اسی طرف تو بھاگ رہے تھے۔۔۔؟‘‘

کچھ وردی والے کچھ لوگوں کی تلاش میں اس طرف آئے۔ انہوں نے ان پر شاید گولیاں برسائیں تھیں۔ اور اب اِن کو دیکھ کر ہی جل بھُن گئے۔ ایک دم سے چلانے لگے۔

’’بھون ڈالو ان سالوں کو بھی ۔۔۔ پیڑ کے سائے میں بیٹھ کرعشق فرما رہے ہیں ۔۔۔۔ بھون ڈالو ۔۔۔‘‘

ایک پورا برسٹ نبیل کے سینے میں پیوست ہوگیا اور ایک اور بابرہ کے سینے میں ۔۔۔ کسی کو ایک بات بھی کرنے کا موقعہ نہیں ملا ۔۔۔۔ عشق خاموش ہو گیا۔

چنار اپنے زرد اور سنہرے پتے برسا رہا تھا اور سارے شہر پر سکوت طاری ہو چکا تھا

Published inڈاکٹر نیلوفر نازعالمی افسانہ فورم