Skip to content

سوٹھا

عالمی افسانہ میلہ 2018
افسانہ نمبر 31
“سوٹھا”
تحریر ۔۔۔۔۔۔۔۔معظم شاہ.اٹک ۔ پاکستان ۔
بی بی جی ، آپ کے پاس آ بیٹھتی ہوں تو اپنی ماں جیسا “سوٹھا ” ہوتا ہے مجھ کو۔ بالکل ایسے لگتا ہے جیسے اس جنتی کے پاس بیٹھ گئی ہوں ، دکھ تو مانو خود لفظوں میں بہنے لگتے ہیں
وہ ماسی سکینہ تھی ، اونچی لمبی مضبوط جسم اور ہاتھ پاؤں والی ، سیاہ رنگت ، موٹی موٹی آنکھیں ، چہرے پر عمر کچھ لکیروں میں ان گنت کہانیاں چھوڑ گئی تھی ۔ ایک کہانی اس کے بیٹے کی جواں مرگی کی تھی تو دوسری بہو کے تین بچے چھوڑ کر کمہاروں کے لڑکے کے ساتھ بھاگ جانے کی ۔ ماسی اعوانوں کی برادری سے تھی ، دھیلے کی امداد لینا گوارہ نہ کیا ، قریبی قصبے میں نسوار کوٹنے پر لگ گئی جس کام سے مرد عاجز آ جایا کرتے تھے وہی کام ماسی جانے کتنے برسوں سے بلا ناغہ کیئے جا رہی تھی ۔
پیر زادے پڑھائی لکھائی میں عموماََ پیدل ہی رہتے ہیں لیکن میرا مزاج مختلف تھا ، دادی اماں پیار بھی بہت کرتی تھیں ۔ دادی اماں بھی اپنے مزاج کی الگ شخصیت تھیں ، بھلے وقتوں کی مڈل پاس تھیں ، دھان پان سی جسامت گورا چٹا رنگ نیلی آنکھیں اور سنہرے بال اور اتنی شفیق کہ سبھی ان کا لاڈ سے احترام کرتے تھے ، ڈر کر نہیں ، وہ فارغ وقت میں مزے سے “حور ” اور “زین النساء” پڑھتی تھیں ۔ وہ دن بھر حویلی کے صحن میں بیٹھ کر تعویز لکھا کرتیں ۔دن کے وقت ان کے پاس عورتوں کو جمگھٹا لگا رہتا لیکن ظہر کی نماز کے بعد اکا دکا عورتیں رہ جاتی تھیں ، ماسی سکینہ نے جب بھی آنا ہوتا ، ہمیشہ اسی وقت نازل ہوتی اور دادی اماں کی خدمت میں لگ جاتی ، کبھی کنگھی کر کے دے رہی ہے تو کبھی ٹانگیں دبا رہی ہے ۔ ساتھ ساتھ باتیں کیئے جاتی ، کبھی ہنس پڑتی تو کبھی آنسو اس کے چہرے پر مسلسل لکیریں بنانے لگتے ۔
آج بھی میں سکول سے آیا تو بھوک سے پیٹ میں درد ہونے لگا تھا ۔ میں نے کبھی سکول سے لے کر کچھ نہیں کھایا تھا ، چار آنے روز کی جیب خرچی ملتی تھی جو میں اپنے مٹی کے خزانے میں ڈال دیا کرتا تھا ، کبھی گھر میں کسی کو پیسے ضرورت ہوتے تو میں خزانہ توڑ دیتا اور دادی اماں دوسرے دن پھر کمہاروں سے نیا خزانہ منگوا دیتیں ، انہیں میری بچت کی عادت اچھی لگتی تھی ۔ چولھے پر دھری مٹی کی ہانڈی سے اٹھتی خوشبو کی لپیٹیں بتا رہی تھیں کہ کھانے میں مرغا ملے گا ، بس زرا صبر ۔ اور میں صبر کیئے بیٹھا تھا ۔ ایک مریدن تنور پر روٹیاں لگا رہی تھی، چھوٹی پھپھو دیگر کاموں میں مگن آتے جاتے ہانڈی کو دیکھ رہی تھیں ، ان کے ہاتھ میں ذائقہ بھی بہت تھا ۔
پتا نہیں کون سی بات پر اچانک میرے کان ماسی سکینہ کی طرف لگ گئے ، مجھے بھوک لگی تھی اور بات وہ بھی بھوک ہی کی کر رہی تھی ۔ وہ گزشتہ دن کی روداد سنا رہی تھی ، نسوار کوٹنے سے فراغت پر گاؤں واپس آنے لگی تو کیا ہوا ۔
بی بی جی ، کیا بتاؤں ۔ مشقت کے کام کے بعد کوئی بھوک لگتی ہے ؟ ایسی کہ گویا کوئی اندر سے پیٹ کھرچ رہا ہو ۔
میں قصبے کے چوک میں پہنچی تو کباب کی خوشبو آئی ، میں نے دل سے کہا ، کیا مانگتا ہے ؟
دل نے کہا ، کباب اور روٹی ۔ میں نے کباب والے سے پوچھا “ایک ٹکی کباب اور روٹی کتنے کی دو گے ؟
بولا ، چارآنے کی ۔ میں نے کہا ” چھوڑ دِلا ، میں دو روپے کی دیہاڑی کمانے والی ، آٹھ آنے کی عیاشی کر لوں تو جو تین معصوم میرے انتظار میں بھوکے بیٹھے ہوں گے ان کے منہ میں چوگ کون ڈالے گا ۔ مینو ، چھے سال کی ہو گئی ہے کل سولہ کی ہو جائے گی تو اسے رخصت کرنا ہے ، میں آٹھ آنے کی عیاشی کر سکتی ہوں بھلا ؟
دل تو پاگل ہے نا بی بی جی ، اسے سمجھانا پڑتا ہے ، شکر ہے کہ سمجھ جاتا ہے زیادہ ضد نہیں کرتا ۔
قصبے سے باہر نکلنے لگی تو پکوڑیوں والے پر نظر پڑی ، دل سے پوچھا ، کیا مانگتا ہے ؟
دل نے کہا ، اگر چار پکوڑیاں گرم گرم ایک روٹی پر رکھ کر کھاؤ تو کتنا مزا آئے گا ۔
میں نے پکوڑیوں والے سے پوچھا “ایک روٹی اور پکوڑیاں کتنے کی دو گے ؟
اب جی ہر چیز کو تو آگ لگی ہے ، کمبخت منہ پھاڑ کر بولا “دو آنے کی ”
دل نے کہا لے لو ، بہت مزے کی ہیں کھا کر چلنے کے قابل ہو جاؤ گی ۔
لیکن بی بی جی ، ان تینوں کی شکلیں پھر خیال میں آ گئیں اور مجھ سے وہاں رکا ہی نہیں گیا۔
اس دوران دادی اماں کبھی چہرے کے تاثرات سے اور کبھی ہوں ہاں میں اسے جواب دے رہی تھیں کہنے لگی۔
گاؤں کے پاس پہنچی تو دل نے کہا ، موٹا موٹا دھی ہو اور “کاشک ” سے کھاؤ تو کتنا مزا آئے ، لیکن میں نے اس بدبخت کی ایک نہیں سنی ، تیز قدموں سے گھر پہنچی اور چکی پیس ،آٹا گوندھ، بچوں کا پیٹ بھرنے کا سامان کرنے لگی ۔
پھپھو میرے سامنے مٹی کے طباخ میں سالن روٹیوں کی چنگیر اور ایک مکھڈی حلوے کی پلیٹ رکھ گئی تھیں ، یہی کھانا اسے اور دادی اماں کو بھی دیا ۔ اس نے روٹی کی طرف ہاتھ بڑھایا اور زور سے ہنس پڑی ۔ بی بی جی ، مجھے تو یاد ہی نہیں رہا ، پیٹ بھر کے کھا کر آئی تھی ۔ وہ دادی اماں کے پاؤں کو ہاتھ لگا کر اٹھی اور “چھیل” سر پر رکھ کر تیزی سے جانے کے لیئے پلٹی ، آنسو اس کے چہرے پر پھر لکیریں بنا رہے تھے ۔ نوالہ میرے حلق میں اٹکنے لگا ۔
میں نے چنگیر سے روٹیاں اٹھائیں ، باورچی خانے سے دسترخوان لیا اس پر روٹیاں رکھ کر اوپر مکھڈی حلوے کا طباخ رکھا اور دودھ کی چھوٹی بالٹی میں سالن ڈال کر تیزی سے باہر لپکا
واپس گھر آیا تو دادی اماں کھانا چھوڑ کر بیٹھی تھیں ۔ ان کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا جیسے تیز بخار ہو ، انہوں نے میرے چہرے پر نظریں گاڑ دیں ، میں ڈر گیا
انہوں نے پاس بلایا ، کھینچ کر سینے سے لگا لیا اور ہچکیوں کے ساتھ رونے لگیں ، کبھی میرا چہرہ ہاتھوں میں لے کو چومتیں ، کبھی مجھے ساتھ لپٹا لیتیں ۔ وہ بچوں کی طرح رو رہی تھیں ، چھوٹی پھپھو چپ کراتے تھک گئیں ، خود بھی ساتھ رونے لگیں ۔ مجھے ایسے لگا جیسے آج میں دادی اماں کے لیئے “سوٹھا ” بن گیا ہوں ۔
مغرب کی ازان سے کچھ پہلے ، لالٹینیں روشن ہو چکی تھیں ۔ میں کمرے میں گیا ، بستروں کی “تونڑیں ” پر پڑا حاجیوں والا رومال اٹھایا اور فرش پر بچھا کر اس پر خزانہ توڑ دیا ۔

Published inافسانچہعالمی افسانہ فورممعظم شاہ